بند کریں
بدھ ستمبر

عبادت کی قضا ہے خدمت کی نہیں

حافظ ذوہیب طیب :

مانا کہ ہمارا معاشرہ اخلاقی طور پر تنزلی کا شکار ہو تا جا رہا ہے، جھوٹ،فراڈ اور لا قانونیت کے گہرے بادل ہیں جو امید کے سورج کو اپنی لپیٹ میں لئے ہو ئے ہیں ۔ اس سب کے باوجوصبح بہار کی امید پیہم ہے جو یہاں کے باسیوں کی آنکھوں میں سجی ہو ئی ہے۔یہ اس معاشرے کا ہی خاصہ ہے کہ یہاں ایک شخص دکھ دینے والا ہو تا ہے تو دسیوں کندھے اس دکھ کو کم کر نے کے لئے پیش پیش ہو تے ہیں۔ قدرتی آفات کے موقع پر جب ہمیں اس کی عملی تصویر دیکھنے کو ملتی ہے کہ معاشرے کا ہر فرد اپنے ہر اسم کے تعصبات کو با لائے طاق رکھتے ہوئے اپنے دکھی بھائیوں کی امداد کے لئے صف بستہ نظر آتا ہے۔ ایسا جوش و جذبہ پچھلے دنوں بنوں میں میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور دو دن پہلے روزنامہ نئی بات میں شائع ایک تصویر جس میں سماجی تنظیم کا ایک کارکن رانا ٹاؤن لاہور میں ہر خطرے سے آزاد ”ٹیوبز“ کی مدد سے سیلابی پانی سے گذر کے متاثرین کے لئے کھانے کی دیگ لے کر جا رہا ہے اور ابھی کل ہی ملتان میں پاک فوج کا ایک افسر بے سمت خونی لہروں سے لوگوں کو نکالتے ہوئے شہید ہو گیا تھا۔
قارئین ! خدمت خلق کا یہ جذبہ جس طرح ہمارے معاشرے میں دیکھنے کو ملتا ہے پوری دنیا میں اس کی مثال کم ہی ملتی ہے۔میں ایسے سیکڑوں لوگوں کو جانتا ہوں جنہوں نے بیواؤں ،یتیموں اور طالبعلموں کے ماہانہ وظائف مقرر کر رکھے ہیں جو کسی بھی شہرت کے طلبگار نہیں ۔مخلوق خدا میں آسا نیاں تقسیم کر نے والے ایک ایسے ہی ادارے کی تقریب میں مجھے جانے کا اتفا ق ہوا جو پچھلے کئی سالوں سے خفیہ طور پر خدمت خلق کے وسیع کاموں کو سر انجام دے رہے ہیں اور جن میں شامل افراد مڈل کلاس بلکہ اس سے بھی نچلی کلاس سے تعلق رکھنے والے ہیں۔ لاہور پو لیس کے دبنگ افسر عمر ورک کی سر پرستی میں چلنے والے ادارے” علیاینڈ علی “کی اس تقریب میں ہزاروں افراداور ”اخوت“ کے روح رواں ڈاکٹر امجد ثاقب سمیت سہیل وڑائچ اور مہمان خصوصی میاں عامر محمود تھے جہاں اس کار خیر میں شامل افراد کی حوصلہ افزائی کی گئی اور ان میں شیلڈز تقسیم کی گئیں۔2005میں آنے والے بد ترین زلزلے میں جہاں ہزاروں لوگ لقمہ اجل ،لاکھوں لوگ زخمی اور اتنے ہی گھروں سے بے گھر ہوئے ، اس دوران ان لوگوں نے یہاں ”تندور پروجیکٹ“ کا آغاز کیا۔معذوروں کے لئے مصنوعی اعضا سمیت غم کے مارے لوگوں کا غم کر نے کی اپنی سے بھر پور کو شش کرتے رہے۔ سیکڑوں پروجیکٹ ہیں جو جب اسے اب تک دکھی انسانوں کی فلاح کے لئے شروع کئے گئے ہیں ۔
قارئین ! اس سے قبل دو دفعہ میری اس سے ملاقات ہوئی اور دونوں ہی ملاقاتوں میں انسانیت دوست روئیے اور بظاہر سادہ لیکن اپنے اندر ایک کا ئنات سموئی ہوئی باتوں نے میرے دل میں ان کی قدر بڑھا دی لیکن میرے لئے یہ بات حیرا نگی کا باعث تھی کی ایک پولیس افسر اور ایسا افسرجو دہشت گردوں اور جرائم پیشہ افراد کے لئے زہر قاتل سمجھا جا تا ہو اور جس کے ” پولیس مقابلوں“ کے چرچے زبان زد عام ہوں وہ زخموں سے چُور انسانیت کے زخموں پر مرہم رکھنے کے فن کے بھی ماہر ہیں اور پچھلے 8سالوں سے اس عظیم مشن کے سپا ہ سالا ر ہیں۔ورک صاحب ” سلسلہ خدمت انسانیہ“سے تعلق رکھنے والے تما م افراد کا از حد احترام کرتے ہیں بلکہ اپنی اس تقریر میں بالخصوص ڈاکٹر عامر عزیز کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے فر مایا کہ میں نے ڈاکٹر صاحب کے ہاتھ چومے کہ آپ ان ہاتھوں سے لوگوں کی ہڈیاں جوڑتے ہیں ۔
الحمرا ء ہال کی کشادہ عمارت میں منعقدہ اس تقریب کے بینر کے ماتھے پر آویزاں با با جی اشفاق  کے جملے”عبادت کی قضا ہے خدمت کی نہیں“ سے ایک بہت بڑے بزرگ یاد آگئے جب آپ روزے کی حالت میں تھے اور ایک ہندو عورت آپ کے لئے کچھ کھانے کے لئے لائی، اُس نے آپ کو کھانے کی دعوت دی تو آپ نے منع فر ما دیا، یہ سننا تھا کہ عورت نے اپنی غریبی کا روناشروع کر دیا اور کہنے لگی کہ آپ میرا کھانا اس وجہ سے نہیں کھا رہے کہ میں ہندواور غریب ہوں ۔یہ سننا تھاکہ آپ نے کھانا شروع کر دیا اور ہندو عورت با خوشی وہاں سے چلی گئی۔اس موقع پر یہاں موجود آپ کے ساتھیوں نے عرض کی: حضرت! آپ تو روزے سے تھے؟ آپ نے فر مایا میرے نزدیک روزے کی تو قضا ہے لیکن کسی کا دل توڑنے کی قضا نہیں“۔معلوم ہو تا ہے کہ ورک صاحب نے بھی اس راز کو پالیا ہے اور وہ خدمت انسانی کے کسی بھی فرض کو قضا نہیں کر نا چاہتے۔عمر ورک اور ان کے ساتھیوں نے جن عظیم ہستیوں کے نام سے اپنے اس مشن کا آغاز کر رکھا ہے ان کے انسانیت ساز واقعات سے تاریخ کے صفحات بھرے پڑے ہیں اور جن کے اسی حسن سلوک کو دیکھ کر غیر مسلم مشرف با اسلا م ہوتے گئے۔ مجھے امید ہے کہ یہ لوگ بھی شیرا خدا علی رضی اللہ عنہ اور علی الہجویر رحمہ اللہ عنہ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے خا ص وعام اورفر قہ و ذات سے با لا تر ہوتے ہوئے دکھی انسانیت کی خدمت میں پیش پیش رہیں گے۔ کیا خوب فر مایا با با اشفاق نے”عبادت کی تو قضا ہے لیکن خدمت کی نہیں۔شاید کے عمر ورک اور ان کے ساتھیوں کی طرح ہم سب بھی اس راز کو پالیں۔ اللہ کرے ایسا ہو جائے۔ آمین
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com
تاریخ اشاعت: 2014-09-17

کالم نگار     :     حافظ ذوہیب طیب

حافظ ذوہیب طیب کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-