بند کریں
بدھ ستمبر

کیا یہی جمہوریت ہے؟

یونس مجاز :

صاحبو ! جھوٹ فریب دھوکہ اور سازشیں ،کیا یہی جمہوریت ہے ؟ اسلام آباد اس وقت میدان جنگ بنا ہوا ہے اور ملک بھر میں مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو چکاہے ایسے محسوس ہو رہا ہے کہ جیسے ہماریی پولیس کسی دشمن ملک کی عوام پر حملہ آور ہوئی ہے لگتا ہے حکمرانوں نے ماڈل ٹاوٴن جیسے واقعات سے سبق سیکھنے کے بجائے مزید حوصلہ پا یا ہے لاہور سے دھرنوں کے آغاز سے اب تک حکمرانوں کی طرف سے ہر کام کو غیر سنجیدہ لینے اور کام کو جان بوجھ کر نو ریٹرن تک لے جانے کی ہابی نے حالات کو یہاں تک پہنچایا ہے جس کی تفصیل میرے گزشتہ کالم میں موجود ہے ہفتہ اور اتوار کو بھی مذاکرات ہوئے لیکن فریقین کے درمیان پیدا ہونے والی عدم اعتمادی نے کامیابی کے مواقع گنوا دیئے سو دھرنہ دینے والوں نے وزیراعظم ہاوس کا رخ کر لیا جھنیں پر امن رہنے کی ہدایت کی گئی تھی 16 دن سے دھرنے پر بیٹھنے کے باوجود ایک گملا بھی نہ توڑنے والے ماظاہرین جب آگے بڑھے تو پولیس نے پہلے آگے بڑھنے دیا اور پھر گھیر کر ان پر شدید شیلنگ ربڑ اور شیشے کی گولیاں بر سائی گئیں اور یہ سلسلہ تا دم تحریر جاری ہے جس سے سینکڑوں مظاہرین زخمی ہو کر ہسپتالوں میں پہنچ چکے ہیں جبکہ کئی افراد جاں بحق اور شدید زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں بہت سے گرفتار کر لئے گئے ہیں میڈیا کو بھی نہیں بخشا گیا گاڑیوں سے اتار اتار کر ان پر تشدد کیا گیا کئی میڈیا اہلکار شدید زخمی ہوگئے گاڑیا ں ٹوٹ گئیں لگتا ہے پولیس کی وردی میں گلو بٹوں کو بھیج دیا گیا ہے جو وزیر داخلہ کے ریڈ زون پہنچنے پر نعرہ بازی کر رہے تھے جیسے کسی سیاسی جماعتوں کے ورکر ہیں اور فتح کی خوشی میں اپنے لیڈر کو دیکھ کر خوشی کا اظہار کر رہے ہیں جمہوریت کے نام پر اقتدار قائم رکھنے کے لئے جس طرح پر امن مظاہرین پربربریت کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے اس نے آمریت کو بھی شرما دیا ہے مظاہرین کو کئی گھنٹوں سے محصو ر کر کے ان پر کھانا اور پانی بند کرنا کہاں کا انصاف ہے ان محصورین میں معصوم بچے ا ور عورتیں بھی شامل ہیں آمریت کی کھوک سے جنم لینے والے حکمرانوں نے جمہوریت کا لبادہ تو اوڑ لیا مگر ان کی سرشت میں شامل آمریت نے ان کو اندھا اور بہرہ بنا دیا ہے سیاسی جماعتوں نے بھی سوائے مذمت کے چپ سادھ لی ہے ایسے میں سپریم کورٹ اور فوج کو میدان عمل میں آکر اس معاملہ کو جلد از جلد حل کرنے کی ضرورت ہے ورنہ یہ معاملہ دور تک جانے کا خدشہ ہے کہ پھر یہ کسی کے بس کی بات نہیں رہے گی عمران خان اور قادری صاحب کو بھی مزید کارکنوں کا امتحان لینے کے بجائے عقل و دانش کا مظاہرہ کرتے ہوئے لچک پیدا کرنی چائیے۔
معاملات کیسے بگڑے اس کی کہانی کچھ یوں ہے کہ جمعرات28اگست کی رات نو بجے کے بعد ہیجانی کیفیت میں مبتلا پاکستانی قوم کے چہرے اس وقت کھلے اٹھے جب نجی ٹی وی چینلز پر بریکنکگ نیوز چلنے لگی کہ حکومت نے موجودہ بحران کے حل کے لئے فوج کو کردار ادا کرنے کی درخواست کر دی یہ خبر معروف اینکر سلیم صافی نے بریک کی کہ مجھے اور ایک دوسری صحافی کو چودھری نثار وزیر داخلہ نے ٹیلفون پر کہا کہ حکومت نے بحران کے حل کے لئے فوج سے مدد کی درخواست کی ہے مزکورہ اینکر کا یہ بھی کہنا تھا کہ فوج نے پہلے سانحہ ماڈل ٹاوٴن کی ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت کی جس کے بعد ایف آئی ٓر درج کی گئی اس کے ساتھ ہی تمام ٹی وی چینل نے اس خبر کو ہیڈ لائن کے طور پر لیا اور پھر اس پر تبصروں کا لا متناہی سلسلہ شروع ہو گیاکسی نے فوج کے اس کردار کو بحران کے حل کے لئے مثبت قرار دیا جن کا موقف تھا کہ یہ کوئی نئی بات نہیں فوج ملک کا ایک مقتدر ادارہ ہے جو ملکی سیاست اور سلامتی سے لا تعلق نہیں رہ سکتی کیونکہ جنرل اسلم بیگ وحید کاکڑ اور جنرل پرویز کیانی سمیت کئی مواقع پر فوج نے منظریا پسِ منظر میں اپنا آئینی کردار ادا کیا تو کسی نے فوج کو ایک بار پھر سیاست میں گھسیٹنے کے مضمرات کا ذکر کر کے سیاست دانوں کی ناکامی سے تعبیر کیا اسی دوران طاہرالقادری صاحب کنٹینر سے باہر آئے اور دھرنا کے شرکاء سے کہا کہ فوج کے سربراہ کی طرف سے بذریعہ ٹیلیفون پیغام آیا ہے حکومت نے درخواست کی ہے کہ موجودہ بحران کو حل کرنے کے لئے فوج ثالثی اور ضامن کا کردار ادا کرے آپ کو قبول ہے ا نھوں نے دھرنے کے شرکاء سے بات کی کہ وہ منظوری آپ سے لینا چاہتے ہیں کہ وہ آرمی چیف سے ملاقات کے لئے جائیں؟ کیونکہ انھوں نے بلایا ہے شرکا  کی اجازت کے بعد قادری صاحب ملاقات کے لئے روانہ ہو گئے اسی طرح عمران خان نے بھی اپنے کارکنوں کو کہا کہ فوج اس بحران کو حل کرنے کے لئے حکومت کی درخواست پر کردار ادا کرنا چاہتی ہے عمران خان بھی آرمی چیف سے ملاقات کے لئے روانہ ہو گئے اور اپنے مستقبل کے لائحہ عمل کے اعلانات چوبیس گھنٹے کے لئے ملتوی کر دئیے یہ سارا منظر ٹی وی چینل نے لائیو دکھایا آئی ایس پی آرکے مطابق عمران خان اور طاہر القادری کی آرمی چیف جنرل راحیل شریف سے راولپنڈی میں الگ الگ ملاقاتیں ہوئیں ذرائع کے مطابق عمران خان اور آرمی چیف کے درمیان تقریباْ ایک گھنٹہ ملاقات کے دوران موجودہ صورت حال کے حل کے لئے مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا عمران کی ملاقات کے بعد قادری صاحب نے آرمی چیف سے تین گھنٹے سے زائد ملاقات کی اور اپنے مطالبات سے آگاہ کیا جس کے بعد وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار نے بھی جنرل راحیل سے رات گئے ملاقات کی اور حکومت کے موقف سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت تمام آئینی مطالبات ماننے کے لئے تیار ہیں مگر حکومت غیر آئینی مطالبات کسی صورت ماننے کو تیار نہیں حکومت بھی اس بحران کا حل مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہتی ہے لیکن دونوں رہنما آگے بڑھنے کو تیار نہیں کیوں کہ غیر آئینی مطالبات کے حوالے سے حکومت کے تحفظات ہیں ذرائع کا یہ بھی کہنا تھا کہ وزیر اعظم نواز شریف نے جنرل راحیل شریف کو اختیار دے دیا تھا اور حکومت کی تجاویز اور فیصلوں سے بھی آگاہ کیا تھا ادھر عمران خان اور قادری صاحب نے حکمت عملی کا لحاظ کئے بغیر ملاقات کی ساری کہانی کارکنان کے سامنے بیان کر دی اور کہا کے ان کے مطالبات نہ پورے ہوئے تو پھر دما دم مست قلندر ہو گا جو اچھا رویہ نہ تھا یہاں تک تو سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا اگر کچھ غلط ہو رہا تھا تو حکومت کو چائیے تھا کہ وہ فوری وضاحت کرتی لیکن اس نے ایسا نہیں کیا تاہم 29اگست کے دن اس وقت ملک میں ایک بار پھر بونچال آگیا جب اسمبلی کے فلور پر وزیر داخلہ چودھری نثار طویل فلسفیانہ گفتگو میں یہ کہتے پائے گئے کہ حکومت نے کسی ثالثی کے لئے فوج سے کوئی درخواست نہیں کی دھرنہ دینے والے گروپوں کی خواہش تھی جو سپریم کورٹ سمیت کسی اور پر اعتماد کرنے کو تیار نہیں تھے ان کے کہنے پر ہی فوج کو کردار ادا کرنے کی اجازت دی گئی جس پر اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے حکومت کو ڈٹے رہنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ دیکھتے ہیں کون جمہوریت کو ختم کرتا ہے دھرنے والے پارلمنٹ کو جلا دیں سارے اسلام آباد کو بھی جلا دیں مگرآئین کے ایک کاغذکا ٹکڑا بھی جلانے نہیں دیں گے انھوں نے فوج سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ وہ وضاحت کرے کہ انھیں کس فریق کی طرف سے درخواست کی گئی ایک ٹی وی چینل پر ان کے بیان کا یہ بھی ٹکر چل رہا تھا کہ جمہوریت ختم ہوگئی تو بھوکے مریں گے لیکن یہ نام نہاد جمہوریت رہی تو عوام بھوکے مرتے رئیں گے ؟جب کہ وزیر اعظم پاکستان نے اسمبلی فلور پر اپنے ریکارڈ خطاب میں کہا کہ وہ دس حکومتیں قربان کرسکتے ہیں لیکن اپنے نظرئیے اور اصول کی قربانی نہیں دے سکتے پارلیمنٹ میں منظور کی گئی قرارداد کے ایک ایک حرف کی پاسداری کریں گے جمہوریت کے لئے دی گئی اپنی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ انھوں نے آئین کے تحفظ کا حلف اٹھایا ہے کوئی یہ توقع نہ کرے کہ وہ یو ٹرن لیں گے وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ حکومت نے فوج کو کوئی درخواست نہیں دی اگر آرمی چیف سے ان کی ملاقات نہ بھی ہوتی تو پارلیمنٹ کے باہر موجود لوگوں کی جانب سے کسی بھی کاروائی کی صورت میں فوج کو ان سے بات کرنی ہی تھی گزشتہ روز وہ بذات خود وزیر داخلہ کے ساتھ بیٹھے تھے کہ انہیں آرمی چیف کی جانب سے فون کال آئی جس میں کہا گیا کہ طاہر القادری اور عمران خان نے ان سے ملاقات کی درخواست کی وہ اسی صورت میں ان سے ملیں گے جب وزیر اعظم اجازت دیں گے جس پر انھوں نے اجازت دے دی اور اب بات کا بتنگڑ بنایا جا رہا ہے ،جس کے بعد ٹی وی چینلز پر تجزیہ کاروں نے حکومت کے خوب لتے لئے وہاں ایک ٹی وی چینل پر پنکچر والی سرکار کے پروگرام کے اینکر حکومت کے اس بلنڈر پر مٹی ڈالنے کی کوشش میں تجزیہ کاروں سے اپنی مرضی کا تجزیہ لینے کی ناکام کوشش کر رہے تھے لیکن ارشاد عارف صاحب اپنے ضمیر کی آواز پر بولنے کی کوشش کرنے لگتے تو اینکر پرسن کھسیانی ہنسی کی آڑ میں دیگر تجزیہ کاروں کو ان کی گفتگو کاٹنے کی دعوت دے دیتے ان کی ساری سعی لاحاصل اس وقت دم توڑ گئی جب سلیم صافی نے اپنی گزشتہ روز کی بریک کی گئی خبر سے ایک انچ بھی پیچھے ہٹنے سے انکار کر دیا ان کا اصرار تھا کہ حکومت ہی کی طرف سے فوج کو درخواست کی گئی تھی ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ خورشید شاہ کے مطالبہ پر آئی ایس پی آر کی طرف سے وضاحت آنے کے بجائے حکومت خود وضاحت کردے تو عزت رہ جائے گی تا قتکہ شام کو مجبوراْ فوج کو وضاحت کرنی پڑی آئی ایس پی آر کی طرف سے ٹویٹ کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل عاصم باجوہ نے کہا ” گزشتہ روز وزیر اعظم ہاوس میں وزیر اعظم نواز شریف اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے درمیان ملاقات میں حکومت کی جانب سے موجودہ سیاسی بحران کے حل میں پاک فوج کے سربراہ سے کردار ادا کرنے کی درخواست کی گئی تھی جس کے بعد آرمی چیف نے فریقین کے درمیان سہولت کار کا کردار ادا کیا “جس کے بعد جہاں حکومت کے لئے مذید خفت کا سامان پیدا ہوا وہاں عمران خان اور قادری صاحب نے حکومت پر بھر پور تنیقید کی قادری صاحب نے تو اسمبلی فلور پر مبینہ جھوٹ بولنے آئین اور حلف کی پاسداری نہ کرنے پر وزیراعظم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کردیا ادھر حکومت عالمی سطح پر جگ ہنسائی کا معرکہ سر کرنے کے بعد بظاہر خاموش تھی ایک بار پھر وزیر داخلہ منظر عام پر آئے پریس کانفرنس میں دھڑلے سے کہہ دیا کہ آئی ایس پی آر کی جانب سے وضاحت مشاورت اور اجازت سے جاری ہوئی پاک فوج کا بیان حکومت کے موقف کی تائید کرتا ہے حکومت نے آرمی چیف کو سیاسی بحران کے حل کے لئے” ثالث“ یا” ضامن“ کا کردار ادا کرنے کے لئے نہیں کہا تھا بلکہ” سہولت کار“ کا کردار ادا کرنے کیلئے کہا تھا ضامن اور ثالث غیر آئینی ہے جب کہ سہولت کار آئینی ہے آئی ایس پی آر نے سہولت کار کا لفظ استعمال کیا ہے جو قانون کے دائرے میں ہے ۔جب کہ ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایس پی آر کی طرف سے جاری کئے گئے کسی بھی بیان کی اجازت حکومت سمیت کسی سے لینے کی ضرورت نہیں ہوتی وہ آزادانہ طور پر جاری کی جاتی ہے ۔ بد قسمتی سے جھوٹ بولنا ہمارے سیاست دانوں کی عادت ثانیہ بن چکی ہے جلسے جلوسوں میں ایک دوسرے کے پیٹ چاک کر کے کرپشن کا پیسہ نکلوانے کی بھڑکوں اور ایک سال میں لوڈشیڈنگ ختم کرنے کے جھوٹے دعوے سننے اور خواب دیکھنے کی یہ قوم بھی عادی ہوچکی ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگرحکومت نے اس بات کو تسلیم ہی کرنا تھا کہ انھوں نے سہولت کار کے لئے درخواست کی ہے تو یہ بات اسمبلی فلور پر بھی کہی جا سکتی تھی لیکن وہاں تو وزیر اعظم نے کسی بھی درخواست سے انکار کر دیا تھا اور وزیر داخلہ نے بھی طویل فلسفہ جھاڑا ،جس سے حکومت کی ساکھ جہاں عوام میں بری طرح متاثر ہوئی وہاں پارلیمنٹ میں ان کی حمایت میں کھڑی جماعتیں بھی شرمسار ہوئیں اور عالمی سطح پر جگ ہنسائی بھی ، جبکہ فریقین میں مذاکرات کی کامیابی کی جو امید پیدا ہو چلی تھی کو سپوتاژ کر دیا گیاکل تک میاں نواز شریف کو ڈٹے رہنے کا مشورہ دینے والے آج کہاں ہیں میاں صاحب اب بھی ادراک کرلیں جھوٹی رپورٹوں سے گناہ دھل نہیں جاتے اپنی ہی عوام سے معافی مانگنے میں کوئی حرج نہیں تھا۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com
تاریخ اشاعت: 2014-09-03

کالم نگار     :     یونس مجاز

یونس مجاز کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-

: متعلقہ عنوان