بند کریں
بدھ اکتوبر

لوگ!جنت کی بشارت جنہیں پہلے ہی دے دی گئی

حافظ ذوہیب طیب :

مسجد کو دیکھیں تو دل باغ و بہار ہو جائے ،باہر سے لیکر اندر اور اوپر سے لے کر نیچے تک چار سُو نور ہی نوراور ایسے فرحت بخش مناظر جنہیں آج تک میری بصارت دیکھنے سے محروم رہی ہے،بلند و بالا مینار،لال پتھر سے مرقع مسجد کے درو دیوار،سفید سنگ مر مر سے سجا صحن،خو بصورت اور دیدہ زیب وضو خانے، شیشم کی لکڑی سے تیار ہوئے کھڑکیاں اور دروازے ،آیات قرآنی پر مشتمل خطاطی کی دل کو چھوہ لینے والی پینٹگز،مسجد کی اندونی چار دیواری میں بنائی گئی سر سبزو شاداب گھاس کی کیاریاں پھر مختلف رنگ بکھیرتے پھول اور دور نبوی ﷺ کی یاد تازہ کرتے کھجور کے درخت ایک الگ ہی منظر پیش کر رہے تھے۔ایک دوست اکثرمہر یونس کا ذکر کیا کرتے تھے جنہیں خوبصورت مساجد بنا نے کا جنون کی حد تک شوق ہے بلکہ متعلقہ مسجد کے لئے وضو خانے کی ٹوٹیوں سے لیکرکارپٹ اور پھر پنکھوں سے لیکر مسجد میں استعمال ہونے والی تما م اشیاء امپورٹ کرتے ہیں ۔مہرصاحب کی طرف سے بند دوڈکی غریب آبادی والے رہائشی علاقے میں تعمیر شدہ ”مسجد علم دین فاطمہ“خوبصورتی کاایک عظیم شاہکار ہے جسے دیکھ کر انسان کچھ لمحوں کے لئے اس کی شاہانہ اور پُرشکوہ عمارت کو دیکھ کے حیرت کے جہاں میں گم ہو جاتا ہے اور ایسی پُر کیف کیفیت جنہیں لفظوں میں بیان کر نا ممکن نہیں اور سچ تو یہ ہے کہ اس طرح کی مسجد کبھی دیکھنے کو نہیں ملی۔
قارئین! میں سمجھتا ہوں کہ جس طرح وہ زمین، جگہ اور وہ عمارت عام عمارت نہیں رہتی جس میں اللہ کا گھر بن جاتا ہے اسی طرح وہ شخص ،فرد اورانسان بھی عام انسان نہیں رہتاجسے اللہ رب العزت کلمہ پڑھنے کی توفیق دیتا ہے اور وہ مسلمان ہو جا تا ہے۔جو بھی آدمی مسلمان ہے خواہ وہ امیر ہے غریب،کالا ہے گورا،جاہل ہے یا پڑ ھا لکھا،مزدور ہے صنعت کار ہے یا کچھ بھی ،کلمہ پڑھنے کے بعد وہ اسلام کا نما ئندہ بن جا تا ہے لہٰذا ہر مسلمان کا ہر عمل پھر اس کا اپنا عمل نہیں ہوتا اس لئے وہ جب بھی کوئی کام کر رہا ہوتا ہے تو وہ اسلام کی نما ئندگی کر رہا ہوتا ہے “۔یقیناََ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ہر کلمہ گو، اللہ اور نبی محترم ﷺ کا ماننے والے ہر فرد کا معاملہ اس کا ذاتی معاملہ نہیں رہتا بلکہ اس کا ہر عمل اسلام سے منسوب ہو جاتا ہے ۔پروفیسر احمد رفیق اخترصاحب محبت خدا کا جوسادہ ترین نسخہ بیان کرتے ہوئے جس حدیث مبارکہ ﷺ کا ذکر فر ماتے ہیں وہ یہ ہے کہ”اگر آپ کا خدا کے لئے ایک آنسو نکلاجو مکھی کے سر کے برابر بھی ہوا اور وہ ڈھلک کے آپ کے رخسار پر آگیاتو اللہ تعا لیٰ آپ پردوزخ کی آگ حرام کر دے گا“۔
مہر یونس کی گفتگو محفل میں ایک ایسا رس گھول رہی تھی جس کی تاثیر کہ جوا نسان کو اپنے رب سے محبت کا تعلق قائم کر نے پر مجبور کر دیتی ہے اور یوں بہت سے لوگوں کی ترجیح اول صرف اور صرف ”اللہ “بن جاتی ہے جس کا سب سے بڑا انعام یہ ہے کہ انسانی زندگی سے تما م تر مشکلات اور مصائب وآلات اپنی موت آپ مر جاتے ہیں۔پھر انسان اللہ کا اور اللہ انسان کا ہوجا تا ہے اور ایک ایسا معاشرہ تشکیل میں آتا ہے جو تاریخ میں قرو ن اولیٰ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے جن کے بارے میں اللہ قرآن میں ارشاد فر ماتے ہیں”یہ اللہ سے راضی اور اللہ ان سے راضی“۔
قارئین محترم! اللہ کے گھروں کو تعمیر کرنا میں سمجھتا ہوں یہ نصیب کی بات ہے بلکہ بہت ہی نصیب کی بات ہے اور مہر یونس اور ان کے دیگر ساتھیوں نے اپنے کاروباری ہونے کا ثبوت دیا ہے کہ انہوں نے اللہ کے ساتھ تجارت کا نسخہ ء کیمیا بھی پالیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ یہ شب و روز اسی تجارت میں مصروف ہیں اور انتہائی خوبصورت مساجد بناکے اللہ کی خوشنودی اور اس کی رضا پالینے کی سعی کر رہے ہیں۔مجھے یقین ہے کہ اللہ کی بارگاہ میں ان کی یہ کاوشیں ضرور قبولیت کا شرف حاصل کر رہی ہوں گی یہی وجہ ہے کہ اللہ انہیں
اتنی خوبصورت مسجد بنا نے کی توفیق عطا کی ہے۔
میری اللہ سے دعا ہے کہ اللہ اپنے گھر کو بنا نے اور اسے آباد کرنے والوں کو اجر عظیم سے نوازے،ان کو یونہی اپنے رستے کا مسافر بنائے رکھے اور اپنے برگذیدہ اور محبوب لوگوں میں شامل کرلے۔نبی محترم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے:”جو شخص مسجد سے محبت کرتا ہے اللہ رب العزت اُس سے محبت کرتے ہیں“ ایک جگہ اور ارشاد فر مایا:”جو اللہ رب العزت کے لئے مسجد بنائے گا اللہ رب العزت اِس کے لئے جنت میں گھر بنا ئے گا“۔اللہ کے نبی ﷺ نے نجیب صاحب جیسے لوگوں کے لئے پہلے ہی جنت کی بشارت دے دی ہے تو اس سے بڑھ کے خوش نصیبی کی بات اور کیا ہوسکتی ہے؟؟۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com
تاریخ اشاعت: 2014-09-25

کالم نگار     :     حافظ ذوہیب طیب

حافظ ذوہیب طیب کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-