بند کریں
جمعہ اکتوبر

مذاکرات کی ناکامی کا ذمہ دار کون ؟؟؟

یونس مجاز :

صاحبو !بد قسمت ملک کے خوش قسمت جمہوریت پسندوں کی من پسند جمہوریت کو بچانے کے لئے پاکستان کی تاریخ کا پندرہ روزہ طویل ترین مشترکہ اجلاس اختتام پزیر ہو گیا جسے کامیاب رکھنے کے لئے سر دھڑ کی بازی لگا دی گئی پارلیمنٹ میں موجود سیاسی پارٹیوں کے قائدین نے جہاں اپنی حاضری کو یقینی بنایا وہاں پارلیمنٹ کو ایک سال سے زائد عرصہ تک منہ نہ دکھانے والے وزیر اعظم میاں نواز شریف بھی ان اجلاسوں میں موجود رہے جن ارکان پارلیمنٹ کو کروڑوں روپے الاوٴنسز کی مد میں ملے ہیں انھیں عمران خان اور قادری صاحب کا مشکور ہو نا چائیے کہ دھرنوں نے ان کے منفعت کا سامان پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ وزیراعظم سے ذاتی درخواستوں اور مفادات کی منظور ی حاصل کرنے کا موقع فراہم کیا اٹھارویں ترمیم کی طرح ذاتی مفادات اور کرپشن کیسسز ختم کرانے ایک دوسرے کے اقتدار کو بچانے کے واحد ایجنڈاکی تکمیل کی قرار داد پر منتج ہونے والا طویل اجلاس سیاسی بحران حل کر سکا نہ ان کی پیرائٹی میں یہ شامل تھا مبینہ طور پر نیب کے ذریعے جہاں صرف وزیر اعظم میاں نواز شریف کے 143مقدمات ختم کر دئیے گئے وہاں قائد اپوزیشن خورشید شاہ کی نیب سے خلاصی کے لئے اقدامات پر بھی تیزی سے عملدرآمد جاری ہے اور حصہ بقدرِجسہ سب کو دامن پر لگے کرپشن کے داغ صاف کرنے کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے اس بات کا انکشاف ایک قومی اخبار نے اپنی ایک رپورٹ میں ان الفاظ میں کیا ہے کہ نیب نے عدم ثبوت کی بنیاد پر زیر التوا مقدمات ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا ،جی ہاں عیسےٰ کا شہاد مو سیٰ ،جب ثبوت دینے اور لینے والوں کے مفادات مشترک ہوں تو کہاں کے ثبوت اور کیسے مقدمات ،یہی وہ نقطہ تھا جس پر پارلیمنت میں ماسوائے پی ٹی اے کے تمام سیاسی پارٹیاں جمہوریت بچانے کے نام پر متحد ہو گئیں اور تب تک اجلاس جاری رکھا جب تک یہ یقین نہ ہو گیا کہ یہ نام نہاد جمہوریت بوجہ ختم نہیں کی جارہی تب تک حکومت بھی زورو شور سے مذاکرات پہ مذاکرات کا ڈھونگ رچاتی رہی اور یہ ڈھنڈورا پیٹتی رہی کہ ساڑے پانچ مظالبات پی ٹی آئی کے مان لئے ہیں تاہم وزیر اعظم کے استعفےٰ کا مطالبہ غیر آئینی ہے جس پر شاہ محمود قریشی پھٹ پڑے کہ پانچ مطالبات کے ماننے کی رٹ محض وقت گزاری کے سوا کچھ نہیں ہم اپنے مطالبات حکومتی ٹیم کے سامنے پیش کرتے ہیں وہ سنتے ہیں مسکراتے ہیں اور چلے جاتے ہیں کوئی جواب نہیں دیتے ، ایک موقع پر میاں صاحب اور چودھری نثار سنجیدگی کے ساتھ مسئلے کو حل کرنے کے لئے تیار ہو بھی گئی تھے جب فوج کو سہولت کاری کی درخواست کی گئی تھی لیکن اپوزیشن نے اس بیل کو بھی منڈھے اس لئے نہیں چڑھنے دیا کہ ابھی ان کے مفادات کے تحفظ کا ایجندا نا مکمل تھا سو نہ صرف میاں صاحب فلور پر مکر گئے بلکہ حکومت اور اپوزیشن نے مل کر فوج پر اس شدت سے تنقید کی کہ اسے ثالثی سے مجبوراْ پیچھے ہٹنا پڑا ،راستہ صاف دیکھ کر نہ صرف اپو زیشن لیڈر خورشید شاہ کی طرف سے پیش کی گئی تجویز پرمشترکہ پارلیمنٹ کا اجلاس طلب کر لیا گیا بلکہ لگے ہاتھوں سیاسی پارٹیوں کا ایک مشترکہ جرگہ بھی تشکیل دے دیا گیا جو اس سیاسی بحران کو حل کرنے میں اس وقت تک جتا رہا جب تک مفاداتی ایجندے کی تکمیل نہ ہوگئی اس بااختیار جرگہ کی قلعی اس وقت کھل گئی جب ایک ٹی وی چینل پر پرویز رشید نے اوقات بتاتے ہوئے کہا کہ جرگہ کو حکومت نے کسی قسم کی ضمانت اور ثالثی کا اختیار نہیں دیا وہ صرف رابطہ کار ہیں دھرنے والوں سے مذاکرات حکومت کے لوگ ہی کریں گے سو لا حاصل سعی کے بعد مجبوراْ جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق کو یہ کہہ کر جرگہ ختم کرنے کا اعلان کرنا پڑا کہ تینوں فریقین کو تجاویز دے دی ہیں وقت آنے پر بتائیں گے ڈیڈ لاک کہاں پر تھا یعنی پی پی ،مسلم لیگ ن اور اس کی حلیف جماعتیں سراج الحق جیسے شریف آدمی کو بھی مامو ں بنانے میں کامیاب رہیں دراصل حکومت اور اپوزیشن اس بات پر متفق ہیں کہ دھرنے والون کی بات نہیں ماننی باوجود اس کے کہ وہ عمران خان کے پانچ مطالبات کو اسمبلی کے اندر اور باہر اپنے بیانات کے ذریعے جائز تصور کرتے آرہے ہیں لیکن طویل ترین اجلاس میں اس طرف عملدرآمد کرنے کے کسی قسم کی کوشش نہیں کی جس سے عمران خان اور قادری کے دھرنے کا جواز ختم ہو سکے کیونکہ وہ جان چکے ہیں کہ دھرنے والے وزیر اعظم کے استعفے پر نرم گوشہ رکھنے پر تیار ہوگئے ہیں ؟جس کے بعد عوام کو اس بات کا ادراک ہو گیا ہے کہ کون مذاکرات کو کامیاب نہیں ہو نے دے رہاورنہ ایک ماہ سے جاری بحران کو حل کرنے کے لئے ھکومت کے پاس وسائل اور حمایت موجود تھی الیکشن اصلا حات ، بلدیاتی نظام کی بحالی ،نئی حلقہ بندیوں کے لئے ضروری قانون سازی کر کے سرخروع ہوا جا سکتا تھا الٹا مختلف ادروں کے سربراہوں کی تعیناتی کیلئے سپریم کورٹ کے حکم پر غیر جانب دار کمیشن مقرر کرنے کے بجائے ایک بار پھر سپریم کورٹ کی طرف رجوع کر لیا ہے یعنی رسی جل گئی بل پھر بھی نہ گیا کے مترادف ہر مسئلے کو لٹکائے رکھنے کی حکومتی روش پر قائم ہے چونکہ کرپٹ نظام کی اصلاح کرپٹ سیاست دانوں کی سیاسی موت ہے ورنہ سیاسی مسائل سڑکوں کے بجائے پارلیمنٹ کے اندر حل کرنے کی رٹ لگانے والے اگر عوام کے مسائل پارلیمنت کے ذریعے حل کرنے کو وطیرہ بناتے تو عوام کو سڑکوں پر اپنے مطالبات کے لئے نہ نکلنا پڑتاجلد یا بدیر انھیں اب یہ سب کچھ کرنا پرے گا جن مسائل کو آج سڑکوں پر دھرنے والے پیش کر رہے ہیں کیونکہ عوام ان دھرنوں کے نتیجے میں اب اتنے باشعور ہو چکے ہیں کہ حق کیسے حاصل کیا جا تا ہے جس کی مثال ماڈل ٹاوٴن کی ایف آئی آر تین ماہ بعد نہ چاہتے ہوئے بھی حکمران قادری صاحب کی خواہش کے عین مطابق درج کرنے پر مجبور ہوئے ہیں سو حکمرانون کو جلد یا بدیر عوام کے حقیقی مسائل کو حل کرنے کی طرف آنا پڑے گا جو ذاتی مفادات کے لئے تو اکٹھے ہو گئے لیکن انرجی کرائیسسز کی وجہ سے ملکی سلامتی پر سوالیہ نشانات کے باوجود کالاباغ دیم اور دیگر قومی مفادات کے حل کے لئے اکٹھے نہیں ہو سکے ، یقیناْ اس کا کریڈٹ عمران خان کو جائے گا جو اس لئے دھرنا ختم کرنے پر راضی نہیں کہ وہ جانتے ہیں حکمران خالی خولی وعدوں پر ٹرخا رہے ہیں وہ پانچ کیا کسی ایک مطالبہ کو بھی ما ننے پر تیار نہیں؟ بعض لوگ اس بات پر شور ڈال رہے ہیں کہ ان دھرنوں کی وجہ سے پاکستان کی معیشت تباہ ہو رہی ہے لیکن میرا یہ موقف ہے کہ بے شک پاکستان کی معیشت کو نقصان ضرور پہنچ رہا ہے لیکن یہ نقصان اس سے کہیں کم ہو گا جو پی پی اور مسلم لیگ ن باریاں لگا کر لوٹ رہی ہیں یہ سلسلہ رکتا دکھائی نہیں دے رہا چالیس ڈول بار بار نکالنے کے بجائے قوم کو اب کنوئیں سے کتا نکا لنا ہو گا جس کی وجہ سے لوٹ مار کی بدبو ہر الیکشن کے بعد تازہ ہو جاتی ہے کاش ایسا ممکن ہو جائے ورنہ لعنت ایسی جمہوریت پر جو صرف سیاست دانون اور ان کے خاندان کے مفادات کا ہی تحفظ کر سکے جبکہ ملک معاشی اور معاشرتی طور پر تباہ ہو رہاہو چونکہ سراج الحق انتہائی خلوص کے ساتھ اس مسئلہ کو حل کرنے کے لئے پہلے دن سے کوشاں ہیں سو ایک بار پھر وہ اس بحران کے حل کے لئے اپنے جرگہ کے ہمراہ چند تجاویز لے کر مفاہمت کے لئے آگے آئے ہیں جنھیں اس بات کا ادراک ہو چکا ہے کہ دھرنے والے استعفے پر لچک دکھا سکتے ہیں لیکن حکمران کنی کترا کر ایک بار پھر بیرونی دوروں پر نکلنے کی تیاریوں میں ہیں جنھیں قبل ازیں پانی میں چھری نظر آتے ہی سارے دورے بھول گئے تھے حتٰی کے شہباز شریف چین سے اپنا دوراادھورا چھوڑ کر واپس آگئے تھے جرگہ نے حکومت اورتحریک انصاف کو جو گیارہ نکاتی فارمولا دیا ہے اس کے تحت دھرنے ختم کئے جائیں،لیکن اس سے قبل وزیر اعظم دو ٹوک الفاظ میں بیان دیں اگر منظم دھاندلی ثابت ہو جائے تو وہ استعفیٰ دیدیں گے ،دھاندلی کی تحقیقات کے لئے آرڈیننس کے تحت جو ڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے گا ،کمیشن کو کسی کے بھی خلاف فوجداری کیس رجسٹر کرانے کا اختیار ہو گا ،فوجداری کیس کو تحقیقات کے لئے سیشن جج کو بھیجا جا سکے گا ،وفاقی صوبائی حکومتیں اور تمام پارٹیاں جوڈیشل کمیشن کی سفارشات پر عملدرآمد کی پابند ہوں گی ،جوڈیشل کمیشن معاونت کے لئے وفاقی اور صوبائی حکومت کے کسی پولیس افسر اور کنسلٹنٹ کی خدمات حاصل کر سکے گا ،کمیشن غیر ملکی ماہرین کی خدمات حاصل کر سکے گا ،کمیشن کو اپنا ریکارڈ خفیہ رکھنے اور اس کے اجرا کا اختیار ہو گا ،تحریک انصاف کے تمام کارکنوں کو رہا کیا جائے گا ،حکومت تحریک انصاف کے دیگر مطالبات کے حل کے لئے تجاویز کو حتمی شکل دے گی ۔تحریک انصاف کے وفد کو گیارہ نکاتی فارمولا پیش کرنے کے بعد رحمنٰ ملک نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بجا کہا ہے کہ حکومت نے تحریک انصاف کے کارکنان کی حالیہ گرفتاریاں نہ کی ہوتیں تو مذاکرات کامیاب ہو چکے ہوتے جبکہ سراج الحق کا کہنا تھا کہ غیر جمہوری رویوں کی وجہ سے حکومت اور جمہوریت دونوں کو خطرہ ہے ملک و قوم کی خاطر آخری لمحے تک جدو جہد جاری رکھیں گے کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ سیاسی جرگہ نے جتنی کوشش کرنی تھی کر لی وہ کافی ہے لیکن وہ اپنی کوششیں جاری رکھیں گے کیونکہ بعض لوگ مایوس کرنا چاہتے ہیں لیکن ہمارے دلوں میں امید کی شمعیں روشن ہیں انھوں نے تینوں فریقین سے اپیل کی کہ وہ ماحول کو بہتر بنانے کے لئے اقدامات کریں ،خدا کرے سراج الحق اس سعی میں سرخرو ع ہو جائیں جس کے امکانات کم ہیں کیونکہ پارلیمنت کا مشترکہ اجلاس مخصوص ایجنڈے کی تکمیل کے بعد اختتام پزیر ہو چکا ہے اور حکمران ایزی فیل کرتے ہوئے بیرونی دورن کی اڑان بھرنے جارہے ہیں ۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com
تاریخ اشاعت: 2014-09-27

کالم نگار     :     یونس مجاز

یونس مجاز کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-

: متعلقہ عنوان