بند کریں
منگل جولائی

اس سے پہلے کہ ۔ ۔ ۔!(1)

فوزیہ بھٹی :

(نوٹ:۔ سیلف گرومنگ کا یہ کالم عادت و فطرت سے مجبور ہو کر لکھا گیا ہے سمجھ میں آجائے تو ٹھیک نہیں تو میں کون تو خوامخواہ۔۔۔آہو)
ایک تو سچی بات کہیں اورپھر کہتے ہیں کہ بولتی ہے ا ب اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے تو سوچا کہ سب باتیں آپ کو سچ بتا کر بخشوا لیں اوراس کے بعد بھی اب ۔ ۔ ۔ اگر ۔ ۔ ۔ کسی نے بھی ۔ ۔ ۔ استہزائیہ ایکسپریشنز دئیے ہیں تو ٹھیک ہے ہم بھی منہ چڑا کر یہی کہیں گے کہ جو کہتا ہے خود ہی ہوتا ہے جی ۔ ۔ ۔!
بے بے جی(دادی مرحومہ) اور امّاں (بہشتن)نے ہمیشہ پریکٹیکل پیار دینے پر توجہ مرکوز رکھی یعنی ان کے اشاروں کناؤں میں ہمیں بہت سے ایسے پیار بھرے کوڈ ملتے کہ آج تک ہم ان کو ڈی کوڈ کر رہے ہیں۔ باقی بہن بھائیوں کی نسبت قدرے سانولے ہونے پرہمیں معتدد بار ہمسائیوں کا بچہ سمجھ لیا جاتا تھا۔سستی میں نمبر ون اور کلاس میں ہمیشہ اُرلے درجے کا سونے والی قرارپائی جانے والی ہماری شخصیت "Miss I know every thing"کا مجسم جو جب تھی اب تک رہی ہے جب بھی ہمیں صلوٰاتیں سننے کو ملتیں تو بے بے جی اور امّاں ہمیں ہمارے کان میں بڑے وثوق سے کہا کرتی تھیں دھیان مت دیا کرو کیونکہ جو کہتا ہے وہ خود ہی ہوتا ہے اور پریکٹیکل محبت سے ہماری کمی کو بغیر بتائے دور کر دیا جاتا تھایہ تمام حوالہ آج کے کالم کے لئے کچھ یوں بھی ضروری ہے کہ ہمیں بحیثیت قوم اس پر با جماعت عمل کرنے کی اشد ضرورت آن پڑی ہے تو اب اگر آپ امّاں اور بے بے جی کے مشوروں سے دور ہیں اور روز اپنے ساتھ لڑتے ہیں تو ایک بار اس سانچے میں ڈھل کر دیکھیں۔
آج کا یہ کالم ایسے لوگوں کو پڑھنا چاہئے جو خاموشی سے کان دبا کر کسی بھی سچویشن سے نکل جانے کو بڑی کامیابی سمجھتے ہیں اور یقین مانئے کہ اگر آپ بھی اب تک ایسا ہی کرتے آئے ہیں "تے تہاڈے میں صدقے جاواں،سو ماراں تے اک گناں"اگر مندرجہ ذیل نشانیاں آپ میں پائی جاتیں ہیں تو مزید ذلیل و خوار ہونے کی بجائے اپنی عزتِ نفس کی تھوڑی پرورش کر لیں یقیناًمزید خوار ہونے سے بچ جائیں گے(دھیان رہے یہ سب نشانیاں عشق معشوقی سے ہٹ کر زندگی کے نارمل معاملات کی ہیں)
-1اگر آپ کسی ایسی جگہ بولنے سے گھبراتے ہیں جہاں آپ کا حق یا فرض کی حد تک بولنا بنتا ہے تو آپ معاملہ فہم ہرگز نہیں ہیںآ پ بزدل ہیں۔
-2اپنے آپ کو ثابت کرنے کے لئے اگر آپ کسی بات کو ذہن میں پکاتے رہتے ہیں ،اکیلے میں ڈایئلاگ مارنے کی پریکٹس کرتے ہیں اور عین موقع پر یہ سب محض خوف کے مارے کہہ نہیں پاتے تو آپ بے حد بزدل ہیں۔
-3آپ کے سامنے دو لوگ لڑ رہے ہیں اور آپ حق سچ کا ساتھ نہیں دیتے ہیں کیونکہ اس کے لئے آپ کو بولنا پڑے گا ہمت دکھانی پڑے گی، ایک سائیڈ کو چُن لینا پڑے گا تو مبارک ہوآپ بزدل ہونے کے ساتھ ساتھ چول بھی ہیں۔
-4محض منہ میں بڑبڑانے اور تمام دنیاکو الزام دینا اگر آپ کی فطرتِ ثانیہ ہے تو موج کریں آپ اسی قابل ہیں۔
ان تمام باتوں کو کڑوے کسیلے اور بیہودہ انداز میں ارشاد فرمانے کا ہمارا مقصد یہ ہے کہ گھر اور دنیا میں بے حد فرق ہوتا ہے دنیا آپ کو سمجھاتی نہیں ہے سکھاتی ہے ۔بے وقوف اپنے اور عقل مند دوسروں کے تجربے سے سیکھتا ہے ارد گرد نظر دوڑائیں اور اس سے پہلے کہ دنیا آپ کو تگنی کا ناچ نچائے آپ خود ہی شیشہ دیکھ لیں۔
مسئلہ نمبر ۱ کا حل یہ کہ اپنے اوپر اعتماد کرنا سیکھیں اللہ سبحان و تعالیٰ نے آپ کو ٹھیک ویسا ہی انسان بنایا ہے جیسے باقی سب ہیں باقی ظاہری طور پر نظر آنے والی بہترین شخصیت ضروری نہیں اندر سے بھی ویسی ہو تو لوگوں کے رعب میں آنا چھوڑ دیں یقین جانیں کوئی آپ کو اینٹ اُٹھا کر نہیں مارے گا(ہماری طرف سے مار بھی دے ہم تو اپنے گھر ہی ہونگے)
مسئلہ نمبر2کی بڑی وجہ آپ کا فلمی ہونا ہے،ایسا کبھی کہیں نہیں ہوتا کہ آپ کو کچھ کہنا ہو تو اس سے پہلے یک لخت ٹھنڈی ہوائیں چلنے لگیں یا ایک دم ژالہ باری ہو جائے،لال آندھی برپا ہو یا بجلی کڑکڑانے لگے آپ کو جب جو مناسب کرنا ہے اسے کر گزریں بیک گراؤنڈ میوزک کا انتظار نہ کریں۔کوئی اچھی بات کوئی اچھائی کا کام آپ کا انتظار ہمیشہ ہی کر رہا ہوتا ہے اپنی فلمی طبعیت سے نکل کر اب اس دنیا میں شفٹ ہو جائیں تو بہتر ہے۔
مسئلہ نمبر3کا بنیادی اور ایک ہی حل یہ ہے کہ "میں اپنی/اپنافیورٹ ہوں"کے بخار سے نکل آئیں اس جہاں میں آپ سے بھی زیادہ مظلوم لوگ پائے جاتے ہیں۔اپنے علاوہ کسی اور کے حق کے لئے بھی بولنا سیکھ لیں موصوفہ کادعوی ہے آپ کے کام آئے گا۔ذہن بھی تھوڑا بہت کھُل جائے گا اور مزے کی بات یہ ہے کہ دماغ واحد ایسی چیز ہے جو استعمال کرنے سے گھِستانہیں ہے اُلٹا بڑھ جاتا ہے۔(اب کبھی اتعمال میں لایا گیا ہو پتہ چلے نہ )ہم میں سے بعض ایسے ہیں جن کے دماغ کا اگر سکین کروایا جائے تو وہ بالکلAs good as new like never been used beforeہوگا۔
مسئلہ نمبر4 آگ کا ایک ایسا الاؤ ہے جس میں بزدل لوگ بڑی ہی تندہی سے روز مرّہ کی بنیادوں پرایندھن ڈالنے میں مشغول رہتے ہیں۔کسی کے سامنے کچھ کہنے کی ہمت نہیں ہوتی مگر اندر ہی اندر وہ مطلوبہ شخصیت کو ایک سو ایک جوتے لگا چکے ہوتے ہیں۔اپنے اندر ہیروبن جانا کوئی بڑی بات نہیں،سب ہی ہوتے ہیں بے انتہا ہوتے ہیں۔"میں بے حد حسّاس ہوں"میرا ہی دل بہت بری طرح دکھ گیا ہے"جو مجھے محسوس ہو رہا ہے اسے اور کوئی دیکھ نہیں پارہا"یہ سب وہ ٹوپیاں ہیں جو ہم اپنی طرف سے دوسروں کو کروا رہے ہوتے ہیں مگر یقین جانیں Mr.Monkeyوالی حرکتیں ہمارے خود کی ہوتیں ہیں۔بزدل ہونے اور معاملہ فہم ہونے میں ایک انتہائی باریک لکیر ہوتی ہے جو بات جس وقت کہنی چاہئے کہہ دینی چاہئے ورنہ بقول ونسٹن چرچل کہ "جو مکا لڑائی کے بعد یاد آئے وہ اپنے منہ پر مار لینا چاہئے" ہماراخیال ہے خودار ہونے میں کوئی حرج نہیں انسانیت کا بھلا ہی ہو گا اور دنیا سے ایک اور بزدل ختم ہو جائے گا۔باقی جو جی میں آئے کریں ماشااللہ آموں کا سیزن ہے آم کھائیں۔ہماری مقصد تو یہی تھا کہا اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے تو سوچا کہ سب باتیں آپ کو سچ بتا کر بخشوا لیں اوراس کے بعد بھی اب ۔ ۔ ۔ اگر ۔ ۔ ۔ کسی نے بھی ۔ ۔ ۔ استہزائیہ ایکسپریشنز دئیے ہیں تو ٹھیک ہے ہم بھی منہ چڑا کر یہی کہیں گے کہ جو کہتا ہے خود ہی ہوتا ہے جی ۔ ۔ ۔!
(اسی نوعیت کے باقی کالم انشاللہ ء آپ آئندہ بھی اپنے رسک پر پڑھ سکیں گے)
 پاکستان آپکا ہے اس کا خیال رکھیں۔اللہ سبحان و تعالیٰ پاکستان کو ہمیشہ اپنے حفظ و امان میں رکھے
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com
تاریخ اشاعت: 2014-07-29

کالم نگار     :     فوزیہ بھٹی

فوزیہ بھٹی کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-