بند کریں
ہفتہ اکتوبر

پاکستان کا مستقبل اور تبدیلی کا طریقہ کار

محمد عزیر عاصم :

نوجوان مجھے یونی ورسٹی کے کیفے ٹیریا میں ملا تھا،میں اپنا ہی لکھا ہوا کالم اپنے اخبار کے ایڈیٹر سے ڈسکس کر رہا تھا،کالم موجودہ سیاسی صورت حال پہ مبنی تھا،ایڈیٹر میری رائے سے متفق نہیں ہو رہا تھا،نوجوا ن بڑے انہما ک سے ساری گفتگو سن رہا تھا،جب میں نے کال ختم کی تو اس نے ایک ایسا سوال کیا جو میں موجودہ سیٹ اپ بر قرار رکھنے کی خوائش رکھنے والوں کے سامنے رکھ رہاہوں،سوال یہ تھا کہ جو سیٹ اپ ایک پڑھے لکھے نوجوان کو روزگار فراہم نہیں کر سکتا،جس سیٹ اپ میں ہماری بچیوں کی عزتیں محفوظ نہیں ،جو سسٹم کے ہوتے ہوئے ایک زمیندار معصوم بچے کے دونوں بازو کاٹ دیتا ہے،جس سسٹم میں عورت کو کاروبار کا ذریعہ بنا دیا گیا ہے،جس سسٹم میں غریب کا خون نالی میں بہنے والے پانی سے بھی سستاہے،جہاں پہ امیر کے اشاروں پہ قانون ہی نہیں ،قانون کے رکھوالے بھی ناچتے ہیں،جہاں پہ فرقہ واریت سرکار کی سرپرستی میں پروان چڑھ رہی ہو،ایک ایسانظام جس کے ہوتے ہوئے غیر ملکی سفارتخانے یہاں پہ اپنے خفیہ منصوبے سرعام پورے کررہے ہوں،جہاں پہ غریب بھوکا سوتا ہے اور امیروں کے کتوں سے بچا ہوا رزق ضائع کردیا جاتا ہے،کیا آپ لکھنے والے ایسے سسٹم کو مچانے کے لیے اپنی توانائیاں صرف کر رہے ہیں،آپ انقلاب کے لیے کام کرنے والی قوتوں کا ساتھ کیوں نہیں دیتے،کیا حکمرانوں کے قصیدے پڑھنے کی بناء پر آپ کو مالامال کیا جاتاہے،ایک ہی سانس میں اتنے سوالات ،نوجوان کی پیشانی پسینے سے شرابور ہوگئی،اس کا حلق خشک ہوگیا اور آنکھیں غصے کی شدت سے سرخ ہوگئیں،میں مسکراتا رہا،اس کے کول ڈاؤن ہو جانے کا انتظار کرتا رہا،وہ میری خاموشی سے تنگ آگیا،میں نے پہلو بدلا،اور ان سوالات کی بنیادی وجہ نو جوان کے سامنے رکھتے ہوئے اپنی گفتگو کا آغاز کیا،محترم آپ کا نام؟،جی مزمل آفتاب،گڈ،پیارا نام ہے او رملک و قوم کی فلاح کے لیے آپ کی سوچ اس سے زیادہ پیاری،بہرحال جہاں تک آپ کے سوالات کی بات ہے ،وہ درست ہیں ،اور ان پہ کڑھنا ہر محب وطن کی پہچان ،لیکن آپ ان کے حل کئے لیے جو تجویز آپ اپنے ذہن میں تیار کیے بیٹھے ہیں اور جن قوتوں کا ساتھ دینے کی بات آپ کر رہے ہیں ،درحقیقت وہی قوتیں ا ن حالات کی ذمہ دار ہیں۔
نوجوان کی کیفیت سے میں اندازہ لگا چکا تھا کہ بات اس کی سمجھ میں نہیں آرہی،میں نے کہا کہ محترم،آپ کہتے ہیں کہ سسٹم ٹھیک نہیں ،موجودہ جمہوری نظام ان مسائل کی جڑ ہے،تو آپ خود ذرا اپنے ذہن پہ زور ڈالیں،۱۹۹۹ءء تک حالات کیسے تھے،امن و امان کی صورت حال کیسے تھی اور معاشی ترقی کی رفتار میں پاکستان کی پوزیشن کیاتھی ،پھر۱۲اکتوبر ۱۹۹۹ء  کی ایک خون آشام آئی،ایک جنرل سرحدوں کی رکھوالی چھوڑ کے ،جمہوری حکومت کا تختہ الٹ کے اقتدار میں آیا تو اس وقت کے بعد پاکستان تباہی کے جس سفر پہ گامزن ہوا،آج تک رک نہیں سکا،حالات بد سے بدتر ہورہے ہیں،کیا آپ کو نہیں یا د ،کہ آج انقلاب اور تبدیلی کے جو دو بڑے علمبردار ہیں،جن کی آواز آج ایک ارتعاش پیدا کرنے کا سبب بن رہی ہیں،کل کو جمہوری حکومت کا تختہ الٹنے میں انہی کا کردار تھا،انہوں نے ہی پورے پاکستان میں ریفرنڈم کے حق میں اپنے کارکن باہر نکالے تھے اور مشرف کے ساتھ تصاویر بنا کے پوسٹر ز کی شکل میں پورے ملک میں لگوائی تھیں کہ ہاں پاکستان کو آپ کی ضرورت ہے،جن کو وزارت عظمیٰ کے خواب دکھلا کر ٹشو پیپر کی طرح استعمال کیا گیا تھا،پھر ایک نے تو معافیمانگ لی تھی اور دوسرے حضرت خاموشی سے کینیڈا سدھار گئے تھے اور قوم آمریت کی چکی میں پستی رہی اور وہ وہاں کی رنگینیوں میں مگن رہے،کیا آپ نہیں دیکھ رہے کہ آج پھر اسی جمہوری حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے وہی دو قوتیں میدان میں آئی ہوئی ہیں۔نوجوان کسی گہری سوچ میں نظر آرہاتھا،شاید میرا تلخ لہجہ اور حقیقت پر مبنی باتیں اس کے ذہن میں اپنی جگہ بنا چکی تھیں،کچھ دیر وہ خاموش رہا اور پھر سوال کیا کہ ایسے میں ہم کہاں جائیں،جب آپ لوگ مارشل لاء کو انسانی حقوق کے منافی سمجھتے ہیں،جمہوری نظام عوام تک اپنے ثمرات پہنچانے میں ناکام نظر آرہا ہے،اسمبلیوں میں اکثریت ایسے لوگوں کی ہے ،جن پہ قوم اعتماد نہیں کررہی،وہ اپنی جاگیریں بنانے میں مصروف ہیں،اور اس نظام کے خلاف جو بھی اعلانِ بغاوت کرتا ہے آپ اس کو آڑے ہاتھوں لیتے ہیں،تو پھر آخر کار ان مسائل سے ہم کس طرح چھٹکارا حاصل کر پائیں گے؟۔
میں نے امریکہ ،برطانیہ،فرانس اور دیگر کئی ممالک کی مثال دی ،جہاں پہ جمہوری نظام حکومت ہی رائج اور اسی کی روشنی میں وہاں کی عوام خوشحال ہے،اگر یہاں مسائل ہیں تو اس میں نظام کا کیا قصور؟،ہم خود اپنے لیے ایسی قیادت منتخب کر لیتے ہیں ،جس کو عوام سے کوئی دلچسپی ہی نہیں ہوتی،کیا ہم پولنگ بوتھ میں جاتے ہیں تو ہمارے ساتھ کون ہوتا ہے جو ہمیں یہ کہتا ہے کہ آپ نے اس نمازی امیدوار،اس پرہیز گار اور عالم دین شخص کو ووٹ نہیں دینا،زانی اور شرابی کو ووٹ دے دو،ہمیں کون مجبور کرتا ہے کہ بار بار کے آزمائے ہوؤں کو ہی ایک بار پھر موقع دے دیں،ہم تو خود اپنی برادری کو دیکھ کہ،اپنی سیاسی وابستگی کو دیکھ کہ،مخلص اور ووٹ کے حق دار امید وار کو پیچھے کر کے فاسق اور فاجر کو ووٹ دے دیتے ہیں،تو بتائیں اس میں نظام کی قصور ہے یا میرا اور آپ کا؟
کیا ہم اپنی ذاتی غلطی کا بوجھ نظام پہ ڈالتے ہوئے اس کو آمریت کی بھینٹ چڑھادیں اور پھر آمریت میں قوم کی بچیوں کے سودے ہوتے رہیں،عافیہ جیسی پاکباز عورتوں کو امریکی کتوں کے آگے ڈال دیا جائے اور پوچھنے والا کوئی نہ ہو،کیا آپ یہی چاہتے ہیں؟۔
نوجوان کی آنکھوں میں بہنے والے آنسوؤں کے دو قطروں نے مجھے موم کردیا،میں اٹھا ،اس کو پانی کا ایک گلاس پیش کیا اور اس کے جذبے کی قدر کرتے ہوئے کہا کہ ،آپ جیسے نوجوان ہی ہمارا اثاثہ ہیں،کسی بھی سیاسی بے روزگار کے ہاتھوں اپنے آپ کو استعمال نہ ہونے دیں۔بہتر ہے کہ آپ جمہوری اور آئینی طریقے سے تبدیلی کا نظریہ رکھنے والوں کا ساتھ دیں،انشاء اللہ آپ کے جذبے اس قوم کے روشن مستقبل کی گواہی دے رہے ہیں۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com
تاریخ اشاعت: 2014-08-11

کالم نگار     :     محمد عزیر عاصم

محمد عزیر عاصم کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-

: متعلقہ عنوان