بند کریں
پیر اکتوبر

بلیم گیم

عبدالرحیم انجان :

کیا ہو رہا بھائی ہے ؟ بے تکلف لہجے میں سوال کرتے ہوئے جمال میرے اسٹڈی روم میں آگیا اور اس نے ایک سرسری نظر کمپیوٹر کی سکرین پر دیکھتے ہوئے کہا۔”لگتا ہے افسانہ لکھ رہے ہو ؟ “
ہاں ! بڑی مدت کے بعد افسانہ لکھنے کا موڈ بنا ہے اور”باوّلی“ کے نام سے ایک افسانہ لکھ رہا ہوں۔
”ارے واہ !“ جمال نے نعرئہ تحسین بلند کرتے ہوئے کہا۔ ”ایک فری مشورہ “ میری سوالیہ نظروں کے جواب میں اُس نے ہنستے ہوئے کہا۔”باوّلی کے بجائے ” بکری کے بھیجے والی “ عنوان کے ساتھ اپنی بھابی پر افسانہ لکھو۔“ چند لمحوں کے توقف کے بعد اس نے مزید کہا۔”سابق وزیر اعظم کے بیٹے عبدلقادر جیلانی کے سکیورٹی گارڈ نے پروٹوکول کا راستہ کاٹنے والے جس معصوم شہری کو بڑی بیدردی سے قتل کر دیا ہے، تمہاری بھابی کہتی ہے ’یہ سب عمران خان کی پروٹوکول کے خلاف تحریک کا قصور ہے‘تمہاری بھابی یہ بھی کہتی ہے کہ ’عمران خان یہ سب کچھ محض اقتدار کے لئے کر رہا ہے۔‘ میں نے جمال کو سمجھاتے ہوئے کہا ۔” جمال !بھابی بے چار ی تو ایک گھر گرہستن خاتون ہیں،یہ بات تو کل کسی ٹالک شو میں مسلم لیگ (ن) کا ایک عوامی نمائندہ بھی کہہ رہا تھا“ جمال نے غصے سے غراتے ہوئے کہا۔” ایسے لوگوں کو ، جن کا عوام سے کوئی دور کا واسطہ بھی نہیں ہے،تم انہیں عوامی نمائندہ کیسے کہہ سکتے ہو ؟ پیلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) والے عمران خان کے بارے میں جو کچھ بھی کہیں وہ تو سمجھ میں آتا ہے کہ جن لوگوں کی شہنشائیت کی بنیادیں حل رہی ہو ں ، جن لوگوں کو سونے کی کان ( اقتدار) سے، اپنا بستر گول ہوتا نظر آ رہا ہو۔وہ عمران خان کی مخالفت نہیں کریں گے تو کیا عمران خان پر پھول برسائیں گے؟
جمال بھائی ! ہمارے ہاں عدل و انصا ف زندہ ہی کب ہے ؟ کہ مظلوم عوام میں سے کسی غریب پر حکمرانوں کے ظلم کی کسی داستا ں پر عدل و انصاف اور قانون کی بات کی جائے ؟ تم دیکھ لینا عوام کا غصہ ٹھنڈا کرنے کے لئے عبدلقادر جیلانی کے جس سکیورٹی گارڈ کو پکڑا گیا ہے۔گلوبٹ کی طرح اسے بھی چھوڑ دیا جائے گاکہ اس کے خلاف بھی ایف۔ آئی ۔آر خادم اعلیٰ شہباز شریف کی ڈائریکشن پر کاٹی گئی ہے اور سننے میں آرہا ہے کہ گلو بٹ کے خلاف ایف۔آئی۔آر ہی کی طرح عبدالقادر جیلانی کے سکیورٹی گارڈ کے خلاف ایف۔ آئی ۔ آر میں بھی بچ نکلنے کے کچھ راستے۔۔“جمال نے میری بات کاٹتے ہوئے کہا۔”یار ! لعنت بھیجو ہمارے ہاں کے عدل و انصاف کے نظام پر اور اُن لوگوں پر جو مجرموں کی پشت پناہی کر کے جرم کو پھلنے پھولنے کے مواقع فراہم کرتے چلے آرہے ہیں۔میرا کنسرن تو تیری بھابی ہے جس پر مجھے صر ف اِس لئے غصہ آتا ہے کہ وہ اچھی خاصی پڑھی لکھی ہے۔وہ ملک میں عدل و انصاف کے منجمد اندھیروں میں تبدیلی کی روشنی کو دیکھنے کی صلاحیت کیوں نہیں رکھتی۔ اب ملتان میں عمران خان کے جلسے میں پیش آنے والے سانحہ کی ذمہ داری بھی عمران خان پر ڈال رہی ہے۔کہ اس نے اپنے جلسے میں نظم و نسق قائم رکھنے کی ذمہ داری لی تھی۔“
جمال ! تم اس بات کو کیوں نہیں سمجھتے کہ چھَپے ہوئے ’حرف‘ اورریڈیویاٹی۔وی پر سنی ہوئی بات کا اپنا ایک تقدس اور اچھا خاصا وزن ہوتا ہے،تمہیں اسی لئے تو کئی بار کہہ چکا ہوں کہ اپنے گھر سے ایسے چینل با خصوص جیو ٹی۔وی چینل ختم کر دوٴ، جس پر انڈین موویز ، ہماری افواج کے خلاف نفرت کا بیج بوہنے اور عریانی کی تشہیر کے ساتھ ساتھ عمران خان کے خلاف بے سرو پا قسم کے پروپیگنڈے کے گرد و غبار کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا۔عمران خان کی بعض باتیں ہمیں اچھی نہیں لگتیں،لیکن اُن باتوں کے دُور رس نتائج قابل تحسین ہوتے ہیں۔ عمران خان نے شکیل الرحمن پر یہ الزام لگا کر کہ وہ الیکشن میں دھاندلی کے جرم میں برابر کا شریک ہے، بلکہ ایک مقام پر تو شکیل الرحمن سے یہ کہہ کر کہ شکیل الرحمن کچھ توشرم کرو۔‘ ‘ عمران خان دنیا کو یہ بتا چکے ہیں کہ ”جیو ٹی۔وی اور جنگ والے میرے دشمن ہیں، اس لئے ان کی کسی بھی بات کو سنجید گی سے نہ لینا۔ لیکن بڑی ہمت ہے جنگ کے کچھ لکھنے والوں کی جو دنیا کی شرم کی پروا کئے بغیر عمران خان کے خلاف اپنی بے سری بین بجاتے رہتے ہیں اور عمران خان کے خلاف ان کے جا رحانہ پرپیگنڈ ے کا اثر ” شکیل الرحمن کچھ تو شرم کرو ‘۔“ جیسے جملے کی گونج زائل کر دیتی۔
 ملتان میں عمران خان کے جلسے کے بارے میں یہ کہا جا رہا ہے کہ ملتان کی تاریخ میں اتنا بڑا جلسہ ہم نے نہیں دیکھا۔صرف اسٹیڈیم ہی نہیں اسٹیڈیم سے باہر بھی کافی تعداد میں لوگ موجود تھے اور سب سے اہم بات یہ کہ ہندوستان کے وزیر اعظم شری نریندر مودی کو مخاطب کر کے عمران خان نے جو باتیں کی ہیں،وہ پاکستانیوں کے جذبا ت کی نمائندہ باتیں ہیں ۔ جس ملک کی افواج کے ساتھ اُس کی عوام کھڑے ہوں اور وہ سچائی پر بھی ہو یعنی کسی پر کوئی جارحیت نہ ٹھونس رہے ہوں۔ ہو تو اسے دنیا کی کوئی طاقت شکست نہیں دے سکتی۔ ہندوستان ستمبر ۱۹۶۵ ء ء میں بھی لاہور پر شب خوں مار چکا ہوا ہے۔اُس تاریخی جارحیت کے سربراہ جگ جیون رام( معاف کیجئے مجھے یاد نہیں آرہا کہ جگ جیون رام ہندوستان کاوزیر دفاع تھا یا لاہور پر شب خون مارنے والی فوج کا سربراہ ) نے چار بجے کی چائے لاہور کے جیم خانہ کلب میں پینے کادعویٰ کیا تھا۔لیکن افواج پاکستان نے لاہور کے شیر دل عوام کے جوش و خروش کی پشت پناہی میں جگ جیون رام کے اس خواب کو خاک میں ملا دیا تھا۔ آج انچاس سال کے بعد بھی اپنے بد ترین دشمن کے خلاف افواج پاکستان اور پاکستانی عوام کے جوش و خروش کے مناظر آنسو بن کر آنکھوں میں تیرنے لگے ہیں، کچھ اُن مناظر کی تفصیل بھی لکھتا۔ لیکن کالم کی طوالت آ ڑھے آ فرہی ہے۔لیکن مختصر الفاظ میں ایک قصہ تو ضرور لکھوں گا۔میں شالا مار باغ کے سامنے جی۔ٹی روڈ پر عوام کے ہجوم میں کھڑا تھا ،صبح نو دس بجے کے قریب افواج پاکستان لاہور پہنچی تھیں اور لاہور کے شیر دل عوام مونڈھے پر ڈانگے رکھے فوجی ٹرکوں کے ساتھ ساتھ بھاگ رہے تھے اور فوج کے سجیلے جوان اپنی دو انگلیاں کھڑی کر کے اپنی فتح کا نشان بنا رہے تھے۔کیا رکشے کیا ٹیکسیاں اور کیا پرائیویٹ کاریں سب پر” کرش انڈیا“ کے اسٹکرز جوش و خروش کی بھڑکی ہوئی آگ پر تیل چھڑک رہے تھے۔دیکھنے میں آیا ہے کہ لوگ جنگ زدہ علاقوں کو چھوڑ کر چوہوں کی طرح کسی محفوظ مقام کی تلاش میں بھاگتے ہیں۔لیکن اہلیان ِ لاہور؟ سبحان اللہ !
کون کہتا ہے موت آئی تو میں مر جاوٴں گا
میں تو دریا ہوں سمندر میں اتر جاوٴں گا
احمد ندیم قاسمی ( مرحوم )کے شعر کی عملی تصویر بنے ہوئے تھے۔ یاد رہے کہ اس وقت تک ہم ایٹمی طاقت نہیں تھے ۔ نریندر مودی جیسے مسلم دشمن ذہنی مریض نے اگر اپنے دماغ کے موذی مرض ( مسلم دشمنی ) پر قابو نہ رکھا تو اُسے یہ خبر ہونی چاہیے کہ وہ کس قوم کے ساتھ پنگا لے رہا ہے۔جس کے پاس اُس کی سب سے بڑی نا قابل تسخیر طاقت جذبہ ِ شہادت ہے۔نریندر مودی جی ! آپ آ ذان ، یعنی اللہ کی طرف بلائے جانے کی دعوت پر بندش لگا کر ہندوستان میں ایک اور پاکستان کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔بہتر یہی ہے کہ آپ اپنے بیمار ذہن کو قابو میں رکھیں اور عمران خا ن صاحب کی تقریر کے آ خری حصے پر مدبرانہ غور فرمائیں۔ اُنہوں نے کہا ہے۔”ہم دونوں ملکوں کے غریب عوام کی خوشحالی کا ضامن صرف ”امن“ ہے۔نہ تم فوجی ہتھیاروں پر غریب عوام کے حصے کی خوشحالی ضائع کرو اور نہ ہی ہمیں مجبور کرو کہ ہم غریب عوام کے حصے کی خوشحالی بندوقوں اور توپوں کی خریدارہی پر خرچ کریں“ میں سمجھتا ہوں کہ عمران خان کا یہ مشورہ انتہائی انسان دوستی پر مبنی ہے۔مودی جی ! اللہ نے آپ کوعزت بخشی ہے تو ایک عزت مند لیڈر بن کر اپنی عزت میں اضافہ کریں۔ گجرات والے انسان دشمن لیڈربن کر ایک بار پھر انسان دوست ملکوں میں اپنے داخلے پر پا بندی لگوانے کے لئے ہاتھ پاوٴں نہ ماریں، مغرب میں فقط مصلحتوں کے شکار اور دوہرے معیار رکھنے والے لیڈر ہی نہیں ، انسانی حقوق کی علمبردار انسان دوست تنظیمیں بھی ہیں۔خدا را ، اپنے عوام کے حال پر رحم کریں۔دونوں ملک ایٹمی طاقت ہیں۔اگر جنگ ہوئی تو پھر جو تباہی و بربادی ہو گی، اُس تباہی و بربادی کے ذمہ دار کی حیثیت سے آپ کا نام تاریخ میں ایک گالی بن جائے گا۔
 رہا سوال کہ ملتان کے جلسے کے بارے میں بھابی بے بیچاری سنی سنائی باتوں کو بنیاد بنا کر کیا کہتی ہیں؟ ملتان میں عمران خان کا عظیم الشان جلسہ، پنجاب گورنمنٹ سے ہضم نہیں ہو سکا ، اور اُن کی مجرمانہ غفلت سے ایک ایسے سانحہ نے جنم لیا ہے، جس پر جتنا بھی افسوس کیا جائے وہ کم ہے۔ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ اسٹیڈیم کے اندر نظم و نسق قائم رکھنے کی ذمہ داری تحریک انصاف کی تھی یہ سچ ہے۔لیکن یہ حادثہ اسٹیڈیم کے اندر نظم و نسق کی کسی کمزوری یا لوگوں میں کسی لڑائی جھگڑے کے نتیجے میں نہیں ہوا۔ پی۔ٹی۔آئی کے ذمہ دار لوگوں کے مطابق بار بار درخواست کرنے کے باوجود ڈی ۔سی ملتان نے اسٹیڈیم کے سارے گیٹ نہیں کھولے تھے ،پھر جلسہ ختم ہوتے ہی اسٹیڈیم کے باہر بجلی بھی بند کر دی گئی تھی۔جس سے بھگدڑ مچ گئی۔ٹی۔وی پر دیکھا گیا ہے کہ گیٹ بند ہیں اور گیٹ کے دوسری طرف جس طرح پانی کے بغیر مچھلی تڑپتی ہے ، مخلوق خدا حبس کا شکار ہو کر تڑپ رہی تھی اور پولیس والے خاموش تماشائی بنے ہوئے تھے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا اس صورت حالکو دیکھتے ہوئے فوراً سب گیٹ کھول دئے جاتے۔لیکن نہ جانے کس مصلحت کے پیش نظر ایسے نہیں کیا گیا ۔ہونا تو یہ چاہیے تھاکہ ایک فرض شناس افسر کی طرح شہر کے ڈی سی شرمندگی کا عملی مظاہرہ کرتے ہوئے مستعفی ہو جاتے۔لیکن لگتا ہے کہ قدرت نے موجودہ حکومت کی قسمت میں کوئی اچھا کام لکھا ہی نہیں ہے۔جس نے اپنی غلطی تسلیم کرنے کے بجائے بڑی ڈھٹائی کے ساتھ بلیم گیم شروع کر دی ہے۔جس کے نتیجے میں جتنے مُنہ اتنی ہی باتیں سننے کو مل رہی ہیں۔اگر حالات و واقعات کو سامنے رکھ کر دیکھا جائے تو یہ حادثہ ڈی۔سی ملتان کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے پیش آیا ہے ، جنہوں نے تحریک انصاف کے بار بار کہنے کے باوجود دو سے زیادہ کیٹس کھولنے سے انکار کر دیا تھااور جنہوں نے بعد میں اتنا بڑا ہجوم دیکھتے ہوئے بھی دو سے زیادہ گیٹس نہیں کھولے اور جس طرح پنجاب گورنمنٹ کے لوگ انہیں پروٹیکٹ کر رہے ہیں اس سے تویہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ عمران خان کو دباوٴ میں ڈالنے کے لئے شہباز شریف صاحب کے زرخیز ذہن کی کار ستانی ہے۔
 رانا ثنا اللہ فرماتے ہیں۔ اس حادثے کا زمہ دار پی۔ٹی۔آئی ہے اور ہم تحریک انصاف پر مقدمہ کریں گے۔ سیانے کہتے ہیں۔اگر کرتوت اچھے نہ ہوں تو انسان کو اپنی زبان پر قابو رکھنا چاہیے۔ سمجھ نہیں آتی کہ جب ماڈل ٹاوٴن میں پیش آنے والے سانحہ کے نتیجے میں موصوف سے استعفیٰ لے لیا گیا تھا ۔گویا حکومت وقت نے موصوف کو ماڈل ٹاوٴن سانحہ کے ملزموں میں شمار کر لیا تھا۔تو اب وہ کس حیثیت سے آئین شائیں باتیں کر کر کے اپنی چودھراہٹ کا مظاہرہ کرتے رہتے ہیں۔ سوال ہے مسلم لیگ (ن) نے اُن کی پارلیمنٹ کی ممبر شپ منسوخ کیوں نہیں کہ جب کہ وہ اس سے پہلے اپنی ایک خاتون رکن کی کریڈٹ کارڈ پر کسی فراڈ کے جرم میں ممبر شپ منسوخ کر چکے ہوئے ہیں۔کیا کریڈٹ کارڈ کا فراڈ چودوہ انسانوں کے قتل سے بڑا جرم تھا ؟
 مسلم لیگ (ن) کو اس حقیقت سے سمجھوتا کر لینا چاہیے کہ ان کے خلاف جو تحریک جنم لے چکی ہے ، اُسے اب گلوبٹ ٹائپ کے بد معاشوں کی مدد سے روکا نہیں جا سکتا ۔شیخ رشید کے ساتھ ملتان کے ایک ہوٹل میں جو شرمناک تماشا ہوا ہے۔ وہ بھی حکومت وقت کے لئے نہ صرف باعث ِ شرم ہے، ن لیگ کے خلاف بھڑکتی ہوئی آگ پر تیل کا کام بھی کر ے گا ۔لوگ اب بیدار ہو چکے ہیں۔مسلم لیگ (ن) کو پھونک پھونک کر قدم اٹھانے کی ضرورت ہے کہ لوگ نہ صرف بیدار ہو چکے ہیں، حالات کا جائزہ بھی بیدار آنکھوں سے لے رہے ہیں۔
عمران خان کو جلسہ ختم کرتے ہی زخمیوں کی تیمار داری کے لئے ہسپتال جانا چاہیے تھا اور دوسرے دن شہیدوں کے جنازے میں بھی شامل ہونا چاہیے تھا۔اب بھی موقعہ ہے کہ وہ وقت نکال کر شہیدوں کے پس مندگان سے جا کر افسوس کر کے آ جائیں۔یہ اُس پیار کا تقاضہ ہے جو لوگ اُن سے کرتے ہیں۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com
تاریخ اشاعت: 2014-10-14

کالم نگار     :     عبدالرحیم انجان

عبدالرحیم انجان کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-