بند کریں
پیر ستمبر

غلام ہیں غلام ہیں امریکہ کے غلام ہیں؟

یونس مجاز :

صاحبو !گزشتہ چند ماہ سے طاری بے حسی اور بوریت کی وجہ سے کچھ بھی لکھنے کو جی نہیں کررہا تھا کیونکہ ایک ہی جیسے حالات واقعات کی تکراراور لفظوں کی حرمت کی پامالی مجھ سے دیکھی نہیں جاتی سو قلم روٹھ جاتا ہے جسے منانے کی زبردستی نہیں کر سکتا تھا شائد اب بھی کچھ نہ لکھ پاتامگر جب سے آزادی مارچ اور انقلاب مارچ شروع ہوئے ہیں خود کو قلم اٹھانے کی طرف مائل کرنے کی کوشش میں تھا یہ کامیابی مجھے اس وقت ملی جب ان دھرنوں کے عروج نے اناوٴں کے اسیر ان سیاست دانوں کی وجہ سے حکمرانوں سمیت فریقین اور سب سے بڑھ کر وطنِ عزیزکو بند گلی میں داخل کردیا سو اندر کے کرب کو پہلے فیس بک پر انڈیلنے کی کوشش کی لیکن تشنگی کے احساس نے کالم لکھنے پر مجبور کر دیا جہاں ان دھرنوں نے بہت سووٴں کے نقاب الٹ دئیے ہیں اور نام نہادجمہوریت کی قلعی کھول کے رکھ دی ہے وہاں اسلامی جمہوریہ پاکستان کی آزادی پر بھی سوالیہ نشان لگ گیا ہے امریکہ بہادر نے حسبِ روایت ہماری اندرونی سیاسی چپقلش میں ٹانگ اڑاتے ہوئے کہا ہے کہ وہ پاکستان میں کسی غیر آئینی تبدیلی کی حمایت نہیں کرے گا امریکہ پاکستان میں آئینی اور انتخابی عمل کی حمایت کرتا ہے اور پاکستان میں جمہوری عمل کی تقلید ہونی چائیے امریکی محکمہ خارجہ کے بیان کے مطابق نواز شریف پانچ سال کے لئے وزیر اعظم منتخب ہوئے ہیں ان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ نہیں کیا جا سکتا امریکہ پاکستان کے ساتھ جمہوریت کے استحکام کے لئیے کام کر رہا ہے پاکستان کی صورت حال پر پوری نظر رکھے ہوئے ہیں موجودہ صورتحال کو تشویشناک قرار نہیں دیا جا سکتا سیاسی ڈائیلاگ کے لیے کافی گنجائش موجود ہے فریقین کو تشدد سے گریز کرنا چائیے جب کہ امریکی سفارت خانے سے جاری بیان کے مطابق امریکہ اسلام آباد میں جاری مظاہروں کا محتاط جائزہ لے رہا ہے اس کے علاوہ تشدد سے گریز قانون کی حکمرانی کا احترام اور اختلافات پرامن مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی بات کی گئی بی بی سی کے مطابق امریکی سفارت خانے نے یہ بھی کہا ہے کہ امریکہ کسی طور پر بھی فریقین کے درمیان بات چیت یا اس عمل میں شامل نہیں ہے ۔اعترض اس بات پر نہیں کہ امریکہ نے بیان کیوں جاری کیا کیونکہ یہ اس کی روایت رہی ہے کہ وہ جن ممالک کو ڈالر دیتا ہے ان پر اپنی اتھارٹی موقع بے موقع جتاتا رہتا ہے دکھ اس بات کا ہے کہ پارلیمنٹ میں اٹھارہ کروڑ عوام کی نمائندگی کرنے کی دعوے دار بارہ سیاسی جماعتوں میں سے کسی ایک نے بھی ناراضگی تو دور کی بات ماتھے پر شکن تک نہ آنے دی لبرل جماعتوں کے اطمینان کو کسی حد تک ہضم کیا جا سکتا ہے کہ ان کا آقا ان کی نام نہاد ،لوٹ کھسوٹ پر مبنی جمہوریت کو قائم رکھنے کے لئے ان کی پیٹھ پر کھڑا ہے سو عوام ہوں یا کوئی اور خفیہ ہاتھ ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا ،اس لئے تو میاں صاحب اور ان کے مشیر وں نے فوج کے اس مشورے کو درخود اعتنا نہ سمجھا جو نہ صرف آئی ایس پی آر کے ذریعے جاری کیا گیا کہ فریقین سیاسی بحران کو بامقصد مذاکرات کے ذریعے فوری حل کریں بلکہ ایک دفعہ آرمی چیف نے از خود وزیراعظم ہاوس جاکر اور دو دفعہ میاں شہباز صاحب کو جی ایچ کیو بلا کر ہمدردانہ مشورہ دیا ،عین اس وقت جب عمران خان اور قادری صاحب کے ساتھ مذاکرات کا ایک ایک دور ہو چکا تھا آئی جی اسلام آباد آفتاب چیمہ جن کی دیانت داری ، دور اندیشی اور فرض شناسی سے میں ذاتی طور آگاہ ہوں اور انھیں اس وقت سے جانتا ہوں جب وہ ہری پور میں اے ایس پی تھے ،کو رخصت پر بھیج کر اپنی پسند کے جونیئر آفیسرخالد خٹک کو قائم مقام آئی جی تعینات کرنا مذاکرات سپوتاژ کرنے کے لئے کافی تھاجس کے جواب میں افواہ ہی سہی آپریشن کی بھنک پڑنے پر عمران خان نے نہ صرف مذاکرات سے انکار کر دیا بلکہ نئے آئی جی خٹک کو للکارتے ہوئے دھمکی دی کہ اگر ان کے کسی کارکن کو کچھ ہوا تو وہ آئی جی کو پاکستان کے کسی کونے میں نہ چھوڑیں گے سو حالات نو ریٹر ن تک پہنچتے دیکھ کر حکومت کو خیال آیا کہ وہ ایک بار پھر کچھ غلط کر رہی ہے وزیر اطلاعات پرویز رشید اور پھر وزیر اعظم کی طرف سے بھی تردید آئی کہ حکومت کسی آپریشن کا سوچ بھی نہیں سکتی چلو دیر آیددرست آید موجودہ صورت حال کا بغور تجزیہ کیا جائے تو حکومت کی ایسی ہی کوتائیوں نے اسے اس نج تک پہنچایا ہے جن کی فہرست طویل ہے لیکن عمران خان کو نو ریٹرن تک لانے میں میاں صاحب ان کے بعض وزراء اور ایک میڈیا ہاوس نے جس تندی سے کام کیا اس کا جواب نہیں بات عمران خان کی طرف سے چار حلقے کھولنے کے مطالبے سے شروع کی جائے تو ا لیکشن کمیشن،الیکشن ٹربیونل اور سپریم کورٹ سے مایوس ہوجانے کے بعد جب حکومت نے بھی لفٹ نہ کرائی تو عمران خان احتجاج کی راہ پر چل نکلے میڈیا کے ذریعے شنوائی کا راستہ اختیار کیا تو بھی حکومت بظاہر ستو پی کر سوتی رہی سوعمران خان لانگ مارچ اور پھر دھرنے تک جا پہنچے ان کی اس تحریک کو مہمیز دینے میں حکومت اور اس کے حواریوں نے خوب دلجمعی سے اپنا فرض نبایا تا وقتکہ کہ عمران خان کا لانگ مارچ لاہور سے چل نکلا تو حکمرانوں کا ماتھا ٹھنکامسئلے کو حل کرنے کے بجائے پھر شرارت سوجھی لانگ مارچ میں روڑے اٹکانے کے لئے ایک ماہ کے لئے یومِ آزادی کی مناسبت سے اسلام آباد میں تقریبات رکھ دی گئیں لیکن عمران خان کے ارادے جب بھی کمزور نہ پڑے تو اپنے حواریوں کے ذریعے حِسبِ روائت معزز ادروں کا کندہ استعمال کرتے ہوئے ہائی کورٹ لاہور میں آزادی مارچ کو روکنے کی درخواست دائر کرا دی جہاں سے فوری سماعت کے بعد مختصر آرڈر میں غیر آئینی لانگ مارچ اور دھرنے سے منع کر دیا گیا جس کو پیپلز پارٹی سمیت سیاسی جماعتوں اور قانونی ماہرین نے حیرت کی نگاہ سے دیکھا اور سیاسی معاملات عدالتوں کے بجائے سیاست دانوں کی صوابدید قرار دیا ،تفصیلی فیصلہ میں مقامی انتظامیہ سے اجازت کی شرط عائد کردی پہلے دھرنوں کو لاہور ہی روکنے کی بات کی گئی لیکن دیگرسیاسی جماعتوں کی مداخلت حکمران جماعت میں موجود جمہوری اپروچ کے حامل سیاست دانوں کے مشورے پر اجازت دے دی گئی لیکن اجازت بھی حکمرانوں سے ہضم نہ ہوئی گجرانوالہ میں پومی بٹ کے ذریعے لانگ مارچ پر پتھراوٴ کرا کر عمران خان کو اشتعال دلانے کی کوشش کی گئی جسے میڈیا نے لائیو کوریج دی اور پھر پومی بٹ کو گرفتار بھی کر لیا گیا تاکہ دستانے خون آلود نہ ہو سکیں ، اس دوران اسلام آباد میں مبینہ طور پر حکومت کی طرف سے چار منہ والی کیلیں بھی پھینکوانے کے ثبوت بھی تحریک انصاف کے کارکنوں نے میڈیا کو فراہم کئے جب لانگ مارچ اور انقلاب مارچ دونوں ساتھ ساتھ چل رہے تھے اسلام آباد پہنچ گئے تو بھی حکمرانوں نے حا لات کی سنگینی کا ادراک کرنے کے بجائے اپنے وزراء اور حواریوں کے ذریعے من پسند چینل پر شرکا ء کی کم تعداد کو بہانہ بنا کر آزادی اور انقلاب مارچ کومایوس کن قرار دے کر مذاق اڑایا گیا جس پر عمران خان جو اپنی سیاسی زندگی کا پہلا اور آخری جواء کھیل رہے ہیں مزید اشتعال میں آگئے قومی ،اور تین صوبائی اسمبلیوں سے تحریک انصاف کے استعفے تک تو بات ٹھیک تھی لیکن سول نافرمانی جیسی بات کا اعلان کر کے خود کو نہ صرف بند گلی میں لے گئے بلکہ اپنے حمائتیوں اور مخالفین کو سنسنی خیز حیرت میں ڈال دیا جس سے ان کی ساکھ کو سخت دھچکا لگا جس پر شیخ رشید جیسے شخص کو بھی کہنا پڑا مجھ سے مشورہ نہیں کیا گیا خصو صا ْ کاروباری حلقوں میں سخت مایوسی پھیلی مجھ جیسے شخص کو بھی یہ بات ہضم نہ ہوئی سو عمران خان ہوا کے گھوڑے پر ایسے سوار ہوئے ایک کے بعد ایک فیصلہ کرتے گئے پہلے بفر زون کراس کیا پھر ریڈ زون تک جا پہنچے جہاں انقلاب مارچ بھی ان کے ہمرکاب ہو گیا حکومت کے پسینے تو بفر زون پر ہی چھوٹ گئے تھے جب مذاکرات کے لئے اپوزیشن کے ذریعے ڈول ڈالا گیا جس میں بے دلی نمایا ں تھی سو قادری اور عمران دونوں کی جانب سے مذاکرات سے انکار کر دیا گیا ․ریڈ زون میں اپوزیشن جماعتوں کے ذریعے جن کا موقف تھا جمہوریت کو بچانے نکلے ہیں ایک بار پھر مذاکرات کا آغاز تو ہوا لیکن حکومت کی طرف سے آئی جی کی تبدیلی سے پیدا ہونے والا ڈیڈ لاک تا حا ل ختم نہیں ہو سکا اور عمران خان نے ایک قدم آگے لیتے ہوئے اپنے 34 ارکان قومی اسمبلی کے استعفے شاہ محمود قریشی کے ذریعے سیکرٹری قومی اسمبلی کے پاس جمع کراتے ہو ئے کہا ہے کہ میاں نواز شریف کا استعفیٰ اور نئے انتخابات ہی اس بحران کا حل ہیں دوسرے جانب انقلاب مارچ کے طاہر القادری صاحب کو ریڈ زون تک لانے کا سہرا ہ بھی حکمرانوں کے ہی سرجاتا ہے جس کا آغاز ماڈل ٹاوٴن سے ہو تا ہے جہاں پولیس نے سو سے زائد عوامی تحریک کے کارکنوں کو اس وقت گولیوں سے بون دیا گیاجب حکومت نے بزور بازو قادری صاحب کے گھر کے گرد رکاوٹوں کو ہٹانے کی کوشش کی تو وہاں موجود کارکنون نے مذحمت کی جن میں سے 14 شہید ہوگئے باقی ہسپتال میں جا پہنچے ،ٹی وی فٹیج کی موجودگی کے باوجود آج تک اصل قصور واروں کو سزا نہ مل سکی الٹا بے بنیاد مقدموں کے ذریعے عوامی تحریک کے کارکنوں کو دبانے کی کوشش کی گئی ،قادری صاحب ملک پہنچے توان کے جہاز کا رخ اسلام آباد سے لاہور کی جانب موڑ کر 1999 کی تاریخ دھرائی گئی جب جنرل مشرف کا جہاز کراچی ائیر پورٹ پر اترنے سے روک دیا گیا تھا ،لیکن آج ان ہی بے گناہوں کا خون میاں برادران کے لئے سوہانِ روح بن چکا ہے ،اور آج قادری صاحب ان شہدا ء کے خون کا حساب مانگنے ریڈ زون میں بیٹھے ہیں اور کہتے ہیں آج جمہوریت کو بچانے کے لئیے پارلیمنٹ سرگرم عمل ہے وکلاء جلوس اور ہڑتالوں پر ہیں سیاسی سماجی حلقے میدان میں ہیں لیکن اس وقت یہ سب لوگ کہاں تھے جب بے گناہوں کو خون میں نہلا دیا گیا ایف آئی آر تک درج نہیں کی گئی باوجود اس کے کہ سیشن کورٹ لاہور نے درخواست میں موجود 21افراد کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا ہے جس میں میاں برادران کے نام بھی شامل ہے سو قادری صاحب میاں صاحبان کے استعفے اور ان کے خلاف مقدمہ درج کرنے تک واپسی سے انکاری ہیں حالات اس وقت خطرناک حد تک خراب ہیں نام نہاد جمہوریت کی بینیفشری سیاسی جماعتیں ایک طرف عمران خان اور قادری ایک طرف کھڑے ہیں جن کو تخت یا تختہ کے بجائے خورشید شاہ کی طرف سے ترجیحات میں تبدیلی کا فارمولہ قبول کر لینے کا مشورہ بعض شرائط کے تحت قبول کر لینا چائیے گیند میاں نواز شریف کے کورٹ میں ہے جنھوں نے مشورے کے لئیے جوڑ توڑ کے ماہر آصف زرداری کو کھانے پر مدعو کر لیا ہے خواجہ آصف کے بقول وزیراعظم کے استعفے پر آئین میں موجود طریقہ کار کے مطابق بات ہو سکتی ہے؟ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے اس کے لئے بھی وقت بہت کم رہ گیا ہے بیرونی ایمپائروں کی تھپکی پر نظر رکھے میاں صاحب کو اپنے ایمپائر کے مشوروں پر عمل کر لینے میں بھی کوئی حرج نہیں بات امریکہ کے بیانات کی ہورہی تھی کہ لبرل جماعتوں کا اس مداخلت پر خاموش رہنا تو بنتا ہے لیکن پاکستانی قوم اس بات کو کیسے ہضم کر پائے گی کہ بات بے بات پر امریکہ کو آڑے ہاتھوں لینے والی مذہبی وسیاسی جماعتوں کے منہ میں بھی گنگنھیاں پڑی ہوئی ہیں یعنی یہ بات طے ہوگئی” غلام ہیں غلام ہیں امریکہ کے غلام ہیں “سو نہ صرف امریکہ کے احکامات کا سلسلہ اب تک جاری ہے بلکہ برطانیہ اور بھارتی وزیر اعظم کی ہمدردیاں بھی حکمرانوں کی پیٹھ تھپتھپا رہی ہیں ٓزادی مارچ کے بھاری پتھر تلے دبے عمران خان ضرور پھڑپھڑ ائے اور امریکہ سمیت مودی کو للکارتے ہوئے مداخلت سے باز رہنے کی تاکید کی اور کہا کہ میاں نواز شریف امریکیوں کے بوٹ پالش کر کے اپنا منہ دیکھنے پر اس لئے مجبور ہیں کہ ان کہ دولت امریکہ کے بینکوں میں پڑی ہے جب کہ عمران خان کی ایسی کوئی مجبوری نہیں ،خدا کرے ان سطور کی اشاعت تک ملک سے یہ خطرناک بحران ٹل چکا ہو ۔چلو مل کر نعرہ لگائیں ،”غلام ہیں غلام ہیں امریکہ کے غلام ہیں “۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com
تاریخ اشاعت: 2014-08-24

کالم نگار     :     یونس مجاز

یونس مجاز کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-

: متعلقہ عنوان