بند کریں
پیر ستمبر

سیلاب ۔۔۔ایک بار پھر فوج!!!

سید شاہد عباس :

وطن عزیز اس وقت ایک تالاب کا منظر پیش کر رہا ہے۔ سیلاب نے پورے ملک میں تباہی پھیلا دی ہے۔ برسنے والی رحمت ہماری ہی غفلت کی وجہ سے عذاب الہیٰ میں تبدیل ہو چکی ہے۔ کچھ عرصہ پہلے دعائیں مانگتے تھے کہ مولا! باران رحمت کا نزول فرما اب دعائیں تبدیل ہو گئی ہیں اور لبوں پہ صدا ہے کہ مولا ہمارے حال پہ رحم کر اور سورج کی کرنیں بکھیر۔اللہ نے تو آسمان سے رحمت بنا کر پانی برسایا لیکن ہم اپنی کوتاہیوں کی وجہ سے پچھلے 30 سالوں سے ایک ڈیم کے تنازعے کی وجہ سے مرنے مارنے پر تل جاتے ہیں تو پھر یہ رحمت کیونکر ہمارے لیے فائدہ مند ہو۔
میری حسرت ہی رہی کہ جب پانی بپھر کے کناروں سے باہر نکل آیا تو وہ چہرے بھی کہیں دیکھ سکوں جو ایک ڈیم بنانے کو اپنی لاشوں کی گزرگاہ بنانے پر مصر ہیں۔ میں ڈھونڈتا ہی رہا کہ 272 منتخب معزز ممبران قومی اسمبلی میں سے کوئی کسی حلقے میں نظر آجائے (مخصوص نشستوں پر آنے والے اس کے علاوہ ہیں)۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ اخبارات میں کچھ ممبران کی تصاویر ضرور نظر آئیں جن میں وہ " معزز ممبران گوڈے گوڈے" پانی میں گھرے ہوئے تھے۔ لیکن حیران کن بات یہ تھی کہ اس حالت میں بھی تصویر بنواتے ہوئے ان کے چہرے پہ ایک مسکراہٹ تھی۔ جیسے کہہ رہے ہوں۔ " ہم ہی جمہوریت کا حُسن ہیں"۔ویسے داد دینی چاہیے اس ملک کے سیاستدانوں کو جو اتنے سخت ہنگامی حالات میں کیمرہ مین ضرور ساتھ کھتے ہیں۔ آخر پتا تو چلے کہ دن پھر پانیوں میں کتنا سفر طے کیا۔
اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اس وقت 20وفاقی وزراء ہیں۔ 10 وزیر مملکت ہیں۔ 3 مشیر صاحبان ہیں جن کا رتبہ وفاقی وزیر کے ہی برابر ہے۔اس کے علاوہ پانچ خصوصی معاون بھی اس فوج ظفر موج میں شامل ہیں۔اور شاید 19 کے قریب پارلیمانی سیکریٹریز بھی ہیں۔ لیکن یہ تمام " ایلیٹ کلاس " کہلاتے ہیں جن کے گھروں میں شاید سیلاب کا پانی نہیں پہنچ پاتا۔ اسی لیے ان تمام لوگوں میں سے بہت کم لوگ آپ کو سیلاب کے پانی میں گھومتے نظر آئے ہوں گے۔ جو نظر بھی آئے وہ صرف اخباری تصویروں تک محدود رہے۔
پورے ملک میں سیلاب کی تباہ کاریوں کے حوالے سے اگر تمام ممبران قومی اسمبلی ہی (چاہے ان کا تعلق کسی بھی سیاسی پارٹی سے ہو)اپنے متعلقہ حلقے کا دورہ کر لیتے اور عوام کو دو بول تسلی کے بول دیتے تو شاید انہیں اپنے نقصان کا دکھ کچھ کم ہو جاتا۔ان ممبران اسمبلی میں اگر وہ لوگ بھی شامل کر لیے جائیں جنہوں نے کم از کم انتخابات میں حصہ لیا تھا تو ہر حلقے میں کم از کم 15 کے قریب ایسے لوگ ضرور بن جاتے ہیں جوعوام کی مدد کر سکتے تھے۔ جیسے الیکشن کے دنوں میں انتخابی امیدوار بڑھ چڑھ کر جلسے کرتے ہیں اسی طرح اگر اس سیلاب کی صورت حال میں بھی وہ ایک دوسرے سے بڑھ کر مدد کرنے کی کوشش کرتے تو انہیں اگلے انتخابات میں عوام کا بھی ایک منفرد انداز نظر آتا جس میں نفرت و بے رخی کا شائبہ تک نہ ہوتا۔ سونے پہ سہاگہ کہ بلدیاتی نظام ہمارے سیاستدانوں کے خوف کی نظر ہو گیا ۔ اگر اس صورت حال میں وہ نظام موجود ہوتا تو 70 ہزار سے زائد مقامی نمائندے اس صورت حال پر بہتر طریقے سے قابو پا سکتے تھے۔ لیکن ایسا نہ ہو سکا۔
سول انتظامیہ کا اس پورے سیلاب کے دوران وہی حال نظر آیا جو ایک لاغر "نشئی" کا ہوتا ہے۔ جسے کوئی خبر نہیں ہوتی کہ وہ کس دنیا میں ہے۔ میری آنکھوں کے سامنے چند غریب دریائے سواں کی بپھری لہروں میں پھنس گئے۔ جن چوہدری صاحب کی زمینوں پر وہ مزارعے تھے ان کو شاید ان کی جانوں کی اتنی پرواہ نہیں تھی اسی لیے انہوں نے تھوڑی سے کوشش ضرور کی ،سول انتظامیہ سے مدد لینے کی، لیکن 1122 والے بیچاروں کے پاس اتنی سہولیات نہیں تھیں اور انہیں شہر کے اندر ہی سیلاب سے نمٹنے سے فرصت نہ تھی۔ پھنسے ہوئے بیچاروں نے پوری رات درختوں پر گزاری ۔ وہ مدد کی آوازیں دیتے تو کنارے پر کھڑے گاؤں کے باسی آنکھوں میں آنسو لیے بس انہیں دیکھے جاتے ۔صبح کا سورج طلوع ہوا۔ اب تک سول انتظامیہ نہ پہنچ سکی۔ کسی دور اندیش نے تجویز دی کہ بھئی ہمارے پڑوس میں ہی ان لوگوں کا کیمپ ہے جنہیں" ہماری اسمبلیوں میں بیٹھے سیاسی پنڈت" خوار کرنے پہ تُلے رہتے ہیں۔ فوری طور پر کیمپ کے ذمہ داروں سے رابطہ کیا گیا انہوں نے فوراً ہیلی کاپٹر کے ساتھ امدادی ٹیم بھیج دی ۔ اور کچھ ہی دیر میں دو دن سے درختوں پر لٹکے مزدور خیریت سے خشکی پر پہنچا دیے گئے۔ اس لمحے دل کیا کہ اسی سیلاب کے پانی میں تمام سیاسی لوگوں کو غوطے دیے جائیں شاید ان کی عقل میں یہ بات آ جائے کہ عوام کیوں ان باوردی مددگاروں کو دل و جان سے پسند کرتی ہے۔
اسکردو میں تین جوانوں نے اپنی جانوں ک نذرانہ پیش کر دیا۔ جو امدادی کاروائیوں کے دوران لینڈ سلائیڈنگ کی زد میں آ گئے۔ اسی طرح ایک اور جوان پانی میں پھنسے ہوئے لوگوں کو نکالتے ہوئے جان کی بازی ہار گیا۔ کاش اس ملک کے سیاستدان یہ بات سمجھ لیں کہ فوج کیوں عوام میں پسندیدگی کا معیار قائم ہوئے ہے۔ اور کیا وجہ ہے کہ ہمارے سیاستدانوں کے لیے عوام ایک دن نعرے مار رہے ہوتے ہیں تو دوسرے ہی دن ان پر لعن طعن کر رہے ہوتے ہیں۔ وجہ صرف اعتماد اور توقعات ہیں۔ عوام کو ان باوردی سپوتوں پر یہ اعتماد ہوتا ہے کہ وہ کسی بھی مشکل گھڑی میں انہیں تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ جب کہ ہمارے سیاستدان ایوان کی حرمت قائم رکھنے میں اتنے مصروف ہوتے ہیں کہ وہ ایوان میں پہنچانے والوں کو یکسر نظر انداز کر دیتے ہیں۔
ہمارے سیاستدان اپنے اثاثے بچانے کی فکر میں سرگرداں رہتے ہیں۔ حکمران جماعت کی ہی ایک راہنما کے بقول "حالیہ سیلاب کی صورت حال میں جھنگ روڈ پر واقع رمضان شوگر مل کو بچانے کے لیے انتظامیہ نے سینکڑوں لوگوں کی جانیں داؤ پر لگا دیں"۔شاید یہی فرق ہے سیاسی نمائندوں میں اور محافظوں میں۔ حیران کن طور پر اس موجودہ ہنگامی صورت حال میں مجھے کسی بھی سیاستدان کا یہ بیان نظر نہیں آیا کہ فوج صرف سرحدوں کے دفاع کے لیے ہے۔ اور کسی نے بھی یہ نہیں کہا کہ فوج سول معاملات میں مداخلت نہ کرے۔ کلف لگے کرتے۔ دھاری دار پگڑیاں۔ ریشمی چادریں۔ اور ٹائی کی ناٹ میں اپنی گردنیں پھنسائے سیاستدان اس تمام صورت حال میں ایسے دبک کہ بیٹھ گئے کہ کہیں انہیں سیلاب کے پانے میں اترنے کا نہ کہہ دیا جائے۔ ہمارے سیاستدان صرف گارے پتھر سے بنی عمارتوں کو ہی جمہوریت سمجھ بیٹھے ہیں۔ اصل جمہوریت کا حسن تو یہ تھا کہ سول اداروں کو اتنا مضبوط بنایا جاتا کہ وہ کسی بھی طرح کے ہنگامی حالات سے نمٹ سکتے ۔ کوئی ایسا نظام وضح کیا جاتا کہ سول اداروں کے وسائل ایوان اقتدار کے باسیوں کے بجائے عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ ہو سکتے ۔ اس سیلاب سے نہ صرف سیاستدانوں کے چہرے ایک بار پھر عیاں ہوئے ہیں بلکہ بیشتر حصوں میں خود ساختہ ترقی کی قلعی بھی بری طرح کھل گئی ہے۔
کاش ہمارے سیاستدان عوام کے دلوں میں گھر کرنے کا فن سیکھ جائیں۔ لیکن شاید انہیں یہ فن سیکھنے سے غرض بھی نہیں ہے۔ ہمارے سیاستدان صرف ایک فن میں مشاق ہیں اور وہ ہے ایک دوسرے کی پگڑیاں اچھالنا۔ ایک منظر میں وہ ایک دوسرے سے باہم دست و گریباں ہوتے ہیں اور دوسرے ہی منظر میں وہ اسی کے گریباں سے دھول جھاڑ رہے ہوتے ہیں۔ ایک فقرہ " سیاست عبادت" اب کتابی سا لگنے لگا ہے۔ کیوں کہ اس کا عملی مظاہرہ ایک عرصے سے ناپید ہو چکا ہے۔ سیاستدان شاید اس لمحے سے بے خبر ہیں کہ عوام کے صبر کا پیمانہ جب لبریز ہو جائے تو ایک ریڑھی بان پورے ملک کی کایا پلٹ سکتا ہے۔ ذرا جدید فرعون مصر (حسنی مبارک) کو دیکھ لیں۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com
تاریخ اشاعت: 2014-09-14

کالم نگار     :     سید شاہد عباس

سید شاہد عباس کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-

: متعلقہ عنوان