بند کریں
ہفتہ اکتوبر

بچہ ہو یا بچی عورت ہی ظلم کا شکار کیوں؟

ڈاکٹر اویس فاروقی :

پاکستانی معاشرہ تنزلی کی انتہاوں کو چھو رہا ہے جہاں ہر بنیادی قدر اپنی قدر کھوتی جارہی ہے ہر طرف افراتفری کا عالم ہے سرکاری ادارروں میں کام نہ ہونے کے برابر رہ گیا ہے جبکہ افراد معاشرہ پر کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے اپوزیشن اور حکومت کو عوام کی حالت زار کی کوئی خبر نہیں تو” نئی اپوزیشن“ عمران، قادری کے جلسے جلسوں نے جہاں عوام میںآ گاہی مہم شروع کر رکھی ہے وہیں میڈیا کی ساری توجہ اپنی جانب مبذول کرا رکھی ہے جس کے نتیجے میں عام آدمی کے مسائل پس پشت جا چکے ہیں سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں سے کس طرح کا سلوک روا ررکھا جارہا ہے انہیں دوائیاں مل رہی ہیں یا نہیں کسی کو اس بات سے سروکار نہیں عجب بے حسی کے منظر ہیں جو ہر طرف نظرآرہے ہیں، جبکہ بچوں اور خواتین کے مسائل میں اضافہ ہوتا جارہا خواتین کی عصمت دری ریپ اور ظلم و زیادتی کے واقعات روزمرہ کے معمول بن چکے ہیں جبکہ اس معاشرے میں مصوم بچے ا ور بچیوں کو بھی نہیں بخشا جا رہا المیہ دیکھیے قدرت کے کاموں کو بھی خواتین کے کھاتے میں ڈال کر اس پر ہی ظلم کے پہاڑ توڑئے جارہے ہیں میرئے پاس ایسی خواتیں کے کئی کیس آتے ہیں جن کے ہاں اوپر تلے بچیوں کی پیدائش ہوئی ہوتی ہے اور وہ لڑکا چاہ رہی ہوتی ہیں ان کے چاہنے کے پیچھے ان کے خاوندوں ،سسرال اور معاشرے کا پریشر ہوتا ہے ،جبکہ جس خاتون کے ہاں لڑکیاں ہی پیدا ہو رہی ہوں اس بے چاری کا تو جینا عذاب بنا دیا جاتا ہے چند ایک کو استشناء دیا جاسکتا ہے وہ بھی ان مردوں کو جن کی انسانی سطع بلند ہو چکی ہے یا جو شعوری بلندی پر ہیں جن کے نزدیک لڑکا یا لڑکی پہلے انسان ہے بعد میں کوئی دوسری جنس ایسے افراد معاشرے میں خال خال ہی ہیں، حالانکہ اسلامی تعلیمات میں دو سے زائد بچیوں کی پیدائش پر والدین کو جنت کی بشارت ملتی ہے پھر بھی ہمارا معاشرہ لڑکیوں کی پیدائش پر نہ صرف ناک بھوں چڑھاتا ہے بلکہ ایسی خواتین ہی قصور وار ٹھرتی ہیں جن کی کوکھ ”صرف“ بچیوں کو جنم دیتی ہے جس میں ان کا اپنا کوئی قصور نہیں ہوتا میڈیکلی طور پر لڑکا ہو گا یا لڑکی اس کا زیادہ تر انحصار مرد پر ہوتا ہے لیکن ڈال عورت کے کھاتے میں دیا جاتا ہے مردوں کے اس معاشرے میں چیک اپ کا بھی عورت کو ہی کہا جاتا ہے جبکہ مرد کو ہر طرح سے ”فٹ“ بتایا جاتا ہے ۔
 دنیا کی ترقی کی بات کریں تو آج انسان مریخ تک جا پہنچا ہے وقت کی طنابیں کھینچتا ہوا یہ انسان اپنی افتاد طبع پر قابو نہیں پاسکا اس ترقی یافتہ دور میں بھی انسانیت کا قتل ہورہا ہے کہیں معاشرتی رسم و رواج کے نام پر، تو کہیں صنفی امتیاز کے نام پر ، جہاں میڈیکل سائنس نے انسانی دکھوں کا علاج دریافت کیا ہے اس کے لئے آسانیاں پیدا کی ہیں وہیں اس کی ایجادات سے مفاد پرست عناسر فائدہ اٹھاتے بھی پائے جاتے ہیں بھارت میں تو صورت حال بہت ہی ابتر ہے یونیسیف کی ایک رپورٹ کے مطابق بھارت میں صنفی امتیاز کے منظم منصوبے کے تحت 5 کروڑ لڑکیاں پیدائش سے پہلے یا بعد میں قتل کر دی جاتی ہیں۔ اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف کی اس رپورٹ میں ان خوفناک اعداد و شمار کا انکشاف کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت میں بچیوں کو پیدائش سے قبل یا بعد میں قتل کرنے کا معاملہ سنگین ہوتا جارہا ہے۔ بھارت میں رائج جہیز کا نظام ہے جو غریب خاندان کے بس کی بات نہیں، اور لڑکی کی پیدائش مصیبتوں اور پریشانیوں کی نشانی سمجھی جاتی ہے۔ عورت مخالف یہ صورتحال صرف کسی ایک جگہ محدود نہیں بلکہ ثقافتی عقائد اور معاشرتی روایات کی بنیاد پر ہر طبقہ میں یہ سلوک روا رکھا جا رہا ہے۔ الٹرا ساوٴنڈ کے ذریعے بچے کی پیدائش سے پہلے ہی اسکی جنس معلوم کر لی جاتی ہے اور لڑکی ہونے کی صورت میں اسے دنیا میں آنے سے پہلے ہی قتل کر دیا جاتا ہے۔ بھارت میں ذات برادری کی تقسیم اور لڑکیوں کے لیے جہیز اس کی خاص وجہ ہے۔ یونیسیف نے اسے سنگین صورتحال قرار دیا ہے۔ بھارت میں ایک ہزار مردوں کے مقابلے میں عورتوں کی تعداد ۹۳۷ رہ گئی ہے۔ اس صورتحال پر بھارت میں خاصا واویلا تو مچایا جاتا ہے۔ لیکن اب تک کوئی ٹھوس اقدام نہیں ہوسکے۔ کچھ عرصہ پہلے بچوں کے لئے کام کرنے والی ایک خیراتی تنظیم کی جانب سے دائر کردہ ایک مقدمہ میں عدالت میں سوال اٹھایا گیا تھا کہ ایسے اسپتالوں اور شفا خانوں کو سزا دی جائے۔ جس پر بھارتی سپریم کورٹ نے حکم دیا تھا کہ پیدائش سے قبل جنس کا تعین کرنے کے لئے رحم مادر کا سکین کرنے والے شفا خانوں کو سزائیں دی جائیں اور ان قوانین پر سختی سے عملدرآمد کروایا جائے جو لڑکیوں کے اسقاط کو روکنے کے لئے بنائے گئے ہیں۔
 گو کہ بھارتی حکومت جہیز کے رواج کو بھی ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس رواج کو پہلے ہی خلاف قانون قرار دیا گیا ہے۔ پیدائش سے پہلے یہ جاننے کے لئے کہ لڑکا ہوگا یا لڑکی اکثر جوڑے الٹراساوٴنڈ کرواتے ہیں۔ تاہم بھارتی حکومت نے دس سال قبل اس پر پابندی عائد کر دی تھی۔ لیکن حالیہ جائزوں سے پتہ چلتا ہے کہ اس قانون پر کم ہی عمل ہوتا ہے۔ سپریم کورٹ نے اپنے اس حکم میں وفاقی اور ریاستی حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ اس قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کو سزائیں دلائیں۔ اس سے قبل عدالت نے حکم دیا تھا کہ مختلف شفا خانوں میں استعمال ہونے والی الٹرا ساوٴنڈ مشینوں کی نگرانی کی جائے اور ان مشینوں کو ضبط کر لیا جائے جن کے ذریعے پیدائش سے قبل بچے کی جنس کا تعین کرنے کی کوشش کی گئی ہو۔
جبکہ پاکستان میں قبل از پیدائش کتنے بچوں کی ہلاکت ہو جاتی ہے اس ضمن میں ہمارے ہاں ابھی کوئی زیادہ کام ہوتا نظر نہیں آرہا مگر قبل از پیداش بچے کی جنس معلوم کرنے کا رحجان بہت ہو چکا ہے جس کا نقصان بہر حال خواتین کو ہو رہا اس ضمن میں حکومت کو اس جانب توجہ دینی ہو گی اور معاشرے میں اس احساس کو جاگزین کرنا ہو گا کہ ”بچہ ہو گا یا بچی“ اس میں کسی انسان مرد یا عورت کا عمل دخل نہیں یہ قدرت کا امر ہے جسے خوش دلی سے قبول کرنا چاہیے ایک انسانی جان کو پوری انسانیت کی جان قرار دے کر قدرت نے انسانوں ،معاشروں اور حکومتوں پر یہ زمہ داری عائد کر دی ہے کہ وہ کسی بھی انسان کی جان کو ناحق ضائع نہ ہونے دیں اور نہ قتل کریں،بچے ہو گا یا بچی پر مبنی شائع ہونے والے اشتہارات اور ایسے کلینک جو صنفی امتیاز کو ہوا دئے رہے ہیں کو قانوں کے ضابطے میں لانا ضروری ہے اور ان پر پابندی ہونی چاہیے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com
تاریخ اشاعت: 2014-10-24

کالم نگار     :     ڈاکٹر اویس فاروقی

ڈاکٹر اویس فاروقی کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-