بند کریں
منگل ستمبر

کرپشن کے حمام میں سب ننگے ہیں

حافظ ذوہیب طیب :

کرپشن ویسے تو ایک عالمگیر کیفیت ہے لیکن ہمارے ہاں یہ ایک فیشن بنتا جا رہا ہے اور کار ثواب سمجھتے ہوئے اس سے بھرپور فائدہ بھی اٹھا یا جا رہا ہے اور اسی ثواب کو پیش نظر رکھتے ہوئے ”حکمرانوں سمیت جس بندے کا بھی ”دا“ لگتا ہے نے کر پشن کے انبار لگا دئیے ہیں۔اس بات میں بھی دوسری رائے نہیں کہ واقعی ہمارے سیاسی آقابلکہ ان کی بیگمات اور بچوں نے بھی کرپشن کی بہتی گنگا میں خوب ہاتھ دھوئے اور اس سے ابھی تک لطف اندوز ہو رہے ہیں۔حکومتی ایوانوں میں بیٹھے لوگ جو ایمانداری کا حلف لے کے کھلے عام کرپشن کی داستانیں رقم کرتے جا رہے ہیں ظلم تو یہ ہے کہ ان کے پریشر میں کام کرتے تفتیشی ادارے بھی حال سے بے حال ہوتے دکھا ئی دے رہے ہیں۔درجنوں وزارتوں کی ذمہ داری اپنے کاندھوں پر اٹھائے اپنے رانا صاحب کی کرپشن کے تذ کرے تو پہلے بھی کئی لوگوں سے سنے لیکن ایک ٹی۔وی چینل کے اینکر پرسن نے جس طریقے سے سینکڑوں لوگوں کے ساتھ فراڈ کا گھنا ؤنا کھیل کھیلنے والے شخص کے ساتھ سودے بازی کرتے ہوئے جو تفصیلی ویڈیو دکھائی وہ لمحہ فکریہ ہے کہ جس قوم کے مشیروں اور وزیروں کا یہ حال ہو اس قوم کا مستقبل کیا ہو گا؟
گذشتہ چار برسوں میں اربوں روپے کی کرپشن کے تقر یباََ 2500مقدمات میں کو ئی پیشرفت نہیں ہو پائی جس کی وجہ سے اربوں روپے کی کرپشن کھربوں میں پہنچ گئی ہے۔ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کے بین الاقوامی اور پاکستانی چیپٹر کے تحت 2013کے لئے جاری پاکستان میں کرپشن پر سیپشن سروے کی رپورٹ کے مطابق ملک کے برے شعبوں بشمول محکمہ خزانہ،ٹیکس کلیکشن،مواصلات ،وزارت پانی و بجلی سمیت دیگر ادروں میں نشاندہی کے بعد لوٹی گئی رقم کی برآمدگی کی بجا ئے من پسند افراد کی تقرریاں ہوئیں جنہوں نے نام نہاد انکوائریوں کے نام پر قو می خزانے پر مزید بوجھ ڈالا۔ہمیں یہ بات بھی تسلیم کر نا ہو گی کہ اس میں صرف حکمران طبقہ ہی نہیں عام شہری بھی اسی طاقت کے ساتھ اپنا حصہ ڈال رہے ہیں جتنی شدت سے حکمران اشر افیہ ملک کو تبا ہی اور بربادی کے رستے گامزن کر نے میں مصروف عمل ہے۔پچھلے دنوں ایک دوست نے بتایا کہ کس طرح لوگ جعلی ٹینڈروں کے ذریعے ہسپتال انتظامیہ کی ملی بھگت سے ادویات کا ٹھیکہ لیتے ہیں اور ادویات کی بجائے یہ رقم آپس میں تقسیم کر لیتے ہیں۔یقین جانیے کرپشن کے نے نئے طریقے سن کر انسا ن ہکا بکا رہ جا تا ہے کہ کس کس طریقے سے کرپشن کے راستے کھولے جاتے ہیں۔
افسوس تو اس بات کا ہے کہ اس عذاب میں مبتلا ہر فرد بجائے اپنے گریبان میں جھا نکنے اور اپنی اصلاح کرنے کی بجائے دوسروں پر الزام تراشی کرتا رہتا ہے ۔جس کی تازہ مثال پچھلے کئی دنوں سے ہمیں ملک عزیز کے دار الحکومت میں دیکھنے کو نظر آرہی ہے۔ انقلاب و آزادی مارچ کے قائدین اپنے سیاسی فرزندوں کی کرپشن زدہ دولت پر سجائے گئے دھرنوں میں ” نئے پاکستان“کے نعرے لگاتے نہیں تھکتے ۔ جن کے اپنی حکمرانی والے صوبے میں بارشوں کی وجہ سے سینکڑوں مکانات تباہ اور بیسیوں لوگ لقمہ اجل بن جائیں اور یہاں کے وزیر اعلیٰ صاحب اسلام آباد میں رقص و موسیقی کی محفل میں رقص کر تے رہیں ،بھلا ایسے لوگ نئے پاکستان کے خواب کو کیسے تعبیر دے سکتے ہیں۔
قارئین کرام !اس بات میں بھی کو ئی شک نہیں کہ فُٹ پاتھ پر ٹھیہ لگائے بیٹھا پھل والا ہو یا پوش علاقے میں موجودڈیپارٹمنٹل سٹورکا مالک ،پٹرول پمپ کے ملازم سے لے کر مالکان ،مزدور سے لیکر ٹھیکیدار ، طالبعلم سے لیکر استاد ،وکیل سے لیکر جج ،صحافی سے لیکر اینکر پرسن ،سرکاری ملازم سے لیکر افسران خاص،پیرا میڈیکل سٹاف سے لیکر ڈاکٹر ،نوکر سے لیکر صاحب اور چھوٹے سے لیکر بڑے تک ہر بندہ کہیں نہ کہیں کرپشن میں ملوث ہے۔نبی محترم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ ”جس طرح کی رعا یا ہوتی ہے اُس پر اُس طرح کے حکمران مسلط کر دیئے جا تے ہیں“۔اس حدیث مبارکہ کی روشنی میں ہم اپنے گریبانوں کے اندر جھانکیں تو جواب ہمیں خود مل جا ئے گا۔لیکن افسوس!ہم اتنے بے حس ہو چکے ہیں کہ نبی محترمﷺ کے احکامات تو دور ہم پر تو اب قرآن بھی اثر نہیں کرتا۔اس کی اہم وجہ یہ ہے کہ کرپشن کے حمام میں ہم سب ننگے ہیں جس کو جہاں مو قع میسر آتا ہے وہ اس موقع سے بھر پور فائدہ اُٹھاتے ہوئے دوسروں کے حقوق غضب کرتے ہیں اور کمال مہارت کے ساتھ حکمرانوں کو اس کا قصو ر وار ٹہرا کے بری الذمہ ہو جاتے ہیں،یہا ں تک کہ ظلم، ناا نصافی،،مہنگائی،ذخیرہ اندوزی،فراڈ اور دھوکہ دہی ان سب گناہوں میں ہم اپنے حکمرانوں سے بھی سبقت لے جا تے ہیں۔آج اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے حالات تبدیل ہوں تو ہمیں انفرادی طور پر تبدیل ہونا ہوگا ،منافقت کا لبا دہ اُتار کے سچائی اور دیانتداری کے ساتھ کام کر نا ہوگا۔نہیں تو ہمیں انتظار کر نا ہو گا اس سے بھی بُرے حالات کاجو ہمارا مقدر ٹھہریں گے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com
تاریخ اشاعت: 2014-08-28

کالم نگار     :     حافظ ذوہیب طیب

حافظ ذوہیب طیب کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-

: متعلقہ عنوان