بند کریں
جمعرات دسمبر

دسمبر، ستمگر اورخون زدہ پھول

سید شاہد عباس :

دسمبر آیا۔ ارادہ تھا کہ اس دفعہ اس پہ کچھ نہیں لکھنا۔ لیکن وطن عزیز میں ایسا کیوں کر ہو سکتا ہے۔ ٹھیک کہ 71 کے سانحے کے بارے میں کچھ نہیں لکھا کہ لکھ لکھ کے صفحے کالے کر دیے گئے لیکن ہم نے عبرت اب تک حاصل نہیں کی۔ لیکن قیامت صغریٰ نے پشاور کو ہلا کے رکھ دیا۔ وارسک روڈ کے آرمی پبلک سکول کو نشانہ بنایا گیا۔ اور حسب ِ معمول ذمہ داری ایک تنظیم نے قبول کر لی۔ بہت عرصے سے لکھاری لکھ رہے ہیں۔ مقرر گلے پھاڑ پھاڑ کر واویلا کر رہے ہیں۔ دانشور اپنی دانش کے تمام گر آزما کر لب کشائی کر رہے ہیں کہ دہشت گردی کے واقعات ہو جانا پھر ان کی ذمہ داری قبول کر لینا۔ اور ایک بیان جاری کر دینا۔ یہ کوئی اتنا سادہ سا عمل نہیں ہے۔اتنی گہری سازش ہے کہ جہاں شاید ہمارا تصور بھی نہیں پہنچ سکتا۔
پاکستان ہمیشہ سے عالمی طاقتوں کے مفادات کے درمیان گھن چکر سا بنا رہا ہے۔ دفاعی و معاشی طور پہ ایک اہم خطے میں واقع ہونا شاید اس دھرتی کے باسیوں کے لیے جرم بنا دیا گیا ہے۔ یوم سوگ تھا۔۔۔71 کا سوگ۔۔۔ ملک ٹوٹنے کا سوگ۔۔۔ لیکن سوگ میں گھری قوم نے آج تک خود کو مضبوط نہیں کیا۔ تبھی تو 2014 کو پھر 16دسمبر کو خون میں لپیٹ کر بطور قوم ہمارے منہ پر طمانچے کی صورت مارا گیا۔ ایک ماں اپنے نونہال کی شہادت کی خبر سن کے سکتے میں ہے۔۔۔۔۔ نہیں نہیں یہ ہمارے بھائی ہیں دہشت گرد نہیں ہیں ان سے مذاکرات کیے جائیں۔۔۔۔۔ ایک چچا سر پر ہاتھ رکھے بے بسی کی تصویر بنا چپ چاپ آنسو بہائے جا رہا ہے۔۔! اس کا بھتیجا صبح اس سے فرمائشوں کی ایک فہرست مرتب کروا کے سکول آیا تھا۔ لیکن گولیوں کی بوچھاڑ میں اس کا کچھ پتا نہیں چل رہا۔۔۔۔۔جناب! یہ اسی ملک کے ناراض لوگ ہیں۔اسلحہ تو ان کا زیور ہے(درے کی بنی بندوق نہیں، جدید آٹو میٹک) آپریشن کسی بھی مسلے کا حل نہیں ہے۔۔! ان کے اپنوں کی موت ان کو دہشت گرد بنا دیتی ہے۔۔۔۔۔ معجزانہ بچ جانے والے طالبعلم کے بقول انہوں نے دروازے توڑے اور فائرنگ شروع کر دی۔ ۔۔ننھی کلیاں سرخ لبادہ اوڑھ کر مسلی جانے لگیں۔ ۔۔یونیفارم پہنے بچے اس دھرتی کو اپنے لہو سے سیراب کرنے لگے۔ ۔۔وہ 6 تھے ، عربی اور انگلش بول رہے تھے۔۔۔۔۔ نہیں نہیں وہ تو ہم میں سے ہی ہیں۔ ان کے خلاف کوئی فتویٰ تک نہیں آ سکتا۔ یہ تو انہوں نے ردعمل میں کیا ہے۔۔۔۔۔ ایک ماں اپنے جگر گوشے کی لاش کا حال دیکھ کر ہوش سے بیگانہ ہو چکی ہے۔ اور کچھ بعید نہیں کہ وہ ملک عدم سدھار جائے۔ ۔۔۔۔ آپریشن کریں گے تو وہ بھی تو یہی کریں گے۔۔۔۔۔مرنے دیں مستقبل کو۔۔۔۔۔ لہو ررنگ لباس اوڑھنے دیں ماؤں کو۔۔۔۔۔ماتم کرنے دیں پوری قوم کو۔۔۔۔۔ کیوں کہ ہم تو نوحوں کی پکار سننے کی عادی قوم ہیں۔۔۔۔ ہم تو ماتم کی گونج میں زندگی بسر کرنے کا ہنر جانتے جا رہے ہیں۔
دہشت گردوں کا شاید قصور ہی نہیں نا۔۔۔ اسی لیے ان کے خلاف فتویٰ نہیں آئے گا۔۔۔۔۔ صاف لفظوں میں مذمت نہیں آئے گی۔۔۔۔۔ وہ تو قیامت صغریٰ برپا کرنے کے بعد اپنی کمیں گاہوں میں جب واپس جائیں گے اور کاروائی میں ان کا ایک بچہ بھی ان کی اپنی ہی ڈھال بنے ہوئے گولیوں کا شکار ہو گیا تو پھر ایک شور بلند ہو گا کہ دیکھیں آپ نے ان کا بچہ مار دیا اب وہ کاروائی کریں گے تو کیا غلط کریں گے۔ ۔۔۔۔وہ تو سکول میں داخل ہوئے مختلف کلاسوں میں گئے تو بچوں کے ہاتھ میں کتاب کے بجائے جدید آٹو میٹک بندوقیں تھی۔ ۔۔۔۔ لہذا دہشت گردوں نے۔۔۔ ۔۔۔ اوہ!!! نہیں دہشت گرد نہیں ہمارے اپنے ہی بھائیوں نے اپنے دفاع میں ان معصوم بچوں۔۔۔۔۔ معافی پھر غلط کہہ گیا۔۔۔۔۔ معصوم نہیں خونخوار بچوں کے اپنے دفاع میں شہید کیا۔۔۔۔۔ شاید میں تو یہاں بھی غلط ہوں۔ کیوں کہ کچھ لوگ ان جانوں کے ضیاع کو ہلاکت سے تعبیر کر رہے ہیں۔اور کچھ اسے شہادت کا رتبہ دے رہے ہیں۔ ۔۔۔۔ مکمل کنفیوز قوم۔۔۔۔۔۔ مکمل عقل سے عاری اشرافیہ۔۔۔۔۔ اور نہایت ہی منظم دہشت گرد۔۔۔۔ نہیں!! ہمارے ہی بھائی۔ دہشت گردی کی مذمت، شہادتوں پر افسوس، خاندانوں سے اظہار ہمدردی۔۔۔ لیکن دہشت پھیلانے والوں کی مذمت نہیں؟چہ معنی دارد
کوئی ہے جو کوریا جیسی تاریخ دہرائے؟؟؟؟ کوئی ایسا ہے جو کوریا کے کشتی حادثے سے سبق حاصل کرنے کی اخلاقی جرات رکھتا ہو؟؟؟؟؟ کوئی ہے؟؟؟؟؟ محترم وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف صاحب۔۔۔۔ کیا آپ ماؤں کے بین سن سکتے ہیں؟؟؟؟ ؟ اگرآپ کو سیاسی دھینگا مشتی سے فراغت ہو تو؟؟؟؟؟ محترم وزیر اعلیٰ پرویز خٹک صاحب؟؟؟؟ ؟ کیا آپ دھرنوں میں رقص سے کچھ وقت نکال سکتے ہیں؟؟؟؟؟ ذمہ داری قبول کر نے کے لیے؟؟؟ کیا آپ میں اخلاقی جرات ہے؟ کیا آپ کوریا جیسی کوئی مثال قائم کرسکتے ہیں؟ خدارایہ تنقید نہیں ہے۔ یہ تو اخلاقیات ہیں۔ کوئی ہے جو آگے بڑھ کے ذمہ داری قبول کرے؟ کوئی بھی ؟شاید نہیں ۔۔۔ کیوں کہ ہم سوگ منانے کے عادی ہیں۔ تین روزہ سوگ کے بعد یہ قیامت ان ماؤں کے دلوں تک محدود ہو جائے گی جن کے لخت جگر بے جرم ، بے خطا خون میں نہلا دیے گئے۔
اقتدار کے ایوانوں میں تو شاید گولیوں سے چھلنی لاشے نہیں پہنچے ۔۔۔ مذمتی بیانات دینے والوں کا سامنا توپھٹے یونیفارم، جلے جسم سے نہیں پڑا ۔ ننھے پھول۔۔۔پاکستان کا مستقبل۔۔۔ روشنی کا سفر۔۔۔ لیکن ان کا مقدر کیا ٹھہرا؟نرم بدن پہ گرم بارود۔۔۔ علم کے ترانوں کا گولی سے جواب۔۔۔ آئیں سب مل کر سوگ مناتے ہیں۔۔۔ جتنے صاحب اولاد ہیں۔۔۔ وہ ایک لمحہ ان مسلی جانے والی کلیوں کا تصور کریں۔۔۔ پھر اپنے بچوں کو جی بھر کے غور سے دیکھیں۔۔۔اور انہیں دیکھتے دیکھتے ۔۔۔ گولی و باردو کو ذہن میں لائیں۔ اور ان کلیوں کے جسموں پہ باردود کی پھیلتی بدبو کا تصور کریں۔۔۔یقین کریں آپ دل سے ان ماؤں کے سوگ میں شامل محسوس کریں گے خود کو جنہوں نے اپنے ہاتھوں سے اپنے پھولوں کو صبح موت کی وادی میں تیار کر کے بھیجا۔۔۔ آپ ایسا کر کے اس باپ کے غم میں خود کو ڈوبا محسوس کریں گے جو خود اپنے لال کو مرنے کے لیے سکول اتار کر گیا۔ (میں پوری تحریر میں بے ربطی کے لیے معذرت خواہ ہوں کیوں کہ ربط قائم رکھنا شاید ممکن ہی نہیں)
دہشت گردوں نے۔۔۔ نہیں۔۔۔ ناراض بھائیوں نے۔۔۔کون سا دن چنا۔۔۔16دسمبر۔۔۔ سوگ کا دن ۔۔۔ رستا زخم۔۔۔ زخم کی یادیں اب تک تازہ۔۔۔ اسی دن پاکستان کے مستقبل کو شہید کیا گیا۔ پاکستان کو شہید گیا۔ ہر مسلا جانے والا پھول۔۔۔ ہر شہادت پانے والا پھول ، پاکستان تھا۔ کیوں کہ یہ پاکستان کا مستقبل تھا۔۔۔ وار پاکستان پر کیا گیا۔۔۔ شہید پاکستان کا مستقبل کیا گیا۔۔۔ شہید علم کو کیا گیا۔۔۔ ہم شہیدوں کو بھولتے نہیں۔۔۔ لیکن اب ایک قدم آگے برھنا ہو گا۔۔۔ شہادت کا بدلہ لینا ہو گا۔۔۔ سرخ یونیفارم میں ڈوبے لاشوں کی قربانی کو ضائع ہونے سے بچانا ہو گا۔۔۔ ان کی قربانی کا حساب لینا ہو گا۔۔۔ ان سے جنہوں نے پاکستان کو شہید کیا۔۔۔ ان سے جنہوں نے علم کو شہید کیا۔۔۔۔ ان سے جنہوں نے اس دھرتی کے سینے پہ ایک اور زخم لگایا۔ہمیں حساب لینا ہوگا۔۔۔ ہمیں اب دفاع سے کچھ آگے کا سوچنا ہو گا۔۔۔ ہماری بنیادوں میں ہمارے اجداد کا لہو بھی ہم سے سوال کرے گا کہ ہم نے پاکستان کے مستقبل کو شہید کرنے والوں سے حساب لیا کہ نہیں۔۔۔ ہم سے ہماری آنے والی نسلیں بھی حساب مانگیں گی۔ ہمیں آج فیصلہ کرنا ہو گا۔ ہمیں پاکستان کے مستقبل کے لیے آج فیصلہ کرنا ہو گا۔ فیصلہ مشکل ہو شاید۔ لیکن ہمیں فیصلہ کرنا ہو گا۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com
تاریخ اشاعت: 2014-12-18

کالم نگار     :     سید شاہد عباس

سید شاہد عباس کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-