بند کریں
بدھ اکتوبر

کمر شلزم کے کرشمے

ممتاز امیر رانجھا :

دورِجدید میں جہاں زندگی کے ہر شعبے میں تیز رفتاری آگئی ہے وہیں پر انسان نسبتاً کمزور اور کاہل سا ہوتا جا رہا ہے لیکن ماضی کے مقابلے میں آج کا ترقی یافتہ ذہن کچھ زیادہ متحرک ، فعال اور برق رفتاری کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ نت نئے ، جدید ترین، انکشافات اور ایجادات نے انسان کو مشینی بنا دیا ہے، لیکن انسانی معلومات میں وسعت آگئی ہے۔ تا ہم تعلیمی اور سائنسی ترقی کے باوجود بھی آج کا انسان ازلی توہم پرستی اور سحر انگیزی سے نہیں نکل سکا۔ آج بھی لوگ ماضی کی طرح کرشموں، کرتبوں اور مافوق الفطرت مظاہر سے اسی طرح متاثر ہوتے ہوئے نظر آئیں گے جس طرح آج سے صدیوں پہلے الف لیلیٰ یا ہزار داستان کے کردار تھے، اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان کمرشلائز ہو گیا ہے۔ محد سے لیکر لحد تک یہی کمرشل کرتب اب ضروری ہو گئے ہیں۔ سب سے پہلے تو بے اولادوں کی باری آتی ہے۔ بانجھ پن کا فور ی یقینی اور شافی علاج فٹ پاتھوں پر بیٹھے گودڑی کے لعل کرتے ہیں۔ پہلے یہ لوگ حکیم پیر اور نجومی تھے اب فٹ پاتھئے ہو گئے ہیں۔ علاج ایسا کرتے ہیں کہ عورت بامراد ہو یا نہ ہو خاوند بے مراد بلکہ نامراد ہو جاتا ہے اور اس کی روزی کامحض یہ وسیلہ رہ جا تا ہے کہ وہ معالج سے چند قدم فاصلے پر دوسرا بڑا سفری کلینک کھولنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ بال گرنا ، خشکی ، سکری اور گنجے پن کا حتمی بلکہ ختمی علاج کیا جاتا ہے۔ اشتہار میں ”ممی کے اصلی بال“ دیکھ دیکھ کر جب ڈیڈی ہئیر ڈائی یا شیمپو لے کر آتے ہیں اور سب سے پہلے اپنے اوپر آزماتے ہیں،پھر ان کے بالوں میں اتنا اضافہ ہوتا ہے کہ خاندانی منصوبہ بندی والے شرمندہ بلکہ ”Stupid“ نظر آتے ہیں کیونکہ شیمپو کے فیض سے بال تو صفا چٹ ہو جاتے ہیں اور ڈیڈی شرمندگی کے مارے گھروں سے نکلنا چھوڑ دیتے ہیں اور یوں گوشہ گیری میں بیٹھے بیٹھے ”بال“ بڑھانے کا مشغلہ جاری رہتا ہے۔ ایک اور کمرشل دانتوں کے درد، کٹھامیٹھا اور ٹھنڈا گرم لگنے سے محفوظ رہنے کے لئے آتا ہے،ساتھ ہی مسحور کن مسکراہٹ والی ماڈل کے اصلی دانت دیکھ کر لوگ ٹوتھ پیسٹ بدلتے رہتے ہیں ، وہ اشتہار کے بعد پسِ پردہ بتیسی بدلتی ہے ۔یوں روز نئے ماڈل کا نیا برانڈ کچھ ہی مہینوں میں دانتوں کی تکلیف ختم، نہ خون نہ پانی ، پوری کی پوری بتیسی ختم ، پھر درد کیسا اور گرم ٹھنڈا کیسا ، نہ ہو گا بانس نہ بجے گی بانسری۔
مختلف کمپنیوں کے شربت کے اشتہا رات دیکھ کر لوگوں کی پیاس اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ رنگ برنگے شربت آنکھوں اور زبان کو بہت بھلے لگتے ہیں، لوگوں کو کیا خبر کہ برساتی نالوں سے پانی بھر کر بوتلوں میں صرف ہلکا سا رنگ ملا دیا جاتا ہے فرق صرف اتنا ہوتاہے کہ برساتی پانی پہچانا جاتا ہے مگر یہ بوتلوں میں بھر کر چمکیلاسا لیبل لگا کر حوالہ مارکیٹ ہو جاتا ہے اور منرل واٹر کے بجائے منی(Money)واٹر ہو جاتا ہے۔ عورتوں کا میک اپ بنانے والی کمپنیاں بھی نرالی نرالی چیزیں متعارف کراتی ہیں، لِپ اسٹک میں تھوڑا سا خون مِلا دیا جاتا ہے کہ خواتین واقعی خونخوار نظر آئیں اور خاوند ان کے سامنے بھیگی بلی بن جائے۔
پاؤڈرمیں”گھٹا“ یعنی گرد آلودگی کی آمیزش کر دی جاتی ہے، تا کہ پاؤڈر استعمال کرنے والی شخصیت انڈے کی طر ح سفید نظر آئے اس میں کوئی مضائقہ نہیں کہ وہ چہرے کے علاوہ افریقی نسل کی ماڈل ہو۔میک اپ سے سنورنے والی کو دیکھ کر یہ قیاس آرائیاں کی جاتی ہیں کہ یہ”سیکنڈ ائیر میں ہوں گی“ ”نہیں نہیں فرسٹ ائیر میں دیکھا ہے“ ادھر سے چار پانچ بچے آئیں گے اور محترمہ کو ”امی امی ‘ ‘ کہتے اس سے لپٹ جائیں گے، تب قلعی کھلتی ہے کہ بی بی تو پاؤں قبر میں لٹکائے ہوئے ہیں۔یہ تو سارا بیوٹیشن کا کمال ہے اور کریم استعمال کرنے کے بعد اسی حشر کی امید رکھنی چاہئے۔
دو تین سابقہ ماڈل بیٹھی گفتگو کر رہی تھیں سب اپنے اپنے دور کی نمایاں باتیں بتا رہی تھیں ایک نے کہا” میں نے چالیس سال تک نوجوان ماڈل کے طور پر ماڈلنگ کی“ دوسری نے کہا”میں نے پچاس سال تک سکول گرل کے طور پر ماڈلنگ کی“ تیسری نے آہ بھر کر کہا ”بڑا افسوس ہے80 سال تک مجھے کبھی بھی بوڑھی ماڈل کے طور پر نہیں لیا گیا بلکہ بچوں کیساتھ چائلڈ ماڈل لیا گیا“۔
اشتہارات کی دنیا میں ناقابلِ یقین باتیں بڑے یقین کے ساتھ باور کرائی جاتی ہیں آجکل تو نوجوان لڑکے بھی عورتوں کی ماڈلنگ خود ہی کر رہے ہیں ان کی وجہ سے کمپنیوں کی نئی پروڈکٹس متعارف ہوئی ہیں، عورتیں بھی کیا کم ہیں مونچھیں لگا کر گنڈاسہ ہاتھ میں پکڑ کر ”مولا جٹ“ کا کردار کرنے پر تلی ہوئی ہیں۔شاہ رخ خان 60پلس لیکن ٹاپ ہیرو عوام کو پتہ ہی نہیں کہ ہو سکتا ہے بھائی صاحب ایک سٹنٹ کرنے کے بعد شاید ایک دن آرام کرتے ہوں یا شاید ان کے منہ کے سارے دانت ہی جعلی ہوں،عمران خان کو ہی دکھیں فیس بک اور میڈیا نے انہیں ہیرو بنا دیا حالانکہ ان کے کنٹرورشل ہونے پر کسی کوشک نہیں،اس کے جلسے میں ٹین ایجز نوجوان لڑکیاں لڑکے ہوتے ہیں جن کے ووٹ ہی نہیں ہوتے،ظاہر ہے جب الیکشن ہوتا ہے تو زیادہ اس کو ووٹ ہی نہیں کرپاتے یہ بھی میڈیا کا ایک کمال ہے،عمران کو کون یقین دلائے کہ بھائی سنجیدہ خواتین و مرد اسے ووٹ ہی نہیں کرتے،خان صاحب کہتے ہیں دھاندلی ہوئی ہے حالانکہ اس کا جلسہ ہونے کے بعد کئی لڑکیاں لڑکے دھاندلی کر لیتے ہیں اور پھر نکاح بیچارے طاہر القادری کو پڑھانا پڑتا ہے۔ اشتہارات میں اس سے بڑے بڑے کرشموں کی توقع ہے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com
تاریخ اشاعت: 2014-09-30

کالم نگار     :     ممتاز امیر رانجھا

ممتاز امیر رانجھا کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-