بند کریں
جمعہ اگست

Third Umpire, Decison Pending

سید شاہد عباس :

 اس سے پہلے کہ قارئین میرے اردو کالم کا انگریزی عنوان دیکھ کر ہی تنقید پر کمر کس لیں میں ابتداء میں ہی اس کے لیے معذرت خواہ ہوں۔ لیکن آج کا کالم نہ تو کوئی ایسا سنجیدہ تجزیہ سمجھ کہ لکھ رہا ہوں جسے سے اقتدار کے ایوانوں یا اپوزیشن کی صفوں میں ہلچل مچ جائے ۔ نہ ہی میں کالم نویسی میں کسی ایسے مقام پر ہوں جہاں ملک کو سنوارنے کے " مفت مشورے " دینے کی ذمہ داری اپنے ذمے لے لوں ۔ میرے جیسے نوجوان تو سیکھنے کے لیے لکھتے ہیں۔ میری نسل کا لکھاری ان کالم نویسوں کے نقش قدم پر ہمہ وقت چلنے کے لیے تیار رہتا ہے جن کے لفظ اخبار کی سرکولیشن میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اسی لیے وہ لفظوں کا " اجر" بھی پاتے ہیں۔ جب کہ میرے جیسے طالبعلم لفظوں کو " لوگوں کی نظروں" تک پہنچ جانے کے اجر کو ہی کافی سمجھتے ہیں۔
کرکٹ کے کھیل کی ابتداء کے حوالے سے نا مکمل شواہد 1301ء تک جاتے ہیں۔ جب کینٹ میں ایک کھیل کے بارے میں تاریخ میں ذکر ملتا ہے جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ کرکٹ سے ملتا جلتا کھیل تھا۔ لیکن جدید کرکٹ کی بنیادوں کے حوالے سے اس کا تذکرہ اٹھارہویں صدی میں ملتا ہے۔ اور 1900ء کے سمر اولمپکس میں بھی یہ کھیل کسی نہ کسی شکل میں شامل تھا۔ اور یہ شاید اس کے واحد اولمپکس شمولیت کے آثار ہیں۔ اور پہلا ٹیسٹ غالباً 1877ء کھیلا گیا۔ کرکٹ کا بانی گوروں کو کہا جاتا ہے۔ گوروں سے مطلب " برطانوی گورے " ۔ اس کھیل کو آج کی جدید شکل میں لانے کا سہرا بھی برطانیہ کے سر ہے۔ اس کھیل میں آج کل " 11کھلاڑی" ایک طرف ہوتے ہیں ۔ دو ٹیمیں۔دو فیلڈ ایمپائر۔ تھرڈ ایمپائر۔ اور ریزور ایمپائر۔ اس کے علاوہ دیگر آفیشلز۔
پاکستان میں آج کل پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا میں یہی " کھیل" کھیلا جا رہا ہے۔ لیکن حیران کن طور پر اس سارے "کھیل" میں سب سے زیادہ انحصار " تھرڈ ایمپائر " پر کیا جا رہا ہے۔ دونوں ٹیمیں اپنے کھلاڑیوں کی قابلیت پر بھروسہ کرنے کے بجائے "تھرڈ ایمپائر" ساتھ ملانے کے چکر میں نظر آ رہی ہیں۔ " فاسٹ باؤلر" باونسر تو مار رہا ہے لیکن اسے اس بات کی پرواہ نہیں کہ فیلڈ ایمپائرز اسے " نو بال " قرار دیں یا نہ دیں۔ اسے زیادہ فکر اس بات کی ہے کہ " تھرڈ ایمپائر" اسے نو بال قرار نہ دے ۔ حریف" بیٹسمین" جوکافی عرصے سے آؤٹ آف فارم تھا اب اپنی فارم بحال کرنے کے چکر میں ہے۔ یہ بیٹسمین کافی عرصہ پابندی کا شکار رہا۔ اور اسی پابندی نے شاید اسے کچھ چڑ چڑا بھی بنا دیا ہے۔ اور اب جب کہ اس کی ٹیم میں واپسی وہ بھی بطور" کپتان" ہوئی ہے تو وہ 92ء کے کپتان کے ہاتھوں اپنی وکٹ گنوانے کے موڈ میں ہرگز نہیں ہے۔ 92ء کا کپتان ، اپنی اس بات پر اڑا ہوا ہے کہ جس میچ میں اسے شکست ہوئی وہ سراسر " میچ فکسنگ" تھی۔ اس میچ فکسنگ کی روک تھام اور اس کے تدارک کے لیے ادارے موجود ہیں۔ لیکن ہم کیوں کہ ابھی کرپشن کی دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں لہذا ان اداروں پر بھی اعتماد ختم ہو تا جا رہا ہے۔ اور میچ فکسنگ کی روک تھام کے لیے بھی ہم "تھرڈ ایمپائر" کی طرف دیکھتے ہیں۔ یعنی "تھرڈ ایمپائر" جو صرف اس وقت حرکت میں آتا تھا جب فیلڈ ایمپائر اسے کسی فیصلے میں معاونت کے لیے کہیں، اس پر ایک اضافی بوجھ ، میچ فکسنگ کا مداوا۔
اب " میچ فکسنگ" کے لیے متعین فیلڈ ایمپائرز فیصلے میں14" ماہ" کا عرصہ لگاتے ہیں تو ایک ٹیم ان پر "عدم اعتماد" کااظہار کھلے عام کرنا شروع کر دیتی ہے۔ ہارنے والی ٹیم کے کپتان کے خیال میں کیوں کہ تمام فیلڈ اسٹاف بشمول فیلڈ ایمپائرز جیتنے والی ٹیم کے ساتھ مل گئے ہیں لہذا اسے صرف اب یقین شاید " تھرڈ ایمپائر " پر رہ گیا ہے۔ اب " تھرڈ ایمپائر" پر ایک اور دباؤ کہ ہارنے والی ٹیم کے حق میں فیصلہ گیا تو کہا جائے گا " گیم آف جینٹلمین " میں بلاوجہ مداخلت کی گئی ۔ اور اگر فیصلہ جیتنے والی ٹیم کے حق میں چلا گیا تو ہارنے والا کہے گا کہ یہ بھی جیتنے والی ٹیم کے ساتھ مل گئے ہیں۔ لہذا اسی وجہ سے "تھرڈ ایمپائر" نے کسی حد تک خود کو غیر جانبدار رکھا ہوا ہے۔ لیکن سوچنے کی بات ہے کہ آخر کب تک ؟ اب جیتنے والی ٹیم کا کپتان کسی بھی طرح اپنی جیت چھوڑنے کو تیار نہیں۔ حالانکہ سونے پہ سہاگہ یہ ہوا کہ جیتنے والی ٹیم کے اہم کھلاڑی اپنی" ٹیم میٹنگ" میں اور بعد ازاں سب کے سامنے یہ اعتراف کر چکے ہیں کہ ان کی جیت کا سکور جو بھی رہا ان میں سے اکثر رنز کے بارے میں تعین ہی نہیں کیا جا سکتا کہ وہ تمام قوانین کے مطابق بنے کہ نہیں۔ اب ہارنے والا کپتان یہ نقطہ اٹھاتا ہے کہ جب آپ کی اپنی ٹیم کے کھلاڑی ہی جیت کو مشکوک بنا رہے ہیں تو پھر میں کیسے ہار مان لوں۔
اس وقت دونوں ٹیمیں آمنے سامنے ہیں۔ اور"بظاہر " ہارنے والا کپتان اکیلا کھڑا ہے۔ لیکن اس اکیلے پن میں بھی وہ مایوس نظر آتا اور جن لوگوں نے اسے میچ میں سپورٹ کیا تھا وہ بھی کسی نہ کسی حد تک اس کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں۔ جب کہ دوسری طرف جیتنے والی ٹیم کے ساتھ کافی لوگ جمع ہیں جو اس کی ہاں میں ہاں ملا رہے ہیں۔ لیکن جیتنے والی ٹیم کا کپتان اس بات سے یا تو بے خبر ہے یا سمجھتے ہوئے بھی سمجھنا نہیں چاہ رہا کہ اس کی ہاں میں ہاں ملانے والے "حواری" شاید اس وقت اس کے ساتھ نہ کھڑے ہوں جب واقعی وہ " میچ فکسنگ" کے جرم میں مجرم ٹھہرا دیا جائے۔
عام حالات میں تمام ٹیموں کے کھلاڑی ، ان کے " کوچز"، ٹیم آفیشلز، " تھرڈ ایمپائر" کے کردار کو میچ میں محدود رکھنے کے حامی ہوتے ہیں۔ لیکن جب ان کی جیت پہ حرف آتا ہے تو وہ چاہتے ہیں کہ جس جیت پر"انگلیاں" اٹھ رہی ہیں اس معاملے میں تھرڈ ایمپائر ان کا ساتھ دے ۔ اس تمام صورت حال میں"تھرڈ ایمپائر" ایک عجیب مخمصے کا شکار ہے۔ دونوں فریق دلائل کی نشتر چلا رہے ہیں اور کسی نہ کسی طرح "تھرڈ ایمپائر" کی ہمدردیاں حاسل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایک فریق تو "تھرڈ ایمپائر " کے پاس جا بھی چکا ہے۔ "تھرڈ ایمپائر" نے اس کو یہی تلقین کی ہے کہ ہارنے والے کپتان کے ساتھ مل بیٹھ کر اپنے معاملات طے کرو کیوں کہ شاید تھرڈ ایمپائر کو یہ معلوم ہے کہ اگر اس نے معاملات کو سدھارنے کے لیے کوئی قدم اٹھایا تو پھر " ایک نیا میچ" ہی شروع کرنا پڑے گا۔ لہذا دونوں فریق کے مطالبوں کے باوجود اس وقت تک تھرڈ ایمپائر کوئی واضح رد عمل دینے سے گریزاں ہے جو کہ درست بھی ہے۔ یعنی اس وقت تک تھرڈ ایمپائر کی سکرین پر" DECISION PENDING" کے الفاظ جگمگا رہے ہیں۔ شاید تھرڈ ایمپائر چاہتا ہے کہ فریق خود فیصلہ کریں۔ لیکن اگر تھرڈ ایمپائر کا فیصلہ کرنا مجبوری بن گیا تو کھیل کا حسن برقرار رکھنے کے لیے اس کا جو فیصلہ ہو گا وہ شاید سب جانتے ہیں۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com
تاریخ اشاعت: 2014-08-26

کالم نگار     :     سید شاہد عباس

سید شاہد عباس کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-