بند کریں
جمعہ اگست

لیڈر شپ اور سیاسی بے روزگار

محمد عزیر عاصم :

کینیڈین بازی گر،تین کا ٹولہ اور برطانوی داماد پہ لکھا جانے والا کالم۔۔۔۔۔۔۔
لیڈر شپ کے لیے سب سے بڑی خوبی فیصلہ کی قو ت ہوتی ہے اور ن لیگ کی لیڈر شپ کے لیے وہ گھڑی آن پہنچی ہے،ایک طرف سسٹم بچانا ہے اور دوسری طرف ملک میں پھیلا انتشار ختم کرنا،چودہ سال بعد اقتدار میں آنے والے ابھی تک تو غلطیوں پہ غلطیا ں کر رہے ہیں لیکن ان کا جلد سنبھل جانا ہی ملک کے بہترین مفاد میں ہے،بدترین جمہوریت بھی آمریت سے ہزار درجہ بہتر ہے۔
مسلم لیگ ن کی حکومت اس وقت انتہائی د باؤ میں ہے اور اس کی بنیادی وجہ سیاسی بے روزگاروں کا ممکنہ اتحاد یا ان کی جانب سے تحریک چلانے کا اعلان ہے۔گیارہ مئی کے الیکشن میں جو نتائج سامنے آئے تھے تو ان کے مطابق حکومت سازی ن لیگ کا حق تھا جیسا کہ سابقہ دور میں اس نے پیپلزپارٹی کے حق اور مینڈیٹ کو تسلیم کر کے جمہوریت کی مضبوطی کے لیے اپنا کردار ادا کیا تھا لیکن جب اس کی اپنی باری آئی تو جنرل پاشا کی مبینہ سپورٹ سے فتح اور وزارتِ عظمیٰ کے خواب دیکھنے والے یہودی خاندان کے داماد عمران خان نے رنگ میں بھنگ ڈالنا شروع کردیا،شروع میں انتخابی نتائج تسلیم کرنے کا اعلان کیا لیکن بعد میں اپنی عادت (یوٹرن والی) سے مجبور ہو کر واویلا مچانا شروع کردیا،ابتدا میں الیکشن میں اپنی شکست کا سارا ملبہ فخرالدین جی ابراہیم (چیف الیکشن کمشنر) اور ریٹرننگ آفیسران پہ ڈال دیا(فخرالدین جی ابراہیم کی بطورِ چیف الیکشن کمشنر نامزدگی میں عمران خان کی حمایت شامل تھی)،بعد میں جب چیف جسٹس افتخار چوہدری ریٹائرڈ ہوئے تو دھاندلی کا سارا ملبہ ان پہ ڈال دیا(جن کی بحالی کی تحریک میں خود خان صاحب پیش پیش تھے)۔بات نہ بنی تو چار حلقوں کی دوبارہ گنتی کا مطالبہ کر دیا،اور اب چار کے بجائے پورے الیکشن کی دوبارہ گنتی کا مطالبہ سامنے آچکا ہے،جس کے اگلے روز مڈٹرم الیکشن کا مطالبہ ہوا اور خان صاحب اپنے سسرال سدھار گئے،اور جاتے جاتے اپنے مئوقف کا اعادہ پھر سے کر گئے کہ چودہ اگست کو آزادی مارچ ضرور ہوگا اور ابھی برطانیہ سے ہدایات لے آئے ہی تھے کہ دوبارہ بلایا آگئے اور خان صاحب "سہ روزہ "لگانے چلے گئے۔اب مبصرین کی نگاہیں ایک جانب چودہ اگست پہ ہیں ،جس روز تحریک انصاف دھاندلی کے خلاف(اور یہ دھاندلی صرف تین صوبوں میں ہوئی ،جہا ں پہ خود خان صاحب کی جماعت اقتدار میں آئی،خیبر پختونخواہ،وہاں دھاندلی کا نام و نشان بھی نہیں)اپنے لائحہ عمل کا اعلان کر ے گی۔راقم کی ذاتی رائے کے مطابق یہ آزادی مارچ ملتوی ہوجائے گا ،عمران خان ایک دن میں اتنے لباس نہیں بدلتے ،جتنے بیانات،تو ابھی تو چودہ اگست بہت دور ہے،لازماً پھر یوٹرن لیں گے اور جمعیت علمائے اسلام کے امیر مولانا فضل الرحمان کا یہ مقولہ سچ ثابت کر جائیں گے کہ عمران خان ،یوٹرن خان ہے۔
دوسری جانب تین سیاسی بے روزگاروں کا ٹولہ چوہدری برادران،شیخ رشید کینیڈا کے شہری ڈاکٹر طاہرالقادری کی گود میں بیٹھ کر جمہوریت کے خلاف سازشیں کر رہے ہیں اور پاک فوج کو اقتدار میں آنے کی دعوتیں دینے میں شب و روز سرگرداں ہیں،لیکن جنرل کیانی نے فوج کا جو امیج بحال کیا ،کیا جنرل راحیل اتنی آسانی سے حکومت کا تختہ الٹ کر وہ امیج تباہ کردیں گے؟یقینا نہیں،جنرل راحیل شریف ایک فوجی گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں،وہ گھرانہ جو اپنی خدمات کی بناء پر نشانِ حیدر بھی حاصل کر چکا ہے،و ہ فوج کے امیج کو مزید بہتر بنائے گا اور سیاسی بے روزگاروں کی جانب سے اقتدار میں آنے والی دعوت پہ سوچنا بھی گوارا نہیں کرے گا۔اس وقت ڈاکٹر طاہر القادری اور تین کے ٹولے کا اور عمران خان کا اتحاد تو نہیں ہوسکا لیکن حکومت کے خاتمہ کا ون نکاتی ایجنڈے پہ دونوں متفق ہیں،پہلا گروہ میاں نواز شریف سے پرانے بدلے چکانے کی لالچ اور ہڈی کے چکر میں ہے،جب کہ دوسرا گروہ وزارت عظمیٰ کے دیکھے جانے والے خوابوں کی وقت سے پہلے تعبیر پانے میں سرگرداں ہے۔
ان حالات میں مسلم لیگ کی قیادت کس انداز میں پارلیمنٹ کے کردار کو موثر اور حکومت گرانے کی کوششوں کو ناکام بناتی ہے،اس کا سارا دارومدار اس کی پالیسیوں پہ ہے،جہاں ابھی تک مفاہمت نظر نہیں آرہی،پیپلز پارٹی،ایم کیو ایم ،اے این پی سے اگر اچھی ورکنگ ریلیشن بنانے میں ن لیگ کامیاب ہوجاتی ہے تو موجودہ دباؤ سے نکلنے میں کامیاب ہوجائے گی،سابق صدر آصف علی زرداری کی سیاسی سوچ سے استفادہ کیا جا سکتا ہے،جنہوں نے مسکراتے ہوئے پانچ سال کا عرصہ کامیابی سے گزارا اور پاکستان کی صدارتی تاریخ میں عہد ہ صدارت کی مدت پوری کر کے ایک مثال قائم کی،کیا ن لیگ سابقہ دور میں بڑا بھائی قرار دینے والے آصف علی زرداری کی خدمات سے استفادہ کرنے میں سبکی محسوس کر رہی ہے جب کہ جمہوریت اور موجودہ سیٹ اپ کو بچانے کے لیے اگر پیپلز پارٹی کو حکومت میں شامل بھی کرنا پڑتا ہے تو دیر نہیں کرنی چاہیے۔
کینیڈین بازی گر،تین کا ٹولہ اور برطانوی داماد اگر آپس میں منتشر ہی رہتے ہیں تو پھر حکومت کو کوئی خاص خطرہ نظر نہیں آرہا لیکن اگر ا ن کا اتحاد ہوجاتا ہے تو پھر حکومت کے لیے پریشر سے نکلنا مشکل ہوجائے گا،لہٰذا بہتر یہی ہے کہ حکومت تما م اتحادی سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لے اورسخت فیصلے کرنے سے اجتناب نہ برتے،اگر مولانا صوفی محمد آئین اور موجودہ سسٹم کا انکار کرنے کے جرم میں جیل جا سکتا ہے تو کینیڈین بازی گر آزاد فضاؤں میں کیوں سانس لے رہا ہے۔؟سسٹم کو خطرے میں ڈالنے اور آئین کی خلاف ورزی کرنے کی پاداش میں طاہر القادری کے خلاف بھی ایکشن لیا جائے اور کینیڈا حکومت کو بھی آگاہ کیا جائے کہ آپ کے ملک کا شہری ہمارے ملک میں عدم استحکام پھیلا رہا ہے ،اس کے خلاف کارروائی کی جائے۔جہاں تک تحریک انصاف کی بات ہے تو اس نے اپنے خوابوں (وزارتِ عظمیٰ ) کی جلد تعبیر کے لیے کچھ نہ کچھ کرتے رہنا ہے اور اس کو اپنی سیاسی بقاء کا صرف ایک ہی راستہ نظر آرہا ہے کہ مڈٹرم الیکشن،اگر موجودہ حکومت اپنی مدت پوری کرتی ہے تو نہ صرف شیخ رشید،اصحابِ ق(چوہدری برادران) بلکہ تحریک انصاف کے غبارے سے بھی ہوا نکل جائے گی ،جو اسٹیبلشمنت کے لیے ناقابل قبول صورت حال ہوگی،ایسے میں حکومت کو خاطر جمع رکھنی چاہیے اور تدبیر کے ذریعے تخریب پہ قابو پانے کی کوشش کرنی چاہیے۔
حکومت کے لیے اگر اس وقت کوئی قوت مئوثر ثابت ہوسکتی ہے تو وہ جمعیت علمائے اسلام،پیپلز پارٹی ،اے این پی اور کسی حد تک ایم کیو ایم بھی ہے اور اگر مرکز میں جماعت اسلامی کو بھی ساتھ ملا لیا جائے تو احتجاج،لانگ مارچ اور دھرنوں کی سیاست حکومت کو نقصان نہیں پہنچا سکتی،جہاں تک بات ہے طاہرالقادری کی تو وہ سسٹم کا باغی ہے اور بغاوت کی سزا آئین کا آرٹیکل چھ ہے ،جو آئین کے نفاذ سے ابھی تک ناقابل عمل رہا،اب اگر اس پہ عمل درآمد کر لیا جائے تو سونے پہ سہاگا ہوگا،طاہرالقادری کے ویژن کا اندازہ اس کے ساتھ ملنے والے فرقہ پرستوں کو دیکھ کر آسانی سے لگایا جاسکتاہے۔
لیڈر شپ کے لیے سب سے بڑی خوبی فیصلہ کی قو ت ہوتی ہے اور ن لیگ کی لیڈر شپ کے لیے وہ گھڑی آن پہنچی ہے،ایک طرف سسٹم بچانا ہے اور دوسری طرف ملک میں پھیلا انتشار ختم کرنا،چودہ سال بعد اقتدار میں آنے والے ابھی تک تو غلطیوں پہ غلطیا ں کر رہے ہیں لیکن ان کا جلد سنبھل جانا ہی ملک کے بہترین مفاد میں ہے،بدترین جمہوریت بھی آمریت سے ہزار درجہ بہتر ہے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com
تاریخ اشاعت: 2014-07-21

کالم نگار     :     محمد عزیر عاصم

محمد عزیر عاصم کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-