بند کریں
پیر دسمبر

قارئین کرام ! خدارا مجھے معاف کردیں

حافظ ذوہیب طیب :

الحمد للہ میں ابھی صحت مند ہوں، جوان ہوں، ابھی تو میرے پاس بہت وقت ہے، موت نامی شے ابھی مجھ سے کوسوں دور ہے۔آج کے دن میں جو دل میں آتا ہے کرو، لوگوں پر ظلم رواء رکھتے ہوئے اپنے پیٹ کی آگ بجھاؤ۔لہذا روزانہ کی طرح آج بھی دن بھر کی مصروفیات جس میں کہاں جانا ہے، کس سے ملنا ہے کیا کر نا ہے،کس بندے کو کیا بہانہ لگانا ہے،کس کے ساتھ کس طرح جھوٹ بولنا ہے، کس پر کس طرح دباؤ ڈال کے کام کروانا ہے یہ سب طے تھا۔معمول کے مطابق تیار ہونے کے بعد گھر سے نکلااور موٹر بائیک کو سٹارٹ کر تے ہوئے دفتر کے لئے روانہ ہو ا۔ دور سے نظر آتے جیل روڈ کے ٹریفک سگنل کی بتی ابھی سبز تھی لہذا اسے کراس کر نے کی کوشش میں موٹر بائیک کی رفتار کو مزید تیز کیا لیکن جیسے ہی سگنل کے قریب پہنچا تو بتی لال ہو چکی تھی اس لئے اچانک بریک لگانا پڑی۔ ابھی بریک لگا کر موٹر بائیک کو سنبھا لا ہی تھا کہ پیچھے سے آنے والے تیز رفتا ر رکشہ نے جو میری طرح اس سگنل کو کراس کر نا چاہ رہا تھا جس نے بریک لگانے کی کوشش میں میری موٹر بائیک کو پیچھے سے اس قدر شدید جھٹکا دیا کہ مجھ سمیت موٹر بائیک قریب ایک فُٹ اوپر اچھل کے نیچے گرے۔ گرتے ساتھ ہی میرے سر کے پچھلے حصے میں شدید چوٹ لگنے کی وجہ سے خون کا فوارہ چھوٹ گیا، کمر کے مہرے،ریڑھ کی ہڈی ، جسم کا نچلا دھڑ بے جان و جامد محسوس ہو رہا تھا۔کھڑا ہونے کی ہر کوشش ناکام و نامراد لوٹ رہی تھی اور یوں کچھ لمحوں بعد ہی درد کی شدت کی وجہ سے حواس باختہ اور ہوش کھو بیٹھا تھا۔کچھ سیکنڈ گذارے تھے کہ کچھ لوگ میرے پاس جمع ہوئے ،کوئی ریسکیو 1122کو مدد کے لئے طلب کر نے کے لئے فون کر رہا تھا ، کوئی ”کچھ نہیں ہو تا ،ہمت کرو،اللہ اچھا کرے گا “ کی تسلی دے رہا تھا تو کوئی ”لگتا ہے ایکسپائر ہو گیا ہے“ کے راگ الاپ رہا تھا۔کوئی رکشے والے کو پولیس کے حوالے کر نے کا مشورہ دے رہا تھا تو کوئی میرے موبائل سے میرے لواحقین کو اطلاع دینے کے لئے نمبر تلاش کر رہا تھا،حتی ٰ کے میرے پاس موجود ہر شخص ایک درد دل رکھنے والے شہری کا ثبوت دیتے ہوئے میری داد رسی میں مصروف تھا کہ اتنے میں 1122کے عملے نے مجھے اسٹریچر کی مدد سے ایمبو لینس میں ڈالا اور پاس ہی سروسز ہسپتال کی ایمر جنسی میں شفٹ کر دیا۔یہاں موجود ڈاکٹروں نے فوری طور میرے دماغ کا سٹی سکین،جسم کے مختلف حصوں کا ایکسرے اور خون کے کچھ ٹیسٹ کرائے ،رپورٹس کی روشنی میں وہ اس نتیجے پر پہنچے کی دماغ سے نکلنے والے خون کی زیادتی سے جسم میں خون کی مقدار بہت کم ہو گئی ہے۔ کمر کی ہڈیا ں مختلف جگہوں سے چوُر چوُر ہو گئی ہیں جس کی وجہ سے جسم کا نچلا حصہ مفلوج ہو گیا ہے ۔دماغ کا ایک حصہ شدید متاثر ہونے کی وجہ میں قومے میں چلا گیا تھا۔ڈاکٹر اپنے تئیں بھر پور کوشش کر رہے تھے ،مجھے ہسپتال کے انتہائی نگہداشت وارڈ میں منتقل کر دیا گیا تھا ۔ وقت گذرتا جا رہا تھااور میرے بہن بھائیوں، بیوی بچوں اور چاہنے والوں کی پریشانی میں مزید اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔ابھی کچھ ہی وقت گذرا تھا کہ جسم میں دوڑتی سانسوں کا پتہ دینے والی مشین کی سکرین پر کچھ دیر پہلے اونچی نیچی ہونے والی لائنیں ایک الارم کے ساتھ ایک جیسی ہو گئیں۔ ڈاکٹرز میرے بڑے بھائی کو بلاتے ہیں اور اسے حوصلہ دیتے ہوئے میری موت کی تصدیق کرتے ہیں۔یہ سننا تھا کہ مجھے اپنے بچوں کی طرح چاہنے والا بھائی پھوٹ پھوٹ کے رونا شروع کر دیتاہے۔جیسے جیسے میری موت کی اطلاع ہسپتال میں موجود لوگوں تک پہنچتی ہے وہاں ایک کہرام مچ جا تا ہے، چیخوں، آنسووں اور سینے کو پھاڑ دینے والی غمزدہ آوازوں کے ساتھ میری میت کو ایمبولینس میں ڈال کر گھر منتقل کیا جا تا ہے جہاں میت اترتے ساتھ ہی چیخ و پکار اور رونے دھونے کاسلسہ ایک بار پھر شروع ہو تا ہے۔ میری بہنیں ، بیوی اور رشتے دار میری جوان میت کو دیکھتے ہیں تو ان پر غشی طاری ہو جاتی ہے ۔قارئین!مر نے کے بعد انسانی جسم ایک مقررہ وقت تک زندہ رہتا ہے ۔ میں بھی اپنے بہن بھائیوں کا رونا، بیوی کے مرجھائے چہرے اور اپنی چاند جیسی مائدہ بیٹی کے معصومانہ سوال کہ ماما:پاپا کو کیا ہوا ہے؟اور ہیرے جیسے زید بیٹے کے متجسس چہرے کہ میرا باپ مجھے گود میں کیوں نہیں لے رہاکو دیکھ کر کانپ اٹھتا ہوں، ہزار کو شش کے باوجودبھی میں آج اپنی بیٹی کے سر پر ہاتھ نہیں رکھ سکتا اپنے بیٹے کو گود میں اٹھا کر بوسہ نہیں لے سکتا۔آج وقت ختم ہو چکا تھا، میں چاہتے ہوئے بھی ان لوگوں سے معافی نہیں مانگ سکتا تھا کہ جن کا میں نے دل دکھایا،جن کا حق مارا۔
 میری روح میرے جسم سے پرواز کر چکی تھی۔منکر،نکیر اور دوسرے فرشتے سوالوں کی ایک طویل فہرست میرے پاس لاتے ہیں ۔ گھبراہٹ، پریشانی اور خوف کے ملے جلے احساسات کی وجہ سے میں پسینے میں شرابور تھا۔لوگوں کے حقوق کے بارے سوال شروع کئے جاتے ہیں ، تم نے فلاں کیساتھ یہ کیوں کیا؟ اس کے ساتھ دھوکہ کیوں کیا؟ کسی کی دل آزاری کیوں کی ،لوگوں کے ساتھ رواء رکھے جانے والے ایسے معاملات جنہیں میں کچھ اہمیت ہی نہیں دیتا تھاآج یہ میرے سامنے بہت بڑے پہاڑ کی مانند کھڑے تھے جس کا میرے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔
قارئین محترم !نہلانے،کفن پہنانے اور میت کی چارپائی پر رکھنے کے بعد جب میرے جنازے کو نماز پڑھنے اور دفنا نے کے لئے اٹھا یا جا تا ہے تو ایک دفعہ پھردل کو دہلا دینے والی چیخ و پکار شروع ہوتی ہے جسے سُن کر میری آنکھ کھل جاتی ہے۔بوکھلاہٹ کا شکارہو کے اپنے جسم پر ہاتھ پھیرتا ہوں، پاس لیٹے اپنے بچوں کو دیکھتا ہوں اور اللہ کا شکر ادا ء کر تا ہوں اورسمجھتاہوں کہ جب روز قیامت گناہگار لوگ اللہ سے درخواست کریں کہ ہمیں ایک موقع دیں ہم دنیا میں جاکے نیک اعمال کریں گے، تیری مخلوق کے ساتھ حسن سلوک کا معاملہ روا ء رکھیں گے،لوگوں میں آسانیاں تقسیم کریں گے۔میں بھی ان لوگوں میں شامل ہوں جن کی درخواست بارگا ہ ایزدی میں قبول کر لی گئی ہے لہذا آج سے میں اللہ کی مخلو ق کے ساتھ حسن لوک سے پیش آؤں گا، کسی کی دل آزاری سے پرہیز کروں گااور اللہ سے اپنے کئے گئے عہد کو وفا کر نے کی کوشش کروں گا۔ اس لئے قارئین کرام میں آپ سب لوگوں سے ہاتھ جوڑ کے معافی کا خواستگار ہوں کہ اگر مجھ سے جانے انجانے میں کوئی غلطی ہو ئی ہو تو مجھے معاف کردیں ۔ مجھے نہیں معلوم کہ میرے پاس زندگی کی مزید کتنی سانسیں موجود ہیں اور میں نہیں چاہتا کہ لوگوں کی ناراضگیاں، لوگوں کی نفرتیں اور لوگوں کی بد دعائیں لے کر اللہ کے حضور پیش ہوں ۔ مجھے تو اس بات کی سمجھ آگئی ہے شاید کہ تیرے دل میں بھی اتر جائے میری بات۔۔۔۔۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com
تاریخ اشاعت: 2014-12-17

کالم نگار     :     حافظ ذوہیب طیب

حافظ ذوہیب طیب کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-