بند کریں
منگل اکتوبر

خواتین کو انسان کا درجہ کب ملے گا؟

ڈاکٹر اویس فاروقی :

غربت کی انتہا ہو ،بیماریوں سے شہریوں کی ہلاکتیں، معصوم بچیوں کے ساتھ عصمت دری کے واقعات ہوں، غرض معاشرے کی کوئی پرت کھولیں حالات دگرگوں ہی نظر آتے ہیں ،حکومت نام کی چیز کا وجود ڈھونڈنے سے نہیں ملتا سٹریٹ کرائم میں اضافہ ہو یا گھروں کے اندر عدم تحفظ اور لوٹ مار کسی بھی واردت کا نہ ہی کوئی سراغ ملتا ہے اور نہ ہی شنوائی ہوتی ہے اور انصاف تو ڈھونڈے نہیں ملتا تعلیمی اداروں کی خستہ ھالی اور تعلیم جو فراہم کی جارہی ہے اس سے انسان سازی کے بجائے تقسیم کاری بڑھ رہی ہے صحت کا شعبہ اس وقت سب سے زیادہ نظر انداز ہوتا ہوا نظر آرہا ہے سرکاری ہسپتالوں کی حالت زار کا یہ عالم ہے کہ بہالپور میں گزشتہ دنوں آکیسجن کی عدم فراہمی کی بنا پر 56 سے زائد معصوم بچے جان بحق ہوگئے مگر حکومت کے کان پر جوں تک نہ رینگی ایک رپورٹ کے مطابق محکمہ ہیلتھ میں ڈاکٹروں اور نرسوں کی دس دس ہزار اسامیاں خالی پڑی ہیں جس کی وجہ سے بنیادی مرکز صحت اور رورل ہیلتھ سنٹر خالی ہو گئے ہیں۔ کوئی بھی ڈاکٹر دیہات میں نوکری کرنے کو تیار نہیں ہے۔جس سے لاہور شہر میں صوبے بھر کے مریضوں کا رش ہے اور چھوٹے سے چھوٹے مرض کے لئے مریض لاہور کا رخ کرتے ہیں کیونکہ ان کے اپنے علاقے میں مریضوں کے آپریشن نہیں ہوتے یا ڈاکٹر موجود نہیں ہوتے ۔ محکمہ ہیلتھ میں ڈاکٹروں کی پرموشن کا عمل بھی انتہائی سست ہے۔یوں لگتا ہے حکومت نے تعویز گنڈے والوں کے محکمہ صحت ٹھیکے پر دے رکھا ہے۔ تا کہ لوگ قدرت کی آئی مریں یا جعلی عاملوں کے کھاتے میں پڑیں حکومت بری الذمہ ہو جائے۔
جمہوری حکومت میں جمہور کے ساتھ ہونے والے ہاتھ پر جب کہیں سے کوئی رپورٹ میڈیا کی زینت بنتی ہے تو حکومت اسے اپنے خلاف سازش قرار دے کر جان چھڑانے کی کوشش کرتی ہے حالانکہ ہونا تو یہ چاہیے کہ اس پر غور فکر کر کے ان مسائل کا خاتمہ کیا جائے اب یہی دیکھیے پاکستان کے صوبہ سندھ جہاں اس ملک کی پہلی بڑی جمہوری پارٹی کے ” مالکوں“ کا قیام اور صوبے میں حکومت بھی ہے جو جماعت خواتین کے حقوق کے لئے سرگرم عمل بھی رہتی ہے کے اپنے صوبے میں خواتین اور مصوم بچیوں کی حالت زار پر عورت فاونڈیشن نے واویلا مچاتے ہوئے بتانے کی کوشش کی کہ خیرپور، سندھ کے وزیراعلٰی سید قائم علی شاہ کاآبائی ضلع ہے، یہ صوبے کے ان اضلاع کی فہرست میں اول درجے پر ہے جہاں اس سال کی تیسری سہہ ماہی کے دوران خواتین کے خلاف تشدد کی سب سے زیادہ واقعات ریکارڈ کیے گئے ہیں۔جبکہ سندھ میں خواتین کے خلاف تشدد کی صورتحال پر سہ ماہی رپورٹ (جولائی تا ستمبر 2014ء) کے مطابق صوبے میں خواتین اور لڑکیوں کے خلاف تشدد کے تمام 421 واقعات میں سے 72 واقعات کا تعلق صرف خیرپور سے تھا۔اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 421 واقعات میں 534 خواتین اور لڑکیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا، لیکن ان میں سے صرف 66 کیسز کی ایف آئی آر درج کی گئی۔ان تین ماہ کی مدت کے دوران اخبارات میں شایع ہونے والے اعدادوشمار کی بنیاد پر تیار کی گئی اس رپورٹ کا کہناہے کہ خواتین کے خلاف تشدد کا مسئلے کی جڑ سماجی روایات اور معاشی انحصار میں پوشیدہ ہیں، جبکہ ان کے ساتھ امتیازی سلوک مردوں کی اجارہ داری کے نظام کا نتیجہ ہیں۔صنفی بنیاد پر تشدد سے خواتین کے کمتر کردار ، ان کے سیاست میں کم سے کم سطح پر شراکت، ان کی کمتر تعلیمی سطح و مہارت اور کام کے محدود مواقع کو برقرار رکھنے میں مدد دی ہے۔رپورٹ کا کہنا ہے کہ غلط الفاظ کے ساتھ درج کی جانے والی ایف آئی آر سے بھی موٴثر حل کے لیے مقدمات تک خواتین کے لیے رسائی کے حق کو نقصان پہنچایا جاتا ہے۔اکثر اوقات اس طرح کے واقعات سے پولیس کو مطلع نہیں کیا جاتا، جبکہ پولیس کو رپورٹ کیے گئے کچھ واقعات کو پولیس اپنے روزنامچے میں درج نہیں کرتی۔ یہاں تک کہ اگر چند کیسز درج بھی ہوجائیں تو مناسب انکوائری نہیں کی جاتی اور یہ معاملہ بالآخر التواء کا شکار ہوجاتا ہے۔یہ بات بھی نوٹ کی گئی ہے کہ دیہی علاقوں کے ساتھ ساتھ خواتین کے خلاف تشدد کے واقعات شہری علاقوں میں بھی بڑھتے جارہے ہیں، جو باعثِ تشویش ہے۔ جیسا کہ 421 کیسز میں سے 197 شہری علاقوں سے رپورٹ کیے گئے تھے۔متاثرہ خواتین کی ازدواجی حیثیت کے بارے میں اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 534 خواتین میں سے 249 (59 فیصد) شادی شدہ تھیں، جبکہ 67 غیر شادی شدہ۔ نامکمل رپورٹوں کی وجہ سے 218 خواتین کی ازدواجی حیثیت معلوم نہیں ہوسکی۔خواتین کے خلاف تشدد کے جرائم نوعیت کچھ یوں تھی، قتل (76 خواتین)، غیرت کے نام پر قتل (57 خواتین)، خودکشی (49 خواتین) جرگہ (41)، اغوا (41) زخمی (39)، ریپ اور گینگ ریپ (21/5)، جنسی حملہ (17) تشدد (17) اور اقدام خودکشی (19)۔
91 متاثرہ خواتین کی عمر 19 سے 36 برس کے درمیان تھیں، 66 چھوٹی بچیاں تھیں، اور 13 کی عمر 37 سال سے زیادہ تھی۔ جبکہ دیگر 364 تشدد سے متاثرہ خواتین کی عمروں کا تعین نہیں کیا جاسکا۔ان تین ماہ کے دوران اضلاع کے حساب سے کیسز کی تعداد کچھ یوں تھی، خیرپور 72، جیکب آباد 46، لاڑکانہ 45، شکارپور 28، سانگھڑ 27، سکھر 23، بے نظیرآباد 21، گھوٹکی 21، نوشہروفیروز 16، میرپورخاص 15، کشمور 15، تھرپارکر 14، کراچی 12، جامشورو 12، دادو 11، حیدرآباد 9، بدین 8، قمبر شہداد کوٹ 8، ٹھٹھہ 7، مٹیاری 4، عمر کوٹ 4، ٹنڈو محمد خان 2 اور ٹنڈو الہ یار ایک۔
جب اس طرح کی رپورٹس منظر عام پر آتی ہیں تو حکومت بڑی ڈھٹائی سے اسے اپنے خلاف سازش قرار دے کر جان چھڑانے کی کوشش کرتی ہے ، یہ تو صرف ایک صوبے کی رپورٹ ہے باقی کے تین صوبوں میں بھی صورت حال کوئی تسلی بخش نہیں المیہ تو یہ ہے کہ حکومت تو ایک طرف معاشرہ بھی خواتین اور بچیوں کے ساتھ ہونے والے ظلم و جبر پر مبنی واقعات پر چپ سادھے بیٹھا رہتا ہے حالانکہ معاشرئے کا ہر فرد بہن، بیٹی، ماں رکھتا ہے جب تک معاشرتی سطع پر آواز کو نہیں اٹھایا جاتا اور حکومت خواتین کے خلاف ہونے والے ظلم و ستم پر مجرموں کو قرار واقعہ سزا دلانے کے لئے کوشش نہیں کرتی پاکستان دنیا بھر میں خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک کے حوالے سے ہی جانا جاتا رہے گا۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com
تاریخ اشاعت: 2014-10-16

کالم نگار     :     ڈاکٹر اویس فاروقی

ڈاکٹر اویس فاروقی کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-