بند کریں
منگل ستمبر

عمران ،القادری کی غلیل میں شیشے کی گولیاں

ممتاز امیر رانجھا :

شرمناک کا لفظ استعمال کرنے والا عمران خان شرمناک طریقے سے پارلیمنٹ ہاؤس کی طرف اپنے نام نہاد ٹائیگرز کے ساتھ ہفتے کی شب کو سب کے سامنے تھا۔قادری کے کلہاڑی اور کٹر بردار مریدین اور ملازمین نے پولیس والوں کو لہو لہان کر دیا۔ عمران اور قادری جو کہ یہی چاہتے ہیں کہ ان کے ساتھ موجود افراد کا ٹکراؤ پولیس اور فوج کے ساتھ اور زیادہ سے زیادہ لوگ مریں اور زخمی ہوں تاکہ ان کی پارٹی ان افراد کو کیش کراکے عوامی اور میڈیا کی ہمدردی حاصل کر سکے۔ہم سب نے دیکھا اس ٹکراؤ میں نہ تو عمران خان کے بیٹے موجود نظر آئے اور نہ ہی قادری صاحب کا کوئی صاحب ذادہ دکھائی دیا۔پرا من احتجاج کے نام پر عمران قادری کی یہ ایک بہت بڑی سازش ہے جو کہ پورے پاکستان کو نظر آرہی ہے۔لوگوں کو اشتعال دلا کر پولیس پرچڑھائی کرنے والے دونوں نام نہاد لیڈران اپنے کنٹینر اوربلٹ پروف گاڑیوں میں بھیگی بلی بن کر بیٹھے رہے۔نظر آئے تو صرف قادری کے غریب ملازمین اور عمران خان کے نام نہاد ٹائیگرز۔عمران ،قادری،شیخ رشید اور چوہدری برادران کی گندی پلاننگ نے سانحہ ماڈل ٹاؤن سے بڑا سانحہ کرانے کے لئے جو سازش کی ناکام رہی۔ایوان صدر،وزیرا عظم ہاؤس ،پی ٹی وی اور سپریم کورٹ کی بلڈنگ پر قبضہ کرنے کی کوشش میں پولیس اور ڈنڈا بردار فورس کی لڑائی میں سینکڑوں پولیس ملازمین کے علاوہ عمران قادری کے ڈنڈا بردار بھی زخمی ہو گئے۔ٹی وی میں کئی بار دکھایا گیا کہ ان دونوں پارٹیوں کے غلیل میں شیشے کی گولیاں استعمال کرنے والی ٹیموں نے کئی پولیس اہلکاران اور سول افراد کو زیادہ زخمی کیا۔
باوثوق ذرائع سے اس بات کی اطلاع بھی ملی ہے کہ وزیراعلیٰ خیبر پختوانخواہ نے اپنی وزارت کے بہت زیادہ وسائل اس دھرنے ،لانگ مارچ اور ٹکراؤ پر بھی استعمال کئے ہیں جوکہ سراسر غیر قانونی ہے۔پی ٹی آئی اور عوامی تحریک نے پاکستانی تاریخ میں ایک سیاہ باب رقم کیا ہے،جس کی وجہ سے مستقبل میں بھی اسی طرح کی روایات کے اٹھنے کا اندیشہ باقی رہے گا۔ریگنگ کے نام پر حکومت کو سپوتاژ کرنے والے دونوں گروپ کہاں دودھ کے دھلے ہوئے اور معصوم ہیں۔فوج اور حکومت کو مذاکرات کے نام پر بدنام کرنے والے ضدی خان اور پادری صاحب کی چالاکیاں سب کے سامنے ہیں۔اس ساری لڑائی میں ایک اور افسوسناک پہلو یہ بھی نظر آیا کہ عمران ،قادری کی شیشے کی غلیل استعمال کرنے والے اور آنسو گیس استعمال کرنے والے پولیس اہلکاران کی مڈبھیڑ میں کئی صحافی اور کیمرہ مین بھی زخمی ہو گئے۔صحافیوں کو مارنا پولیس والوں کی طرف سے واقعی بہت بڑی بے وقوفی ہے۔صحافیوں کو ڈنڈے لاٹھیاں مارنا بھی دراصل ایک منفی فعل ہے جس کی اجازات انہیں خود حکومت بھی نہیں دیتی۔ پولیس نے شروع میں مظاہرین کو راستہ بھی دیا لیکن مظاہرین نے آپے سے باہر ہو کر کئی اہم بلڈنگز کے گیٹ اور کھڑکیاں دوڑ کر اندر داخل ہونے کی کوشش کی جس پر مجبوراً پولیس کوآنسو گیس اور شیلنگ شروع کرنا پڑی۔
عمران اور قادری اتنے بدبخت اور بد نصیب ہیں کہ ان دونوں نے پارلیمنٹ ہاؤس،اپوزیشن،فوج اور حکومت سب کی کوئی گزارش نہیں سنی،مذاکرات کے لئے کوئی مثبت راستہ باقی نہیں چھوڑا۔لوگوں کو اشتعال دلا کر ،ورغلا کر بطور شیلڈ استعمال کرنے والے لیڈران نجانے کونسا نیا پاکستان بنا رہتے ہیں یا کونسا انقلاب لانا چاہتے ہیں۔احمقوں کی جنت میں رہنے والے پی ٹی آئی اور عوامی تحریک کے کارکنان اور لیڈران کو احساس ہونا چاپیئے تھا کہ ملک قائداعظم محمد علی جناح نے 1947ءء میں بنا کر آزاد کر دیا تھا اس کے بعد نیا پاکستان بنانے والے انقلاب لانے والے یہ احمق لوگ کون ہوتے ہیں؟فری میڈیا کو کانسپٹ کئی میڈیا افراد اور چینل نے ختم کر دیا ہے۔زیادہ تر میڈیا چینلز نے قادری،عمران اور حکومت مخالف افراد کے ساتھ مل کر پارٹی بازی بن کر نہایت ہی گندہ رول ادا کیا ہے۔میڈیا کو اسی چاہت میں مظاہرین کی طرف سے شیشے کی گولیاں پڑنا شاید اسی بے وفائی کا انعام ملاہے۔حکومت اور پولیس کو گالیاں دینے والے صحافیوں کو مظاہرین کا اصل چہرہ نظر آگیا ہے اس کے بعد بھی وہ اصلاح احوال نہ کریں تو پھر خداہی ان کو سبق دے۔
اپنے مرضی کی ایف آئی درج کرانے اور الیکشن میں دھاندلی ہونے کا بہانہ بنا کر اسلام آباد میں دھاوا بولنے والی یہ نام نہاد پارٹیاں اپنی مرضی کی حکومت اور اپنی مرضی کا پاکستان بنانے نکلے ہیں لیکن ان کے پر تششدد عزائم کو پاکستان کی کثیر تعدا دعوام بخوبی جانتے اور سمجھتے ہیں۔خود تحریک انصاف کے نائب صدر جاوید ہاشمی تک ”جذباتی“ خان کو تنہا چھوڑکر اسی لئے چلے گئے کیونکہ ریڈ زون میں جانا اور پھر وہاں سے عمارتوں پر دھاوا بولنا خود انہیں پسند نہیں آیا۔ایک پارٹی کانائب صدر اگر اپنی پارٹی کے چیئرمین یعنی ”تحریک انصاف“ اور عمران خان کے خلاف میڈیا سے بات کریں تو پھر سمجھدار پاکستانی عوام کو تحریک انصاف کے جنون کا اصل مقصد واضح ہو جانا بہت ضروری ہے۔عوامی تحریک بھی ایف آر کے نام پر جھوٹی انا کا بہانہ بنا کر پورے ملک کو کھیل تماشہ بنائے پھرتے ہیں۔
اب بھی وقت ہے کہ موجودہ حکومت اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے نہایت عقل مندی سے تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے اس تماشے کو ”ختم “ کرائے،اگر یہ بات نہیں سمجھتے تو انہیں جب یہ منتشر ہو چکے ہیں انہیں دوبارہ اسلام آباد ”تماشہ“ بنا کر بیٹھنے کا موقع نہ دیں۔حکومت کے لئے بہت ضروری ہے کہ انصاف عوام کی دہلیز پر پہنچانے کا بندوبست کریں۔حکومت کو صحافیوں کے ساتھ غنڈہ گردی کا نوٹس لینا چاہیےء اور انتشار گروپ (پی ٹی آئی اور عوامی تحریک)کو سپورٹ کرنے والے صحافیوں کو شرم سے ڈوب مرنا چاہیئے۔صحافی کا کردار نیوٹرل ہونا بہت ضروری ہے۔دونوں مذکورہ پارٹیوں کے لیڈران عمران خان اور طاہر القادری سمیت ان کے مشیران شیخ رشید اور چوہدری برادران کی عقل پر جو پردہ ہے انہیں بھی یہ پردے اٹھانے ہوں گے،عوام کو شیلڈ بنا کر سیاست کرنے والے یہ مذکورہ گروپ پاکستانی حکومت اور فوج کے لئے مزید پریشانیاں نہ پیدا کریں۔حکومت اور فوج ضرب عضب سمیت کئی اندرونی اور بیرونی مسائل سے دوچار ہیں۔پاکستانی کی اقتصادی ترقی پر دھرنا گروپ اور لانگ مارچ گروپ بہت زیادہ اثر انداز ہو رہا ہے۔ملک میں کئی ترقیاتی کام اور کاروبار تیزی سے ٹھپ ہو رہے ہیں۔حالات روز بروز خراب ہو رہے ہیں ہم سب عوام کو بھی چاہیئے کہ ہم حکومت وقت اور فوج کو سپورٹ کریں۔جو چل رہی ہے وہ جمہوریت ہے ،ہم خود ٹھیک ہو جائیں تو جمہوریت بھی ٹھیک ہے۔چلتی حکومت کو دھکا دینا یا جمہوریت کو ختم کر کے آمریت کو سپورٹ کرنا قوموں کے زوال کا سبب ہے۔اپنے لئے خدارا خود زوال کا باعث نہ بنیں بلکہ قوم وملک کی ترقی میں موجود رکاوٹیں دور کریں۔عمران ،قادری کی غلیل میں شیشے کی گولیاں نہ صرف پولیس اور صحافیوں کو چھلنی کرتی ہیں بلکہ عوام کے دلوں کو بھی تار تار کرتی ہیں۔اللہ عمران قادری کو راہِ ہدایت نصیب کرے۔آمین
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com
تاریخ اشاعت: 2014-09-02

کالم نگار     :     ممتاز امیر رانجھا

ممتاز امیر رانجھا کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-

: متعلقہ عنوان