بند کریں
اتوار اکتوبر

کرکٹ،ہاکی اور فٹ بال ٹیم کو ری سیٹ کریں

ممتاز امیر رانجھا :

ہمارے ملک کے سرمائے میں اضافے کا سبب اور قومی جوش و ولولہ اور یک جہتی کا رکن کئی پاکستانی گیمز تھیں جو کہ رفتہ رفتہ ختم ہوتی جا رہی ہیں۔ملک دشمن عناصر نے ہمارے ملک میں دہشت گردی کے ذریعے پوری دنیا میں خوف و دہشت پھیلائی اور ہمارے ہرے بھرے گراؤ نڈز کو جہاں انٹرنیشنل ایونٹ ہوا کرتے تھے وہاں نہ صرف ویرانہ بنایا بلکہ اب تو یہ حالات ہیں کہ نیشنل گیمز بھی ڈر ڈر کے ہوا کرتی ہیں۔ کئی دشمن ممالک نے پراوپیگنڈہ کے ذریعے نہ صرف ہماری گیمز بلکہ کھلاڑیوں کو بھی بد نام کیا۔پاکستان میں آنیوالی کثیر رقم اب پاکستان کے باہر ممالک جیسے ہندوستان،آسٹریلیا،ویسٹ انڈیز،سری لنکا،انگلینڈ اور چائنا وغیرہ وغیرہ کما رہے ہیں۔ ہم لوگ جو کبھی اپنی کرکٹ ٹیم،ہاکی ٹیم ،اسکوائش اور کبڈی ٹیم پر ناز کرتے تھے اب یہی ٹیمیں ہماری رسوائی کا باعث ہیں۔ہماری ہاکی ٹیم جو کسی بھی ملک سے ہارتی نہیں تھی اب چھوٹی چھوٹی ٹیموں سے پٹنے میں دیر نہیں کرتی۔کرکٹ ٹیم جس کے باؤلر ز اور بیٹسمین بڑی بڑی ٹیمز کے لئے سیمنٹ کی دیوار بن جاتے تھے اب وہی باؤلرز اور بیٹسمین ریت کی دیوار سے بھی بد تر ہیں۔ہمارے ٹیم کے نئے کوچ وقار یونس اورمعین خان کے پاس بہت ہی کم وقت ہے کہ وہ ورلڈ کپ کے لئے نئے اور بہترین ٹیلنٹڈڈ کھلاڑیوں کو سامنے لائیں ،ہر قسم کی سفارش اوراجارہ داری سے بالاتر ہو کر نیوٹرل پیمانے پر بہترین نوجوانوں پر مشتمل ٹیم بنانے کی اشد ضرورت ہے۔
 دورہ شارجہ میں آسٹریلیا نے پاکستان کو ٹی ٹونٹی اور ون ڈے میچ میں کلین سویپ کر دیا۔آسٹریلینا کی ٹیم نے ہر میچ میں کسی پروفیشنل اور غیرت مند ٹیم کی طرح میچ کھیلا ،ان کے کھیلنے سے پتہ چل رہا تھا کہ وہم سااب ہمیں نہ تو مصباح جیسے ٹُک ٹُک کھلاڑی کی ضرورت ہے اور نہ شاہد آفریدی جیسے بیٹسمین کی ضرورت ہے۔۔ہم مانتے ہیں کہ آفریدی،مصباح اور یونس خان کی قومی ٹیم کے لئے انتھک جدوجہد موجود ہے لیکن ان تینوں کو اگر کھیلنا ہے تو انہیں بس ٹیسٹ ٹیم کے علاوہ کسی ٹیم میں بطور بیٹسمین یا کھلاڑی شامل نہیں ہونا چاہئے۔ٹیم اور قوم کے لئے یہ تینوں کھلاڑی ٹی ٹونٹی اور ون ڈے میں ظلمِ عظیم ہیں۔آفریدی کو اگر بطورسپین باؤلر اور کپتان لیا جائے تو ٹھیک ہے۔ایسے تمام کھلاڑی جن کا پچھلے پانچ ٹی ٹونٹی یا ون ڈے میں ایوریج سکور 25سے کم ہے انہیں ضرور نکال باہر کرنا چاہیئے۔اسی طرح ایسے باؤلز جنہوں نے اپنے پانچ میچز میں سکور ریٹ زیادہ دیا ہے یا وکٹ نہیں لی ہے ان کو بھی فارغ کر دینا ہے عزت ہے۔کافی عرصہ سے دیکھ رہے ہیں کہ ہماری کرکٹ ٹیم تجرباتی بنیادوں پر کھیلتی ہے اور اسی تجربہ کی روشنی میں ہر دفعہ کا ورلڈ کپ بھی گزر جاتا ہے۔
اگر کسی نے تجربہ ہی کرنا ہے تو خدارا قومی ٹیم پر مت کریں۔اس سے عوامی دل شکنی کے علاوہ قومی خزانے کا ضیاع ہوتا ہے۔علاوہ ازیں قوم و ملک کی عزت بھی داؤ پر لگ جاتی ہے۔ ہمار ی قوم نے وقار یونس،سلیم یوسف،اعجاز احمد،محمد یوسف اور کئی قیمتوں کھلاڑیوں کو سابقہ کپتان اور کوچز کے ہاتھوں سیاسی موت مرتے دیکھا۔سیاست صرف سیاست دانوں کے اچھی لگتی ہے لیکن سیاست بھی خاندانی ہونا ضروری ہے۔قومی ٹیم میں سیاست کرنے والوں کو یک دم فارغ کر دینا ہی دانش مندی ہے۔مصباح،یونس خان اور آفرید ی اگر کھیلیں تو عزت سے موسٹ ویلکم، ابھی والا آخری ورلڈ کپ کھیلیں اورعزت سے استعفیٰ دے کر فارغ ہو جائیں ۔نہیں کھیلنا تو نہ کھیلیں کسی با صلاحیت کو تو موقع ملنے دیں۔ہر میچ میں ہارنا کیا ہماری ہی ٹیم کا مقدر ہے؟
ہاکی ٹیم کا دھڑن تختہ سب کے سامنے ہے وہاں بھی تجربوں کی بھرمار ہے۔ہر دفعہ نئے کھلاڑی نیا سیٹ اپ نئے لوگ او ر نئی شکست۔فٹ بال ٹیم کو دیکھا جائے تو وہاں بھی کوالی فائنگ راؤنڈ کھیلنے سے آگے کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔صدیوں سے ہم لوگ ورلڈ کپ کوالی فائنگ راؤنڈ کے لئے میچ کھیلتے ہیں،کسی عام سی ٹیم سے ہار جاتے ہیں اور پھر اگلے ورلڈ کپ تک انتظار کرتے ہیں کہ شاید پھر ایک میچ ملے گا۔ہر دور میں ہر حکومت نے اپنے من پسند چئیرمین اور کوچز کو لانے کی کوشش کی اور اسی کوشش میں کرکٹ ،ہاکی اور فٹ بال ٹیمز کا ناس ہوا۔ہر دور میں ہر چئیرمین اور کوچ کے اپنے چہیتے یا حکومتوں کے من پسند سفارشی اور نا اہل کھلاڑی زبردستی ٹیموں میں گھستے گئے۔کئی کھیلتے کھیلتے کھلاڑی بن گئے اور کئی ایک نے قوم و ملک کا بیٹرہ غرق کر دیا۔
ایک طرف ان گیمز کی وجہ سے ملکی سرمایہ باہر ممالک جا رہا ہے تو دوسری طرف ساری قوم کو دھرنے پر لگانے والے چند مخصوص ذہنیت کے لوگوں نے قومی سرمائے اور ترقی پر گرہن لگا دی ہے۔ترقی کے جو کام ہونے تھے ان میں رکاوٹ ڈالی جا رہی ہے اور جو کام ہو رہے ہیں ان میں ٹانگیں اڑائی جا رہی ہے۔چند کالی بھیڑوں نے پورے ملک کو داؤ پر لگا رکھاہے۔ہماری سیاسی بصیرت نہایت ہی لو لیول ہو چکی ہے ،حقیقت میں ہمارے صحافی بھائی بھی اس وقت سیاسی پارٹی بازی میں ملوث ہو کر اندھا دھند رانگ سائیڈ پر رائے عامہ ہموار کر رہے ہیں۔حکومت وقت کو اس وقت اشد ضرورت ہے کہ قومی ترقیاتی کاموں کو تیزی سے مکمل کریں تاکہ ہم لوگ جلد از جلد اس حکومت کے ثمرات سے فیض یاب ہو سکیں۔علاوہ ازیں حکومت کو قومی کھیلوں کے سٹرکچر اور انتظامی معاملات میں بہتری کے لئے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ہماری تمام قومی گیمز کو ری سیٹ کرنے کی ضرورت ہے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com
تاریخ اشاعت: 2014-10-16

کالم نگار     :     ممتاز امیر رانجھا

ممتاز امیر رانجھا کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-