بند کریں
اتوار اکتوبر

جناب چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ!ان لوگوں کو آپ کی توجہ درکار ہے

حافظ ذوہیب طیب :

اس کے چہرے پر بے بسی اورناامیدی کے ملے جلے احساسات نمودار ہو رہے تھے ،چھپانے کی لاکھ کوشش کے باوجود بھی آنکھوں میں آنسو کسی بپھری ہوئی لہر کی طرح ٹھاٹھیں مار رہے تھے ،گفتگو کے دواران ہچکیوں کی آوازنے میرے دل کے سخت پتھر سے بھی آنسو ؤں کا چشمہ جاری کر دیاجسکے نتیجے میں اضطراب کے پنجرے نے مجھے ایسے قید کیا ہے ہزار کوششوں کے بعد بھی میں آزاد نہیں ہو پا یا۔10سال سے عائلی عدالت آنیوالی خاتون نے بتایا کہ میں یو نیورسٹی میں پر وفیسر ہو ں اور میری قسمت کی خرابی تب شروع ہو ئی جب میرے خاندان نے مجھے طلاق دے کر گھر سے نکالا اور بچے اپنے پا س رکھ لیے ۔ تقریباً ایک ما ہ تک خاندان کی سطح پر صلح صفائی کی ناکام کوششوں کے بعد مجبوراً ہائیکورٹ میں بچوں کی حصولی کا مقدمہ کیا ۔ صد افسوس کہ میرے سابقہ سسرال نے یہ موقف اختیا رکیا کہ میں خود بچوں کو چھوڑ کر چلی گئی تھی اور اُن کو وقت دیا جائے کہ و ہ مجھے منا لیں ۔ اس وقت جج صاحب کے یہ خیال کیے بغیر کہ طلا ق مجھے بھجوائی جا چکی ہے اور اس کا مطلب یہی ہے کہ اس میں میرا قصور نہیں ہے انہوں نے بچے میرے سسرال کے حوالے کر دئیے ۔ اس کے بعد اگلے پانچ سال تک میری ملاقات مختلف تکلیف دہ حیلوں بہا نوں سے روکی گئی ۔ حتیٰ کہ ایک مرتبہ میں پو رے دس ما ہ تک اپنے بچوں کی شکل نہ دیکھ سکی ۔ اس دوران سسرال والوں کی جانب سے میرے بچوں کو مجھ سے نفرت کا شکار کیا گیا اور پانچ سال بعد بچوں کو مستقل طور پر میرے سابقہ شوہر کے حوالے کر دیا گیا ۔ اس کے بعد عدالتی دباؤ کے باوجود بچوں کے باپ نے کبھی بچوں سے میری ملاقات کی ضرورت محسوس نہ کی کہ میری ملاقاتیں کروائی جائیں ۔ حتیٰ کہ اب گیا رہ سال بعد بھی میں اپنے بچوں سے دور ہو ں ۔
جناب چیف صاحب !عائلی عدالتوں میں خوار ہو تے ہوئے والدین میں سے ہر ایک کی کہانی انتہائی دلخراش ہے ۔ کئی ایسے والدین ہیں جوکہ گزشتہ 10، 10سال سے یہاں دھکے کھا رہے ہیں لیکن مقدمات ہیں کہ ختم ہو نے کو ہی نہیں آتے۔ان میں ہی ایک انتہائی معروف و مصروف سرجن اپنے علیحدہ شدہ بیٹے سے ملنے کیلئے ہر ما ہ کوئٹہ سے ایک طویل فاصلہ طے کرکے لاہور آتے ہیں۔ وہ جیسے آتے ہیں ویسے ہی ما یو س ہو کر واپس لوٹ جاتے ہیں کیونکہ 6سال تک تمام تر تکالیف سہنے اور عدالتی احکامات ہونے کے باوجود ان کی سابقہ بیوی کی اپنی ضد ہی ان کی بچے سے ملاقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے ۔آپ اس بات سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ بچے کا ماہانہ خرچہ برداشت کرتا ایک صاحب حیثیت شخص اپنے بچے سے نہیں مل سکتا تو یہاں غریب، بے بس ، ناچار لو گوں کا کیا بنتا ہو گا؟۔
جناب چیف صاحب! مارچ 2014میں گارڈین عدالتوں پر لکھے گئے میرے کالم پر ”مائی فاؤنڈیشن “ جوپچھلے کئی سالوں سے بچوں اور والدین کے لئے تحویل اورقانونی چارہ جوئی کے عمل کوکم تکلیف دہ بنانے کے لئے ایک اجتماعی کوشش کر رہی ہے اس نے اور معروف قانون دان فہد احمد صدیقی نے اپنے جگر گوشوں کے ساتھ کچھ لمحات گذارنے والے دکھیاروں کے دکھ کو کچھ کم کرنے کے لئے مشترکہ کاوشیں کیں جس کے نتیجے میں جناب عمر عطا بندیال صاحب نے فی الفور ایکشن لیتے ہوئے احکامات جاری کئے جو سیکریٹری سکولزاور ڈائریکٹر چلڈرن لائبریری کی ہٹ دھرمی کے نظر ہو گئے۔
قارئین !یہ اعداد و شمار معاشرے میں شدت سے کم ہوتی قوت برداشت کا عکاس ہیں کہ چا روں گارڈئین ججز کی عدالتوں کے باہر آویزاں کی گئی ملاقات کیلئے آنیوالے بچوں کی روزانہ کی فہرست سے اکٹھی کی گئی معلومات کے مطابق چاروں گارڈئین ججز کی عدالتوں میں اس وقت ایک ہفتے میں 1064بچے متاثر ہورہے ہیں ۔یعنی ایک ہفتے میں کل 1064 بچے اپنے والدین سے ملنے آتے ہیں ۔ جس سے اندازاہ ہو تا ہے کہ ما ں باپ کی اس لڑائی میں بچے کس قدر پس رہے ہیں ۔وسری جانب سال 2014ء کے پہلے چھ ماہ کے دوران گارڈئین کو رٹس میں 2293نئے مقدمات درج کیے گئے جبکہ اس سے قبل اس نوعیت کے 2833مقدمات زیر التوا تھے ۔اسی طرح سال 2013ء کے دوران 2748مقدمات زیر التواء تھے جبکہ 3705نئے مقدمات درج کیے گئے اور 3878 مقدمات نمٹائے گئے ۔سال 2012ء کے اختتام پر گارڈئین کورٹ میں 2748مقدمات زیر التواء تھے ۔
جناب چیف صاحب !گارڈین عدالتوں میں دھکے کھاتے ماں،باپ،عدالتوں کی وحشت زدہ د یواروں اورہتھکڑیوں کو دیکھتے ڈرتے ،سہمے معصوم بچے آپ کی توجہ کے طبگار ہیں۔عمر بندیال صاحب کے احکامات کی روشنی میں کیس کو پایہ تکمیل پہنچانے کے ساتھ ہزاروں لوگوں کے مسئلوں کا واحد حل یہی ہے کہ ترقی یا فتہ ممالک میں رائج سسٹم کی طرح یہاں بھی میا ں بیوی کے باہمی تنا زع کو بچوں کی تحویل کے معاملے سے علیحدہ کیا جائے، علیحدگی کے شروع میں ہی ملاقات کا شیڈول دیا جائے جس پر سختی سے عمل کروایا جائے ۔ تاکہ مقدمہ کے دوران دونوں والدین اور ان کے خاندانوں سے بچے کا تعلق قائم رہے ۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com
تاریخ اشاعت: 2014-10-22

کالم نگار     :     حافظ ذوہیب طیب

حافظ ذوہیب طیب کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-

: متعلقہ عنوان