بند کریں
ہفتہ اگست

رمضان کے بعد عید پر بھی مہنگائی جیت گئی

میاں اشفاق انجم :

وفاقی حکومت کے دو ارب روپے اور پنجاب حکومت کے 5 ارب روپے کے ریلیف پیکیج کے باوجود نیکیوں کے موسم بہاررمضان المبارک میں مہنگائی نے چیخیں نکال دیں وفاقی حکومت اور صوبائی حکومت کی طرف سے 50 کروڑ سے زائد کی تشہیری مہم کے باوجود عوام ریلیف حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ رمضان کریم کی برکات کی وجہ سے نفل کاثواب فرضوں میں اور فرض کا ثواب 70 اور 700 تک ملنے کی نوید سنائی گئی ہے ۔ شیطان کو قید کرنے اور چاروں اطراف رحمتوں کی بارش کا باربار تذکرہ قرآن عظیم الشان میں آتا ہے۔ وفاقی حکومت بالعموم اور پنجاب ، سندھ ،خیبرپختونخوا اور سندھ حکومت کے بالخصوص دعوؤں کے باوجود رمضان میں عوام پر جو قیامت گزر گئی اس کا اندازہ شاید حکمران نہ کر سکیں۔ میری صحافتی زندگی میں یہ بھی پہلی بار ہوا۔ وفاق میں چینی 49 روپے کلو اور پنجاب میں 45 روپے کلو فروخت ہوئی۔ یوٹیلیٹی سٹور جسے عوام کی ریلیف کا ادارہ قرار دیا جاتا ہے اس کے ملازمین کے گٹھ جوڑاور یونین بازی نے وفاقی حکومت کی طرف سے یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن کو مانیٹر کرنے والے افسروں کی منصوبہ بندی خاک میں ملادی۔ رمضان کے 29 دنوں میں اگر کسی دن چینی ملی تو آٹا غائب رہا، آٹا آیا تو چینی اور گھی غائب کردیا گیا۔ پنجاب حکومت کے رمضان بازاروں میں وزراء کے چھاپے تو قابل ستائش رہے مگر ناقص اشیاء کی بھرماررہی، پہلی بار رمضان بازاروں میں دونمبر اشیاء فروخت کئے جانے کی باربار خبریں شائع ہوئیں۔
رمضان المبارک میں فروٹ چارٹ کتنے گھروں میں بنی ،اس کااندازہ کسی بھی سفید پوش گھرانے کے سربراہ سے پوچھ کرکیا جاسکتا ہے۔ رمضان کے مبارک مہینے میں پرائس کنٹرول کمیٹیوں نے سینکڑوں کی تعداد میں ہر شہر میں جرمانے کئے اس کی تفصیل بھی سن لیں۔ میں نے علامہ اقبال ٹاؤن کی فروٹ منڈی سے دکاندار سے سیب کاریٹ پوچھا، تو کہنے لگا 200 روپے ،میں نے کہا سفید فروٹ چارٹ والا سیب ڈیڑھ سو تک دے رہے ہیں۔ کہنے لگا جناب 5 ہزار چالان بھر کے آیا ہوں، وہ بھی پورا کرنا ہے۔ اس رمضان میں سفید پوش گھرانوں کا بھرم جس طرح ٹوٹا اس کا بیان ممکن نہیں ہے۔ وفاقی بجٹ کے بعد رمضان شروع ہوا۔ رمضان میں دودھ دہی کا استعمال بڑھتا ہے،60 روپے والا دودھ 80 روپے اور 70 روپے والا دہی 100 روپے تک فروخت ہوتا رہا۔ کیا جرمانے حل ہیں یا جرمانے ہونے کے بعد غریب کو جرمانے سمیت فروٹ کی قیمت ادا کرانے کی نئی روایت متعارف کرنے کی سازش کی گئی ہے۔
چھوٹا گوشت750 روپے کلو فروخت ہوا،ریڑھی بانوں نے عوام کا جوحال کیا اس کو بیان کرنا مشکل ہے، انگور100 روپے پاؤ رمضان میں فروخت ہوا، آم ڈیڑھ سو روپے کلو،کیلا 300 روپے درجن فروخت ہوا،آٹا دالیں اور دیگر اشیاء کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرتی دکھائی دیں۔ رمضان میں مہنگائی نے کمر توڑ دی تو لوڈشیڈنگ نے سحری وافطاری میں ریکارڈ بنایا۔
رمضان کی برکتیں سمیٹنے کے بعد عید کی خوشیاں دوبالا کرنے کے لئے عوام کو اس دفعہ اکٹھی 5 چھٹیاں ملیں سرکاری ملازمین بڑے خوش تھے ، عید کی خوشیاں دو چند ہوں گی مگر رمضان میں مہنگائی کا طوفان رک نہ سکا۔ عید پر قیامت گزر گئی، نان بائی حضرات نے خود ساختہ نوٹیفکیشن کرکے سادہ روٹی کی فروخت بند کردی اور نان 7 کی بجائے 10 روپے اور خمیری روٹی 7 کی بجائے 10 روپے کی فروخت کی، ناشتہ حلوا پوڑی کا کرنے کے شوقین حضرات کو 10 اور 12 روپے کی فروخت ہونے والی پوڑی 20 روپے میں ملی ، سی این جی سٹیشنوں پررش نہیں ملا، مگر زبردستی عیدی وصول کرتے رہے۔ گڈگورننس کے دعوے عوام کو ریلیف دینے کے دعوے اخبارات کے اشتہارات تک درست ثابت ہوئے ۔ اگر کہہ لیا جائے حکومت کی میڈیا کمیٹی جیت گئی مگر حکومت کو عوام کو ریلیف فراہم کرنے میں بڑی طرح ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔
یہ کہنا بھی بجا ہوگا اس رمضان اور عید پر مہنگائی ایک بار پھر جیت گئی ۔ حکمران کہاں تھے ، کہاں ہیں، عوام کا خیال انہیں کب آئے گا اس کیلئے دعا ہی کی جاسکتی ہے آئیں مل کر دعا کریں اللہ ہمارے حکمرانوں کے دلوں میں رحم ڈال دے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com
تاریخ اشاعت: 2014-08-09

کالم نگار     :     میاں اشفاق انجم

میاں اشفاق انجم کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-

: متعلقہ عنوان