بند کریں
منگل ستمبر

عوامی جمہوریت کہاں ہے؟

ڈاکٹر اویس فاروقی :

جمہوریت کی جو درگت پاکستان میں جمہوریت کے حامیوں کے ہاتھوں ہو رہی ہے ایسی تو کسی آمرانہ دور میں بھی نہیں ہوئی تھی طرفہ تماشہ دیکھیے جنہیں جمہوریت کی ابجد کا بھی علم نہیں اور جمہوریت کو کفر کا نظام سمجھتے ہی نہیں کہتے بھی ہیں وہ بھی آج جمہوریت کی حق میں اور اسے بچانے کے لئے باہر نکل آئے ہیں، کیا پاکستان میں جمہوریت ہے؟ اگر ہے تو اسے بچانے کی ضرورت کیوں پیش آرہی ہے جہاں جو نہیں ہوتا اس کی ہی دہائی دی جاتی ہے پاکستان میں رائج جمہوریت کے بارے عمومی رائے تو یہ ہے کہ یہ ایک خاص طبقے کے مفاد کی حفاظت کرتی ہے جبکہ ”جمہور“ کا پاکستانی جمہوریت سے کوئی لینا دینا نہیں ،اب یہی دیکھ لیں جمہور کی پاکستان میں کیا حالت ہے مگر ان کے نمائندوں کو ا س سے کوئی غرض ہی نہیں کہ جن کے ووٹوں سے وہ منتخب ہوئے ہیں ان کے مسائل کو حل کرنا بھی ان کی ہی زمہ داری ہے ،یورپ اور امریکہ میں اس بات کا تصور ہی نہیں کیا جاسکتا کہ عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے والا کوئی نمائندہ ان کے مینڈٹ کی توہین کرے جب کہ پاکستان میں اس طرح کا کوئی تصور ہی نہیں بلکہ یہاں ووٹ کسی ایک جماعت کے پلیٹ فارم سے حاصل کئے جاتے ہیں اور بعد ازاں شامل کسی دوسری جماعت میں ہو جاتے ہیں اس سے بڑی ووٹر کی توہین اور کیا ہو گی۔پاکستان کی آبادی کے بارے کہا جاتا ہے کہ یہ بیس کروڑ کے لگ بھگ ہے مگر کیا یہ بات ہمیں شرمندہ کرنے کے لئے کافی نہیں کہ ہمارے ہاں رجسٹر ووٹر کی کل تعداد تقریباً ساڑھے آٹھ کروڑ ہے،86,194,802۔جنہیں قومی انتخابات میں حصہ لینے والے رائے دھندگان کی کل تعداد چار کروڑ تین لاکھ اٹھاسی ہزار چار سو چار ،45,388,404 بنتی ہے حکومتی جماعت جس بھاری مینڈٹ کے بل بوتے پر حکومت میں ہے اس کے ووٹوں کی تعداد ایک کروڑ انتالیس لاکھ چوہتر ہزار ایک سو چار بنتی ہے ، 14,874,104، جبکہ تقریباً ساڑھے پندرہ کروڑ پاکستانیوں نے ووٹ ہی نہیں ڈالا جن میں بچوں کو اگر نکال بھی دیا جائے تو بھی دس کروڑ کے قریب افراد نے ووٹ نہیں ڈالا ،، جس جمہوریت کے لئے اس وقت پاکستان کی تمام سیاسی ومذہبی جماعتیں اکٹھی ہو کر سڑکوں پر ریلیاں اور جلوس نکال رہی ہیں اس جمہور کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے ۔ پارلیمنٹ میں بیٹھے منتخب نمائندے اور سیاسی جماعتیں جن بیس کروڑ افراد کی نمائندگی کا دعوی کرتے ہیں وہ کہاں ہے ؟ ان کی اکثریت تو اس نظام سے ہی بیزار معلوم ہوتی ہے ،یہ کیسی جمہوریت ہے جس میں جمہور کی رائے بھی شامل نہیں اور وہ غائب بھی ہے یہی وہ خاموش اکثریت ہے جس نے ملک کی تقدیر بدلنی ہے شرط یہ ہے کہ انہیں وہ زبان مل جائے جس سے وہ اپنے ساتھ ہونے والے المیے کا اظہار کر سکیں اسی خاموش اکثریت جسے کوئی پوچھتا نہیں تھا کی زبان عمران خان اور قادری بول رہے ہیں عمران خان اور ڈاکٹر قادری نے اس خاموش اکثریت کو زبان دی ہے اور جب انہوں نے بولنا شروع کیا تو ان کے خلاف جمہورت پر قابض گروہ اکٹھے ہو کر پل پڑئے ہیں۔
 پندرہ دنوں سے ملکی معیشت کا پہیہ جام ہے لیکن حکومت ہے کہ وہ احتجاج کرنے والوں سے ابھی تک مثبت انداز میں مذاکرات ہی شروع نہیں کر سکی بلکہ اس نے اور اس کی ہمائتی مذہبی جماعتوں نے دھرنے والوں کے خلاف جلسے جلوس اور ریلیاں نکالنی شروع کر دی ہیں جس کا سیدھا سا مطلب ہے کہ ملک مزید عدم استحکام کا شکار ہو گا اور فساد اور تصادم کے خدشات کا بھی اظہار کیا جارہا ہے اگر خدا نخواستہ ایسا کچھ ہو جاتا ہے تو ہم سب کہاں کھڑئے ہوں گے اس کے نتائج پر کسی نے غور کیا ہے؟ یوں محسوس ہورہا ہے جیسے یہاں سے دانش بھی کوچ کرتی جارہی ہے ورنہ حکومت خود ریلیاں نکالنے سے پہلے کچھ تو سوچتی کے اس کے اثرات اور نتائج کیا ہو سکتے ہیں۔
میں اسوقت امریکہ میں ہوں جہاں لوگ سوال کرتے پائے جارہے ہیں کہ پاکستان میں کسی کو اس بات کا احساس ہی نہیں کہ دنیا ان کے بارے کیا رائے قائم کرے گی پاکستان میں لگے سرکس نے دنیا کو بھی محظوظ کرنے کا سامان پیدا کر دیا ہے ،امریکہ میں پاکستانی ایک دوسرے سے سوال کرتے پائے جارہے ہیں کہ ا س ملک کا کیا بنے گا جہاں شعور نامی چڑیا کا وجود ہی نظر نہیں آرہا ملک تباہی کی جانب گامزن ہے اور یہ لوگ ایک دوسرے کے خلاف ریلیاں اور جلوس نکال رہے ہیں،مزاکرات کے نام پر ٹھٹہ مزاق کر رہے ہیں،جبکہ ”جمہور“ کو نظر انداز کیا جارہا ہے عام مزدور کی روٹی روزی رک چکی ہے دوا دارو مل نہیں پارہی بیمار ہسپتالوں میں پہنچنے سے قاصر ہو چکے ہیں روزمرہ کی زندگی کے معمولات سر انجام دینے مشکل ہو چکے ہیں مگر کسی کو بھی اس بات کا احساس ہی نہیں کہ بحثیت حکمران اور پاکستانی ہماری زمہ داری کیا ہے کیا حکومتیں اس طرح چلائی جاتی ہیں اور کیا جمہوریت اسی کو کہتے ہیں کہ چند مفاد پرست اکٹھے ہو کر پورے ملک کو یرغمال بنا لیں اور اسے جمہوریت کا نام دے دیں ایسی جمہوریت جس میں جمہور کو سرے سے ہی نظر انداز کیا جاتا ہو جس میں اس کی آواز نہ سنی جاتی ہو اور جس میں اس کے دکھوں کا حل موجود نہ ہو تو بھاڑ میں جائے اسی جمہوریت جس کے زریعے استحصالی نظام پروان چڑھایا جارہا ہو۔ عوام الناس کو سوچنا چاہیے کہ انہیں کس طرح کی جمہوریت اور نظام چاہیے کیا جو رائج ہے جس میں جمہور ہی غائب ہے یا ایسا نظام جس میں تکریم آدمیت اور اسکے مسائل کا حل موجود ہو جس میں ،تعلیم ،صحت،امن اور یکساں مواقع میسر ہونے کے ساتھ ہر شہری کو مساوات کا درجہ حاصل ہو جہاں منصفانہ اور عادلانہ نظام قائم ہو عوام کو اب یہ فیصلہ کر ہی لینا چاہیے کہ اسے کس نظام کی طرف جانا ہے دنیا میں کامیاب نظاموں کا مطالعہ سے بھی سبق حاصل کرنا ضرورہی ہے ۔جمہوریت اگر اپنی اصل حالت میں رائج نہ ہو تو وہ جمہوریت نہیں ہوتی اس کے لئے جدو جہد کی ضرورت ہوتی ہے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com
تاریخ اشاعت: 2014-08-28

کالم نگار     :     ڈاکٹر اویس فاروقی

ڈاکٹر اویس فاروقی کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-

: متعلقہ عنوان