بند کریں
پیر نومبر

تمہاری غیرت خطرے میں ہے!!!

فوزیہ بھٹی :

تو اے اہلِ مکہ کی روایت کو زندہ رکھنے والو!تو اے مضبوط مردو۔۔۔بے حیا عورتوں کے سر اٹھانے کی فکر کروتمہاری غیرت خطرے میں ہے!!!اب عورت نے تم پر قربان ہونے سے انکار کردیا ہے
میانوالی کے علاقے چھدرو میں ظفر اقبال کا قتل ہوتا ہے اور شازیہ کا اس سے کچھ لینا دینا نہیں ۔ظفر اقبال کے گھر میں ماتمِ صف بچھ جاتی ہے اور شازیہ اس کی وجہ نہیں۔مرنے والا مر جاتا ہے،منوں مٹی تلے سو جاتا ہے اور شازیہ اس کی قاتل نہیں۔پھر صلح صفائی کے لئے پنچائیت بیٹھتی ہے۔پنچائیت چونکہ مردوں کی ہے تو بالا ہی بالا سب فیصلے ہو چکے ہوتے ہیں اور فیصلے پر محض عملدرآمد ہونا باقی رہ جاتا ہے۔۔۔!اور یہاں اچانک شازیہ بغیر کچھ کئے اپنے باپ کے گھر پیدا ہونے کا ایک عظیم خمیازہ بھگتنے کے لئے نامزد کر دی جاتی ہے ۔بہر کیف شازیہ اپنے آپ کو انسان سمجھنے کے دھوکے میں پنچائیت کا فیصلہ ماننے سے انکار کرتی ہے۔شازیہ کے اس فیصلے سے ظفر اقبال کے گھر والے نا خوش ہوتے ہیں اور اس کو زبردستی لے جانے کی کوشش کرتے ہیں جس سے دونوں فریقین کی ایک مرتبہ پھر تلخ کلامی ہوتی ہے اور وقتی طور پر وہ وہاں سے ٹل لیتے ہیں۔اب میں شازیہ کو بہادر کہوں اس سے اس کو فرق نہیں پڑے گا،آپ اس کو بہادر کہیں اس سے بھی اس کو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔وقتی طور پر ہاں سب اس کی واہ واہ شاید کریں پر میرا دعوی ہے کہ اس پر بھی ملا جلا ردّ عمل سامنے آئے گا۔نجانے بات اور معاملہ کیا رخ اختیار کرے گا۔کون جانے معاملہ عدالت جائے گا یا شازیہ کی قربانی دے دی جائے گی۔بات یہ ہے کہ ظفر اقبال تو چلا گیا(اللہ اس کی آسانی کرے)،شازیہ کے باپ نے قتل کر دیامگر ونی ہونے کا مطلب اس کو روز پیٹا جائے گا۔اس سے گھر کے سارے کام کروائے جائیں گے۔مفت کی بیگار لی جائے گی۔جب جب گھر کے کسی بھی فرد کوجانے والے کی یاد آئے گی تو ان کی فرسٹریشن نکالنے کے لئے ان کے پاس شازیہ تختہء مشق ہوگی۔سارے واقعے میں جس بات کا ذکر نہیں ہے اور نہ ہوگا ۔۔۔!یقیناً آپ نے پہلے بھی کبھی نہیں سنا ہوگاکہ باپ یا بھائی کے گناہِ کبیرہ کی سزا پانے کے لئے خود باپ یا بھائی نے اس کے ونی ہونے سے انکار کر دیا ہو۔حیرت یہ ہے کہ مرد کی سب نشانیاں صرف اس کے ظاہری رعب و دبدبے میں کیوں نمایاں ہو جاتیں ہیں؟کیا وہ عورت کا محافظ نہیں؟کیا اللہ سبحان و تعالیٰ نے اسے عورت سے اس لئے برتر پیدا کیا ہے؟کیا وہ اتنا گیا گزرا ہے کہ اسے کبھی سترہ سالہ شازیہ اور اس طرح کی متعددبار گیارہ ،بارہ یا نو سال کی بچیوں کے پیچھے چھپنا پڑتا ہے؟مجھے یقین ہے کہ شازیہ کو بہت لعن طعن سننی پڑے گی۔۔۔!اور اپنے ہی گھر سے سننی پڑے گی کہ وہ باپ پر قربان ہوجاتی تو اچھا تھا۔مارنے والے نے ایک بار میں مار دیا،مرنے والا ایک بار ہی مر گیا مگر وہ روز روز مرتی تو کیا ہی اچھا ہوتااس کا باپ تو بچ جاتا۔ وہ بھلے ساری زندگی اپنی ماں کا چہرہ نہ دیکھ پاتی عورت بننے سے پہلے ہی وہ بوڑھی بنا دی جاتی تو کیا اچھا ہوتا۔بھلا جیل میں سڑتا باپ اچھا لگے گا؟؟؟وہ تو صنفِ نازک ہے رو دھو کر مرجاتی تو کیا ہی اچھا ہوتا۔ مگر کہانی بدل رہی ہے اس کردار کو اچھا کہو یا برا اس لڑکی کو آزاد کہو یا آوارہ یہ سانس لیتی رہے گی۔۔۔
شازیہ تمہارے اور اس قوم کی ہر باشعور بیٹی کے لئے!!!
کیونکہ تم ایک عورت ہو۔۔۔!
جانتی ہو۔۔۔!
زندگی جھوٹ کہتی رہی ہے
تم سے، مجھ سے،ہم سب سے
جھوٹ ہی کہتی رہی ہے
سائبان کے لالچ
محبتوں کی ضمانت
سب رسموں میں،سب عقیدوں میں
یہ جھوٹ بولتی رہی ہے
تم کسی کے سر کا تاج نہیں ہو
تم کسی کے سینے کی ٹھنڈک نہیں ہو
تم بوقتِ ضرورت ابنِ آدم کے
استعمال کی چیز ہو
تم محض غیرت کے نام پر بنی
لاٹھی کھانے کو جنمی ہو
ایسی لاٹھی جس سے وہ تمہیں
کبھی باپ،کبھی بھائی
کبھی بیٹا اور کبھی سر کا سائیں
بن کر ہانکتے رہے ہیں
اور ہانکتے رہیں گے
تم آہ کرو گی۔۔۔!
تو ناشکری
سر اٹھاؤ گی۔۔۔!
تو آزاد
دل جلاؤ گی تو بدذات کہلاؤ گی
تم جیسی بھی خود سر بن جاؤگی
جتنی بھی قد آور ہو جاؤ گی
ہمیشہ۔۔۔!
اپنی ماں جیسی کہلاؤ گی
تم۔۔۔!
تم سانس لیتی رہو
مگر
زندگی سے ہاتھ کھینچ لو
جتنی بھنچتی ہیں نسیں بھینچ لو
جان لو
تم محض زوال کی صورت ہو
جس کا نقش کبھی پہچان نہ پائے گا
وہی مسخ شدہ مورت ہو
کبھی مت بھولناکہ
تم ایک عورت ہو
تو اے اہلِ مکہ کی روایت کو زندہ رکھنے والو!تو اب مظبوط مردو۔۔۔بے حیا عورتوں کے سر اٹھانے کی فکر کروتمہاری غیرت خطرے میں ہے!!!اب عورت نے تم پر قربان ہونے سے انکار کردیا ہے
 پاکستان کا خیال رکھئے یہ آپکا ہے ۔اللہ سبحان و تعالیٰ پاکستان کو ہمیشہ اپنے حفظ وامان میں رکھے ۔آمین۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com
تاریخ اشاعت: 2014-11-19

کالم نگار     :     فوزیہ بھٹی

فوزیہ بھٹی کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-