بند کریں
جمعرات اگست

آ بیل مجھے مار

عبدالرحیم انجان :

وزیر اعظم جناب میاں محمد نواز شریف ہمیشہ اپنے بھاری مینڈیٹ کے بوجھ تلے دب کر مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں۔بلکہ ان کے ساتھ اکثر یہ ہوا ہے کہ انہوں نے ” آ بیل مجھے مار “ کے مصداق فوج جیسے طاقت ور اور عوام کے انتہائی پسندیدہ ادارے فوج کے ساتھ سینگ پھنسا کر اپنے بھاری مینڈیٹ کو ہلاک کیا ہے۔
 آج کل الیکشن ۲۰۱۳ ء ء پر دھاندلی کے الزامات میں موجودہ حکومت اور تحریک ِ انصاف میں جو جنگ ہو رہی ہے۔اُس جنگ کا حیرت انگیز پہلو یہ ہے کہ کئی پارٹیوں کے لیڈران حضرات دھاندلی کو بھی مانتے ہیں،یہاں تک کہ دوسری بڑی پارٹی کے سربراہ زرداری صاحب کا بیان بھی ریکارڈ پر موجود ہے کہ یہ’ آر۔اوز‘ کا الیکشن ہے۔ لیکن آج سبھی نام نہاد لیڈران موجودہ حکومت کے ساتھ مل کر یہ شور بھی مچا رہے ہیں کہ جمہوریت کو ری ڈیل نہیں ہونے دیں گے ۔ اِن لوگوں کے کردار کی یہ دو رنگی ایک دلچسپ تماشاہے۔سوال ہے کیا یہ لوگ واقعی جمہوری ہیں ؟ یا جمہوریت کو’ ڈی ریل‘ نہیں ہونے دیں گے جیسی خواہش کے پس پردہ کہانی اپنی اپنی کھال بچانے کی ہے ۔کیا آپ نے آج تک کسین ترقی یافتہ ملک کے لیڈر کے بارے میں سنا ہے کہ اس کے کسی پارٹی لیڈر نے اپنے پارٹی ممبران کی میٹنگ کسی دوسرے ملک میں بلائی ہو۔ ؟ ایست تماشے صرف میرے ملک کے لیڈران کے ساتھ وابستہ ہیں۔زرداری صاحب دوبئی میں میٹنگ بلاتے ہیں۔کچھ دوسرے عوامی لیڈر لندن (انگلینڈ) میں میٹنگز بلاتے ہیں اور عوام فاقوں سے مر رہے ہیں۔
وزیرِاعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف اور اُن کے حامی ، ’حامی‘ سے زیادہ مناسب لفظ’ کرپشن پار ٹنرز‘ ہو سکتا ہے۔، اپنی کرپشن کے کھاتے کھلنے کے خوف سے جمہوریت کو ڈی ریل نہیں ہونے دینا چا ہتے اور وہ صحافی بھی ان کے ساتھ ہیں،جو ہر قومی مسئلے کو اپنے پیٹ کی آنکھ سے دیکھتے اور صحافت کی دنیا میں لفا فے بانٹنے کا دستور رائج کرنے والے میاں صاحب کی عنایات کے بدلے میں صحافت کے نام پر کھٹے میٹھے ڈکار، ڈکار تے رہتے ہیں۔جمہوریت کو ڈیل ریل نہیں ہونے دیں گے کے شور شرابے کے حوالے سے ایک قصہ بے محل نہیں ہو گا۔ اکتوبر ۱۹۹۹ ء ء میں میاں نواز شریف کی حکمت عملی ، ’آ بیل مجھے مار ‘ جو اُن کی شہا نا طبعیت کا خاصا ہے، کے بعد جب جنرل مشرف نے مو صو ف کو چند دن جیل کی ہوا کھلوا کر، اِن کے معافی مانگنے پر سعود ی عرب بھجوا دیا تو اُس موقعہ پر جنرل مشرف نے قوم سے اپنے پہلے خطاب میں فرما یا تھا۔ مجھے ان کا وہ جملہ آج بھی من و عن یاد ہے ”نواز شر یف کا احتساب ، احتساب کے معنے کھو چکا ہے۔احتساب میں کروں گا اور ملک کی لوٹی ہوئی دولت واپس لے کر آوں گا۔“ قوم خوش ہو گئی اور لنڈی کوتل سے کراچی تک میٹھائیا ں بانٹی گئی تھیں۔ظاہر ہے ہم یاران وطن کے دل بھی وطن کے ساتھ ہی دھڑکتے ہیں۔میں نے اپنے لکھنے کی کم بیش پچاس پچپن سالہ زندگی میں پہلی بار فوج کی حمایت میں لکھتے ہوئے مشرف کی آمد کو، پاکستان کے لئے ’سپیدیِ سحر‘ کا نام دیا تھا۔ اُنہیں دنوں پیپلز پارٹی کے ایک سنیئر لیدر ( جن کا نام یاد ا شت کی گرفت میں نہیں آ رہا ، پیپلز پارٹی کے ایک دیرینہ خیر خواہ آفتاب ملک کے شکریہ کے ساتھ ان کا نام لکھ رہا ہوں) آ فتاب شعبان میرانی جوبے نظیر بھٹو شہید کے ساتھ وزیر دفاع رہ چکے تھے،یہاں آئے ہوئے تھے،اُس دور کے پیپلز پارٹی کینیڈا کے صدر سلیم جنجوعہ کی مہربانی سے ہم تین دوستوں کو جناب آفتاب شعبان میرانی کے ساتھ لنچ لینے کا اتفاق ہو۔ مشر ف کے مذکورہ بیان کے بعد مجھے اپنے سارے معزز سیاسی لیڈران دریا میں آئی ہوئی طغیانی میں بہتے اور ڈبکیاں کھا تے نظر آ یا کرتے تھے۔جس کا ذکر میں نے اپنے افسانے ”چیخ “ میں کیا ہے۔ایک پاگل پورے خانے میں کہتا پھرتا ہے۔”اب مزہ آئے گا، میرے ملک میں کوئی لٹیرا نہیں بچے گا،سب جیل میں ہوں گے،قانون کے ہاتھ بڑے لمبے ہوتے ہیں۔“وغیرہ وغیر ہ آفتاب شعبان میرانی صاحب کے ساتھ لنچ لیتے ہوئے جب میں نے اپنے جذبات کا اظہار کیا تو انہوں نے ایک تمسخرانہ مسکراہٹ کے ساتھ میری طرف ایسے دیکھا ، جیسے کسی بچے کو،اُس کی کسی بچکانہ بات پر دیکھا جاتا ہے ؟ اور پوچھا۔آپ سمجھتے ہیں ہے کہ مشرف سب کا احتساب کرے گا ؟ میں نے پُر اعتماد لہجے میں کہا۔جناب والا !وہ فوجی ڈکٹیٹر ہیں، نہ صرف یہ کہ پوری فوج اُن کے پیچھے ہے، اُنہیں کسی کے ووٹ کا لالچ بھی نہیں ہے۔بھلا اُنہیں منصفانہ اور بے رحم احتسا ب سے کون روک سکتا ہے ؟ آفتاب شعبان میرانی صاحب نے بڑے مشفق لہجے میں فرمایا۔” مشرف اگر احتساب کرے گا تو بالکل تنہا رہ جائے گا “ اس کے علاوہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہمارے ہاں سیاست دان کسی قومی مسئلے پر متحد ہوں نہ ہوں، کرپشن کے خلاف آوز بلند کرنے والوں کے خلاف متحد ضرور ہو جاتے ہیں اور ایسے لوگوں کا تمسخر اڑانے کے لئے اپنے پالتو صحافیو ں کوبھی اُن کے پیچھے لگا دیتے ہیں۔“
اس کے بعد ہر موقعے پر جناب آفتاب شعبان میرانی کی بات کی سچائی مجھے، میرا مُنہ چڑاتی نظر آتی ہے۔ آج عمران خان کے خلاف بھی جمہوریت کو بچانے کے لئے وہی لوگ پیش پیش ہیں جو اقتدار ، یعنی سونے کی کان پر نہ صرف قابض رہنا چاہتے ہیں ، اپنی کھال بھی بچانا چاہتے ہیں۔ اُدھر مشرف کے آنے پر جن پاکستانیوں نے لنڈی کوتل سے کراچی تک میٹھائیاں بانٹ کر خوشی کا اظہا ر کیا تھا، وہ مجھ سے زیادہ سمجھ دار تھے ، اُنہوں نے مشرف کے آنے کی خوشی میں نہیں،میاں برادران سے چھٹکارہ پانے کی خوشی میں میٹھائیا ں بانٹی تھیں ۔ کرپٹ سیاست دان اور اُن کا دفاع کرنے والے صحافی ہمارے معاشرے کا وہ ناسور ہیں۔ جنہوں نے پاکستان کو اس کے پاوٴں پر کھڑا ہونے دیا ہے اور نہ ہی کبھی ہونے دیں گے۔
آج میاں نواز شریف صاحب کی کرپشن میں حصے داروں کے عمران خان پر اعتراضات کی فہرست تو خا صی طویل ہے۔لیکن عام پاکستانیوں کو ان کی سول نا فرمانی کی بات اچھی نہیں لگی،کہ یہ بات موجودہ حکومت کے خلاف نہیں، سلطنت ِ کے خلاف ہے۔عمران خان کے باقی سارے مطالبے آئینی لگتے ہیں۔آج جناب پرویر رشید کا یہ بیان بھی ٹی۔وی کی شکل میں سامنے آیا ہے کہ عمران خان نے سابق چیف جسٹس پر جو الزامات لگائے تھے۔ان کے حوالے سے چیف صاحب سے معذرت کر لی ہے۔پرویز رشید صاحب اگر کوئی صاحب احساس انسان ہوتے تو یہ سوچ کو انہیں یقیناً دکھ ہوتا کہ جس معاشرے میں قانون مر جائے۔اُس مردہ معاشرے میں باعزت لوگ قانون سے اپنا گریباں بچانے کے لئے ناکردہ گناہوں کی معافی بھی مانگ لیا کرتے ہیں۔باوجود اس کے کہ الیکشن کمیشن کے سابق سیکرٹرٰی جناب محمد افضل کے انکشافات کہ دھاندلی کیسے کی گئی اور دھاندلی میں کون کون ملوث تھا ؟ کے بعد میاں برادران کے پاس اقتدار میں رہنے کا کیا جواز رہ جاتا ہے ؟ لیکن چونکہ ہمارے قانونی اداروں کو موت کی نیند سلا دیا گیا ہے۔؛اس لئے میاں صاحب اس وقت تک نہیں جائیں گے، جب تک کہ کوئی انہیں بینڈ باجوں کے ساتھ روانہ کرنے نہیں آئے گا اور یہ منزل بہت قریب ہے۔دنیا بھر میں آج تک یہی دیکھا ہے کہ احتجاجی ریلیاں حکومت کے خلاف نکالی جاتی ہیں۔حکومت نے کبھی اپنی اپوزیشن کے خلاف احتجاجی ریلیاں نہیں نکالیں۔لیکن ہمارے یہاں حکومت نے یہ کام شروع کر دیا ہے۔ واقعات کو اپنی مرضی کے خلاف رپورٹ کرنے والے صحافیوں پر حکومت کے نمک خواروں حملے شروع کر دئے ہیں۔حکومت پر پہلے ہی چودہ مظلوموں کے قتل اور کم و بیش ۸۰ لوگوں کے زخمی ہونے کے مقدمے کی تلوار لٹک رہی ہے۔اگر عوام میں خانہ جنگی کا کوئی فتنہ پھوٹ پڑا تو اسے سنبھالنا اور خانہ جنگی کی آگ کو بجھانا حکومت کے لئے مشکل ہو جائے گا۔
 عمران خاں کا مذاق اڑانے والے مائی کے لال صحافی بھی زیادہ نہیں ، بس گنتی کے چند لوگ ہیں،جو جیو اور جنگ کے ساتھ ایک تیر سے دو شکار کر رہے ہیں۔ میاں صاحب کے ساتھ ساتھ میر شکیل الرحمن کو بھی خوش کر رہے ہیں۔میاں صاحب فرماتے ہیں۔مجھ سے استعفیٰ مانگنے کا مطالبہ غیر آئینی ہے ۔ میں مستعفی نہیں ہو گا۔ جو آئین چوری کے مینڈیٹ پر بیٹھے ہو ئے کسی شخص کو دفاع دیتا ہے۔میاں نواز شریف کے علاوہ کوئی اور ہوتا تو آج تک چھوٹے میاں شہباز شریف بیسوں بار کہہ چکے ہوتے۔” ایسے آئین کو میں نہیں مانتا ،۔ میں نہیں مانتا “’ بلکہ یہ کہتے ہوئے موصوف ایک آدھ مائیک بھی توڑ چکے ہوتے ، لیکن اب ؟ خیر چھوڑیں ،میاں برادران کے دوہرے معیار کے حوالے سے اُن کے کس کس تماشے کا ذکر کیا جائے ؟ محترمہ مریم نواز صاحبہ فتویٰ صادر فرما دیں گی کہ ”بنیادی تربیت کی ضرورت ہے “ یہی فتویٰ موصوفہ عمرا ن خان پر لگا چکی ہیں۔
ظلم جب حد سے بڑھ جاتا ہے تو پھر یہی کچھ ہوتا ہے جو ہو رہا ہے۔اور اسی کو اللہ کی بے آواز لاٹھی کہتے ہیں۔کل دو ایک دن پہلے لاہور کا ایک نو عمر لڑکا کسی ٹی۔وی پر کہہ رہا تھا۔” میاں صاحب کو کیا ہو گیا ہے ؟ انہیں شرم نہیں آتی، وہ چھوڑ کیوں نہیں دیتے “ اُس وقت محمد افضل کے انکشافات ابھی سامنے نہیں آئے تھے۔جس طرض جیو کے خلاف ساری قوم فوج کے ساتھ کھڑی ہو گئی تھی ایسے ہی آج لوگ تحریک انصاف کے خلاف مسلم لیگ (ن) کی وکالت کرنے والیٹی۔وی چینلز کو شوق سے دیکھتے ہیں اور نہ ہی ان کے لئے کوئی عزت مندانہ سوچرکھتے ہیں۔
میاں صاحب بجا طور پرسمجھتے ہیں کہ امریکہ انہیں بچا لے گا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکہ غریب پاکستانی قوم کے قاتل امریکنوں کو تو واقعی چھڑوا لیتا ہے۔ امریکہ اپنے کارندوں کو ، جب تک اس کا کام پورا نہ ہو جائے، تنہا نہیں چھوڑتا۔اُدھر اس نازک موقعے پر انڈیا کے بھیانک چہرے سے بھی امن کی آشا کا نقاب سرک رہا ہے اور انڈیا اور امریکہ کی میاں صاحب کے ساتھ ہمدردیاں میاں نواز شریف اور ان کی حب الوطنی کو بھی بے نقاب کر رہی ہیں۔
جیو۔ٹی۔وی کی حمایت” آزادی ، صحافت“ اور اب میاں نواز شریف کی حمایت” آئین“ کے نام پر ہو رہی ہے۔اور فرمایا جا ریا ہے۔ہم کسی غیر آئینی کاروائی کو پسند نہیں کریں گے۔“ہمارے اندرونی معاملا ت میں امریکہ کی اس مداخلت کے جواب میں عمران خان نے بڑا چھا جواب دیا ہے کہ جب موجودہ حکومت کے وزیر داخلہ نے خود پارلیمنٹ میں کھڑے ہو کر کہا ہے کہ سبھی حلقوں میں ساٹھ سے ستر ہزار ووٹس جعلی ہیں توکیا ایسے الیکشن امریکہ اپنے ہاں قبول کر سکتا ہے ؟
آ خر میں قومی حکومت کے حوالے سے میں جناب عمران خان سے ایک بات کہنا چاہتا ہوں۔قومی حکومت سیاست دانوں پر مشتمل نہیں ہونی چاہیے۔مجھے بہت افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ ہمارے سیاست دانوں کا کردار کچے گھڑے سے بھی زیادہ نا قابل ارعتبار ہے۔اِس لئے قومی حکومت ڈاکٹر صفدر محمود جسے قائدِ اعظم آشنا لوگوں پر مشتمل ہونی چاہیے۔جو یہ جانتے ہیں کہ قائد اعظم کیسا پاکستان چاہتے تھے ؟
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com
تاریخ اشاعت: 2014-08-28

کالم نگار     :     عبدالرحیم انجان

عبدالرحیم انجان کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-