بند کریں
منگل جولائی

کھودا پہاڑ ،نکلا چوہا

حافظ ذوہیب طیب :

اکثر ایسا ہو تا ہے کہ اپنے بزرگوں سے وراثت میں ملی ”کہاوت “ کو ان کی اخلاقی تربیت فراہم کرتی نصیحتوں کی طرح سر کے اوپر سے گذار دیتے ہیں۔ غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کی نصیحتوں سمیت کہاوتوں میں بھی زندگی گذارنے کا سبق اور انسانی روئیوں کے حوالے سے پوری فلاسفی موجود ہو تی ہے۔ایسی ہی ایک کہاوت ”کھودا پہاڑ،نکلا چوہا“ مسندِ حکمرانی پر بیٹھے ”حکمران طبقے “ پر پورا اُترتی ہے ۔ بظاہرخدمت انسانی کے اتنے بڑے بڑے دعوے اور اپنے آپ کو” خادم اعلیٰ“ کہلوانے والے حکمرانوں کے یہ دعوے ” سرکاری کارندوں“ کے پیروں تلے روندے دکھائی دیتے ہیں۔حکمرانوں کے جبری لوڈ شیڈنگ،مصنوعی مہنگائی اورامن و امان کے بد تر حالات پیدا کرنے والوں کو چوک پر لٹکائے جانے والے نعرے اسی کہاوت کے مصداق نظر آتے ہیں۔حکمران ٹولے کے ہر فیصلے کے پیچھے یہ کہاوت جھلکتی نظرا ٓتی ہے۔
برادرم طلعت حسین نے اپنے کالم میں وزیر اعظم کے حالیہ دورہ کراچی کی جو روداد بیان کی ہے وہ بھی اسی کہاوت کے گرد گھومتی ہے۔بظاہر تو بڑے بڑے نعرے ہیں لیکن حقیقت حال یہ ہے کہ کسی بھی نعرے کو عمل جامہ پہنا نے میں یہ لوگ ناکام نظر آتے ہیں۔ ایک عرصے سے کراچی میں جاری خون خرابے کے عمل کو روکنے کے لئے کوئی سنجیدہ اقدامات اٹھانے کی بجائے یہ میٹنگ بھی پرانی میٹنگوں سے کچھ مختلف نہ تھی۔افسوس کے ساتھ یہ لکھنا پڑتا ہے کہ شہر کراچی میں امن و امان قائم کر نے کی غرض سے پچھلی میٹینگزمیں ہونیو الے درجنوں فیصلے عملدرآمد کی منزل سے کوسوں دور فائلوں کی زینت بنے دیمک کی نظر ہونے کے لئے تیار ہیں۔ایک نہیں ایسے بہت سے ایسے واقعات ہیں جنہیں حکومت کی طرف سے پہاڑ کھودنے جیسی انتھک محنت کی تشبیہ دی جاتی ہے لیکن معاملات بتاتے ہیں کہ اس میں چوہے کے سوا ء اور کچھ بر آمد نہیں ہوتا۔
قارئین! ابھی کل ہی کی بات ہے کہ500گھروں پر محیط ہمارے محلے کا واحد ٹرانسفارمرتکنیکی خرابی کی وجہ سے بند ہو گیا جس کے نتیجے میں 5گھنٹے تک تمام گھر والے سانس روکتی حبس زدہ گرمی ، اندھیرے او رحکمرانوں کے وعدوں پر یقین کئے” ابھی آجائے گی “کی امید لگائے بڑی بیتابی کے ساتھ بجلی کی واپسی کا انتظار کرتے رہے۔محلے داروں کے اجتماعی طور پر متعلقہ دفتر جانے پر معلوم ہوا کہ تین گھنٹے سے پہلے کوئی بندہ نہیں آسکتا۔عملے کے اس آمرانہ فیصلے کی شکایت کر نے کے لئے لیسکو کے متعلقہ ایس۔ڈی۔او کے موبائل نمبر پر کئی دفعہ رابطہ کر نے کی کوشش کی جو مسلسل بند جا رہا تھا اور متعلقہ آفس کے پی۔ٹی۔سی۔ایل نمبر کو کو ئی ریسیوکر نے کی ہمت نہیں کر پا رہا تھا۔ ایکسین نے اپنا نمبر مصروف کر رکھا تھا اور اس کے علاوہ کوئی رستہ نظرنہ آتا تھا کہ اب کیا کیا جائے؟ ایسے میں لیسکو کے پی۔ آر۔او سے بھی رابطہ کیا جنہوں نے آگے لیسکو کے کمپلنٹ نمبرز پر رابطہ کر نے کا مشورہ دیا۔ یہاں بھی کوئی دال نہ گلی تو لیسکو چیف سے رابطہ کر نے کی کوشش کی جو کامیاب رہی ،انہوں نے مسئلے کو ایس۔ایم ۔ایس کی صورت ارسال کرنے کے احکامات جاری کئے۔ ان تما م تر مشکل مرحلوں سے گذرنے کے تین گھنٹے گذر جانے کے بعد بھی معاملہ جوں کا توں رہا تو بالآخراس امید کے ساتھ اپنے محکمے میں موجود کالی بھیڑوں سے آہنی ہاتھوں سے نبٹنے کا نعرہ مستانہ لگاتے وزیر صاحب کو فون گھما دیا کہ یہ ضرور لیسکو انتظامیہ کی ہٹ دھرمی اور عوام دشمنی پالیسی کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف ایکشن لیں گے اور پہلی ہی فرصت میں ہمیں اس عذاب سے بھی نجات دلائیں گے۔
وزیر صاحب نے میری بات کو بغور سنا اور اس کے بعد لیسکو چیف والے جملوں کو دھراتے ہوئے معاملے کے فوری حل کی یقینی دہانی کرائی۔ میں نے بھی فوری طور پر ان کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے محلے والوں کو تسلی دی کہ اب صرف چند لمحوں میں لیسکو والے دوڑے آئیں گے ۔ 5گھنٹوں کا طویل دورانیہ ختم ہونے پر میری تما م امیدیں دم ٹورتی گئیں اور پھر عملہ اپنے دئیے گئے وقت سے دو گھنٹے تاخیر پر پہنچ گیا جنہوں نے 3منٹ میں 5گھنٹوں سے عذاب میں مبتلا اہل علاقہ کو سکون کے سانس فراہم کئے۔
قارئین محترم !اخبارات میں” خادم اعلٰی “ کارمضان بازاروں میں سستی اشیا ء کی فراہمی کے بیانات کے آس پاس ہی یہاں جاری گرانی اور سہولت کے نام پر عوام کو ذلیل کر نے کی خبریں لگی ہوئی ہوتی ہیں جو یکم رمضان سے اب تر متواتر شائع ہو رہی ہیں ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکمران بقول چوہدری شجاعت”مٹی پاؤ “ والی پالیسی کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے صیح معنوں میں خدمت انسانی کے نعروں کو حقیقت میں تبدیل کر نے کے لئے کوئی واضح پالیسی بنائیں اور ملک میں امن،خوشحالی اور سکون کی فضا ء کو قائم کرنے کے لئے بڑے بڑے دعووں کے ساتھ بڑے بڑے فیصلے بھی کریں۔یاد رہے حکمرانوں کی طرف سے مزید یہی روش اختیار رکھی گئی توان کی کارکردگی پر صرف ایک ضرب المثل ” کھودا پہاڑ، نکلا چوہا والی کہاوت زبان زد عام ہوگی۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com
تاریخ اشاعت: 2014-07-17

کالم نگار     :     حافظ ذوہیب طیب

حافظ ذوہیب طیب کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-