بند کریں
ہفتہ اکتوبر

سکاٹ لینڈ کی آزادی

مبین رشید :

اس وقت لندن اور گلاسگو کے درمیان اگر کوئی ایک موضوع گفتگو مشترکہ ہے تو وہ سکاٹ لینڈ کی آزادی کے لئے ہونے والا ریفرنڈم ہے جو18ستمبر2014ء کو ہونے جا رہا ہے۔ برطانیہ کی جانب سے پچھلے70برسوں میں کئی ممالک میں آزادی کی تحریکیں چلیں لیکن سکاٹش لوگوں نے جس خاموشی کے ساتھ احتجاج اور علیحدگی کی آواز بلند کی وہ اکیسویں صدی کا انوکھا اور منفرد واقعہ ہے۔ ابھی18ستبمر میں چند دن باقی ہیں لیکن اس کے باوجود برطانیہ اور یورپ کے تمام بڑے اخبارات کی شہہ سرخیاں اسی حوالے سے نظر آرہی ہیں۔ اور اگر 18ستمبر کو یہ ریفرنڈم کامیاب ہوگیا تو یہ سلطنت برطانیہ کے لئے کسی زلزلے سے کم نہ ہوگا۔
برطانیہ اور سکاٹ لینڈ کے درمیان اس قدر فاصلے کیوں بڑھے کہ آج نوبت ریفرنڈم تک آن پہنچی اور حالت یہ ہے کہ ابھی تک جو سروے رپورٹس سامنے آرہی ہیں اس میں صورتحال50/50 ہے یعنی کبھی گراف علیحدگی والوں کے حق میں چلا جاتا ہے اور کبھی بلکہ برطانیہ کے لئے سکون کے کچھ لمحات آجاتے ہیں۔ دو روز قبل ایک معروف برطانوی اخبار نے کوئین کی ایک تصویر شائع کی جس میں بتایا گیا ہے کہ ملکہ برطانیہ کو سکاٹ لینڈ کی آزادی کے حوالے سے تشویش ہے کیوں نہ ہو کہ اس کے بعد کارڈیف‘ آئرلینڈ بھی آزادی کی بات کر سکتے ہیں اور برطانیہ کا یورپ کے حوالے سے غرور بھی خطرے سے دو چار ہونے جا رہا ہے۔
اگر آپ تاریخ کے کوڑے دان سے کچھ پرانے اوراق کی ورق گردانی کریں تو برطانیہ اور سکاٹ لینڈ کے درمیان خوفناک جنگوں کی طویل داستان موجود ہے۔ سکاٹش لوگ زیادہ محنتی‘ جفاکش اور جنگجو مشہور ہیں یہی وجہ ہے کہ سطلنت برطانیہ کو اپنے سامراج کو بچانے کے لئے سکاٹ لیند یارڈ پر مضبوط قلعہ اور مشتعل فوج کو تعینات کرنا پڑا اور آج بھی یہ شہر نیو کاسل کہلاتا ہے جہاں وہ تمام آثار موجود ہیں جو ان خونی جنگوں کی تاریخی دہراتے ہیں اسی طرح آپ کو سکاٹ لینڈ میں وہ تمام عمارتیں اور شواہد ملیں گے جو ان جنگ و جدل کی کہانیوں کے گواہ ہیں۔
1707ء میں برطانیہ کا حصہ بننے والے سکاٹ لینڈ میں790خوبصورت ترین جزیرے ہیں۔ سکاٹ لینڈ کے شمالی علاقہ جات میں سیاحوں کے آنے سے برطانیہ کو صرف پہلے سال11ارب روپے کا فائدہ ہوا اس لحاظ سے سیاحت اس ملک کی بہت بڑی انڈسٹری ہے۔ دنیا کی مشہور ترین شراب سکوچ وسکی بھی سکاٹ لینڈ کی بہت بڑی پہچان ہے اس وقت پاکستان میں آزاد کشمیر کی طرح برطانوی حکومت کے زیر انتظام سکاٹش پارلیمنٹ میں121سیٹیں ہیں برطانوی حکومت نے آزادی کے عمل کو روکنے کے لئے سکاٹش پارلیمنٹ کو غیر جانبدار بنانے کی پیشکش کی ہے ابھی تک یہ بھی واضح نہیں ہے کہ اگر سکاٹ لینڈ آزاد ہوگیا تو وہ کونسی کرنسی استعمال کرے گا یورو یا پاؤنڈ۔ اس وقت پورے سکاٹ لینڈ میں ”لیس سکاٹ لینڈ“ کے اسٹیکر اور پوسٹر موجود ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق ریفرنڈم میں ووٹ ڈالنے والوں کی تعداد50لاکھ کے قریب ہے اس میں سے تقریباً 10لاکھ لوگ بیرون ملک رہائش پذیر ہیں اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ لوگ کس طرح اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔ اگر سکاٹ لینڈ آزاد ہوگیا برطانیہ کو اپنا جھنڈا بھی تبدیل کرنا پڑے گا اس وقت برطانوی جھنڈے میں نیلا رنگ اور سفید کراس کا نشان سکاٹ لینڈ کے ساتھ اظہار یکجہتی کی نشانی ہے۔
یہ تمام حقائق کئی جگہ لیکن تجربہ کار مبصرین کی رائے ہے کہ اس وقت اگرچہ سکاٹ لینڈ کی آزادی کا موضوع زبان زدعام ہے لیکن اس وقت سکاٹ لینڈ کی آزادی دور کی کوڑی لانے کے مترادف ہے۔ برطانوی حکومت نے پہلے ہی مقامی لوگوں کو کئی فوائد سے آگاہ کرنا شروع کر دیا ہے اور آنے والے دنوں میں وہ مزید ایسی مراعات دیں گے تاکہ اس وقتی لہر کو مستقل طور پر دبا لیا جائے اگر یہ ریفرنڈم ناکام ہوگیا تو اگلا ریفرنڈم تقریباً دس سال بعد ہوگا یوں برطانوی سامراج کو ایک طویل عرصے تک سکھ کا سانس مل جائے گا۔ بظاہر اعداد و شمار ثابت کرتے ہیں کہ یہ سخت مقابلہ ہوگا اور جب اس سلسلے میں مقامی لوگوں سے بات کی جائے تو وہ لندن کے خلاف پھٹ پڑتے ہیں لیکن اس کے باوجود یہی نظر آتا ہے کہ یہ برطانوی حکومت60فیصد سے کامیاب ہو جائے گی اور مخالف 40فیصد کے قریب ووٹ حاصل کر پائیں گے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکی صدر باراک اوباما نے بھی سکاٹش عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ برطانیہ کے ساتھ رہیں۔ جب سے یہ بجٹ عام ہوئی ہے اور ریفرنڈم کے دن نزدیک آئے ہیں پاؤنڈ کی قدر میں کمی واقع ہوئی ہے۔ ڈالر اور یورو اس کے مقابلے میں2.5فیصد مضبوط ہوئے ہیں۔ سو یہ کھیل ایک ایسے دلچسپ مرحلے میں داخل ہوگیا ہے جہاں ہاں اور ناں کا فیصلہ ہونے جا رہا ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ اس ریفرنڈم میں فیصلہ جو بھی آئے وہ تمام فریقین کے لئے قابل قبول ہوگا نہ کوئی اس ریفرنڈم کو جنرل ضیاء الحق اور پرویز مشرف والا ریفرنڈم کہے گا اور نہ کوئی عمران خان اور طاہر القادری کی طرح دھاندلی کا شور مچائے گا۔ اس کی وجہ ان لوگوں کا اپنے ووٹ اور نظام کی مضبوطی پر اعتبار ہے جو بدقسمتی سے ہمارے ہاں67 سال گزر جانے کے باوجود نہیں ہو سکا۔ کاش ہم بھی اپنی جمہوریت‘ حکومت اور ریاست پر اعتبار کر سکیں اور اس استحصال نظام کا خاتمہ کر سکیں جس کا خواب ہمارے بزرگوں نے تقسیم ہند سے قبل دیکھا تھا تاکہ سکاٹ لینڈ کی آزادی کی طرح ہمارے ملک میں کوئی آزادی کا ریفرنڈم نہ کرانا پڑے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com
تاریخ اشاعت: 2014-09-13

کالم نگار     :     مبین رشید

مبین رشید کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-