بند کریں
بدھ ستمبر

اس سے بہتر تھا کہ!

حافظ ذوہیب طیب :

انقلاب و آزادی مارچ کے شر کاء وزیر اعظم کے مستعفی ہو نے کے اپنے قائدین کے مطا لبے کو پورا نہ ہوہونے پر پوری آب و تاب کے ساتھ وزیر اعظم ہاؤس کی جانب رواں دواں ہیں ، ہر طرف چیختی چلاتی” بریکنگ نیوز“کا شور مچا ہوا ہے۔ ملک اور ملک سے باہر ہر پاکستانی پریشان کہ جانے اب کیا ہو نے والا ہے؟سوشل میڈیا سمیت مو بائل فون پر احباب کی نہ ختم ہونے والی فون کالز کا سلسلہ تھا جو تھمنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔اسی دوران ایک دیرینہ تعلق والے صاحب جوایک عرصے سے رابطے میں نہ تھے کی کال موصول ہوئی،ان کے تعارف کرا نے پر ان کا چہرہ میری نظروں کے سامنے گھومنے لگا، یہ شخص ایک کمپنی میں آفس بوائے ہے جس کی چار بیٹیاں اور 15سال کا ایک بیٹا ہے جو پچھلے کئی عرصے سے جگر کی بیماری میں مبتلا ہے،میرے کسی دوست نے اپنے بیٹے کے علاج کی خاطر اسے میرا حوالہ دیا تھا اور میں نے ایک سر کاری ہسپتال کے ایم۔ایس کو اس کے بیٹے کے علاج کی سفارش کی تھی۔
شدت درد میں ڈوبی اس کی آواز کسی طوفان کی خبر دے رہی تھی، اس نے اپنا تعارف کراتے ہوئے کہا: صاحب !احسان شاہ بول رہا ہوں ، زندگی میں آخری بار آپ کی مدد کی پھر ضرورت پڑ گئی ہے۔ میں حامی بھرتے ہو ئے بولا : حکم کرو کس طرح کی مدد کی ضرورت ہے ۔ میرا یہ کہنا تھا کہ اس کی آواز ہچکیوں اور آہوں سے گو نجنے لگی۔ صاحب !وہ میرا بیٹا تھا نہ فراز، وہ آج فوت ہو گیا ہے۔ صبح 10بجے یہ فوت ہوا ہے اور رات کے 10بج گئے ہیں ۔ میرے پاس جو جمع پونجی تھی وہ سب اس کے علاج پر لگ گئی ہے، اس کے علاج کی خاطر مجھے چھٹیاں کر نی پڑیں تو سیٹھ نے بھی نوکری سے فارغ کر دیا، کئی دنوں سے گھر میں فا قے تھے اور بیٹیاں اور بیوی اس ظالم بھوک کو مٹانے کے لئے سوکھی روٹی والے سے کچھ ٹکڑے لے کر انہیں پانی میں بھگو کے اپنی بھوک مٹا رہی ہیں۔صاحب! میں گھر کے پاس ایک پی۔سی۔او سے آپ کو فون کر رہا ہوں اور اب میرے پاس اتنی رقم بھی نہ ہے کہ اپنے بیٹے کے کفن دفن کا انتظام کر سکوں ۔ صاحب ! اگر آپ اس کے کفن دفن کا انتظام کر سکو تو ٹھیک نہیں کو کسی عام سے یہ پوچھ کر بتا دو کہ اگر میں اپنے بیٹے کی لاش کو نہر میں پھینک دوں تو کیا کچھ گناہ تو نہیں ہو گا؟
قارئین !میری نظریں سامنے نظر آنے والے آزادی و انقلابی مارچ کے دھرنوں کی طرف جمی تھیں جبکہ سوچیں منتشر ہو کے کبھی احسان شاہ جیسے بے کس و بے بس ، حالات کے تھپیڑے کھاتے ،فاقہ زدہ زندگی گذارتے، اپنے جگر گوشے کو مسلسل 12گھنٹے سے مردہ حالت میں سامنے رکھے انسانو ں کے زندگی کے بارے سوچتی ہیں اور کبھی آزادی و انقلاب مارچ کے رہنماؤں کی طرف سے صرف وزیر اعظم کے استعفے کے مطالبے پر مر کوز ہو جاتی ہیں ۔ کچھ دیر اسی کشمکش میں رہتے اور پانی کے درجن کے قریب گلاس پی کر ذہنی طور پر نارمل ہو نے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا کہ اس بات کو تسلیم کر لیا جائے کہ موجودہ حکومت نے الیکشنوں میں دھاند لی کی ہے، کرپشن اور چور بازاری کا بازار گرم کر رکھا ہے ،غریب ، غریب تر ہو تا جا رہا ہے، لوگ ایک وقت کی روٹی کے لئے اپنے جگر گوشوں کو فروخت کر نے پر مجبور ہیں، جوان بیٹیاں اور بہنیں گھر کے کرائے اور باپ کے علاج کی خاطر اپنی عفتوں کو سر بازار نیلام کر رہی ہیں۔سکون، امن اور انصاف نا پید ہو رہا ہے۔ زندگی عذاب اور موت آسان ہو گئی ہے۔لوگ انصاف نہ ملنے کی وجہ سے خود کشیاں کر نے پر مجبور ہیں۔قانون نافذ کر نے والے ادارے حکمرانوں کے مفادات کو پواا کر نے کی سعی میں مصروف ہیں۔لیکن !کیا ہی اچھا ہو تا کہ اسلام آبادمیں موجود ہمارے لیڈران اپنی ذاتی تسکین کے حصول کی خاطر وزیر اعظم کے استعفے کی بجائے احسان شاہ جیسے غریبوں کے بنیادی حقو ق کی بات کرتے۔بجلی کے بڑھتے ہوئے نر خوں کو کم کر نے پر بات کرتے، مہنگائی، بے روزگاری اور لا قانونیت کے جن کو قابو کر نے کی بات کرتے،غریب کی زندگی میں آسانی لانے کی بات کرتے، مظلوموں کو ظالموں کے چنگل سے ازاد کرنے کی بات کرتے، کرپشن اور چور بازاری کے تما م رستے بند کر نے اور ان پر قدغن لگانے کی بات کرتے،ذخیر اندوزوں جنہوں نے صرف اس دھرنے کے دوران چینی کی قیمت 12روپے کلو تک بڑھا دی ہے ان کا قلع قمع کر نے کی بات کرتے۔ لیکن افسوس! یہاں اس طرح کے کسی قسم کے مطالبے کی بجائے صرف ایک ہی مطالبے کا ڈھول پیٹا گیا جس کے نتیجے میںآ زادی اور انقلاب کا خواب اپنی آنکھوں میں سجائے سیکڑوں غرب لوگوں کے جسموں پر ذخم آئے او ر اب تک کی اطلاع کے مطابق تین افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ان سولہ، سترہ دنوں میں 11سو ارب روپے کا نقصان ہوا اور غریب کی زندگی پہلے سے زیادہ مشکل ہوتی جا رہی ہے۔ لوگوں کے کاروبار تباہی کی جانب گامزن ہیں اور جس کے نتیجے میں معا شرے کے مڈل کلاس افراد بھی فاقوں پر مجبور ہیں۔دھرنوں کی قیادت کرنے والے قائدین کے پاس اب بھی وقت ہے کہ وہ اپنی ذاتی انا سے باہر نکل کے عوام کے مفادات کو پیش نظر رکھتے ہوئے ان کے مسائل کے حل کے لئے بات کریں ۔ اللہ کرے کہ تیرے دل میں اتر جائے میری بات۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com
تاریخ اشاعت: 2014-09-02

کالم نگار     :     حافظ ذوہیب طیب

حافظ ذوہیب طیب کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-