بند کریں
اتوار اکتوبر

ایدھی۔۔۔ ہم تمہارے مجر م ہیں!

سید شاہد عباس :

مغربی ہندوستان کے موجودہ گجرات کے علاقے کتھیاوار (کتھیاوار تقسیم ہند سے پہلے گجرات کا ایک ضلع تھا، اسے کاٹھیا وار بھی کہا جاتا ہے) کے ایک گاؤں بانٹوا (بنٹوا)میں اللہ نے مستقبل میں انسانیت کے لیے آسرا بننے والی شخصیت کو پیدا کیا۔ مشکلات اس پیدا ہونے والے بچے کا شروع سے مقدر بن گئیں۔ کسے پتا تھا کہ ان مشکلات کا مقصد ایک ایسے انسان کی تربیت کرنا ہے جو لاکھوں لوگوں کی مشکلات میں ان کے لیے مسیحا بنے گا۔ 11سال میں اس کی ماں بستر کی مکیں ہو گئی۔ پہلے مفلوج پھر ذہنی طور پر بیمار ہو گئی اسی وجہ سے اسے تعلیم حاصل کرنے کا موقع نہ مل سکا کیوں کہ اس کا کل وقتی کام والدہ کی خدمت کرنا بن گیا۔ تقسیم ہند کے وقت اس کی عمر 19 برس تھی۔ اسے بھی ہجرت کو صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں اور کراچی جیسے بڑے شہر کی آغوش میں پناہ لینا پڑی۔ اور یہیں سے اس کی عملی زندگی کا آغاز بھی ہوا۔ والدہ کی بیماری اور ہجرت کی مشکلات نے اس کی شخصیت پر گہرا اثر ڈالا جس کی وجہ سے اس کے دل ودماغ میں فلاح انسانیت اور خدمت کا جذبہ باقی تمام مادی جذبوں پر حاوی ہو گیا۔ اس کی عملی زندگی کی ابتدا آسان نہ تھی۔ کبھی اس نے کراچی کی لنڈا مارکیٹ میں لوگوں کو پرانے کپڑے خریدنے کی طرف مائل کرنے کے لیے صدائیں بلند کیں۔ تو کبھی یہی صدا تازہ ترین خبروں تک رسائی کے لیے اخبار بیچنے کے لیے بلند ہوئی۔آج کل کے " اشرافیہ " کے لیے یہ بات ایک طمانچے کی صورت ہے کہ اس غربت میں بھی اس نے پہلی فری ڈسپنسری قائم کر دی ۔ اس سلسلے میں اسے کچھ لوگوں سے بھی مدد ملی۔
یہاں سے ایک ایسا سفر شروع ہوا جس کا اختتام شاید اب اس کی سانسوں سے مشروط نہیں رہا۔ کیوں کہ اس عظیم ہستی نے ایک ایسا نظام وضع کر دیا ہے جو شاید تا قیامت جاری رہے گا۔ ا 65ء میں ایک غریب نرس سے جو اسی کے ٹرسٹ میں کام کرتی تھی سے شادی کر لی ۔ اور اب ان کے دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔80 اور 90 کی دہائیوں میں لوگوں کے مسیحا کو دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی طرف سے اپنے ہاں کام کرنے کی آفرز آئیں لیکن ادرویش صفت ، منکسر المزاج شخص نے تمام آفرز ٹھکرا دیں کیوں کہ وہ صرف اپنے وطن کے لیے یہ سب کچھ کرنا چاہتا تھا۔ اس کے ادارے کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ وہ حکومت وقت سے کوئی امداد نہیں لیتا بلکہ عام لوگوں کے عطیات پر انحصار کرتا ہے اور اس شخص کی بدولت ہی پاکستانی اس وقت دنیا میں شاید سب سے زیادہ عطیات دینے والوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ اس وقت اس شخص کا ادارہ پاکستا ن کا سب سے بڑا فلاحی ادارہ ہے۔ اس کے علاوہ اس کے پاس دنیا کے سب سے بڑا پرائیویٹ ایمبولینس سروس کا نظام موجود ہے۔ 1928میں جنم والے اس شخص کا ادارہ آج 50ہزار سے زائد یتیموں کو کامیاب زندگی کے دھارے میں لا چکا ہے۔ یہ ادارہ لاوارث کو لاوارث نہیں رہنے دیتا اور انہیں ایک شناخت دیتا ہے۔ جس ہستی کو لوگ آج دکھوں کے ساتھی کے طور پر جانتے ہیں ان کے میڈیکل ادروں میں اس وقت کم و بیش 40 ہزار سے زائد نرسیں خدمات سر انجام دے دہی ہیں۔ اور یہ ادارہ گارے و مٹی کے بجائے جذبات پہ قائم ہے شاید اسی لیے اس ادارے سے زندگی کی دوڑ میں شامل ہونے والے لوگ کبھی اس ادارے سے ناتا نہیں توڑتے اور کسی نہ کسی صورت اس کے ساتھ منسلک رہتے ہیں شاید یہی وجہ ہے کہ اس ادارے کا حجم دن بدن وسیع ہو رہا ہے۔ دنیا کے اتنے بڑے ادارے کا سربراہ آج بھی دو جوڑے کپڑوں اور دو کمروں کے مکان سے زیادہ جائیداد و سرمایہ نہیں رکھتا۔ اور یہ دو کمرے بھی اس نے ایک ڈسپنسری کے اوپر قائم کر رکھے ہیں۔
وطن عزیز کا شائد ہی کوئی ایسا شخص ہو جسے اب نام بتانے کی ضرورت ہو کہ یہ شخصیت کون ہے۔ایدھی فاؤنڈیشن کے سربراہ عبدالستار ایدھی صاحب شاید اس وقت زندگی کے ایسے موڑ پر ہیں جہاں وہ ایک ایسے درخت کی مانند ہیں جو اپنی شاخوں کا بوجھ اٹھائے بیٹھا ہے ۔ ایدھی صاحب اس وقت شدید علیل بھی ہیں۔ لیکن انہوں نے اپنی پوری زندگی صرف کر کے ایدھی کو ایک نام کے بجائے ایک نظام میں بدل ڈالا ہے۔ اپنی پوری زندگی انہوں نے لوگوں کا اعتماد کمایا۔ کیوں کہ لوگ اپنے عطیات کے لیے ان پر آنکھیں بند کر کے بھروسہ کرتے ہیں۔ ایدھی صاحب کو مختلف ادوار میں یورپی ممالک سے وہاں آ کر کام کرنے کی آفرز آئیں لیکن ان کے لیے پاکستان ہمیشہ اہم رہا۔ اکثر سنا کہ ضیاء دور میں انہوں نے ضیاء صاحب کی طرف سے پانچ لاکھ کا چیک واپس کر دیا۔ اٹلی کو حکومت نے ان کو امداد بجھوائی جسے انہوں نے یہ کہہ کر واپس کر دیا کہ حکومتیں جب مدد دیتی ہیں تو شرائط بھی رکھتی ہیں۔
ایدھی صاحب کو عالمی سطح پر 18 سے زائد اعزازات سے نوازا گیا۔ یہ ان کی خدمات کا اعتراف تھا۔ اس کے علاوہ انہیں ملکی سطح پر بھی کم و بیش 8 اعزازت دیے گئے۔ جن میں نشان امتیاز بھی شامل ہے جو انہیں1989 میں دیا گیا۔ انہیں سابق وزیر اعظم نے نوبل امن انعام کے لیے بھی نامزد کیا۔ لیکن ایدھی صاحب کی خدمات ایسی ہیں کہ انہیں کسی انعام کی شاید ضرورت نہیں ہے۔ ان کا انعام ان کے اداروں سے نکلنے والے وہ لوگ ہی ہیں جنہوں زمانے نے ٹھکرا دیا لیکن ایدھی صاحب ایک گھنے درخت کی چھاؤں کی طرح ان کے لیے سایہ بن گئے۔ لاوارث ہونا شاید سب سے بڑی اذیت ہے لیکن ایدھی صاحب نے تمام لاوارث اور ٹھکرائے ہوؤں کو ایک ایسی شناخت دی جس پہ لوگ فخر کرنے لگے ہیں۔
قیام پاکستان سے آج تک تاریخ پر نگاہ دوڑائیں ۔ کیا ہمیں کوئی ایک بھی ایدھی صاحب کا ثانی نظر آتا ہے؟ کیا کوئی بھی سیاستدان، جرنیل، جاگیردار، سرمایہ دار، زمیندار ایدھی صاحب کی خدمات کی دھول تک بھی پہنچ سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ کیوں کہ ایدھی صاحب نے خدمات کا صلہ نہیں مانگا۔ لیکن پھر بھی ہم نے ان کو صلہ دیا۔
کیا صلہ دیا؟80ء کی دہائی میں انہیں اسرائیلی حراست میں رہنا پڑا کیوں کہ وہ لبنان میں جا کر خدمت کرنا چاہتے تھے۔ 2006 میں انہیں 16 گھنٹوں تک کینیڈا میں ائیرپورٹ پر تفتیش کی بھٹی سے گزارا گیا لیکن ایک عظیم پاکستانی کے لیے اسلامی جمہوریہ پاکستان کچھ نہ کر سکا۔ 2008 میں امریکیوں نے جان ایف کینیڈی ائیرپورٹ پر 8گھنٹوں سے زیادہ اس خدمت کے نشان کو ہزیمت کا نشانہ بنایا لیکن ہم کچھ نہ کر سکے۔ وجہ ان کا بوسیدہ لباس تھا۔ لیکن اس تمام سلوک پر اس صلے پر اس عظمت کے استعارے کی آنکھوں میں آنسو نہیں آئے کیوں کہ ان کا خیال شاید تھا کہ انہیں پاکستانی سمجھ کے ایسا کیا گیا لہذا پھر بھی وہ پاکستانی ہونے پر فخر کرتا رہے۔ لیکن آج الیکٹرانک میڈیا پر ایدھی صاحب کو دیکھا تو ان کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔ ہچکیاں عرش ہلا رہی تھیں۔ ان کی زباں گنگ تھی جیسے لفظوں نے بیاں ہونے سے انکار کر دیا ہو۔ وجہ ایک مسلح ڈکیتی تھی۔ جس میں امانتاًایدھی صاحب کے پاس رکھے گئے کروڑوں روپے اور کم و بیش 5 کلو سونا ڈاکولے اڑے ۔ لفظ سخت ہیں لیکن رک نہیں رہے۔ ہم سب اس ڈکیتی میں شامل ہیں۔ ہم سب ایدھی صاحب کے مجرم ہیں۔ کیوں کہ ہم ایک ایسے معاشرے میں زندہ ہیں جو ایدھی صاحب کو رلا کر بھی معمول کے مطابق ہے۔ مجھے یقین ہے کہ امانتیں رکھوانے ولے ایدھی صاحب سے کوئی سوال نہیں کریں گے کیوں کہ وہ ایدھی صاحب پر آنکھیں بند کر کے اعتماد کرتے ہیں۔ لیکن ایدھی صاحب کی آنکھوں کے آنسو گواہ ہیں کہ انہیں دنیا کی ذلت نہیں رلا سکی لیکن پاکستان نے ان کو رلا دیا۔ پاکستانیوں نے ان کو رلا دیا۔ ایدھی صاحب کاش آپ تقسیم کے بعد پاکستان نہ آتے ۔ کاش آپ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی آفر قبول کر لیتے۔ پہلے حکیم سعید شہید کے ہم مجرم تھے۔ آج آپ کے بھی مجرم ہیں۔ جو چاہیں سزا دیں۔ ہمیں کسی بھی تعزیر کے تحت کچھ ایسی سزا دیں جس سے ہم آپ کے گرنے والے ایک ایک آنسو کی اذیت کو جان پائیں۔ ہمیں کوئی ایسی سزا تجویز کریں جس سے ہم آپ کی ہچکیوں کی تکلیف کو اپنے اندر محسوس کر سکیں۔ ہم آپ کے سامنے سر نہیں اٹھا سکتے ۔ لیکن پھر بھی شاید سر اٹھائیں گے۔ بیانات بھی دیں گے۔ مذمت بھی کریں گے۔ کیوں کے ہم اس معاشرے کی اکائیاں ہیں جس نے بے حسی کی چادر سے خود کو ڈھانپ رکھا ہے۔ ایدھی صاحب! ہم آپ کے مجرم ہیں۔ ہم آپ کے مجرم ہیں۔کیوں کہ ہم ایسے بے حس معاشرے کا حصہ ہیں جو کچھ عرصے بعد آپ پر ہونے والے اس ظلم کو بھول جائے گا۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com
تاریخ اشاعت: 2014-10-25

کالم نگار     :     سید شاہد عباس

سید شاہد عباس کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-