بند کریں
جمعہ دسمبر

جاگ عدل و انصاف جاگ ۔ قسط نمبر1

عبدالرحیم انجان :

 ایک سردار جی کے ہاں چور گھس آیا،چور کو سردار جی کے ہاں سے زیور نقدی اور قیمتی مال سمیٹتے ہوئے سردار جی کے تکئے کے نیچے سے بھرا ہوا پستول ملا۔اس نے سردار جی کی طرف دیکھا ،جو بڑی بے بسی سے چور کی طرف دیکھ رہے تھے اور سردار جی سے پوچھا۔” سردار جی !یہ پستول کیوں رکھا ہوا ہے ؟ سردار جی نے جواب دیا۔” کسی اوکھے سوکھے ویلے کم آ جاندا اے جی !“
پاکستان کی تاریخ پر لوٹ کھسوٹ کے آسیب کا سایہ تو شروع ہی سے رہا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ دنیا کی شرم و حیا اور قانون کی گرفت کا خوف بھی ہوتا تھا۔ لیکن اب یہ آسیب بالکل بے لگام ہو چکا ہے، شاید اس لئے کہ عدل و انصاف کے محافظ اداروں نے اپنی” طاقت ِ اختیار“ سردار جی کی طرح کسی اوکھے وقت کے لئے رکھی ہوئی ہے۔
 قوم کی جان و مال کے محافظ ادارے پولیس کو بھی ، ہمارے حکمرانوں نے ، اپنی غنڈہ فورس میں بدل دیا ہوا ہے۔ دنیا بھر میں جمہوری حقوق کے لئے عوامی قوت استعمال ہوتی ہے اور حکومت کے پاس لاء اینڈ آردڑ کی طاقت ہوتی ہے۔حکومت عوامی طاقت کے مظاہرے نہیں کرتی اور نہ ہی پولیس کو اپوز یشن کی ٹانگیں توڑ دینے کا حکم دیا جاتا۔ ہمارے یہاں تو ”کھڈوں نکلے پیلے تے اپنا پنا مُنہ ‘ ‘والی شرمناک بات ہے۔ کہیں کلثوم نواز ٹویٹ پر اپنے شیروں کی دھمکیاں دیتی ہیں تو کہیں حمزہ شریف پولیس کو اپنے حریفوں کی ٹانگیں توڑ دینے کا حکم دیتے ہیں۔ یہاں امریکہ میں جب پولیس نے ایک سیاہ فام نوجواں کو قتل کر دیا تو سیاہ فام کمیونٹی نے سڑکوں پر نکل کر سارے نیو یار ک کو بند کر دیا۔جب بش نے عراق پر حملہ کرنا چاہا تو برطانوی عوام، اُس حملے کو غیر انسانی قرار دیتے ہوئے کم و بیش دس لاکھ کی تعداد میں باہر نکل آئے تھے ، دونوں موقعوں پر حکومتی غنڈہ گردی یا پولیس گردی کی وجہ سے کوئی نا خوشگوار واقعہ رو نما نہیں ہوا تھا۔ لیکن ہمارے ہاں غنڈوں کو پاگل کتوں کی طرح عوام پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔وہ اندھا دھند گولیاں چلاتے ہیں، کاروں کے شیشے توڑتے ہیں اور پولیس خاموش تماشائی بنی رہتی ہے اور بعد میں رانا ثنا اللہ اور عابد شیر علی جیسے (رجسٹرڈ) جھوٹے بڑی ڈھٹائی سے ٹی۔وی کے کیمروں تک کو جھٹلا دینے کی کوشش میں دنیا کی شرم و حیا کو بالائے طاق رکھ کے زبان چلاتے رہتے ہیں،لیکن ان سے اس بات کا کوئی معقول جواب نہیں بن پڑتا کہ ان کی غنڈہ فورس ( پولیس ) خاموش تماشائی بنی سر عام گولیاں برساتے ہوئے غنڈے کا مُنہ کیوں دیکھتی رہی ہے ؟، اگر ِ ماڈل ٹاوٴن میں ۱۴ بندوں کے قتل اور کم و بیش ۸۰ بندوں کو زخمی کرنے کے سانحہ کو لاء اینڈ آرڈر کے حوالے کر کے ذمہ دار مجرموں کو سزائیں دے دی جاتیں تو اس کے بعد اندھوں پر بربر یت ہوتی اور نہ ہی فیصل آباد میں کوئی غنڈ سر عام حق نواز کو شہید کر تا ،جس بے چارے کے ماتھے پر ، عنقریب سجنے والے سہرے کے پھول بکھر جاتے ہیں، اس کے گھر میں سے گونجتے ہوے شادمانی کے گیت آنسوٴوں اور سسکیوں میں بدل جاتے ہیں۔ظالمو ! کیا تم اسی قسم کا پاکستان چاہتے ہیں ؟ چڑیا ترسیں گھونٹ کو ، دھرتی دہواں آڑائے
تم رہو ایسے دیس میں ہم سے رہا نہ جائے
 اگر ظالم کے خلاف کلمہ ِ حق کہنے کی جراء ت نہیں رکھتے ہو تو خاموش تو رہ سکتے ہو۔
”زبان ِ خلق کو نقارئہ خدا سمجھو “ جیسے پیمانے کو جھٹلانے کے لئے جواز یہ تراشتے ہو کہ شیخ رشیدجلا دوٴ ، گھراوٴ کے نعرے بلند کر کے نوجوان نسل کو بھٹکا رہا ہے۔ دہشت گردی کر رہا ہے اور میاں نواز شریف کی” ڈھٹائی“ کو اُن کے” صبر“ سے تعبیر کرکے سچائی میں شرمناک جھوٹ کا زہر گھولتے ہیں۔ یہ راہزنی ہے ۔ نواز شریف ،بھٹو کے مقابلے میں بڑے باپ کا بیٹا ہے اور نہ ہی خود کوئی بڑا سیاست دان یا بڑا آدمی ہے۔ فقط لوٹ مار کر کے بڑا سرمایہ دار ضرور بن گیا ہے،آج بھٹو جیسے دس خاندانوں کو خرید سکتا ہے۔ وہ اپنے مظالم کی حقیقت سے آگاہ ہے اور انصاف کے خوف سے دباوٴ میں ہے۔جب قصوری کے باپ کا لاہور میں قتل ہوا تھا تو اُس وقت بھٹو بھی اسلام آباد میں تھے۔ہاں اس نے اپنے خلاف پولیس کو ایف۔آئی۔کاٹنے سے منع نہیں کیا تھا۔جب کہ نواز شریف کی غنڈہ فورس (پولیس ) مولانا طاہر القادری صاحب کی ایف۔ آئی۔ آر ہی نہیں کاٹ رہی تھی اور اب جب سے ایف ۔آئی۔آر کٹی ہے۔دونوں بھائیوں کو رات کو ڈراونے خواب آتے ہیں اوپر سے فیصل باد میں حکومتی غنڈہ گردی کی وار دات نے سانحہ ماڈل ٹاوٴن کو ترکہ لگا دیا ہے۔اب کس مُنہ سے یہ جھوٹ بولا جا رہا ہے کہ تحریک انصاف نے غنڈہ گردی شروع کی تھی۔کیا لوگ وزیر اطلاعات کے اس انتباہ کو بھول گئے ہیں کہ اگر فیصل باد میں گندے انڈے یا ٹماٹر پڑیں تو ہمیں ذمہ دار نہ ٹھہرایا جائے۔نواز شریف صاحب سخت دباوٴ میں ہیں اور رانا ثنا اللہ کی آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے اور پینترے بدلتی ہوئی ان کی چرب زبانی کے پس پردہ ان کی باڈی لینگوج بھی بتاتی ہے کہ ان کی دم حق کے پاوٴں کے نیچے آ چکی ہے۔
شیخ رشید یا عمران خان نے کبھی پاکستان کو جلانے کی بات نہیں کی،میاں نواز شریف کے ،کسی اژ دھے کی طرح غریب عوام کو زندہ نگلتے ہوئے نظام ِ بے حسی کو جلانے کی بات کرتے ہیں۔نواز شریف جب سے وزیر اعظم بنے ہیں۔ شاہی خزانے سے صرف اُن کے شاہانہ دوروں کا خرچ ہی اگر کھوکرا پار پر خرچ کر دیا جاتا تو اموات بہت کم ہو سکتی تھیں۔ایسے بے حس نظام کے خلاف بغاوت اگر دہشت گردی ہے تو معذرت کے ساتھ سب سے بڑے دہشت گرد علامہ اقبال  تھے۔
جس کھیت سے میسر نہ ہو دہقان کو روزی
اُس کھیت کے ہر خوشہ ِگندم کو جلا دوٴ
حبیب جالب کا درج بالا شعر تو شہباز شریف بھی زرداری کے نظام حکومت کے خلاف مائیک توڑ توڑ کر پڑھتے رہے ہیں۔
ایسے دستور کو ۔۔صبح ِ بے نور کو
 میں نہیں ماتتا ۔۔ میں نہیں جانتا
فیض صاحب تو ہمارے کئی دانشوروں کی نظر میں ”دست ِ صبا “ میں ” دربار وطن “ کے نام سے ترانہ لکھنے کے جرم میں پھانسی کے لائق سمجھے جاتے ہو ں گے گے۔ جنہوں نے نواز شریف جیسے ظالمان وطن کے لئے لکھا تھا، دل چاہتا ہے پوری نظم ہی لکھ دوٴں۔
دربار وطن میں جب اک دن سب جانے والے جائیں گے
کچھ اپنی سزا کو پہنچیں گے ، کچھ اپنی جزا لے جائیں گے
اے خاک نشینو اٹھ بیٹھو وہ وقت قریب آ پہنچا ہے
جب تخت گرائیں جائیں گے ، جب تاج اچھالے جائیں گے
کٹتے بھی چلو ، بڑھتے بھی چلو بازو بھی بہت ہیں سر بھی بہت
چلتے بھی چلو ، کہ اب ڈیرے منزل ہی پہ ڈالے جائیں گے
شیخ رشید سے حکومتی کارندوں کی جلن کی اصل وجہ یہ ہے کہ وہ بہ بانگ دُل کہتے ہیں ۔” میں چور کو چور نہ کہوں تو کیا جامع مسجد کا امام کہوں ؟“
طے شدہ بات ہے کہ کسی بھی جمہوری نظام میں طاقت کا سر چشمہ عوام ہوتے ہیں۔ پرویز رشید ، عابد شیر علی ، طلال چوہدری ، سعد رفیق ، خوجہ آ صف اور رانا ثنا اللہ جیسے انتہا کے جھوٹے لوگوں کی زبان طاقت کا سرچشمہ نہیں بن سکتی۔ٹی۔وی پر ان کے جھوٹ سن کتر ان کے خلاف جو آگ ٹی۔وی کے ناظرین اگلتے ہیں۔وہ میں لکھ نہیں سکتا۔لیکن اپنے دل کا بوجھ میں اپنے پاس بھی نہیں رکھوں گا۔ بہت جلد آپ ” پاگل “ کے نام سے افسانہ پڑھیں گے۔
میاں نواز شریف کے موجودہ نظام حکومت کے خلاف عوام کے اٹھ کھڑے ہونے والے سمند کو دیکھتے ہوئے تو اب عدلیہ کو بھی سوچنا پرے گا کہ وہ نواز شریف کے کس کس جرم کو چھپائیں گے۔سانحہ ماڈل ٹاوٴن کی ،ہائی کورٹ کے جج ( نام ذہن میں نہیں آرہا ) کی رپورٹ موجودہ حکومت نے کیوں دبا رکھی ہے ؟ رانا ثنا اللہ اسے کیوں نہیں مانتے ؟ کیا یہ لوگ عدلیہ کو بھی اپنی غنڈہ فورس میں بدلنا چاہتے ہیں ؟
 عزت مآب چیف جسٹس آف پاکستان کا تازہ تریں بیان حیران کن ہے کہ ہم عدلیہ کو سیاسست سے الگ اور غیر جانب دار رکھنا چاہتے ہیں۔با وقار مماملک کی با وقار عدلتیں ہمیشہ سیاست سے الگ تھلگ اور غیر جانب دار ہی رہتی ہیں۔لیکن سانحہ ماڈل ٹاوٴں، الیکشن میں دھاندلی اور اب فیصل آباد میں حکومت کی غنڈہ گردی جیسے مسئلے ، سیاسی مسئلے نہیں ہیں جناب ، حکومت کے نامہ اعمال پر شرمناک جرائم ہیں اور ان جرائم کے فیصلے غیر جانب دار رہ کر آپ ہی کو کرنا ہوں گے۔آپ کے موقف نے قانون کے خوف کو صاحب اختیار لوگوں کے گھر کی باندی بنا دیا۔گویا سیاں بھئے کوتوال ، اب ڈر کاہئے کا “ والی بات بن چکی ہے۔ذرا غور فرمائیں ۔ فیصل آباد میں سر عام اور بے خوف و خطر گولیاں برسانے والے غنڈے کی دنیا نیوز کا فوٹو گرافر اپنی جان خطرے میں ڈال کر مکمل فٹج تیار کر لیتا ہے۔لیکن پولیس خاموش تماشائی بنی کھڑی رہتی ہے ۔آ خر کیوں۔؟ بعد کی خبروں سے معلوم ہوا ہے کہ پولیس نے مجرم کو گرفتار کر لیا تھا اور ڈی۔پی۔ او فیصل باد نے یہ بیان بھی جاری کر دیا تھا کہ قاتل کے حوالے سے ہم بہت جلد خوشخبری دیں گے۔لیکن بعد میں ایک فون آیا اور قاتل کو چھوڑ دیا گیا اور وہ خوشخبری بھی،حق نواز (شہید ) ، کی قبر پر رنج و غم سے بے حال ماں اور بہنوں کے آنسووٴں کی طرخ خاک میں مل گئی ہے۔آ خر یہ ظلم اور سینہ زوری کب تلک ؟
عزت مآب چیف جسٹس آف پاکستان ! یہ سیاسی معاملے نہیں، جرائم ہیں۔ اگر ان پر عدل و انصاف دیتے ہوئے آپ نے اپنی آنکھوں پرکالی پٹی نہ باندھی،تو آپ کو اپنی اس چشم پوشی پر ، جسے آپ غیر جانب داری کا نام دے رہے ہیں، دونوں جہاں کے مالک کی عدالت عظمیٰ میں جواب دہ ہونا پڑے پڑے گا۔ اللہ جب اپنے کسی منتخب کردہ بندے کو طاقت اختیار دیتا ہے تو پھر اُس کے اختیارات کی طاقت پر گہری نظر بھی رکھتا ہے۔اب کچھ مزید جرائم ملا حظہ فرمائیں اور فیصلہ کریں یہ سیاسی معاملات ہیں یا جرائم ۔
 (1) الیکشن 2013 ء ء میں شرمناک دھاندلی ہوئی ہے۔( صدر نکسن کے واٹر گیٹ کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے سوچیں کہ یہ سیاسی معاملہ ہے یا جرم ہے )الیکشنزمیں دھاندلیوں کی شکایت ہم پاکستانیوں کو ہمیشہ رہی ہے۔عمران خان کا کہنا ہے جب تک ہم الیکشن میں کامیابی کے لئے ووٹرز کے محتاج نہیں ہوں گے۔ہم عوام کے لئے کچھ نہیں کر سکیں گے۔اس لئے الیکشنز میں دھاندلی ختم کرنے کے لئے حالیہ الیکشن میں دھاندلی کی منصفانہ چھان بین کر کے دھاندلی کے ذمہ دار لوگوں کو عبرت ناک سزائیں دینا بہت ضروری ہیں۔آپ ایک منصف کی حیثیت سے بتائیں اس مطالبے میں کیا برائی ہے ؟اگر آئین کی کوئی شک اس مطالبے کے راستے میں رکاوٹ بنتی ہے تو قوم و ملت کی خوشحالی کے صدقے اُس نا معقول شک کو ختم کردینا چاہیے ۔ قومی خزانے کے ان چوروں کا ساتھ نہیں دینا چاہیے جو اپنے اپنے اختیارات کی طاقت کے مطابق قوم کو لوٹتے رہے ہیں اور ہنوز لوٹ رہے ہیں جو یہ بھی مانتے ہیں کہ الیکشن میں دھاندلی نہیں دھاندلا ہوا ہے،لیکن اپنی اپنی کھال بچا نے کے لئے جمہوریت کو ڈیریل نہیں ہونے دیں گے ، کا ڈرامہ رچائے ہوئے ہیں۔عمران خان کے اس جائز مطالبے کے جواب میں وزیر اعظم سمیت متعلقہ اداروں کی شرمناک ڈھٹائی نے ملک کو جس مقام پر لا کر کھڑا کر دیا ہے ۔اس تشویش ناک صورت حال سے ملک کے عوام کو صرف منصفا نہ عدل و انصاف ہی بچا سکتا ہے،ہاں منصفانہ عدل و انصاف ،آنکھوں پر کالی پٹیا باندھ کر کیا ہوا انصاف ۔
(2)ساری دنیا جانتی ہے کہ جنرل راحیل شریف سے عمران خان کے معاملے کو نپٹانے کے لئے میاں نواز شریف نے مدد مانگی تھی۔بعد میں وہ اپنی بات سے منکر ہو گئے گویا وہ جھوٹ بول کر نا اہلی کی زد میں آ گئے۔اُن کے منکر ہونے کے جواب میں افواج پاکستان کی طرف سے وضاحت کے ساتھ ساتھ میاں صاحب کی طرف سے یہ موقف بھی سامنے آیا تھا کہ پارلیمنٹ کی ہر کار وائی کسی قانون کی گرفت سے آزاد ہوتی ہے۔ یہ موقف اس بات کا واضح ثبوت تھا کہ میاں صاحب نے جو کچھ بھی کیا ہے ، یا کہا ہے وہ جھوٹ ہے لیکن قانون کی گرفت سے آزاد ہے۔لیکن ان حقائق کے باوجود اُن پر نا اہلی کے
مقدمے کا فیصلہ حیران کن ہے،جوشکوک و شبہا ت کے کئی دروازے کھولتا ہے۔
(3) قوم کا خون پینے والے ڈریکولوں کے خلاف آواز اٹھانے والے عمران خان کے خلاف بڑے ڈریکولا کے کارندوں نے آسماں سر پر اٹھا رکھا تھا کہ چین کے ساتھ چند بہت بڑے بڑے سرمایہ کاری کے منصوبوں پر سائین ہو رہے تھے۔انہیں عمران خان کے دھرنوں نے پایہ تکمیل تک نہیں پہنچنے دیا۔ پاکستان کے ایک سنئیر تجزیہ کار اور اپنے کھرے پن کی وجہ سے بہت زیادہ پڑھے جانے والے کالم نگار اور ٹی۔پروگرام ’‘ میرے مطابق“ میں اپنے کھرے تجزیوں کے سبب سب سے زیادہ سنے جانے والے جناب حسن نثار کے کالم بتاریخ 9 دسمبر سے جو کہانی سامنے آئی ہے۔اُس سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ سندھ کے تھر پارکر ، جہاں قحط کے شکار مرنے والے بچوں کو تعداد35 کے قریب ہو گئی ، میں اگر مخلو ق ِ خدا قحط کا شکار ہو کر مرتی ہے، تو مرتی رہے،پنجاب کے ہسپتالوں میں علاج معالجے کی سہولتیں نہ ہونے کی وجہ سے غریب پاکستانی ایڑیاں رگڑ رگڑ کر دم توڑتے ہیں، تو توڑتے رہیں۔ اگر پاکستان کے کروڑوں غریب بچے تعلیم سے محروم رہتے ہیں تو رہتے رہیں، ہوس ِ زر کے شکار ہما ر ے کاروباری حکمران اپنا قبلہ درست کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں، نندی پور پاور پلانٹ میں غریب قوم کو اربوں روپیوں کا ٹیکا لگانے کے شرمناک سکینڈل کے بعد اب قاسم پاور پلانٹ کی کہانی بھی سن لیں۔ جناب حسن نثار لکھتے ہیں۔” ادھرپورٹ قاسم پاور پلانٹ میں سیف الرحمن کا نام بھی منظر عام پر آ گیا ہے ۔ مجوزہ منصوبہ میں سیف الرحمن گارنٹر ،دستاویز میں اہم تفصیلات غائب ، دستاو یز میں واحد چینی ڈائر یکٹر کے صرف ایک فیصد شیئر،اور دیگر ڈائریکٹرز کا تعلق قطر سے ہے،پاور پلانٹ کے لئے سرمایہ کاری نہیں، 75 فیصد قرضہ ظاہر کیا گیا،جس سے بجلی مزید مہنگی ہو گی۔“ یاد رہے کہ ان ہی دنوں وزیر اعلیٰ پنجاب جناب شہباز شریف بھی قطر کے دورے پر تھے۔ سوال ہے قاسم پاور پلانٹ سے سیف الرحمن کا کیا تعلق ہے ؟ اور اُس نے کس حیثیت سے اس منصوبے پر دستخط کئے ہیں؟ ابھی اس خبر کے اثرات سے دل میں ہول اٹھ رہے تھے کہ ۸۔دسمبر کے ”لائیو وِد ڈاکٹر شاہد مسعود “ میں ڈاکٹر شاہد مسعود نے ہمارے سونے کے ذخائر پر ڈاکہ ڈالے جانے کی خبر سنا دی کہ کینیڈا کی ” ریکو ڈیک “ کمپنی کو پیپلز پارٹی کے دور میں ہمارے سونے کے ذخائر سے سونا نکالنے کا کام دینے کی کوشش کی گئی تھی اور اُس دور کے چیف جسٹس آف پاکستان نے منع کر دیا تھا۔ یاد رہے یہ وہی منصوبہ ہے جس پر افتخار چوہدری کے ، اُس کی بری شہرت کے شاہکار بیٹے ارسلان کو نواز شریف نے نہ جانے چیف صاحب کے کون سے احسان کا بدلہ چکانے کے لئے چیئر مین بنا دیا تھا۔بہر کیف اب کینیڈا کی اُسی کمپنی نے اپنا نام بدل کر سونے کی تلاش کا کام لے لیا ہے۔جبکہ ہمارے ہونہار ڈاکٹر ثمر مبارک کا کہنا ہے کہ یہ کام ہم خود بھی کر سکتے ہیں۔ اب انہیں یہ کون بتائے کہ کیا آپ اس کام کے عوض حکمرانوں کو کِک بیک بھی دے سکتے ہیں،
َکینیڈین کمپنی تو229 ملین ڈالرز کی کِک بیک ہمارے حکمرانوں کے شہزادوں کے اکا وٴ نٹس میں جمع کر رہی ہے۔29ملین ڈالر وزیر اعلیٰ بلو چستان نے اپنے حصے کی کِک بیک کی وصولی کے لئے دوبئی میں کسی ٹویوٹا کی ایجنسی کا اکاوٴنٹ دیا ہے۔ اور کرپشن سے پاک اک نیا پاکستان بنانے کے داعی عمران خان کے خلاف پہاڑ جیسا مُنہ کھول کر اونچی اونچی ہانکنے والے اچکزئی کا حصہ بھی اِس لوٹ مار میں ہے۔ کیا کاکوئی ایسا وارث ہے جو پاکستان کو اس ڈاکے سے بچا لے۔؟
 عزت مآب جنا چیف جسٹس آف پاکستان ! کیا یہ سارے معاملات سیاسی ہیں ؟کیا میرے ملک میں قوم سے غدااری جرم نہیں سمجھا جاتا اور جرائم کی کوئی پوچھ پڑتال نہیں ہے۔
”پگل ہے۔۔تھوڑی سی پاگل ہے۔۔نہیں زیادہ پاگل ہے “ فلم ” کبھی خوشی کبھی غم“ میں شاہ رخ کے اس ڈائیلاگ کو ، جو اس نے فلم کی شوخ و شنگ اور چلبلے کردار کی ہیروئین کاجل کے بولا تھا،کو میرے چند قریبی دوست میرے ساتھ منسوب کرتے ہیں۔ کیوں ؟ (باقی آئندہ )
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com
تاریخ اشاعت: 2014-12-13

کالم نگار     :     عبدالرحیم انجان

عبدالرحیم انجان کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-