بند کریں
جمعہ اگست

اس سے پہلے کہ ۔قسط نمبر2

فوزیہ بھٹی :

 کال کرے سو آج کر ،آج کرے سو اب یعنی کہ آج کا کام کل پر نہیں ٹالنا چاہئے اور اگر یہ سب پڑھ کر بھی آپ ویسے ہی سوچ رہے ہیں جیسے دس منٹ پہلے سوچ رہے تھے تو ہمیں یہ بین بجانے کا کوئی فائدہ ہی نہ ہوا پھر تو ۔ ۔ ۔!اور اگر کچھ افاقہ ہوا ہے تو انجام بخیر ہی ہے انشااللہ ء
 ڈیسنٹ ہونا کسی بیماری کا نام نہیں بلکہ ایک اچھے باطن کے ساتھ ساتھ ایک اضافی خوبی کا ہونا ہے ۔غور کر لیں کہ کہیں اپنے آپ کو ڈیسنٹ سمجھنے والے افراد کو لوگ اس نظر سے تو نہیں دیکھتے کہ اصلیت کھل جانے پر دوبارہ دیکھنا ہی نہ چاہیں۔آج کاکالم اس جیسے لا تعداد اور بے شمار جملوں میں جکڑے ہوئے اور "بدوبدی "ڈیسنٹ بننے والے لوگوں کی خاطر تواضع یا عرفِ عام "کلاس"لینے کے لئے لکھا گیا ہے۔اب پڑھنا ہے تو پڑھیں نہیں تو "لوکی کی کہن گے "کی تسبیح کوٹھیک اسی دانے سے پکڑ لیں جہاں سے چھوڑی تھی کہیں آپ کی خود ساختہ عبادت "یعنی کہ صرف میں ہی بہت ڈیسنٹ ہوں"میں کوئی فرق نہ پڑ جائے۔یوں تو ہر ایک چیز کی ایک حد ہوتی ہے مگر ہم بحیثیت قوم خیر سے" حد نالوں ودّ" پائے گئے ہیں۔پیروی کرنی ہے تو انّے واہ اور کسی کی نہیں سننی تو کڈ لو جیہڑا سپ (سانپ)کڈنا اے کی جیتی جاگتی مثال ہیں
بقول فیض:۔
جو رکے تو کوہِ گراں تھے ہم
جو چلے تو جاں سے گزر گئے
ہوشیار باش ہم کوئی میانہ روی کا لیکچر دینے کے لئے پر نہیں تول رہے بلکہ اس شدت پسندی کے محرکات کی نشاندہی ،سمجھدانی کا ڈھکن چھوٹا ہونے کے باعث اس کو نہ سمجھنے اور اس کا شکار ہوتے لوگوں کو ذرا کنکر مار رہے ہیں۔اگر مندرجہ ذیل علامات آپ میں پائی جاتی ہیں(گو کہ ہم بھی ان سے مبّرا نہیں ہیں)تو ہمیں آپ سے دلی ہمدردی کی بجائے سخت قسم کا "دِلی ویر"ہے اور آپ کو سخت قسم کے علاج معالجے کی بجائے ایک سخت گیر معالج کی ضرورت ہے۔
علامت نمبر۱۔اگر آپ مجمعے میں بیٹھ کربہت ڈھنگ سے حق بات کرتے ہوئے لوگوں کو دل کھول کر اور منہ پھاڑ کر مشورے دیتے ہیں اور گھر پرآپ اپنی غیر ضروری چھوٹی چھوٹی اشیاء کو سالوں سینے سے لگائے پھرتے ہیں نہ خود استعمال کرتے ہیں اور نہ ہی کسی ضرورت مند کو دیتے ہیں تو یہ اخیر بے غیرتی کی ایک اخیر مثال ہے۔
علاج:۔اس علامت کی کئی وجوہات اور ایک ہی علاج ہے۔ہم مانے لیتے ہیں کہ آپ نے زندگی میں کڑا وقت دیکھ رکھا ہے جس کی بدولت آپ اپنے سر کی جوں بھی کسی کو دینے پر تیار نہیں پر غور کیجئے اگر اب آپ کے پاس فالتو اشیاء کا ڈھیر جمع ہے تو اس بات کو مان جائیے کہ وہ وقت گزر چکا ہے اور اگلی بار جب آپ ان چیزوں کے قبرستان تو دیکھ سر کھجائیں اور یہ سوچیں ہاں!کبھی نہ کبھی کام آہی جائیں گی تو آپ کو آپ کی مصنوعی ڈیسنسی کی قسم !کسی کو دے دلا کر فارغ ہو جائیں۔یہی سوچ کر شرم کھا لیں کہ ڈیسنسی کا ذخیرہ اندوزی سے کوئی تعلق نہیں۔آپ ان چیزوں کے بغیر جی بھی سکتے ہیں اور مُنہ بنا بنا کر باتیں بھی بگھار سکتے ہیں۔
علامت نمبر2۔کہنے والی بات آپ کہتے نہیں کیونکہ آپ جارج ہشتم کی اولاد ، جولیس سیزر کے جانشین اور حیدرآباد دکن کے نواب خاندان سے تعلق رکھتے ہیں اور امید یہ رکھتے ہیں اگلا خود ہی سمجھ لے گا مزید برآں آپ اگلے کے نہ سمجھنے پر اس سے سخت قسم کی ناراضگی یعنی خود ساختہ جِلا وطنی اختیار کر لیتے ہیں۔
علاج:۔بھئی اللہ دی قسمیں اگر آپ سچ میں ایسا ہی کرتے ہیں تو ہمیں آپ کی پیدائش پر انتہائی افسوس ہے۔اس قسم کی علامات والوں کو تو میاں کوتوال کے حوالے کر کے گمشدہ افراد میں شامل کرکے فرانس میں بیٹھ بانسری بجانی چاہئے۔یعنی کہ آپ جناب کواذیت عرفassumption کاچھانٹا دے کر لوگوں پر چھوڑ دیا ہے اور آپ کو اس کا احساس تک نہیں؟؟؟او بھائی/باجی اپنے سیلف کریئٹد منبر سے نیچے اُتر کر شیشہ دیکھنے کی صلاحیت رکھیں کیا پتہ کوئی ایسی خوبصورتی جو آپ کے اس بدصورت رویے سے ماند پڑ رہی جو اب تک آپ کی نظروں سے اوجھل تھی کیا پتہ دکھائی دے ہی جائے۔نیئں سیریسلی! ایک بات بتائیں کہ جب تک آپ کسی سے کچھ پوچھیں گے نہیں یا اپنا مدعا بیان نہیں کریں گے تو اندر ہی کُڑھ کر آپ کسی پر احسان نہیں کر رہے۔تمام لوگوں کا عزارئیل سے وحی کا کانٹریکٹ نہیں ہوتا اس بات کو سمجھ لیں اور sadlyاگر اگلا آپ کی بات کو اہمیت نہ دے یا آپ کو نظر انداز کر دے تو ڈیسنسی اور جذبابیت کے علاوہ ایک اور حل جسے غیرت یا سیلف رسپیکٹ کے نام سے جانا جاتاہے اسے استعمال کر لیں۔ہاں اگر تکلیف بہت ہی زیادہ ہے تو کسی با اعتماد قریبی کان کو سہارا بنائیں،دھیان رہے پیٹ ہلکا کرنے کے لئے نہیں دل ہلکا کرنے لئے ۔
علامت نمبر 3۔اگر آپ لوگوں میں بیٹھ کر ،کسی کی چلتی ہوئی بات محض اس لئے اُچک لیتے ہیں کہ آپ کو اس کی گرائمر یا تلفظ ٹھیک کرنا ہوتا ہے تو اپنی ڈگری اور اپنی عزت دونوں اپنے ہاتھ میں مظبوطی سے پکڑلیا کریں ۔
 علاج:۔تو ثابت ہوا حق ہاہ۔۔۔! آپ کو ہماری طرح خود پہ کوئی اختیار نہیں۔اس علاج کے لئے ہم نے خود بڑے پاپڑ بیلے ہیں۔سو فار عزت ای کرائی اے۔بہرحال بات یہ کہ اپنے آپ کو عام انسان سمجھنا ایک بڑا ای اوکھا کام ہے ،اگر یہ سب کرتے ہوئے آپ کی نیت غلط انگریزی یا محاورہ بولنے پر کسی دوسرے کی ساکھ بچانا ہو یا اسے تمسخر کا نشانہ بنانا دونوں صورتوں میں یہ حرکت انتہائی بیوقوفانہ اور خودپسندانہ ہونے کا تاثر دیتی ہے ۔اس سے گریز کریں اور اس لمحے یا تو اس لفظ کو خود استعمال کر لیں یا حوصلہ رکھیں۔اپنے اندر کے کیڑے کو گھر سے سمجھا کر باہر نکلیں تو بہتر ہے۔
علامت نمبر4 ۔ آپ لوگوں کو محض اس لئے گھٹیا سمجھتے ہیں کہ وہ آپ جیسے نہیں ہیں۔
علاج:۔مذاق اور طعنوں کو ایک سائیڈ پر کرتے ہوئے اس فقرے کو تین بار پڑھ کر اپنا محاسبہ کر لیجئے ۔اگر یہ علامت حقیقتاً آپ میں پائی جاتی ہے تو ایک بار دوبارہ ان لوگوں کو دیکھ کر سوچ لیں کیا وہ اس حقدار ہیں؟اگر چغل خور ہیں ،جھگڑالو ہیں،دکھاوا کرتے ہیں تو سو بسم اللہ اور یہ سب ان میں نہیں پایا جاتا اور صرف نظریاتی اختلاف ہے تے بندے دے پتربن جاؤ اور مان لیں کہ اپنے اندر آپ اپنے آپ کو ان سے کمتر سمجھتے ہیں ۔یقین نہیں تو جھانک لیں گریبان میں ۔۔۔!اور اگر کچھ بدلنے کے لائق ہو تو بہتر ہے آج ہی بدل لیں اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے اور ویسے بھی کہتے ہیں کال کرے سو آج کر ،آج کرے سو اب یعنی کہ آج کا کام کل پر نہیں ٹالنا چاہئے اور اگر یہ سب پڑھ کر بھی آپ ویسے ہی سوچ رہے ہیں جیسے دس منٹ پہلے سوچ رہے تھے تو ہمیں یہ بین بجانے کا کوئی فائدہ ہی نہ ہوا پھر تو ۔ ۔ ۔!اور اگر کچھ افاقہ ہوا ہے تو انجام بخیر ہی ہے انشااللہ ء۔
پاکستان آپکا ہے اس کا خیال رکھئے ،اللہ سبحان و تعالیٰ پاکستان کو ہمیشہ اپنے حفظ و امان میں رکھے۔آمین
نوٹ:سیلف گرومنگ کے ہر کالم میں قائرین کہیں نہ کہیں خود کو دیکھتے ہیں یہ جان کر ہمیں بے انتہاخوشی ہوئی ۔موصوفہ میں بھی یہ بکواسیات بدرجہ ء اتم موجود ہیں ہن خوشی نال بھنگڑے پاؤن دی واری تہاڈی اے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com
تاریخ اشاعت: 2014-08-07

کالم نگار     :     فوزیہ بھٹی

فوزیہ بھٹی کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-