بند کریں
ہفتہ نومبر

فیض کا آئین ِوفا

عبدالرحیم انجان :

مجھے یہ خاکہ دو تین دن پہلے لکھنا چاہیے تھا کہ جس ملک میں ملک کے حکمراں ملک کے آئین سے وفا داری نہیں نبھاتے ، جس کی لاٹھی اُس کی بھینس، والا قانوں نافذ ہے۔ ایسے ماحول میں فیض اپنے ملک اور غربت و افلاس کی چکی میں پستے ہوئے مظلوموں کے ساتھ اپنا آئین ِ ِوفا کیسے نبھاتے اور اپنے دامن میں کانٹے سمیٹتے رہے ہیں ؟ اور آج وہی کانٹے لیلائے وطن سے محبت کے پھول بن کے چاروں اطراف مہکتے نظر آتے ہیں۔
 ۲۸ستمبر ۱۹۷۸ ء ء سے ۲ نومبر ۱۹۷۸ ء ء تک فیض ٹورونٹو( کینیڈا) میں میرے مہمان تھے۔ جھنگ ( پنجاب ) میں فیض پر پی۔ایچ ،ڈی کرنے والے ایک اسٹود نٹ ڈاکٹر عمران ظفر نے،فیض پر میری کتاب ، ” خوش نوا فقیر ، فیض احمد فیض “ جو کہ اُن دنوں کی مہکتی ہوئی یادوں پر مشتمل ہے، کے حوالے سے کچھ باتوں کی وضاحت کے لئے مجھ سے رابطہ کیا تو جہاں ڈاکٹر عمران ظفر جیسے ہو نہار اور فیض شناس سے بات کر کے خوشی ہوئی،وہاں اُن سے یہ جان کر کہ ، آج پاکستان میں فیض صاحب کی ۳۰ ویں برسی بڑے سوگ اور احترام سے منا ئی جا رہی ہے، یہ افسوس بھی ہوا کہ اس موقعہ پر مجھے بھی کچھ لکھنا چاہیے تھا۔
ہم پرورش ِلوح و قلم کرتے رہیں گے
جو دل پہ گرزتی ہے ،رقم کرتے رہیں گے
اِس غزل کا ایک ایک شعر ، فیض کی اپنی لیلائے وطن کے ساتھ آئین وفا کی ترجمانی کرتا ہے۔
فیض صاحب نے وطن پرستی کا ذکر کرتے ہو ئے ایک روسی رائٹر اہرن برگ کے حوالے سے لکھا تھا۔” میاں بیوی آپس میں ناطے رشتے توڑ سکتے ہیں ور عاشق و محبوب جدا ہو سکتے ہیں ، لیکن ایک رشتہ ، جو کسی صورت میں نہیں ٹوٹ سکتا ،ماں بیٹے کا رشتہ ہے اور ہمارا وطن ہماری ماں ہے۔“ ( اہرن برگ ) مادار ِ وطن سے فیض صاحب کی خود اپنی محبت کا یہ عالم ہے کہ قیام پاکستان ، جسے ہم مسلمانان ہند کی آزادی سے بھی منسوب کیا جاتا ہے جو کہ دو بڑی طاقتوں کی ملی بھگت کی چکی میں بری طرح پس رہے تھے کے بعد جب اپنی مادر ِ وطن کی زلفوں میں آس نِراس کے جگنو ٹمٹماتے دیکھتے ہیں تو ’آزادی‘ پر بے یقینی کی کیفیت میں بے اختیار اُن کی چشم ِ بینا سے چند آنسو ٹپکتے ہیں۔
 یہ داغ داغ اجالا ، یہ شب گزیدہ سحر
 وہ انتظار تھا جس کا،یہ وہ سحر تو نہیں ہے
پھر آس نِراس کی کیفیت سے اپنا دامن چھڑاتے اور لیلائے وطن سے آئین وفا کا رشتہ نبھاتے ہوئے یاران وطن کو اِک نئے سفر کے لئے دعوت سفر دیتے ہیں۔ ابھی چراغ سر ِراہ کو کچھ خبر ہی نہیں
 ابھی گرانی شب میں کمی نہیں آئی
 نَجات دیدہ و دل کی گھڑی نہیں آئی
 چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی
فیض صاحب نے اپنے عالم شباب میں ’ مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ ‘ جیسی غزل کہہ کر اپنی خواہشات کے لالہ زاروں سے دامن چھڑاتے ہوئے ، مخلوق ِ خدا سے درد مندی کے جس رشتے کا اعلان فرمایا تھا۔
 اَن گنت صدیوں کے تاریک بہیمانہ طلسم
 ریشم و اطلس و کمخاب میں بُنوائے ہوئے
 جا بجا بکتے ہوئے کوچہ و بازار میں جسم
 خاک میں لتھڑے ہُوئے خون میں نہلائے ہُوئے
 لوٹ جاتی ہے ادھر کو بھی نظر کیا کیجئے
 اب بھی دل کش ہے تیرا حسن ،مگر کیا کیجئے
 اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا
 راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا
اس اعلان کے بعد وہ تمام عمر مخلوق خدا سے درد مندی کا رشتہ نبھاتے نظر آتے ہیں۔کہیں اُن کے قدم دگمگائے ہیں اور نہ انہوں نے ہمت ہاری ہے۔
 واپس نہیں پھیرا کوئی فرمان جنوں کا
 تنہا نہیں لوٹی کبھی آواز جرس کی
 خیر یّت ِ جاں راحت ِ تن صحبت ِ داماں
 سب بھول گئیں مصلحتیں اہل ہوس کی
 اس راہ پہ جو سب گزرتی ہے وہ گزری
تنہا پس زنداں ، کبھی رسوا سر ِ بازار
 گرجے ہیں بہت شیخ سر ِ گوشہ ِ منبر
کڑکے ہیں بہت اہل حِکم بر سرِ دربار
’کبھی رسوا سر ِ بازار ‘ محض الفاظ کی شیشہ گری یا خیالات کی پرواز نہیں ہے۔ ایام اسیری کے دوران ایک بار لاہور جیل میں فیض صاحب کے انتوں میں کوئی تکلیف ہو گئی تھی،۔آپ کو دانتوں کے ہسپتال لے جانے کے لئے جب گاڑی کا کوئی انتظام نہ ہو سکا تو چند سپاہیوں کے ساتھ اُنہیں ہتھ کڑی لگا کر تانگے میں ہسپتال بھیجا گیا گیا تھا۔ ’دست ِ تہ سنگ ‘ میں ’ آج بازار میں پا بجولاں چلو‘ چلو کے عنوان سے نظم میں فیض صاحب نے اسی سفر میں دل پر بیتنے والی کیفیت کا ذکر کیا ہے۔
 چشم ِ نم ،جان شوریدہ کافی نہیں
 تہمت عشق ، پوشیدہ کافی نہیں
 آج بازار میں بابجولاں چلو
چونکہ فیض صاحب کو اپنے عشق پر فخر تھا ، وہ کسی مجرم کی طرح در پیش صورت حال پر شرمندہ نہیں تھے۔اسی نظم میں مزید کہتے ہیں۔
 دست افشاں چلو،مست و رقصاں چلو
 خاک بر سر چلو ،خوں بد اماں چلو
 راہ تکتا ہے سب شہر ِ جاناں چلو۔
فیض صاحب کی یہ نظم پڑھتے ہوئے کئی اَدب دوست بہن بھائیوں کے ذہن میں فرانس کا مشہور زمانہ رائٹر ( جس کانام اس وقت ذہن میں نہیں آرہا) کا واقعہ آیا ہو گا۔جس کے سچ لکھنے کے جرم کی سزا دینے کے لئے ایک درباری کے مشورے کے جواب میں حاکمِ فرانس نے کہا تھا۔ ” میں سارے فرانس کو کیسے قید کر سکتا ہوں“
لیکن ہمارے ہاں مظلم عوام کی وکالت کرتے ہوئے ظالم حکمرانوں کے راستے میں آنے ولاہر انسان بے لگام گستاخ بن جاتا ہے۔پولیس بھی حکمرانوں کی عدالتیں بھی حکمرانوں کے طابع ”کس سے منصفی چاہیں کسے وکیل کریں“ والی بات بن جاتی ہے۔عمران خان جیسا کھرا آدمی جس کے دامن پر کرپشن کا ایک داغ تلاش کرنے پر بھی نہیں ملتا، الیکشن ۲۰۱۳ ء ء پر شرمناک دھاندلے کے خلاف آواز اٹھانے کے جرم میں اشتہاری مجرم بن گیا ہے اور ا سے اشتہاری مجرم بنا نے وا لے کون ہیں ؟ چھوڑیں جی ! صاف ستھرے پانی میں متعفن پانی کیوں ملائیں۔
 اگر زندگی کو مال منال بنانے کی کسوٹی کے بجائے، عزت کے پیمانے میں مانپ تول کے دیکھا جائے توفیض صاحب نے ایک کامیاب زندگی بسر کی ہے۔ مادر ِ وطن اور مخلوق خدا سے عشق کے سفر کی کٹھنائیوں کہیں کہیں اپنی خواہشوں کے گلشن بھی سجا لیتے ہیں۔
اس بام سے نکلے گا ترے بام کا خورشید
 اُس کنج سے پھوٹے کی کرن رنگ ِ حنا کی یا یہ کہ
 تنہائی میں کیا کیا نہ تجھے یاد کیا ہے
 کیا کیا نہ دل ِ زار نے ڈھونڈی ہیں پناہیں
 آنکھوں دسے لگایا ہے کبھی دست صبا کو
 ڈالی ہیں کبھی گردن مہتاب میں باہیں
 لیکن اُن کی زندگی کا سرمایہ ایک ہی رشتے سے نبھاہ کا رہا ہے، جسے نبھانے کے لئے معاشرتی نا ہمواریوں کی چکی میں پستے ہوئے مظلو مو ں کو بھی اپنے حق کے لئے اٹھا کھڑا ہونے کی دعوت دیتے ہوئے اپنی دھن میں ترانے الاپنے لگتے ہیں۔
 دربار ِ وطن میں جب اک دن جانے والے جائیں گے
 کچھ اپنی سزا کو پہنچیں گے ، کچھ اپنی جزا لے جائیں گے
اے خاک نشینو اٹھ بیٹھو ، وہ وقت قریب آ پہنچا ہے
 جب تخت گرائے جائیں گے ، جب تاج اچھالے جائیں گے
لیکن ہمارے ہاں لوگ فاقوں سے تنگ آ کر خود سوزی کر سکتے ہیں، بازار میں اپنے بچے بیچ سکتے ہیں۔لیکن بد خُو حکمرانوں کے خلاف کھڑے نہیں ہو سکتے۔لیکن فیض صاحب آذان حق ادا کرنے کا اپنا فرج ادا کرنے سے تھکتے ہیں اور نہ ہی بد دل ہوتے ہیں۔
 اے طلم کے ماتو لب کھولو ،چپ رہنے والو چپ کب تک
 کچھ حشر تو ان سے اٹھے گا ، کچھ دور تو نالے جائیں گے
فیض صاحب اپنی مادر وطن کی زلفوں میں مہکتے ہوئے پھول اور ستارے ٹانکنے کے سفر میں اپنے ساتھ ایک قافلہ لے کر چلنا چاہتے تھے۔ اپنی کوششوں کو ایک تحریک دینا چاہتے تھے۔ جس حوالے سے ایک بار انہوں نے ایک سوال نامہ مرتب کیا تھا۔عنوان تھا۔
اے اہل قلم تم کس کے ساتھ ہو ؟
 ادبا و شعرائے کرام کے کے فرائض کے بارے میں لکھنے سے پہلے اپنے ادارت نوٹ مین لکھتے ہیں۔
” چند برس ہوئے جب میں کراچی میں تھا۔ میں نے چند لکھنے والوں کو آمادہ کیا کہ وہ دوسرے لکھنو والوں کو ایک پیغام دیں ( یہ پیغام میں نے لکھا تھا ) اُس وقت ا س پیغام کا خاطر خواہ نتیجہ بر آمد نہ ہوا۔ اب میں وہی پیغام اِس امید کے ساتھ دوبارہ شائع کر رہا ہوں کہ شاید چند لکھنے والوں کو اس سے تحریک ہو اور وہ مل کر کام کرنے پر آمادہ ہو جائیں “ (فیض احمد فیض)
 سوال نامہ۔
(۱) وہ اس عہد میں دنیا بھر کے عوام کا وفا دار رہے۔اُس کا کام ہے کہ وہ عوام کے دشمنوں اور دوستوں میں امتیاز کرے اور عوام کو ان کی پہچان کرائے اور انہیں بتائے کہ کون انہیں آزادی دلانے ، ان کی زندگی میں حسن اور پاکیزگی لانے، ہر قسم کے استحصال کو ختم کرنے میں لگے ہوئے ہیں اور کون انہین غلام بنانے ، انہیں لوٹنے ، انہیں کرپٹ کرنے اور ان کی کمزور ی سے فائدہ اٹھانے میں لگے ہوئے ہیں۔
(۲) پاکستان کے سنجیدہ لکھنے والوں کو بلا خوف و خطر اور برملا سچی باتیں لکھنی چاہئیں اور اظہار رائے کی آزادی پر عمل کرنا چاہیے ۔ انہیں جبر اور ظلم کو بے نواب کرنا چاہیے۔ اور جو نا انصافیاں ہو رہی ہیں ، انہیں ننگا کرنا چاہیے اور سماجی ، معاشی اور ثقافتی منافقت کو بے نقاب کرنا چاہیے “ ( فیض احمد فیض )
 یہ ادبا و شعرائے کرام کے فرائض پر ایک روشن تحریر ہے۔جس سے ایک ایمان دار اور فرض شناس ادیب کے لئے رہنمائی کے کئی راستے نکلتے ہیں اور فیض صاحب کی اپنی لیلائے وطن وطن سے والہانہ محبت اور اپنے آئین وفا سے پاسداری اور گہرے لگاوٴ کا علم بھی ہوتا ہے۔
کسی ادیب یا شاعر کی اپنے آئین وفا سے وفادری کی اس سے بہتر مثال اور کیا ہو سکتی ہے کہ وہ اپنے فرض کو پایہ تکمیل تک پہچانے کے لئے بار بار لحد سے لوٹ آنے کی خواہش کا اظہار کرے،جیسا کہ فیض صاحب اپنی نظم ” آرزو “ میں کرتے ہیں۔
مجھے معجزوں پہ یقین نہیں
مگر آرزو ہے کہ جب قضا
مجھے بزم دہر سے لے چلے
تو پھر ایک بار یہ اذن دے
کہ لحد سے لوٹ کے آ سکوں
ترے در پہ آ کے صدا کروں
تجھے غمگسار ہو طلب تو ترے حضور میں آ رہوں
یہ نہ ہو تو سُوئے عدم پھر ایک بار روانہ ہوں
 میں سمجھتا ہوں کہ درج ذیل غزل فیض کے سفر حیات کی کٹھنائیوں میں سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔اُن کے آئین وفا کی نمائندہ غزل ہے۔
 نہ گنواوٴ ناوٴک نیم کش دل ، ریزہ ریزہ گنو دیا
 جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو تن داغ داغ لٹا دیا
 مرے چارہ گر کو نوید ہو صف دشمناں کو خبر کرو
 جو وہ قرض رکھتے تھے جان پر وہ حساب آج چکا دیا
پھر قضا کے ہاتھوں مجبور فیض اپنے عشق کے بانکپن کی رسوائی کے خوف سے دنیا سے فوراً پردے کی خواہش میں کہتے ہیں۔
 کرو کج جبیں پہ سر کفن مرے قاتلوں کو گماں نہ ہو
 کہ غرورِ عشق کا بانکپن پس ِمرگ ہم نے بھلا دیا
 جو رکے تو کوہ ِگراں تھے ہم جو چلے تو جاں سے گزر گئے
 رہ ِ یار ہم نے قدم قدم تجھے یاد گار بنا دیا
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com
تاریخ اشاعت: 2014-11-22

کالم نگار     :     عبدالرحیم انجان

عبدالرحیم انجان کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-