بند کریں
جمعہ اکتوبر

یاران وطن

عبدالرحیم انجان :

بیرون وطن پاکستانیوں کی اکثریت پاکستان کے معاملات میں بڑی حسَاس ہے، اُن کے دل پاکستان پر چھائے ہوئے مسائل کے بادلوں کے ساتھ روتے اور پاکستان کی خوشیوں کے ساتھ پھول بنتے ہیں۔ یہاں تک کہ کچھ لوگ تو پاکستان کے ساتھ محبت کو اپنے ایمان کا درجہ دیتے ہیں۔
 وطن عزیز کے معاملے میں احساس کے بے لگام ہونے کے حوالے سے میری اپنی زندگی کا ایک چھوٹا سا قصہ بے محل نہیں ہو گا۔ امیر المونین جنرل ضیا الحق کے زمانے کی بات ہے، سندھ کی علیحدگی پسند تحریک کے سر براہ جی۔ ایم۔سید ( مرحوم )نے پاکستان کے بار ے میں کوئی ایسی بات کہی تھی ،جو اِس وقت من و عن یاداشت کی گر فت میں نہیں آ رہی، اُنہوں نے کچھ اس طرح کی بات تھی کہ میں موجودہ پاکستان کو نہیں مانتا۔ عمر کے ساتھ ساتھ انسان بہت کچھ سیکھتا ہے۔ آج جب ہم خود موجودہ پاکستان میں ایک عام انسان کے مسائل کے بارے میں سو چتے ہیں تو ہم بھی موجودہ پاکستان کے نظام کے خلاف اک نیا پاکستان بنانے کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں،لیکن اُس وقت جب کی بات میں کرنے لگا ہو ں ،ہمارے پاس فقط جذبات ہی جذبات تھے۔بے لگام جذبات ، جو حالات کی سنگینی پر غور وفکر کے لئے کہیں رکنے کا نام نہیں لیتے تھے۔بس تو ہمیں جی۔ ایم ۔ سید ( مرحوم ) کی یہ بات کہ میں موجودہ پاکستان کو نہیں مانتا ۔ تیر بسمل کی طرح لگی تھی۔ اسے اتفاق ہی سمجھ لیں کہ اُن ہی دنوں ٹورونٹو ( کینیڈا ) کے ایک مشاعرے میں شرکت کے لئے جناب جمیل الدین عالی# آ گئے ۔ میں اسے اپنی خوش قسمتی اور جناب جمیل الدین عالی #کا بڑا پن ہی سمجھتا ہوں کہ میں اُن کے ساتھ اپنے دل کی بات بغیر کسی جھجھک کے ، بے تکلفی سے کر لیا کرتا تھا۔ میں نے جی۔ایم سید کی بات پر اپنی کڑھن کا اظہار کرتے ہوئے عالی# جی سے کہا۔
” عالی #صاحب ! آپ اتنے بڑے اخبار کے ساتھ لکھتے ہیں ، کیا آپ سے اتنا بھی نہیں ہو سکتا کہ اس دشمن پاکستان ِ کو نکیل ہی ڈال دیں۔“ میری بات کے جواب میں عالی# #صا حب نے مشفقانہ مسکراہٹ کے ساتھ میری طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
”انجان صاحب ! سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ آپ جنہیں نکیل ڈالنے کے لئے کہہ رہے ہیں،اُن کی سالگرہ کا کیک کاٹنے کی رسم میں شریک ہونے کے لئے آپ کے صدر صاحب بھی پہنچے ہوتے ہیں ۔ دوسری بات یہ ہے کہ پاکستان کے لئے جتنا جذباتی میں آپ بیرون ملک بسنے والے پاکستانیوں کو، بالخصوص انگلینڈ ، امریکہ اور کینیڈا میں بسنے والے پاکستانیوں کو دیکھتا ہوں۔پاکستان میں بسنے والے پاکستانیوں کو اس بات کی قطعاً کوئی پروا نہیں ہوتی کہ پاکستا ن کے بارے میں کس نے کیا کہا ہے ؟یا پاکستان کے ساتھ کس نے کیا سلوک کیا ہے ؟ سب لوگ اپنی اپنی زندگی کے موج میلے میں گم ہیں۔ کھایا پیا اور لمبی تان کر سو گئے۔“عالی# جی نے مجھے سمجھانے والے انداز میں مزید کہا۔” ویسے جو بات جی ۔ ایم۔سید نے کہئی ہے۔اُس کے تناظر میں یہ بھی تو سوچیں کہ اُنہوں نے ایسی بات کیو ں کہئی ہے ؟ جی۔ایم۔سید سندھ کے ایک بڑے لیڈر ہیں او ر ہر بڑا لیڈر اپنے عوام کے دکھ سکھ کو اپنا دکھ سکھ سمجھتا ہے۔ہمیں اُن کی بات پر برا منانے کے بجائے یہ سوچنا چاہیے کہ ہم نے سندھ اور بلو چستا ن کے لوگوں کے لئے آج تک کیا ہی کیا ہے ؟
بیرون ملک پاکستانی آج بھی اپنے پاکستان کے لئے اُتنے ہی جذباتی ہیں۔جتنے بیس پچیس سال پہلے تھے۔ طارق ملک کی مثال ہمارے سامنے ہے۔جن کے پاس امریکہ میں مالی اعتبار سے ، پاکستان میں نادرہ کے چیئر مین کی پوسٹ سے کہیں بہتر جاب تھی۔ جسے چھوڑ کر وہ فقط پاکستان کی خدمت کے جذبات سے سرشار پاکستان پہنچے تھے۔ ذروا سوچیں،طارق ملک بھی اگر پاکستان میں موجود بیوروکریٹس کی طرح، پاکستان کے استحکام اور بہتری پر اپنے مفادات کو فوقیت دینے کے لئے تیار ہو جاتے تو کیا کچھ نہیں کما سکتے تھے؟ ” چوری دا کپڑا، تے ڈانگا دے گز“ اربوں روپیوں کے گھپلے کرنے والے ہمارے لیڈرانِ قوم انہیں کیا کچھ نہیں دے سکتے تھے ؟ لیکن وہ پاکستان کے مقابلے میں کسی بھی بات پر کوئی سمجھوتا کرنے کے لئے تیار نہیں ہوئے تھے۔ جب کہ ہمارے ہاں تو ضمیر فروشی کا جمعہ بازار لگا ہوا ہے۔یہاں تک کہ اپنی پارسائی کے افسانے بنانے والے بڑے بڑے منصف اور قد آوّر صحافی چھوٹے بڑے مفادات کے عوض، دنیا بھر کی ذلت قبول کرتے ہوئے، اپنے فرائض منصبی کی ٹیوب میں بے ایمانی کے درجنوں پنکچر لگانے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔لوگوں کو اپنے فرائضِ منصبی کی شرم ہے ، اپنی عزت و شہرت کی پاسداری کی پروا ہے اور نہ ہی پاکستان کے نفع و نقصان یا یا پاکستان کے وقار سے کوئی دلچسپی ہے۔ جسے دیکھو، وہی اپنے مفادات کے نشے میں مست ، کسی نامی گرامی لٹیرے کی گود میں گرنے کے لئے تیار ہے۔ سو بار لعنت ہے ایسی عزت و شہرت اور قد آوّری پر۔
الحمد اللہ ! کہ اب بیرون ملک پاکستانیوں ہی کی طرح اندرون ملک پاکستانی بھی بیدار ہو چکے ہیں دوست اور دشمن میں پہچان کرتے ہوئے انہوں نے دشمنوں کو ردّ کرنے کے نعرے لگانے شروع کر دئے ہیں۔ یہاں تک کہ لندن انگلینڈ میں مظلوم کشمیریوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے ایک احتجاجی جلسے میں جو کچھ بھٹو اِزم کے خود ساختہ وارث بلاول کے ساتھ ہوا ہے،”گو زرداری گو“ کے نعروں کے ساتھ اُن پر گندے انڈے اورٹماٹر پھینکے گئے ہیں۔سب سن چکے ہیں۔
مجھے ستمبر ۶۵ کی پاک و ہند جنگ میں ریڈیو سے نشر ہونے والا ایک انتباہی اشتہار آج بھی یاد ہے۔” تم جہاں بھی ہو ، جس حال میں بھی ہو، اپنے حصے کا کام کرتے رہو۔“ہم آج بھی حالت جنگ ہی میں ہیں۔ ایک طرف نریندر مودی جیسا اسلام دشمن ہمیں محض اسلامی پڑوسی ملک ہونے کی سزا دینے پر تلا ہوا ہے تو دوسری طرف اس کا چھوٹا بھائی پاکستانی نریندر مودی ہمیں ووٹ دینے کی سزا دینے پر تلا ہوا ہے ۔ ایسے نازک نازک حالات میں پاکستانی نریندر مودی سے چھٹکا ر ہ حاصل کرنے کی ایک تحریک نے نہ صرف زور پکڑ لیا ہے ، پوری قوم کو ایک دشمن سے خبر دار بھی کر دیا ہے اور پاکستان ”گو نواز گو“ کے نعروں سے گونج رہا ہے اور بیرون ملک و اندرون ملک پاکستانی اس تحریک کو کتنی سنجیدگی سے لے رہے ہیں اس بات سے اندازہ ہوتا ہے کہ گذشتہ جمعہ کے دن گجرات کے جلسے میں جناب عمران خان نے بیر و ن ملک پاکستانیوں سے اپنی تحریک کو جاری رکھنے کے لئے چند ے کی اپیل کی ہے تو آج ہفتے کی شام تک کتنے ہی لوگ مجھے فون کر کے چندہ دینے کے لئے اپیل کر چکے ہیں۔ جب کہ میں خود بھی اپنے دوست راجہ افتخار بھٹی اور خالد شریف کی مدد سے چندہ اکٹھا کر رہا ہوں اور عمران خان کی اپیل پر لوگوں کی بیداری کو دیکھتے ہوئے مجھے پاک و ہند جنگ کے دوران ریڈیو پاکستان سے نشر ہونے والا اشتہار بھی یاد آ رہا ہے۔”تم جہاں بھی ہو جس حال میں بھی اپنے حصے کا کام کرتے رہو“ اور یہ دیکھ کر خوشی ہو رہی ہے کہ لوگ اپنے حصے کا کام بڑے جوش و خروش سے کر رہے ہیں۔ ایک دوسرے دوست نے یہ خبر دے کر کہ پاکستان میں اسکول کے بچوں نے عمران خان صاحب کی اپیل پر اپنے جیب خرچ سے کیارہ لاکھ روپے عمران خان کو دئے ہیں۔بچوں کے اس ایثار کو دیکھتے ہوئے عمران خان کی تحریک پر لندن پلان اور نہ جانے کیسے کیسے شرمناک الزام دھرنے والے چرب زبانوں کو اب شرم آنی چاہیے۔لیکن شرم کہاں سے آئے ؟ اور کیسے آئے ؟ شرم و حیا کے شرمناک فقدان پر راقم اِس سے پہلے ” اپنی اپنی ہمت ہے “ کے نام سے کالم سپرد ِ قلم کر چکا ہے۔اُسے ضرور پڑھیں اور سوچیں۔۔دنیا میں ایسا کون سا ملک ہے ؟ جس میں ۱۴ معصوم شہریوں کے قاتل بڑی ڈھٹائی کے ساتھ۔۔۔ معاف کیجئے،میں کالم لکھتے ہوئے خاصاتلخ ہو جاتا ہوں۔جس پر یاد آیا کہ ٹورونٹو میں مقیم جیو۔کے نمائندہ بدر منیر چوہدری کا جناب حسن نثار کے ساتھ ایک انٹر ویو ”یو۔ ٹیوب“ پر نظر نواز ہوا۔جو ہر اعتبار سے بڑا خوبصوت اور مکمل انٹر ویو تھا۔لیکن انٹر ویو کے اختتام پر حسن نثار صاحب کی تلخ نوائی کے حواالے سے سوال تھا۔میں نے بدر منیر چوہدری صاحب کو فون کر کے ان کے حسن نثار کے ساتھ انٹر ویو کی تعریف کرتے ہوئے کہا۔حسن نثار صاحب کی جو خوبی، اُنہیں میرا ہیرو بناتی ہے۔آپ نے اُن کی اُسی خوبی کو نشانہ بنایا ہے۔بد منیر نے میرے اِس سوال کو دوستانہ ہنسی میں اڑا دیا۔ بدر بھائی ! میں جب پاکستان کے غریب لوگوں کو فاقہ مستی کا شکار ہو کر خود کشیاں کرتے ہوئے دیکھتا ہوں، مخلوق خدا کو کاغذی پیرہن میں فریادی دیکھتا ہوں تو میرا دل بھی چاہتا ہے کہ میں سی۔این۔ای ٹاور پر کھڑا ہو کر اپنے ان لیڈروں کو گالیاں دوٴں جو کروڑوں روپیوں کی گھڑیاں اور ہزاروں پونڈز کے سوٹ پہنتے ہیں۔ امریکہ آتے ہیں تو مہنگے تیرین ہوٹلوں کے عام کمروں میں نہیں ، ان کے صدارتی سویٹس میں ٹھہرتے ہیں۔حسن نثار صاحب پاکستان کے صحافیوں میں پہلے صحافی ہیں۔جو ایسے بے حس اور بے غیرت لیڈروں کے خلاف زہر اگلتے رہتے ہیں۔اُنہیں ، اُن کے کام پر لگا رہنے دیں۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com
تاریخ اشاعت: 2014-10-30

کالم نگار     :     عبدالرحیم انجان

عبدالرحیم انجان کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-