بند کریں
بدھ اکتوبر

سیاستدان اور لیڈر میں فرق

سید شاہد عباس :

 پاکستان میں " نام نہاد لیڈر" کثرت سے پائے جاتے ہیں۔ یہ شاید واحد شعبہ ہے جس میں پاکستان خود کفیل ہے۔ اس کے لیے ہمیں بیرونی ممالک کی " امداد " کا سہارا نہیں لینا پڑتا۔ پھر بھی کبھی " سہارے " کی نوبت آ جائے تو ہمارے" نام نہاد خیرخواہ" ہمیں کسی" معین" یا " عزیز" سے نواز دیتے ہیں۔ یعنی ہماری " ضروریات" کا مکمل خیال رکھا جاتا ہے یا اس کو ہم یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے خیر خواہ اپنی ضروریات کا خیال رکھتے ہیں۔ کیوں کہ یہ " امپورٹ" کیے گئے " لیڈر" اپنے آقاؤں کے مفادات کا تحفظ ہر قیمت پر کرتے ہیں۔ کیوں کہ ان کو لوٹ کر وہیں جانا ہوتا ہے۔
وطن عزیز میں" لیڈر" اتنی وافر مقدار میں دستیاب ہیں کہ عوام کے لیے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ وہ کس کا " دامن" پکڑ کر مشکلات کا دریاعبور کریں۔ اور یہ تمام " لیڈران" بھی اپنی مثال آپ ہوتے ہیں۔ یہ اپنی "ازلی خصلت" کے ماتحت عوام کو کبھی پار نہیں لگاتے ۔کیوں کہ اگر وہ ایسا کر دیں تو ان کو پھر"لیڈر " بننے کا موقع میسر نہیں ہو گا۔ اور اسی خیال میں "حفظ ماتقدم" کے طور پر وہ ہمیشہ عوام کو "بیچ منجھدار " چھوڑنا اپنا فرضِ اولین سمجھتے ہیں۔ اور اسی میں ان کی بقاء ہوتی ہے۔
یہ وافر مقدار میں پائی جانے والی " لیڈر " کی قسم دراصل لیڈر نہیں ہوتے ۔ انہیں عام زبان میں" سیاستدان" کہا جاتا ہے۔ یہ لیڈر صرف اپنی دانست میں ہوتے ہیں۔ اور خود کو " ان داتا" تصور کر لیتے ہیں۔ ان کے خیال میں وہ عوام کے سب سے بڑے خیر خواہ ہوتے ہیں اور ان کی ایک آواز پہ کروڑوں لوگ لبیک کہنے کو تیار ہوتے ہیں۔(یہ الگ بات ہے کہ کروڑوں میں سے جو محدودے چند لوگ ان کی آواز کے ساتھ چلتے ہیں وہ بھی کسی " فرض شناس پٹواری" کی مرہون منت ہوتے ہیں)۔ سیاستدانوں کی عادات اس بچھو کی طرح ہیں جو کچھوے کو ڈنک مارنے سے باز نہیں آتا اور عوام کی مثال اس کچھوے کی سی ہے جو یہ ڈنک سہتا ہے اور پھر ڈنک کے لیے تیار ہو جاتا ہے۔ شومئی قسمت اگر کچھوا پانی میں غوطہ مارنے کی ٹھان لے تو پھر بچھو"جمہوریت " کے شور سے خود کو محفوظ کرنے کا راگ الاپنا شروع کر دیتا ہے۔
پاکستان کی بدقسمتی ہے کہ اس ملک کو سیاستدان تو بہت سے میسر آئے لیکن لیڈر یا راہنما جتنے ملے وہ انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں۔ اس وقت پاکستان میں جو " سیاستدانوں کی فوج " ہے اسے دیکھ کے بے ساختہ "ٹڈی دل " کی اصطلاح ذہن کا طواف کرنے لگتی ہے اور شاید ملک میں سیاستدانوں کی تعداد اس اصطلاح سے بھی زیادہ ہو گی ۔ کیوں کہ یہاں ہر وہ شخص سیاستدان ہے جس کے پاس چند لاکھ روپے اور چند بے ہنگم حلیے کے ساتھی موجود ہیں۔ لیکن افسوس کہ ہمیں "لیڈر " بہت کم میسر آئے۔ جس کی وجہ سے ہی ایٹمی قوت ہوتے ہوئے بھی ہم اقوام عالم میں تباہی کے دہانے پر کھڑی ریاست شمار کیے جاتے ہیں۔
جب کسی شخص میں " راہنما یا لیڈر " کے جرثومے نمودار ہوں تو وہ اپنے مفادات کو پس پشت ڈال دیتا ہے۔ پھر اُسے یہ غرض نہیں رہتی کہ سیلاب کے پانی میں کھڑے ہو کر تصویریں بنوائے یا پھر ہیلی کاپٹر سے راشن کا تھیلا پھینکتے ہوئے کیمرے کا فلیش اس کے چہرے پر پڑے ۔ بلکہ جب اس میں " راہنما" جیسے اوصاف پیدا ہو جائیں تو وہ 7 سال کے قلیل عرصے میں ایک نا ممکن خواب کو تکمیل دے دیتا ہے۔ جس شخص کو لوگ دل سے راہنما سمجھنا شروع کر دیں وہ کروڑوں لوگوں کے دلوں میں رہنے کے باوجود ایک ویران ائیرپورٹ پر " خراب ایمبولینس" میں زندگی کے آخری لمحات میں پسینے میں شرابور کراہ رہا ہوتا ہے۔ (کاش آنے والی نسلیں "خراب ایمبولینس" کہانی کی حقیقت جان پائیں)۔ جس شخص میں ملت کا راہنما ہونے کی علامات ظاہر ہونا شروع ہو جائیں۔ وہ کسی " ان دیکھی گولی" کا شکار ہو جاتا ہے اور اس کی خالی جیبیں چیخ چیخ کر پکار رہی ہوتی ہیں کہ " یہ ملک سیاستدان نہیں راہنما چلا سکتے ہیں"۔ سیاستدان اور لیڈر میں فرق صرف یہ ہوتا ہے کہ ایک سیاستدان لعن طعن سن کر بھی " منافقانہ مسکراہٹ" کی لالی چہرے پہ سجائے رکھتا ہے۔ لیکن ایک لیڈر ملک کو پانی کے سب سے بڑے ذخائر کا تحفہ دینے کے باوجود چند الفاظ سن کر ہی کرسی چھوڑ دیتا ہے۔ اور بعد میں لوگ اس کویاد کرتے ہیں۔ (بے شک اس کا اپنا کردار کیسا ہی ہو۔ یا اس نے اس ملک کے ایک سرمائے کو رسوا کیا ہو لیکن وہ ملک کو پھر بھی کچھ دے کر گیا) ۔ جب لفظ صفحات کی زینت بنتے ہیں تو ہو سکتا ہے لکھنے والا اقوام عالم کے سامنے " کاغذوں کے ٹکڑے" کرنے والے سے ہزار اختلافات رکھتا ہو لیکن پھر بھی شاید وہ ان سیاستدانوں سے بہر حال بہتر تصور کیا جا سکتا ہے جو ہاتھ باندھ کر " جی حضوری " کو اپنی کامیابی تصور کرتے ہیں۔ جمہوریت کا یقینا کوئی نعم البدل نہیں ہے۔ دنیا میں جتنے ممالک نے ترقی کی منازل طے کیں ان میں سے کم و بیش تمام ہی ممالک نے جمہوریت کو اپنایا۔ لیکن اس " سیاسی جمہوریت" سے وہ " آمرانہ لیڈر شپ" پھر بھی بہتر ہے جو کم از کم ملک کو مستحکم کرنے کا سبب بنی ہو۔ جمہوریت ظاہری طور پر تو کسی بھی ریاست کی مضبوطی کا لبادہ اوڑھے ہوتی ہے لیکن باطنی طور پر یہ ایک " عالمی باندھی " ہے۔ کیوں کہ کسی بھی ریاست یا ملک میں "جمہوری دور " میں عالمی سامراج کواپنے مفادات کے تحفظ کے لیے " بولیاں" لگانا آسان ہوتا ہے۔ ان بولیوں میں " پیسے کی فراہمی"، " کرسی کی ضمانت"،" مستقبل میں حکومت کی حمایت" وغیرہ شامل ہوتے ہیں۔ جب کہ آمریت (جسے لفظی طور پر ہی برا بنا دیا گیا ہے) ۔ مفادات کا تحفظ قدرے مشکل ہو جاتا ہے ۔ وجہ یہ کہ اکثر آمر قدرے سخت مزاج واقع ہوتے ہیں ۔ لیکن آمریت پھر بھی جمہوریت کا نعم البدل نہیں بشرطیکہ جمہوریت مضبوط بنیادوں پر استوار ہو صرف گارے مٹی کی عمارتیں ہی جمہوریت نہیں ہیں۔ مضبوط جمہوریت لیڈر قائم کرتے ہیں جب کہ سیاستدان اسے صرف ایک نعرے کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ " بری جمہوریت اچھی آمریت سے بہتر ہے" یہ فقرہ صرف اپنے مفادات کا تحفظ ہے۔ جس دن سیاستدانوں میں راہنماؤں جیسی صفات نمودار ہونا شروع ہو گئیں اس دن یقینا جمہوریت مضبوط ہو گی ۔
عظیم جناح نے اس وقت دولت دیکھی جب برصغیر کے لوگ غلامی میں تھے۔ لہذا ان کے لیے روپے پیسے سے بڑھ کر کچھ مقصد تھا اسی مقصدیت نے ان کو ایک عظیم راہنما کے طور پر متعارف کرایا۔وہ ایک سیاستدان تھے لیکن ان کے خمیر میں خصوصیات ایک راہنما کی تھیں۔ اسی لیے تو لوگ آج تک اپنے دل میں ان کے لیے عزت رکھتے ہیں۔ جب سیاستدان اپنی زمینیں ، جاگیریں و ملیں بچانے کے لیے پانی کا رخ موڑیں گے۔ اپنا سرمایہ دنیا کے معاشی اداروں میں رکھیں گے تو پھر وہ پورا دن پانی میں ڈوبے رہیں پھر بھی عوام کے دل میں گھر نہیں کر سکتے۔ عوام کا لیڈر تو اس شخص کو ہونا چاہیے جس کے پاس پیسہ کمانے کا موقع بھی ہو پھر بھی وہ وطن کا سوچے جو اپنا سب کچھ داؤ پر لگا دے صرف اس قوم کی بہتری کے لیے۔لیکن بد قسمتی اس قوم کی کہ اس کے کرتا دھرتا 300ملین ڈالر کے مالک اور عوام سڑکوں پہ خوار۔ شاعر نے شاید وطن عزیز کے سیاسی حالات کے متعلق ہی کہا تھا کہ ۔۔۔
یہاں تہذیب بکتی ہے، یہاں فرمان بکتے ہیں
ذرا تم دام تو بدلو ، یہاں ایمان بکتے ہیں
ہماری آنے والی نسلیں یقینا جب تاریخ کا مطالعہ کریں گی تو وہ بھیڑ چال میں فیصلہ نہیں کریں گی۔بلکہ وہ حالات و واقعات کا مشاہدہ عقلی دلائل سے کریں گے۔ وہ ان سیاستدانوں کو نہیں سراہیں گی جنہوں نے اپنا سرمایہ تک اس وطن میں رکھنا گوارا نہ کیا۔ جنہوں نے اس ملک کے غریب طبقے کو جمہوریت کے لالی پاپ کے سوا کچھ نہ دیا۔ بلکہ ان کی نظر میں وہی سیاستدان لیڈر کا رتبہ پائے گا جو دولت کے انبار میں سے خود کو نکال کر اس دیس میں لایا۔ جس کے اس دعوے میں حقیقت ہو گی کہ اس کا کوئی ذاتی مفاد نہیں ہے۔ اور لیڈر یا راہنما تو کہا ہی اسے جا سکتا ہے جو چند دن کے مفاد کے بجائے آنے والی نسلوں کے دلوں میں زندہ رہنے کی جہدو جہد کرے۔ اس جہدو جہد میں ضروری نہیں کہ عارضی ناکامی اسے ناکام راہنما بنا دے ۔ بلکہ اس کی عارضی ناکامی شاید مستقبل کی نسلوں کو اپنا راستہ خود بنانے کا فن سکھا دے ۔ اور اگر مستقبل کی نسلیں اس کی جہدو جہد سے یہ فن سیکھ گئیں تو اس راہنما کو اس کی جہدو جہد کا صلہ مل جائے گا۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com
تاریخ اشاعت: 2014-09-25

کالم نگار     :     سید شاہد عباس

سید شاہد عباس کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-