بند کریں
ہفتہ نومبر

فن خطاطی کا گوہر نایاب

حافظ ذوہیب طیب :

اسلامی ثقافت اپنے جن فنون پر فخر کر سکتی ہے ان میں خطاطی ایک ایسا منفرد اور حسین و جاذبِ توجہ فن ہے جس کی نظیر کہیں اور دیکھنے کو نہیں ملتی۔ مسلمانوں نے ”فن خطاطی“ کو جس فنی توازن اور پختگی،حسن وکشش اور نزاکت و دل نشینی کے ساتھ ساتھ رنگ آمیزی سے نوازا ہے یہ فنی و جمالیاتی لحاظ سے کسی بھی قوم کی خطاطی سے زیادہ حسین و دل کش ہے۔جس کا ثبوت یہ ہے کہ بعض مغربی ناشرین نے تو خودکو صرف اسلامی خطا طی کے انتخابات شائع کر نے کے لئے مخصوص کر رکھا ہے اور ان کے شائع کردہ خطاطی کے انتخابات اور نمونے جہازی سائز کی خوبصورت جلدوں میں مغربی شائقین اور امراء و خواص کے مابین تحائف کے طور پر تقسیم ہوتے اور ان کے ڈرائینگ رومزمیں الماریوں میں سجے اور دیواروں پر لٹکے نظر آتے ہیں۔
قارئین!خطا طی ایک ایسا فن ہے جس میں حروف کو منفرد اور دلکش انداز میں لکھا جا تاہے ۔مگر خطا طی کے خو بصورت نمونے دیکھنے والوں کو اس بات کا اندازہ شا ید ہی ہو کہ اس کے پیچھے محنت اور مسلسل ریاضت کار فر ما ہوتی ہے۔ابجد یعنی حروف تہجی کی ریاضیاتی پیمائش ایک ایسا منفرد فن ہے جس میں مہارت حاصل کر نے والوں نے اپنی عمریں صرف کی ہیں۔جو ایسی لگن مانگتا ہے کہ”خون جگر میں انگلیاں ڈبو نی پڑتی ہیں“
حضرت علینے خط ِکوفی میں خطاطی کرتے ہوئے قرآن حکیم کی کتابت کی ۔بعض ازاں خطا طی کے جدید انداز کو متعارف کروانے کا سہرا عباسی دور حکومت میں ابن مقلہ کے سر جاتا ہے۔مختلف اداوار میں حکمرانوں کی سر پرستی میں یہ فن ترقی کی منزلیں طے کرتا چلا گیااور تقریباََساٹھ کے قریب رسم الخط متعارف ہوئے جن میں سے بہت معدوم ومتروک ہوجا نے کے بعد اب صرف سات رسم الخط رائج ہیں۔
بہت افسوس کے ساتھ لکھنا پڑ رہا ہے کہ پاکستان میں مغربی تہذیب کے دلدادہ اور فر نگیوں کے جوتے چاٹتے نئی تہذیب کے گندے انڈوں نے جس طرح اسلام،پاکستان،اسلامی ثقافت،پاکستانی عوام ،علماء،شعرااور پاکستانی تہذیب کو تباہی کے دہا نے پر لا کھڑا کر نے میں کوئی کسر باقی نہ چھوڑی۔ ملک عزیز میں ترقی کے نام پر جن علوم و فنون کو تباہ کیا گیا ان میں سے ایک فن خطا طی بھی ہے۔خطاطی کا تعلق چونکہ قرآن حکیم کے ساتھ وابستہ ہے اس لئے جس طرح قر آن حکیم کی حفاظت کا ذمہ اللہ کریم نے اپنے ذمہ لیا ہے ،مغربی ثقافت کے دلدادہ افراد کی ہزار ہا کو ششوں کے باوجو د بھی فن خطا طی اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ پھیلتا جا رہا ہے۔ایران میں تو ا ب خطاطی کا فن اس قدر مقبول ہو تا جا رہا ہے کہ یہاں اس میں با قاعدہ پی۔ایچ۔ڈی کی ڈگری دی جا رہی ہے۔
قارئین محترم !ملک عزیز میں جہاں یہ فن اپنی آخری سانسیں لے رہا ہے اس دور میں محمد علی زاہد جیسے لوگ اسے زندہ رکھنے کی اپنی سی کوششوں میں مصروف ہیں۔بزرگوار محترم سہیل قریشی صاحب کے توسط سے زاہد صاحب سے ملاقات کے لئے ان کی رہائش گاہ پہنچے تو اس کا ہر دریچہ ان کی شخصیت کی طرح نفاست اور سادگی کی اپنی مثال تھا۔
محمد علی زاہد کا تعلق انسانوں کے اس قبیلے سے ہے جنہیں اللہ کریم مخصوص کاموں کے لے چن لیتا ہے اور یہ لوگ بھی اللہ کریم کی اس عطا کی قدر کرتے ہوئے دیوانہ وار اس مشن پر لگ جاتے ہیں۔انہیں کبھی تعریف کی ضرورت پیش نہیں آتی اور نہ ہی کوئی ناقدری ان کی راہ میں حائل ہوتی ہے۔نہ وہ امارت کے طلب گار ہوتے ہیں اور نہ ہی غربت انہیں پریشان کرتی ہے،حکمرانوں کے تعلق سے یکسر بیگانہ اور عوام سے کسی بھی اجرت کی طلب ان میں نہیں ہوتی۔
بچپن سے ہی خطا طی کے شوق کو سینچتے اور اس کو پروان چڑھاتے محمد علی زاہد فن خطا طی کے گو ہر نایاب ہونے کے ساتھ ایک دانشور بھی ہیں جن کی مٹھاس سے بھری زبان سے نکلنے والے الفاظ سننے والو ں کو اپنے سحر میں جکڑ لیتے ہیں اور گفتگو کے دوران علم و دانش کی نئی نئی توجیہات سامنے لے آتے ہیں جنہوں نے دنیا بھر میں خطاطی کے سیکڑوں مقابلہ جات میں اول پوزیشن اور کئی گولڈ میڈلز پاکستان کے نام کئے ہیں۔قر آنی آیات، دعاؤں، اقوال زریں، کلام اقبال کو اپنے قلم کے ذریعے اتنا حُسن پیدا کر دیتے ہیں کہ دیکھنے والا ششدر رہ جا تا ہے۔اپنے کام سے شوق اور محبت کا یہ عالم ہے کہ پچھلے تین سالوں سے علی بن عثمان کا نام گرامی لکھ رہے ہیں جو ابھی مکمل نہیں ہوا۔خوبصورتی اور شوق کے ملے جلے احساس کو اپنے قلم کے ذریعے لوگوں کوحیران کر دینے والے ان کے کام کو تو پوری دنیا میں سرا ہا جا چکا ہے لیکن ملک عزیز میں حکمران طبقے کی طرف سے سراہنا تو دور کی بات بلکہ انہیں اس کی کسی بھی قسم کی حوصلہ افزائی کی تو فیق نہیں ہوئی۔استادوں کے استاد ڈاکٹر خورشید رضوی صاحب نے اس گوہر نایاب کے بارے کیا خوب کہاہے:
زمینِ فن پہ جہاں پاؤں دھر تا جا تا ہے،ہر ایک نقش کف ِ پا بکھرتا جاتا ہے
نہال ِ تازہ خالد ہے کشتِ یوسف میں،گُلوں سے دامن قرطاس بھرتا جاتا ہے
بہار ہو کہ شکستہ،غُبار ہو کہ ثُلُث،ہر ایک رنگ میں حیران کرتا جاتا ہے
ہر ایک نقطے میں اُسکے ہے کوئی نکتہ دفن،کشش کشش کا مقدر سنورتا جاتا ہے
خرامِ یار سے کچھ کم نہیں خرامِ قلم،کہ چلتا جا تا ہے اور گُل کترتا جاتا ہے
وُہ فن میں صحو کا قا ئل ہے سہو سے خائف،سولکھتا جا تا ہے اور دل میں ڈرتا جاتا ہے
بڑے بڑوں کے کمالات انکسار کے ساتھ،وہ خط ِ نسخ میں منسوخ کرتا جاتا ہے
غرض کمالِ محمد علی کو کیا کہیے،خُود اپنے آپ سے آگے گذرتا جاتا ہے
سَوادِ خط میں ہے اُسکے وہ روشنی خورشید،کہ حرف حرف اُجالا بکھرتاجاتا ہے
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com
تاریخ اشاعت: 2014-10-30

کالم نگار     :     حافظ ذوہیب طیب

حافظ ذوہیب طیب کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-