بند کریں
جمعرات نومبر

سوچ نگر

عبدالماجد ملک :

اس جہاں فانی میں جا بجا حیرتوں کے ساماں بکھرے پڑے ہیں،انسان جانور سے بھی بدتر ہوچکا ہے،ظلمت کی شب طویل ہوتی جارہی ہے لیکن پھر بھی کچھ لوگ امید سحر کی تگ و دو میں مصروف ہیں۔
یہ انسان جسے اشرف المخلوقات کے اعلیٰ عہدے پر فائز کیا گیا تھا ،کبھی کبھار جانور بلکہ اس سے بھی بدتر ہوجاتا ہے ،کبھی میں سوچتا ہوں کہ یہ وہی انسان ہے جس نے اللہ رب العزت کو کہا تھاتو ہی میرا رب ہے پھر یہ کیوں بھول گیا کہ وہ اس سے باخبر ہے اور اسے دیکھ رہا ہے یہ انسان کیسا بے خبر اور نادان ہے کہ باخبر رب کو جو سمیع بھی ہے بصیر بھی ہے کو دھوکہ دینے میں مصروف ہے ،دراصل وہ اپنے رب کو نہیں بلکہ خود کو دھوکہ دے رہا ہوتا ہے ،حضرت انسان اگر اپنی پیدائش پر غور کر لے اور بنیاد کو پہچان لے تو اس کی ساری اکڑفوں نکل جائے گی لیکن یہ جو دوسروں کو عیبوں پر رائے زنی کرتا ہے ،کبھی اپنے گریبان میں جھانکے تو معلوم ہو کہ حقیقت کیا ہے؟
اے انسان! سنبھل جا اور باز آجا کیونکہ لمحہ بہ لمحہ اس کی زندگی گھٹتی جا رہی ہے اور تجھے اپنے کیے ہوئے کاموں کا حساب دینا ہو گا ،ابھی وقت ہے لوٹ جا ،اس کریم رب کی طرف جس کی رحمت آج بھی بانہیں کھولے تجھے خوش آمدید کہنے کی منتظر ہے پھر پچھتائے گا #
جب لاد چلے گا بنجارا۔
اور کبھی کبھی ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے دنیا سے پیار و محبت ختم ہوتا جارہا ہے،عشق و محبتیں کی باتیں افسانے سے محسوس ہوتے ہیں ،اسی طرح اگر غور کریں تو معلوم ہو گا کہ پھولوں سے خوشبو بھی ماند پڑتی جا رہی ہے ،پھول کھلتے ضرور ہیں پر وہ خوشبو سے خالی ہوتے ہیں جیسے ہم بظاہر ایک دوسرے سے ہنس کر ملتے ہیں لیکن ہمارے اندر منافقت موجود ہوتی ہے۔
یارو!
یہ منافقت کا لبادہ ہمیں اتار پھینکنا چاہئے اور پھر سے واپس محبت کے دیس میں لوٹ جانا چاہئے ،جہاں پیار کے نغموں کی سریلی دھن ہو،جہاں الفت کا درس دیا جا رہا ہو،جہاں پیار کی چاشنی ہو اور ایک دوسرے کے ساتھ مخلص ہو کر سب کے لئے اچھے جذبات ہوں تاکہ یہ دنیا پھر سے محبت کا گلشن دکھائی دے۔
ویسے ہم انسان بھی کافی عجیب ہوتے ہیں ،ان چیزوں سے پیار کرتے ہیں جن میں وفا نہیں ہوتی،ہم لمبی زندگی کی خواہش رکھتے ہیں اور اس کی آسائش کے سارے سامان اکٹھے کرتے ہیں،لیکن یہ زندگی بھی ہم سے بے وفائی کر کے ہمیں موت کے حوالے کر جاتی ہے،ہم خود کو بنا اور سنوار کر رکھتے ہیں اور حسن کے پیچھے بھاگتے رہتے ہیں لیکن حسن بھی چار دن کے بعد دغا دے جاتا ہے۔
مجھے آج تک سمجھ نہیں آئی کہ ہم بے وفا چیزوں کے پیچھے کیوں بھاگتے ہیں ؟شاید ہم خود بھی خود سے وفا دار نہیں اس لئے بے وفا چیزوں کے پیچھے بھاگنا ہمارا شیوہ بن چکا ہے ۔ہمیں اپنی عادت کو تبدیل کرنے کے لئے پہلے خود سے وفاداری کرنا ہوگی ،اور ان چیزوں کے پیچھے بھاگنا اور سوچنا ہوگا جو دائمی ہوں اور جن کا وجود ہمیشہ ہمیشہ کے لئے رہے۔
قارئین !اب تو روز بروز دنیا کے جھمیلے بڑھتے چلے جارہے ہیں،خون کے رشتے پتلے اور کمزور ہو چکے ہیں ،چار سو افراتفری اور نفسانفسی کا عالم ہے ،ہر کوئی اپنے ہی بارے فکر مند اور اپنی پیٹ پوجا میں مصروف ہے ،کسی کو کسی کا احساس تک نہیں،انسانیت دم توڑتی محسوس ہوتی ہے،کبھی تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انسان حیوان بن چکا ہے بلکہ جانور سے بھی بدتر۔۔۔
کبھی کبھار ایسا لگتا ہے کہ دنیا کا خاتمہ قریب آچکا ہے اور قیامت بس نزدیک ہی ہے ،کیونکہ قیامت کی اکثر نشانیوں کا ظہور ہو چکا ہے ،لیکن سوچتا ہوں کہ دنیا تباہی کے دہانے پر پہنچ کر بھی کیسے سلامت ہے تو ذہن میں یہ خیال آتا ہے کہ شاید کہیں کچھ برگزیدہ ہستیاں بھی موجود ہیں جو انسان نما احساس سے عاری اجسام میں انسانیت کے پرچار میں مصروف ہیں اور انہی ہستیوں کی بدولت اس دنیا کا نظام رواں دواں ہے ،لیکن ہمیں سنبھلنا ہو گا اور کچھ کرنا ہو گا کہ کہیں دیر نہ ہو جائے خود کو بدلنا ہوگا ،نہیں تو #
 ایسا نہ ہو کہ درد بنے درد لا دوا
 ایسانہ ہو کہ تم بھی مداوا نہ کر سکو
قارئین !اگر موجودہ حالات کو دیکھیں تو وقت کا پہیہ تیزی سے رواں دواں ہے کسی نے کہا تھا کہ زندگی ایک دوڑ ہے جس میں جتنا تیز دوڑو گے اتنا ہی آگے نکل جاوٴ گے،میں اس وقت یہ سوچا کرتا تھا کہ زندگی کیسی دوڑ ہے ؟پھر ذہن کے کسی کونے میں یہ خیال آیا کہ زندگی کو دوڑ اس لئے کہا ہوگا کہ زندگی میں جتنی زیادہ محنت کرو گے اتنی ہی زیادہ کامیابی تمہارے قدم چومے گی،ایک عرصے تک میں اسی سوچ پر کاربند رہا،لیکن جب حقیقت آشکارا ہوئی تو وہ کچھ اس طرح سے ہے کہ واقعی زندگی ایک دوڑ ہے لیکن اس میں اس کا مقابلہ وقت کے ساتھ ہے جو تیزی سے ہاتھ سے نکلتا چلا جا رہا ہے اور وقت کی رفتار تیز سے تیز تر ہوتی جا رہی ہے جبکہ زندگی کی رفتار سست ہے،اس لئے اگر اس دوڑ میں جیتنا چاہتے ہو تو وقت کی قدر کرو۔
کامیاب انسان وقت کی قدرو قیمت کو سمجھتا ہے اس لئے وہ وقت کے ہر پل کو ضیاع سے بچانے کے لئے اس کا استعمال بخوبی کرتا ہے جبکہ بے وقوف قوم کے احمق افراد خواب غفلت میں ڈوب کر قیمتی وقت کا ضیاع کر رہے ہیں ۔
کچھ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ مصروف زندگی میں وقت کا پتا ہی نہیں چلتا ،جبکہ کچھ کا خیال ہے کہ وقت میں برکت نہیں رہی ،اس لئے وقت تیز سے تیز تر ہو گیا ہے جبکہ میرا خیال اس کے برعکس ہے کہ وقت تیز نہیں ہوا ہے بلکہ ہم نے زندگی کو دنیا کے جھمیلے میں اس قدر مصروف کر دیا ہے کہ وقت کی قدر کا بھی احساس نہیں رہا ہے۔
انسان خود کو آسائشوں سے آراستہ کرکے سہولیات سے مستفید ہونے کی تگ و دو میں مصروف ہیں لیکن پھر بھی مصیبتیں ہیں کہ بڑھتی ہی چلی جا رہی ہیں ،نجانے یہ زندگی کی پریشانیاں کب ختم ہوں گی ؟یہ مصروفیات کا خاتمہ کب ہوگا؟کب ہمیں سکون میسر آئے گا ؟کب ہم بھی چین کی نیند سو سکیں گے؟آخر کب؟؟؟؟
لگتا ہے اس دنیا میں بس ٹینشنیں ہیں ،دکھ اور پریشانیاں ہیں،لوگ آسائشوں کی تلاش میں نکلتے ہیں تو مصروفیات میں گم ہو کر خود کو بے بس محسوس کرتے ہیں،اور دنیا کی پریشانیوں کی دلدل میں دھنستے چلے جاتے ہیں!!!
اب تو یہ خیال سا لگتا ہے کہ کبھی تو سکون ملے گا کیونکہ ہم گم ہوتے چلے جا رہے ہیں دنیا کی مصروفیات کی بھیڑ میں،جہاں صرف ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی دوڑ لگی ہوئی ہے کوئی کسی کے ساتھ مخلص نہیں ،کوئی کسی کا درد بانٹنے والا نہیں،سب ہی خود غرض ہیں ،اپنی ہی ذات سے محبت کرتے ہیں ،سبھی انا کے مارے ہوئے ہیں!!
ایسا محسوس ہوتا ہے جب تک زندگی کی سانسیں باقی ہیں،پریشانیاں بھی ساتھ ساتھ چلیں گی،مصروفیات کے ساتھ بدآرامی بھی رہے گی اور ہم سکون کی تلاش میں سرگرداں یہ بھولے رہیں گے کہ سکون تو صرف اللہ کی ذکر میں ہے ،سکون تو صرف اللہ کی مخلوق کی محبت میں ہے اور سکون تو نفس کی خواہشات دبانے میں ہے لیکن ہم پھر بھی اس طرف نہیں آتے۔
جب تک اس دنیا میں احساس ہے اس وقت تک ہم اپنے علاوہ کسی اور کے متعلق سوچتے رہیں گے ،ہر انسان کے اندر احساس کا مادہ ہوتا ہے ،احساس عربی زبان کا لفظ ہے جس کے لغوی معنی محسوس کرنا ہیں ،ہر انسان کے اندر حسیات اور محسوس کرنے کا مادہ موجود ہوتا ہے کسی میں یہ کم ہوتاہے تو کوئی بہت زیادہ حساس ہوتا ہے ،لیکن آج کل کچھ لوگ تو احساس سے بے بہرہ دکھائی دیتے ہیں ،جبھی تو طبقاتی تفریق میں اضافہ دکھائی دیتا ہے،محبتوں میں کمی ،نفرتوں میں زیادتی اور ایک دوسرے سے فاصلے بڑھتے نظر آتے ہیں۔
جس میں احساس کا مادہ زیادہ ہوتا ہے ،اس میں بلا شک وشبہ محسوس کرنے کی حس بھی زیادہ ہوتی ہے ،جس سے وہ چھوٹی چھوٹی باتوں کو بہت زیادہ محسوس کرتا ہے اور بعض اوقات اسے کافی نقصان بھی اٹھانا پڑ جاتا ہے ،کچھ لوگوں میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ وصف بھی شامل کر دیا گیا ہے جس میں حساسیت کی زیادتی ہو وہاں برداشت کی بھی قوت زیادہ ہوتی ہے ۔
قارئین ! کبھی سنا تھا کہ دنیا میں پیسے سے آپ ہر چیز خرید سکتے ہو،میں ڈھونڈ رہا ہوں بے لوث دوستی کو،میں سچی محبت کو خریدنا چاہتا ہوں،میں اچھے اخلاق کا بیوپاری ہوں ،ذرا مجھے اس بازار کا پتہ تو بتا دیجئے جہاں خوش نما مسکراہٹ رقص کرتی ہے،میں یہ بھی جانتا ہوں کہ مجھے یہ چیزیں پیسے سے کہیں سے بھی نہیں مل سکتیں!!
پھر ان چیزوں کو پانے کے لئے مجھے کیا کرنا ہو گا؟؟؟
بے لوث اور مخلص دوست حاصل کرنے کے لئے مجھے اپنے اندر ایک ایسا خلا پیدا کرنا ہو گا جہاں دوستوں کی برائیوں اور خامیوں کو اس میں چھپا دوں ،پھر اپنے اندر ایک قوت برداشت پیدا کرنا ہو گی ،جس میں اس کے کڑوے لہجے کو سہ سکوں،سچی محبت کو پانے کے لئے خود کو وفا داری کے پیمانے پر ماپنا ہو گا،اصل میں اس دنیا میں وہی لوگ خوش نصیب ہیں جن کے والدین حیات ہیں انہیں اپنے والدین سے سچی محبت بھی مل جاتی ہے ،پرخلوص دعائیں بھی اور نیک تمنائیں بھی حاصل ہو جاتی ہیں ،اس لئے اپنے والدین کی قدر کرو کیونکہ قرآن مجید ہمیں واضح حکم دیتا ہے کہ اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آوٴ۔
قارئین ! اب تویہ دنیا اندھیرے کی طرف گامزن ہے ،اگر اندھیرے کی بات کی جائے تو اندھیرا ویسے تو ہیبت ناک محسوس ہوتا ہے ،کچھ لوگ پھر بھی رات ہونے کا اور اندھیرا چھا جانے کا انتظار کرتے ہیں،یہ رات کا اندھیرا بھی انہیں اپنے دامن میں لے کر مزے سے سلا دیتا ہے۔
جبکہ کچھ لوگ شب کی تاریکی میں گناہوں کی دلدل میں دھنستے رہتے ہیں اور اپنے کریم رب کو بھولے ہوتے ہیں،پھر جب ان کی آنکھ کھلتی ہے تو وہ دیکھتے اور حیران ہو جاتے ہیں کہ مہلت کے طور پر انہیں اک نئی صبح ملتی ہے کہ شاید وہ کریم رب کی طرف لوٹ جائیں ۔
صبح سویرے کھلتی کلیوں ،چہچہاتے پرندوں اور جہاں میں بکھری رب کی نعمتوں کو دیکھ کر دل بے اختیار پکار اٹھتا ہے #
خطائیں دیکھتا بھی ہے،عطائیں کم نہیں کرتا
سمجھ میں کچھ نہیں آتا وہ اتنا مہربان کیوں ہے
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com
تاریخ اشاعت: 2014-11-26

کالم نگار     :     عبدالماجد ملک

عبدالماجد ملک کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-