بند کریں
اتوار دسمبر

دھرنوں پہ دھرنہ، عوام کہاں جائیں؟

ڈاکٹر اویس فاروقی :

پاکستان کی سیاست کو ایک نئی جہت عطا کرنے والی عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف ملک کی ایک بڑی جماعت کے طور پر ابھری ہے بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ مورثی سیاست کے پروردوں کو خوف کا شکار کیا ہے تو بے جا نہ ہو گا اور اگر ہم غیر جانبدارنہ تجزیہ کرتے ہوئے تعصب کی عینک اتار کر دیکھیں تو عمران خان نے اپنی جماعت کو ملک کی مقبول ترین جماعت کے قالب میں ڈھال دیا ہے اس کی اس اٹھان کو اگر کبھی نقصان پہنچا تو اس کے قصور وار موصوف خود ہی ہونگے پاکستان کی تاریخ میں ذولفقار علی بھٹو کے بعد عمران خان دوسرے رہنما ہیں جنہیں عوام الناس میں ا س قدر پزیرائی ملی ہے اور لوگ جوق در جوق ان کی جماعت میں شامل ہو رہے ہیں جن لوگوں کا خیال تھا کہ اس جماعت کی پشت پنا ہ کچھ ”غیر مری“ قوتیں ہیں اس خیال کے غبارے سے ہوا عمران خان کے تین ماہ سے زائد عرصے کے دھرنے اور ہر شہر میں کامیاب جلسوں نے نکال دی ہے کیونکہ ہر شہر میں عوام کے جم غفیر کے ساتھ کئے گئے جلسوں میں عوام کسی لوبھ یا لالچ کے بغیر شامل ہو رہے ہیں جبکہ حکومتی اکابرین کو اپنے جلسوں میں سرکار کو اپنا سرکاری اثر رسوخ شامل کرنا پڑتا ہے لیکن پنڈال پھر بھی خالی رہتا ہے جبکہ دیگر جماعتوں کے جلسوں کی بھی یہی صورت حال ہے عمران کی مقبولیت کی کوئی گرد کو بھی نہیں چھو پا رہا، لگتا یہ ہے کہ مستقبل کی سیاست میں میں عمران کی جماعت کا ایک اہم رول ہو گا عمران خا ن کی جانب سے دھرنوں کے اعلان کے بعد دھرنوں کا سیزن شروع ہو چکا ہے جس کو دیکھو دھرنے کی دھمکی دیتا دکھائی دے رہا ہے کچھ لوگ عمران کے دھرنے کا اثر زائل کرنے کے لئے حکومتی ایما پر دھرنے دے اور جلوس نکال رہے ہیں تو کچھ لوگ ا اپنی مردہ جماعتوں کو زندہ کرنے کے لئے دھرنے دے اور جلوس نکال رہے ہیں پورا ملک اس وقت دھرنا سیاست کا شکار نظر آتا ہے میڈیا کا پرائم ٹائم جس میں ملک کے دیگر مسائل کا زکر اذکار ہونا چاہے تھا وہ پس پشت جا چکے ہیں ملک میں بھوک بے روزگاری اور بیماریوں سے کتنے افراد روزانہ اپنی زندگی اپنے ہاتھوں ختم کر رہے ہیں اس طرح کی خبریں اخبارات میں جگہ پا رہی ہیں نہ ہی وہ بریکنگ نیوز بن رہی ہیں حالانکہ آج کی بریکنگ نیوز اگر کوئی ہونے چاہیے تو اسی عوام کے سلگتے مسائل ہونے چاہییں جن کے نام پر ساری سیاست گھوم اور کی جارہی ہے، ٹھیک ہے عمران خان کے دھرنوں اور طرز سیاست نے عوامی شعور میں اضافہ کیا ہے اب لوگ اپنا حق مانگنے اور اپنے ساتھ ہونے والی کسی بھی زیادتی کے خلاف بولنے ہی نہیں لگے بلکہ اٹھ بھی کھڑئے ہونے لگے ہیں ،اس کی مثال وی آئی پی کلچر کے خلاف ہونے والے واقعات بھی ہیں ۔جبکہ عالمی منڈی میں پٹرولیم مصنوعات کی قمیتوں میں کمی کے بعد پاکستان میں بھی ان کی قیمیتوں میں کمی کو عمران خان کے دھرنوں کے کھاتے میں ڈالا جا رہا ہے جو کسی حد تک درست ہو سکتا ہے مگر سچ نہیں کیونکہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کے بعد ہماری حکومت کو بھی قیمتیں کم کرنی ہی تھیں گو کہ ابھی تک عوام کو اتنا فائد نہیں پہنچایا گیا جتنا قیمتوں میں کمی کا ہونا چاہیے تھا ۔
یہاں یہ سوال بھی اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ اگر دھرنے ہی ملکی مسائل کا حل ہیں تو ملک سے پولیو ، غربت ،انتہا پسندی ، دہزت گردی ،بھوک اور بے روزگاری کا خاتمہ ہو جانا چاہئے تھا جبکہ ہم دیکھ رہے ہیں ان مسائل میں اضافہ ہوتا جارہا ہے صحت کی دگرگوں صورت حال کا اندازہ اس بات سے لگائیں کے فیصل آباد ، سرگودھا ،بہالپور ۔ملتان اور لاہور کے ہسپتالوں میں نو مولود بچوں کی صحت کی سہولتوں کی عدم دستیابی کی بنا پر ہلاکتیں کسی بھی معاشرے کے لے ڈوب مرنے کا مقام ہونا چاہے تھا مگر اتنی زیادہ ہلاکتوں کا زکر نہ ہی دھرنے والوں کی ترجیح ہے حکومت کی تو خیر بات ہی چھوڑیے۔ اسی طرح پاکستان بھر میں ٹریفک حادثات میں ہونے والا اضافہ اور ہلاکتوں کی تعداد ،تڑیفک پولیس کی نا اہلی جیسے مسائل بھی ہمارے لئے ملکی ایشو نہیں ہیں حالانکہ دہشت گردی میں ہونے والی ہلاکتوں سے زیادہ ہلاکتیں ٹریفک کے حادثات میں ہو رہی ہیں۔
 بتا یا جاتا ہے کہ پاکستان میں سالانہ30 ہزار افراد حاثات میں ہلاک ہو جاتے ہیں اور لاکھوں زخمی جن میں کئی معذوری کی زندگی بھی بسر کرتے ہیں پاکستان کا شمار دنیا کے ان چند ملکوں میں ہوتا ہے جہاں ڈرائیوروں کی غفلت، تیز رفتای، گاڑیوں اور سڑکوں کی ناقص حالت ٹریفک پولیس کی نااہلی کے باعث ٹریفک کے بدترین حادثات پیش آتے ہیں۔عداد و شمار کو سائنسی طریقے سے جمع کرنے والوں کا کہنا ہے کہ تقریباً تیس ہزار لوگ ہر سال حادثات کا شکار ہو کر ہلاک ہو جاتے ہیں یہ عداد و شمار حتمی نہیں ہیں کیونکہ شہروں اور دیہاتوں وغیرہ میں جو حادثات رپورٹ نہیں ہوتے بلکہ قست کا لکھا کہہ کر قبر میں اتار دئے جاتے ہیں اگر انہیں بھی عدادو شمار میں شامل کر لیا جائے تو ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں دگنا اضافہ شامل کیا جا سکتا ہے ایک اور رپورٹ منظر کشی کرتے ہوئے بتاتی ہے کہ صرف صوبہ پنجاب میں گزشتہ برس 1 لاکھ67 ہزار حادثات میں 11 ہزار کے قریب افراد جاں بحق ہوئے، جبکہ 9 ہزار کے قریب لوگ معذور ہوئے۔ حادثات میں زخمی اور جاں بحق ہونے والے افراد میں سب سے زیادہ نوجوان نسل ہے۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق 41 ہزار 297 خواتین بھی ٹریفک حادثات کا شکار ہوئیں، جن میں سے بہت سی خواتین جاں بحق ہوئیں اور ہزاروں کی تعداد میں زخمی ہوئیں۔ ملک کا کوئی حصة ایسا نہیں جہاں حادثات نہ ہوتے ہوں بلکہ تمام حادثات کی وجوہات بھی یکساں ہوتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ حادثات میں بے پناہ اضافے کی عمومی وجوہات قانون کی خلاف ورزی، مخدوش سڑکیں، ٹرانسپورٹ کی خراب حالت، ڈرائیوروں کی غفلت، تیز رفتاری سے گاڑیاں چلانا اور گاڑیوں میں گنجائش سے زیادہ مسافر سوار کرنا، منصوبہ بندی سے ہٹ کر بنائے گئے خطرناک موڑ اور دو رویہ سڑک کے درمیان اور اطراف میں حفاظتی جنگلے کا نہ ہونے کے ساتھ ایک اہم وجہ دوارن ڈرائیوننگ موبائل فون کا استعمال اور ٹریفک پولیس کی غیر زمہ داری حادثات کا باعث بنتی ہے، سی این جی کِٹس کا پھٹ جانا بھی حادثات کا ایک محرک ہے۔
 دھرنوں کا مقصد تو اس مکروہ نظام کو تبدیل کرنا ہونا چاہے تھا اگر یہ نظام جس نے عام پاکستانی کی جان خشک کر رکھی ہے نے تبدیل ہی نہیں ہونا اور عوام کے مسائل حل نہیں ہونے تو ایسے دھرنوں کا کیا فائدہ۔؟
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com
تاریخ اشاعت: 2014-12-11

کالم نگار     :     ڈاکٹر اویس فاروقی

ڈاکٹر اویس فاروقی کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-