بند کریں
جمعہ دسمبر

ہوپ کی نومنتخب قیادت سے توقعات

میاں اشفاق انجم :

حج آرگنائزر ایسوسی ایشن آف پاکستان (ہوپ) پرائیویٹ حج سکیم کے سعودی حکومت اور وزارت مذہبی امور کے رجسٹرڈ حج آرگنائزر کی ڈی جی ٹی او سے رجسٹرڈ نمائندہ تنظیم ہے اس کے قواعد و ضوابط کے مطابق ٹریول ایجنٹس ایسوسی ایشن (ٹیپ) پہلے رجسٹرڈ ہے اور سالانہ بنیادوں پر اس کے انتخابات ہوتے ہیں۔ حج آرگنائزر کی تنظیم نو پرائیویٹ حج سکیم کے آغاز سے ملک بھر میں موجود رہی ہے۔ مرکزی چیئرمین کی حیثیت سے النصر گروپ کے حاجی شاہد رفیق اور کاروان ابراہیم کے سلمان طاہر خدمات انجام دیتے آئے ہیں۔2014ء ہوپ کے الیکشن کا پہلا سال ہے۔ ڈی جی ٹی او کے تحت تمام گیٹ وے پہلے مرحلے میں اپنے ایگزیکٹو ممبران کا انتخاب کرتا ہے اور پھر نو منتخب ممبران مرکز کے ساتھ ساتھ اپنے گیٹ وے پر زونل چیئرمین کا انتخاب کرتے ہیں۔ زونل چیئرمین کسی بھی گیٹ وے سے ہو وہ مرکز کا وائس چیئرمین کہلاتا ہے۔ مرکزی چیئرمین سینئر وائس چیئرمین کا انتخاب ملک بھر کے ایگزیکٹو ممبران کرتے ہیں۔ ڈی جی ٹی او نے ایسے قواعد ترتیب دے رکھے ہیں ہر گیٹ وے سے مرکزی چیئرمین ضرور آتا ہے۔ ہوپ کے پانچ گیٹ وے ہیں۔ زونل ترتیب اس طرح بنائی گئی ہے۔ اس میں اسلام آبادزون پنجاب زون ،کوئٹہ زون، کے پی کے زون ، سندھ زون بنائے گئے ہیں اس سال پہلی دفعہ مرکزی چیئرمین پنجاب سے آتا تھا اس لئے پنجاب میں زیادہ جوش و خروش دیکھنے کو ملا۔ 2015ء کے لئے ملک بھر کے حج آرگنائزر اپنے نمائندے منتخب کر چکے ہیں اور منتخب ممبران نے اپنے زونل اور مرکزی چیئرمین اور وائس چیئرمین کا مرحلہ بھی مکمل کر لیا ہے۔ مرکزی چیئرمین پنجاب سے منتخب ہوئے ہیں۔ ہوپ 2015ء کے چیئرمین حاجی مقبول احمد بلا مقابلہ منتخب ہوئے ہیں۔ہوپ کے انتخاب کا مرحلہ مشکل ترین مرحلہ قرار دیا جا سکتا ہے جو اسلام آباد، کراچی، کوئٹہ، سندھ کے پی کے اور پنجاب کے حج آرگنائزر خوش اسلوبی سے مکمل کر چکے ہیں۔ مرکزی چیئرمین حاجی مقبول احمد سینئر وائس چیئرمین حاجی عبدالرزاق منتخب ہوئے ہیں۔ سینئر وائس چیئرمین کا تعلق کراچی سے ہے وہ کراچی سے بطور چیئرمین منتخب ہوئے تھے۔ باہمی انڈرسٹینڈنگ سے مرکز میں کراچی کو سینئر وائس چیئرمین کی نشست دے کر ہوپ کی باڈی کو تقویت دی گئی ہے۔ اسلام آباد سے الحاج ایوب عباسی کے پی کے سے الحاج مسعود شنواری کوئٹہ سے الحاج قیمت خان سندھ زون سے الحاج محمد یوسف، پنجاب زون سے الحاج احسان الله بلا مقابلہ منتخب ہوئے ہیں اندرونی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے تمام گیٹ وے کے منتخب ایگزیکٹو ممبران نے اپنے نمائندوں کو بلا مقابلہ ممبر منتخب کرکے خوبصورت روایت متعارف کرائی ہے۔
حج آرگنائزر ملک بھرمیں ایچ جی او (HGO) کے طور پر پہنچانے جاتے ہیں۔ حج آرگنائزر وہ خوش قسمت افراد قرار پاتے ہیں جن کو الله نے اپنے مہمانوں کی خدمت اور رہنمائی کے لئے منتخب کیا ہے۔ دنیا داری میں دیکھا جائے تو اس سے افضل فریضہ کوئی نہیں ہے۔ الله کے مہمانوں کی خدمت اور رہنمائی کا فریضہ سپرد ہو جائے جو براہ راست الله کے نبی حضرت محمد کی اپنی اور ان کے صحابہ کرام کی مبارک سنت ہے۔ حج ہمارے دین اسلام کا اہم رکن ہے اور حج کی فرضیت و اہمیت کا قرآن و حدیث میں جگہ جگہ ذکر آیا ہے۔ صاحب استطاعت اہل مسلم کو زندگی میں کم از کم ایک بار فرض قرار دیا گیا ہے۔حج کے حوالے سے آتا ہے جو اخلاص سے فریضہ حج ادا کر لیتا ہے وہ گناہوں سے اس طرح پاک ہو جاتا ہے جیسے ماں نے اسے ابھی پیدا کیا ہو۔
حاجی براہ راست الله کا مہمان ہوتا ہے۔ا س لئے الله کے مہمانوں کی خدمت کے لئے منتخب ہونے والے بظاہر تو بہت زیادہ خوش قسمت ہیں مگر میرے خیال میں ان افراد کے اوصاف اور کردار بھی اس لحاظ سے منفرد اور مکمل ہونا ضروری ہیں الله کے مہمان جس طرح اعلیٰ مقام رکھتے ہیں، اسی طرح ان کی خدمت کے لئے منتخب ہونے والوں کو فخر اور تکبر کرنے کی بجائے علم و عمل کا شاہکار ہونا چاہیے اور باکردار ہونے کے ساتھ ساتھ دنیاوی عیوب سے پاک ہونا چاہیے ان کی زبان اور عمل سے کسی کو نقصان نہیں ہونا چاہیے۔ بدکرداری ،بدزبانی نمودو نمائش اور دکھاوے سے پاک زندگی کا خوگر ہونا چاہیے اگر یہ صفات آئیں گی پھر الله بھی راضی ہوگا اور اس کے بندے بھی راضی ہوں گے۔ ہوپ کا الیکشن تو بظاہر اپنی صنعت اور کاروبار کے مستقبل کے تحفظ کا نام ہے۔ اپنے ساتھیوں کے مفادات اور وقار کی بحالی کا فریضہ ہے۔
 ذمہ داری تو ایک آزمائش ہے صحابہ کرام تو آزمائش سے بچنے کی دعائیں کرتے تھے الله کے نبیﷺ نے آزمائشوں سے پناہ مانگنے کی تلقین کی ہے۔بڑے ہونے، دولت مند ہونے، بڑی بڑی گاڑیوں پر فخر کرنے والوں کی آزمائش بھی اتنی ہی زیادہ ہوتی ہے۔ حج آرگنائزر کو اپنے اعلیٰ مقام کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے کردار کو بھی بہتر بنانا ہوگا۔ ایک دوسرے پر تنقید کرنے اور کیچڑ اچھالنے کے وطیرے کو بدلتے ہوئے تنقید برائے اصلاح کو بھی سامنے کرنے کی روایت کو آگے بڑھانا ہوگا۔ الیکشن تو پھر 8ماہ بعد دوبارہ آ جائے گا۔ الیکشن جیتنے کے بعد جو اپنی صنعت کے مفاد میں کرنے کے کام ہیں ان کو سنبھال کر رکھئے اور اپنے کردار اور عمل سے ساتھیوں کے دلوں میں گھر کیجئے اور پھر اگلے ستمبر میں منتخب ہو کر کام کے ذریعے تاریخ رقم کیجئے دوسروں پر انگلی اٹھانے انہیں بُرا بھلا کہنے کی بجائے اپنے گریبان میں جھانکنے کا وقت ہے کیونکہ گورنمنٹ آف پاکستان کے ساتھ ساتھ ملک بھر کے عوام بھی سرکاری حج سکیم 2014ء سے اس انداز میں خوش ہونے ہیں۔ آپ کی آزمائش اور بڑھ گئی ہے اور وفاقی وزیر مذہبی امور اور نئے وفاقی سیکرٹری ایڈیشنل سیکرٹری بھی ان دنوں کنفیوژ نظر آتے ہیں ان کے اور ملک بھر کی عوام کے سامنے آپ لوگوں کو سرخرو ہونے کے لئے نئے انداز میں صف بندی کرنا پڑے گی ورنہ یہ گمان رکھنا ہم سعودی حکومت سے رجسٹرڈ ہیں ہمارا کوئی کیا بگاڑ سکتا ہے ۔یہ تکبر کی علامت ہے۔ الله سے توبہ کرتے ہوئے خود احتسابی کے عمل کو رواج دینا ہوگا۔
نو منتخب قیادت کی آزمائش بھی اتنی ہی بڑی ہے۔ پرائیویٹ حج سکیم کے مستقبل کو محفوظ کرنے کے ساتھ ساتھ حج آرگنائزر کی تربیت کا مشکل ٹاسک بھی پورا کرنا ہوگا۔ پرائیویٹ حج سکیم شروع کرتے وقت جو منصوبہ بندی کی گئی تھی دائرہ کار کا تعین کیا گیا تھا اس کو از سر نو سامنے رکھتے ہوئے کسی فرد کی خوشنودی کی بجائے باہمی مشاورت سے تمام گیٹ وے کے ذمہ داران کو سرجوڑ کر بیٹھنا ہوگا۔ واقفانِ حال کا کہنا ہے کہ حج 2015ء ہوپ کے لئے آزمائش نہیں، حج آرگنائزر کے لئے بھی پُل صراط ہے، اگر احسن انداز میں عبور کرگئے تو پرائیویٹ سکیم کا کوٹہ بھی بڑھے گا اور موجودہ حج آرگنائزر بھی رہیں گے اورحکومت بھی مطالبات ماننے پر مجبور ہوگی ۔
ہوپ کی نو منتخب قیادت وہ مرکز کی ہو یا کراچی کی پنجاب کی ہو یا اسلام آباد کی روزنامہ ”پاکستان“ کو ملنے والے فیڈبیک سے اندازہ ہوتا ہے کہ قیادت کے انتخاب پرملا جلا تاثر پایا جا رہا ہے۔ کچھ افراد کمزور قیادت قرار دیتے ہیں۔ کچھ بزرگ قیادت قرار دیتے ہیں، کچھ بااثر قیادت قرار دیتے ہیں، حالانکہ میں مرکزی چیئرمین حاجی مقبول احمد اور پنجاب کے چیئرمین احسان الله کی زندگی کے تمام پہلوؤں سے آگاہ ہوں۔ کرپٹ نہیں ہیں باعمل ہیں الله نے انہیں خوب نوازاہے۔ میرے ذاتی خیال میں یہ صفات ہوپ کے نمائندوں کی حیثیت سے کافی نہیں ہیں۔ جرات مندانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے حکمرانوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر حج آرگنائزر کے اعتماد کی بحالی اور پرائیویٹ حج سکیم کے تحفظ کے لئے قانون سازی کروانے کا وقت آ گیا ہے۔ ٹرانسپورٹ کے نظام کا از سر نو جائزہ لینے ائرپورٹ سے ائرپورٹ تک کے ٹرانسپورٹ کے نظام کا دوبارہ جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ معلمین کی اجارہ داری کے خاتمے حج آرگنائزر کی موسسہ جنوبی ایشیا تک رسائی نقابہ سے ایگریمنٹ مکہ مدینہ جدہ میں مستقل دفاتر چھ ماہ کے ملٹی پل ویزے سمیت ایئر لائنز کے ساتھ عازمین حج کی سہولت کے مطابق حج آرگنائزر کو فلائٹ کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے ہوپ کو موثر کردار ادا کرنا ہوگا۔پرائیویٹ حج سکیم کے پیکیج کو نٹ میں لانے اور حاجی کو ملنے والی سہولیات کا مرحلہ وار جائزہ لینے اور پرائیویٹ حج پیکیج کو سستا کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ اس کے لئے بھی ہوپ کے نمائندوں کو سرجوڑنا ہوں گے۔
ہوپ کے منتخب نمائندے یقینا یہ سب کچھ کرنے کی ہمت رکھتے ہیں۔اس کے لئے ملک بھر کے حج آرگنائزر کو باہمی اختلافات ختم کرکے اپنے نمائندوں کی پشت پر کھڑا ہونا پڑے گا۔آج اگر آپ موجودہ قیادت کی پشت پر کھڑے ہوں گے پھر جب آپ کل منتخب ہو کر ان کی طرف دیکھیں گے تو یہ بھی آپ کے دست بازو بنیں گے۔ اپنی انڈسٹری کو بچانے کے لئے ایک دوسرے کو گلے لگانا ہوگا۔ایک حج آرگنائزر کی طرف سے نو منتخب قیادت سے وابستہ توقعات پیش کر دی ہیں۔ حج آرگنائزر کو بھی گزشتہ گلے شکوے ختم کرکے ہوپ کے نئے نظام کی مضبوطی کے لئے آگے بڑھنا ہوگا۔ اس سال حج پالیسی گزشتہ سال سے بھی پہلے آنے کی توقع کی جارہی ہے۔ ملکی حالات ٹھیک رہے توجنوری میں سعودی حکومت کے ساتھ ایم او یو سائن ہو سکتا ہے۔وزارت مذہبی امور نے حج پالیسی 2015ء کے لئے تجاویز لینے کیلئے 12دسمبر سے اسلام آباد میں پہلی ورکشاپ منعقد کرنے کا اعلان کرکے تیاریوں کا آغاز کر دیا ہے۔18دسمبر کے بعد پنجاب اور پھر کراچی میں ورکشاپ کے انعقاد کے ساتھ ہی ملک بھر سے اکٹھی ہونے والی تجاویز کو یکجا کر دیا جائے گا۔سرکاری حج اور پرائیویٹ حج 2015ء کے لئے مزید تجاویز دوبارہ کسی وقت انشاء الله۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com
تاریخ اشاعت: 2014-12-07

کالم نگار     :     میاں اشفاق انجم

میاں اشفاق انجم کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-