بند کریں
جمعرات جولائی

کرپشن کو برائی تو سمجھا جائے

ڈاکٹر اویس فاروقی :

ایک خبر نظر سے گزری جس میں بتایا گیا کہ امریکی ریاست فلوریڈا کے ایک ٹاون میں کرپشن کے الزامات ثابت ہونے پر شہر کی تمام پولیس فورس کو برطرف کر دیا گیا۔ رواں برس فروری میں شروع ہونے والے آڈٹ نے ریاست کے سب سے کرپٹ شہر کو منکشف کر دیا۔ تمام پولیس اہلکاروں اور منتخب حکام کو فوری طور پر ہپمٹن چھوڑنے کا حکم دے دیا گیا ہے کیوں کہ بصورت دیگر ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ 89 سالہ قدیم اس شہر کی کْل آبادی 477 نفوس پر مشتمل ہے جو آج کل پولیس فورس کے لئے محتسب بنا ہوا ہے۔ اس محکمانہ آڈٹ میں متعدد خلاف ورزیوں کا انکشاف ہوا، جس کے مطابق31 وفاقی، ریاستی اور مقامی کوڈز کو غیرقانونی طور پر توڑا گیا۔ اس آڈٹ کو کروانے میں علاقہ سے تعلق رکھنے والے سینیٹر روب بریڈلے اور چارلس وین زانٹ نے بھرپورکردار ادا کیا۔ آڈٹ کے بعد جب پولیس فورس کو برطرف کر دیا گیا تو ٹاون کے باسیوں نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے بھرپور خوشی کا اظہار کیا۔ زندہ قومیں اور معاشرے برے لوگوں کی نہ ہمائت کرتی ہیں اور نہ برائی پر اتراتی ہیں جبکہ پاکستان میں تو ایسا کوئی تصور یا مثال ہی موجود نہیں کہ کرپشن پر بھی کسی کو قرار واقع سزا ملی ہو معاشروں کے انحطاط کی ایک وجہ وہاں کے افراد کا برائی کو برائی نہ سمجھنا بھی ہے۔
پاکستان کے سماجی ،معاشی اور سیاسی نظام کے بارے یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ ایک کھٹارہ اورناکارہ گاڑی کی طرح ہے جس کے بریک فیل ہوچکے ہوں اوراس کے ڈرائیور کی آنکھوں پر بدعنوانی کی پٹی بندھی ہولہٰذا اس قسم کی گاڑی قوم کومنزل مقصودتک نہیں لے جاسکتی۔پاکستان میں کرپشن ہر سطع پر اپنی مکمل ساخت کے ساتھ موجود ہے جس طرح خون کی گردش سے زندگی رواں دواں رہتی ہے اسی طرح یہاں کرپشن کے بغیر زندگی کی گاڑی کو چلانا دشوار بنا دیا گیا ہے۔کرپشن اعدادوشمار سے بہت آگے جا چکی ہے۔
 پاکستان بدترین داخلی انتشار،انارکی اورخلفشارکے باوجوداگر محفوظ ہے تواس کاتمام ترکریڈ ٹ منظم اورپیشہ ورفوج کوجاتا ہے،پاکستان کودرپیش اندرونی وبیرونی خطرات کاجس قدر ادراک اوراحساس پاک فوج کوہے اتنااورکسی ادارے کونہیں اورہمارے فوجی جوان بیک وقت کئی محاذوں پرسربکف ہیں،ہمیں بلاشبہ پاک فوج پرناز ہے۔دہشت گردی کیخلاف ہمارے فوجی جوانوں کی کمٹمنٹ اورقربانی قابل قدر ہے۔
پاکستان کے مسائل کی اصل جڑ کرپشن اور احتساب کا فقدان ہے کرپشن کی کوئی اخلاقیات نہیں ہوتی اس لئے جن معاشروں میں کرپشن کو برا ہی نہ سمجا جاتا ہو وہ معاشرے بھی اخلاقی لحاظ سے نہ مظبوط ہوے ہیں اور نہ ہی انہیں دنیا میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ،کرپشن کے حوالے سے درجہ بندی کرنے والے بین الاقوامی ادارے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے ''گلوبل کرپشن بیرومیٹر 2013'' رپورٹ جاریکی تھی جس میں دنیا کے 95 ممالک کے کرپشن سروے میں پاکستان 34ویں نمبر پر ہے۔ اس ادارئے کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں افریقی ممالک کرپشن میں سب سے آگے ہیں، 95 ممالک میں کرپشن کی صورت حال پر کئے گئے سروے کے نتائج کے مطابق افریقی ملک سیرالیون پہلے اور لائبیریا دوسرے، ایشیائی ملک یمن تیسرے جبکہ چوتھے نمبر پر افریقی ہی ملک کینیا ہے، جنوبی ایشیا کے ممالک میں بھارت کرپشن میں 54 فیصد کے ساتھ سب سے آگے ہے جبکہ پاکستان کرپشن کے لحاظ سے 33ویں سے 34ویں نمبر پر ہے۔ سروے رپورٹ کے مطابق ڈنمارک، فن لینڈ، جاپان، اسپین، کینیڈا، ناروے اور آسٹریلیا میں کرپشن کی شرح 5 فیصد سے بھی کم ہے جبکہ افغانستان میں 46، بنگلادیش میں 39 اور سری لنکا میں 19 فیصد ہے۔
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کے ایڈوائزر عادل گیلانی کا کہنا ہے کہ پاکستان میں لینڈ سروسز کے شعبے میں سب سے زیادہ کرپشن ہے، دنیا بھر میں پولیس کا محکمہ سب سے زیادہ کرپٹ ہے جبکہ پاکستانی پولیس کرپشن میں دوسرے نمبر پر ہے تاہم پاکستانی عدلیہ کا ریکارڈ دنیا کے دیگر ممالک کی عدلیہ سے بہتر ہے۔
عادل گیلانی کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستان میں پچھلے 2 سالوں میں کرپشن میں اضافہ ہوا اور سب سے زیادہ کرپشن سرکاری اداروں میں ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ سروے میں 84 فیصد لوگوں کا کہنا تھا کہ ملک میں کرپشن میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے اور نئی حکومت کی اولین ترجیح کرپشن کو روک تھام ہونی چاہئے۔رپورٹ کے مطابق پاکستان کی صورت حال انتہائی مایوس کن ہے، کیونکہ 2008ء میں پاکستان بد عنوان ممالک کی فہرست میں 47ویں نمبر پر تھا جو 2010ء میں 34ویں نمبر پر آگیا ہے،جبکہ 2012ء میں اِس کی پوزیشن 33ویں نمبر پر آ گئی تھی۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان گزشتہ کئی برسوں کی نسبت آج بہت زیادہ کرپٹ ملک تصور کیا جارہا ہے، جبکہ امریکہ میں قائم ورلڈ جسٹس پروجیکٹ کی رپورٹ میں پاکستان کو دنیا کا ساتواں کرپٹ ترین ملک قرار دیاگیا تھا۔رپورٹ کے مطابق پاکستان 97کرپٹ ممالک میں 90ویں نمبر پر جبکہ امن وامان اور سکیورٹی کے حوالے سے آخری نمبر 97پر ہے۔انسانی حقوق کے حوالے سے 93،حکومتی شعبوں کے حوالے سے 92،سول انصاف کے حوالے سے 91نمبرپر ہے۔حکومتی اختیارات کے حوالے سے پاکستان کا نمبر 97میں سے 69ویں نمبر پر ہے۔یہ اعداد و شمار 178ملکوں کے دیئے گئے ہیں۔
 یہ رپورٹس گزشتہ برس کی ہیں ۔ 2014میں ابھی تک کوئی رپورٹ سامنے نہیں آئی لیکن اس سے کیا فرق پڑتا ہے کرپشن کی صورت حال میں اس وقت تک بہتری نہیں آسکتی جب تک اشرافیہ کی جانب سے اہم اقدامات نہیں اٹھائے جاتے اور احتساب کے ادارے کوآزاد نہیں کیا جاتا جو ایسا بے رحم احتساب کرے جس میں چھوٹے بڑئے کی کوئی تمیز نہ ہو ،، یہ کہا جاسکتا ہے کہ دوسرے ممالک میں بھی تو کرپشن ہوتی ہے۔ ٹھیک ہے کرپشن کا خاتمہ کبھی نہیں ہو سکتا ۔لیکن اسے کم تو کیا جاسکتا ہے وہ اسی صورت ممکن ہے جب اسے برائی تصور کرتے ہوئے معاشرتی سطع پر اس کے خلاف مہم نہیں چلائی جاتی۔اور دو نمر کی کمائی والوں کو بری نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا ۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com
تاریخ اشاعت: 2014-07-27

کالم نگار     :     ڈاکٹر اویس فاروقی

ڈاکٹر اویس فاروقی کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-

: متعلقہ عنوان