بند کریں
پیر اکتوبر

نارمل سے ابنارمل تک۔۔۔!

فوزیہ بھٹی :

صرف ایک سوال Is it very hard on yourself?
خود سے پوچھئے جواب مل جائے گا۔ایسا کوئی کل نہیں جس کا آپ کو انتظار ہے۔
یوں تو اپنے ساتھ جینا بے حد آسان دکھائی دیتا ہے مگر یقین جانئے کہ یہ اسقدر سہل نہیں ہے۔فرد خود سے بھاگ کر جائے بھی تو کہاں جائے۔۔۔بقول محسن نقوی

 ہم ایسے لوگ بہت ہیں جو سوچتے ہی نہیں
 کہ عمر کیسے کٹی ،کس کے ساتھ بیت گئی؟

یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ فرد اکیلا اس دنیا میں آیا ہے اور اکیلا ہی اس جہان سے جانے والا ہے لیکن کیا ہی اچھا ہو کہ جانے سے پہلے ہم کچھ ڈھنگ کا کام ہی کر جائیں۔اب ہم عمر کے اس حصے میں کھڑے ہیں جہاں سے جوانی ایک قدم پیچھے اور ادھیڑ عمری دو قدم آگے کھڑی ہے۔چاہیں تو کوشش کر کے اڑیل ٹٹو کی طرح اسے چار قدم پہ کر سکتے ہیں مگر اپنی سستی کا کیا کریں خود سے لڑائی جھگڑا کرنا ہمیں مناسب نہیں لگتا۔ویسے بھی ہم کو محسوس یوں ہوتا ہے کہ ہم پیدا ہی عمر رسیدہ ہوئے تھے سو بہتر ہے کہ مٹی پاؤ تے کم چلاؤ ۔آج کا یہ کالم ہمارے جیسے 30کو ماضی قریب میں پار کرنے والے لوگوں کے لئے ہے اور اگر آپ شوخے اور چھیل چھبیلے واقع ہوئے ہیں تو یہیں سے الٹے قدموں لوٹ جائیے آپ کے پلے کچھ نہیں پڑنے والا آپ کا خدا ہی حافظ ہے۔
ایک شخص تھا جو جب بھی سایئکل سے اترنے لگتا تھا تو ہمیشہ تیز چلتی سایئکل کو روکے بغیر چھلانگ لگاتا تھا اور اکثر و بیشتر گر جایا کرتا تھا۔لوگ پریشانی کے عالم اسے پکڑنے کے لئے بھاگا کرتے اور وہ اٹھ کر اپنے کپڑے جھاڑتے ہوئے ہنس ہنس کر کہا کرتا تھا "کوئی بات نہیں، کوئی بات نہیں، میں اترتا ہی ایسے ہوں "یہ کہہ کر وہ اپنی سایئکل اٹھا کر لوگوں سے دور چلا جایا کرتا تھا۔اب کچھ عقل مند سمجھ جایا کرتے تھے کہ بیچارے اپنی سواری پر قابو نہیں ہے اور کچھ اسے بس حیرت سے دیکھا ہی کرتے تھے۔کہنے کا مقصد یہ ہے کہ انسان کو اپنے اختیار میں لی گئی چیزوں پر اتنا ہی اعتماد ہونا چاہئے جتنا اس سایئکل والے انسان کو تھا،تھا تو بے ڈھبا انداز مگر اسکا اپنا تھا۔جو چوٹ اسے لگتی تھی خود لگتی تھی ،کسی کے دکھے سے وہ نہیں گرتا تھا۔ہم سب کا مسئلہ یہ ہے کہ ہم سب لوگ اندھا دھند معاشرے کے رائج کردہ نارمل اصولوں کی پیروی کرنے میں اتنا کھو جاتے ہیں کہ اپنا اصلی تشخص ہی بھول جاتے ہیں۔ہم کون ہیں؟ کیوں ہیں ؟ہم معاشرے میں اچھی تبدیلی لا سکتے ہیں۔۔۔کو بھول کرصرف یہی سوچتے ہیں فلاں نے پڑھائی مکمل کر لی تو اب اسکی شادی ہونی چاہئے،اب اس کی شادی ہو گئی تو اب اس کے بچے ہوجانے چاہئے ،اب بچے جو ہوئے ہیں تو ان کو مہنگے اسکول جانا چاہئے،اب مہنگے اسکول جاتے ہیں تو گھر تو بہت ہی اچھا ہونا چاہئے ،اب بیوی یا شوہر سے بن نہیں رہی تو بچوں کی خاطر زندگی بنائے رکھنی چاہئے،کہ کل کو بچوں کی شادیاں بھی کرنا ہیں۔۔۔اور بھلے بچے بھی اسی کرب سے گزرتے رہیں جس سے ا ٓپ آج گزر رہے ہیں اور روایات کا یہ پہیہ ایسے ہی اپنے مدار پر گھومتا رہے اس سب میں ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ہم اصل میں کون ہیں؟ اقدار اور روایات میں اصل بھید کیا ہے ؟ یہ سب ہم سوچتے نہیں ہم بیمار معاشرے کو اور بیمار بے حد بیمار کر دینے پر تلے ہوئے ہیں مندرجہ بالا باتوں سے ہمیں کوئی اعتراض نہیں،کیجیئے سب کیجئے اگر آپ کر سکتے ہیں۔ کیوں کہ ہم سب نارمل زندگی گزارنے آئے ہیں نارمل ہمارے نزدیک وہ ہے جو معاشرے میں رائج ہے،جسے اکثریت حاصل ہے بھلے ہی وہ غلط کیوں نہ ہو،

جہیز دینا۔۔۔نارمل قرار پایا ہے
جہیز لینا۔۔۔نارمل قرار پایا ہے

گھٹ گھٹ کر شادی شدہ زندگی گزرانا۔۔۔ نارمل قرار پایا ہے
جھوٹ بولنا۔۔۔نارمل قرار پایا ہے
رشوت لینا اور دینا ۔۔۔۔نارمل قرار پایا ہے
جو شخص دب کر رہتا ہے اسے اور دبانا۔۔۔نارمل قرار پایا ہے
اکیلی زندگی گزارتی عورت کے بارے میں رائے قائم کرنا۔۔۔نارمل قرار پایا ہے
نارمل اس لئے کہ معاشرہ اب اس پر احتجاج نہیں کرتا اور کیوں کرے احتجاج۔ معاشرہ ہم جیسے سفاک لوگوں سے بنا ہوا ہے ۔ہم ایک شادی شدہ عورت یا مرد کو کینسر سے مرتا دیکھ سکتے ہیں ،نفسیاتی الجھنوں سے الجھتا دیکھ سکتے ہیں مگر ہم اس کے سر پر چادر نہیں رکھ سکتے، ہم کہیں گے اب مر کر ہی اس گھر سے نکلنا،ماں باپ کی عزت کا سوال ہے ،ہمارے خاندان میں ایسا نہیں ہوتا(اگلا کالم اسی مسئلے پر ہو گا)۔ ہم کسی غریب کے بچوں کو گاڑیاں صاف کرتے تو دیکھ سکتے ہیں جو کہ قانوناً جرم ہے مگر ہم اس کی کھوج نہیں لگا سکتے۔تو جان لیجئے کہ اس سب میں ہم برابر کے شریک ہیں یہ چند ایک مثالیں ہیں ۔گزرتی ہوئی زندگی کی پرتوں میں کچھ ردوبدل کر کے دیکھیں تو بے تحاشہ چیزیں آپ کو دکھائی دے جائیں گی۔بہر حال یہ سب ہم سب جیتے ہیں اور بے حد جیتے ہیں۔سوچتے اس لئے نہیں کہ اوکھے ہونے کی عادت ہم کو نہیں ہے۔ہم آپ کو یہ درس نہیں دیں گے کہ آج سے راستے میں آنے والی ہر روایت کو ٹھوکر مار کر اپنی ڈیڑھ انچ کی مسجد ہی بنا لیں مگر ایک گھڑی رک کر سوچ لیں کہ کیاجو کچھ آپ جی رہے ہیں کیا آپ یہی چاہتے تھے؟کیا آپ بھی اپنی زندگی کے بیشتر سال کسی آنے والے اچھے کل کے انتظار میں تو نہیں گزار رہے؟ اگر ایسا ہے تو چلئے آج ہم آپ کے اس غبارے کی ہوا نکالے دیتے ہیں۔۔۔تو سنئے زندگی وہ ہے جو آپ اس لمحے اس وقت گزار رہے ہیں۔۔۔اگر آپ زمینی حقائق سے دور ذہن کے کسی کونے میں ایک الگ دنیا میں رہتے ہیں تو شیشہ دیکھ کر اپنے "چول" ہونے کا تمغہ خود ہی اپنے آپ سے وصول کیجئے کہ کسی کے سامنے بے عزتی کا امکان ہے۔
آپ زندگی میں اگر کچھ کرنا چاہتے تھے؟ کچھ کرنا چاہتے ہیں؟ تو آپ کا وقت شروع ہوتا ہے اب، ابھی، اسی وقت۔نہیں تو آپ ٹھیک ایک سال بعد بھی یہی سوچ رہے ہوں گے"یار او ویلا ٹھیک سی"۔یاد رہے جو بھی کریں خدا کا نام لے کر ۔نیک نیتی سے کہ عملوں کا درومدار نیتوں پر ہے۔ کسی کو دکھ پہنچائے بغیر بھی اپنے مقصد کو جیا جا سکتا ہے کیونکہ جب کل آپ کے جسم میں توانائی اور طاقت کم ہو جائے گی اور دنیا کے یہ سب دھندے تب بھی چلتے رہیں گے اور بخدا ایسا ہی ہو گا۔کبھی کبھی سوچ لینے سے آنکھیں کھل جاتی ہیں۔نارمل رہنا ہمارااولین نہ ہو تومقصد تو ہم بھلے ہی ابنارمل سہی مگر ایک با ضمیر اور ہلکی روح کے ساتھ زندگی گزار سکتے ہیں۔
 صرف ایک سوالIs it very hard on yourself?
خود سے پوچھئے جواب مل جائے گا۔ایسا کوئی کل نہیں جس کا آپ کو انتظار ہے مان لیجئے ایسا کوئی کل ہے ہی نہیں۔زندگی آج ہے ابھی ہے۔ کچھ بدلنے پر قادر ہیں تو بدل دیجئے ورنہ جو ہے اسے من و عن قبول کر
لیجئے کہ اپنے ہر کئے گئے فیصلے کا بوجھ آپ کو خود ہی اٹھانا ہے ۔
(نوٹ:۔یہ مت سوچئے کہ ہم مرنے کے قریب ہیں،اگلے کالم سے ویسا ہی لکھیں مریں گے جیسا لکھناآتا ہے،ہمارے اندر کا میراثی ذرا سُستارہا ہے)
پاکستان کا خیال رکھئے یہ آپکا ہے۔اللہ سبحان و تعالیٰ پاکستان کو ہمیشہ اپنے حفظ و امان میں رکھے آمین۔

© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com
تاریخ اشاعت: 2014-10-10

کالم نگار     :     فوزیہ بھٹی

فوزیہ بھٹی کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-