بند کریں
ہفتہ نومبر

لوگ اِسے ویسے ہی مسیحا قرار نہیں دیتے

حافظ ذوہیب طیب :

شمشیر خان بھی ہزاروں پاکستانیوں کی طرح اپنے نصیبوں کو کوستے اور زندگی کو عذاب کی مانند گذارنے پرمجبور ہے۔گُردوں کے شدید مرض میں مبتلا،اپنی تین بیٹیوں کی کفالت، گھر کا کرایہ ادا ء اور دیگر ضروری اخراجات کو پورا کر نے کے لئے اپنی صحت کی بھی پرواہ نہ کرتے ہوئے ایک کمپنی میں ٹیلی فون آپریٹر کی ملازمت کر کے اپنی ضروریات کو پوارا کر نے کی تگ و دوکر رہا ہے۔یہ اپنی بیماری سے تو کسی حد تک لڑتے ہوئے زند گی کی نہ ختم ہونے والی آزمائشوں سے نبرد آزما تھا کہ پچھلے ایک سال سے اپنی بیٹیوں کے مستقبل کا سوچتی اور اند ر ہی اندر کُڑھتی اس کی بیگم بھی شوگر اور بلڈ پریشر کی مریضہ بن چکی ہے۔ جیسے تیسے کر کے یہ اپنی اور بیوی کے علاج اور ادویات کا انتظام کرتا تھا کہ دو مہینوں پہلے اس کی چھوٹی بچی کی طبیعت خراب ہوئی، مرض کا محلے کے ڈاکٹر وں کی سمجھ میں نہ آنے کے بعد اسے چلڈرن ہسپتال میں لے جا یا گیا جہاں ٹیسٹوں کے بعد اس کے دل میں سوراخ کی تشخیص ہوئی۔ یہ سننا تھا کہ اِس کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ، پہلے ہی لاکھ جتن کر نے کے بعد یہ اپنی اور اپنی بیوی کی ادویات کا انتظام کرتا تھا اور اب اِن حالات میں بچی کا علاج بھلا کیسے ممکن ہو گا؟انہی سوچوں میں گُم یہ ڈاکٹروں سے آپریشن پر آنے والے اخراجات کے بارے دریافت کرتا ہے تو ایک لاکھ بیس ہزار کی رقم سن کے اس کے پیروں تلے زمین نکل جاتی ہے۔غم و پریشانی کے عالم میں یہ اپنے مالکان جو انتہائی دینی گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں کہ پاس جا تا ہے اور اپنی معصوم بچی کے علاج کے لئے مدد کی درخواست کر تا ہے جو یہ کہہ کے مسترد کر دی جاتی ہے کہ ابھی ہمارے پاس پیسے نہیں ۔ہاں ! غمگساری کے جذبے کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے بیت المال جانے کا مشورہ ضرور دیتے ہیں ۔
 شمشیر خان مایوسی و ناامیدی کی دھول چاٹتے بیت المال کے دفتر کا رخ کرتا ہے جہاں اسے بیسیو ں دفعہ اِدھر سے اُدھر افسروں کے دفتر چکر لگوانے کے بعد فنڈ ختم ہو نے کی نوید سنا دی جاتی ہے اور یوں اپنی بیٹی کے علاج کی اس کی یہ آخری اُمید بھی دم توڑ جاتی ہے۔ بیٹی کی تکلیف اور بیماری کی شدت کو دیکھتے ہوئے یہ اور اس کی بیوی دونوں اپنی بیماری بھول گئے تھے اور ہر وقت اپنے جگر کے گوشے کے سرخ و سفید رنگ کو زرد ہوتے ،ہر وقت کھلکھلاتی ،شرارتے کرتی، ماں باپ کا دل لبھاتی پری کو بستر پر پرے ، اس کے چہرے پر مُردارگی کے آثار دیکھ کے روز مرتے اور جیتے تھے۔
موت اور زندگی کی اسی کشمکش کے دوران ایک شخص نے اسے ملک کے سب سے بڑے چور، قبضہ گروپ اور پراپرٹی مافیا کے سرغنہ ملک ریاض سے رابطہ کر نے کا مشورہ دیا۔اس نے اِسی روز درخواست لکھی اور بحریہ ٹاؤں میں واقع متعلقہ دفتر جا پہنچا،دفتر میں موجود افراد نے اس کی باعزت طریقے سے مہمان نوازی کی اور اسے امید دلائی کہ بہت جلد اس کی بیٹی کے علاج کے لئے پیسے جمع کرا دئیے جائیں گے۔ اس امید کو اپنی آنکھوں میں سجائے ابھی دو دن ہی گذرے تھے کہ متعلقہ دفتر سے فون آیا کہ ہم نے آپ کی بیٹی کے آپریشن کے پیسے جمع کرادئیے ہیں اس کی رسید لے جائیں۔آج شمشیر خان کی بیٹی کا آپریشن ہے اور اب اس کی امید یقین میں تبدیل ہوگئی ہے اور وہ اپنی بیٹی کو پھر ہنستا مسکراتا، کھلکھلاتااور معصوم شرارتے کرتی ایک دفعہ پھراسے پورے گھر کو رونق بخشتے ہوئے دیکھنا چا ہتا ہے۔انشاء اللہ
 قارئین !ایک طرف تو ہمارے معاشرے میں شمشیر خان کے مالکان کی طرح ایسے بے شمار لوگ ہیں جو بظاہر دین کو اپنا اوڑھنا بچھو نا بنائے ہوئے ہیں لیکن جب انسانوں کا معاملہ آتا ہے توبجائے دکھی انسانیت کو اپنے سینے سے لگانے کے، ان سے جان چھڑانے کا کوئی بہانہ تلاش کرتے ہیں ۔جبکہ دوسری طرف ملک ریاض حسین جیسا ایسا شخص ہے جس پریہی لوگ چور،قبضہ گروپ اورپتہ نہیں کیا کیا ہونے کے الزامات لگاتے ہیں ،وہ ہر طرف سے ٹھکرائے ہوئے شمشیر خان جیسے لوگوں کو اپنے سینے سے لگا تا ہے ، ان کے آنسو پونچتا ہے، ان کی زخموں پر مرہم رکھتا ہے،بغیر کسی مفاد اور جان پہچان کے مخلوق کی داد رسی کرتے ہوئے کچھ ہی دنوں میں ان کے پیاروں اور جگر گوشوں کے علاج و معالجے کی رقم کا بندو بست کرتا ہے ، لاکھوں بھوکوں کو دو وقت کی روٹی فراہم کرتا ہے،آفت و مصبیت میں گھر ے ہر پاکستانی کی امداد کے لئے سب سے آگے ہوتا ہے ، ہزاروں لوگوں کو روزگار فراہم کرتا ہے ۔
قارئین محترم !ان تما م باتوں کو سامنے ر کھتے ہوئے میں تو اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ بظاہر اسلام کا لبادہ اوڑھے ان نیک، متقی اور پرہیز گار لوگ جو مخلوق خدا کے دکھ و درد سے با لکل بیگانہ ہیں ان سے کئی گنا بہتر بظاہر چوراور قبضہ گروپوں کا سر غنہ ملک ریاض ہے جو مخلوق خدا کی خد مت کے لئے پیش پیش ہو تا ہے ۔شمشیر خان جیسے ہزاروں لوگ جب ہر طرف سے مایوس ہو جانے کے بعد اس کے پاس آتے ہیں تو یہ ان کی مسیحائی کرتے ہوئے ان کی ہر جائز حاجت کو پورا کر دیتا ہے تو پھر لوگ کیوں نہ اسے مسیحا قرار نہ دیں۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com
تاریخ اشاعت: 2014-11-19

کالم نگار     :     حافظ ذوہیب طیب

حافظ ذوہیب طیب کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-