بند کریں
جمعہ اگست

پاکستان میں رئیل سٹیٹ اور ہاوٴسنگ سیکٹر

میاں اشفاق انجم :

پاکستان کی تاریخ بتاتی ہے رئیل اسٹیٹ کا کاروبار جمہوری ادوار میں محدود ہوا جبکہ آمریت کے دور میں رئیل اسٹیٹ سیکٹرز چھایا رہا اور آمریت کے دور میں باہر سے پیسہ بھی بہت آیا۔ آج کے کالم میں وجوہات تلاش کرنا مقصود نہیں ہے، ایسا کیونکر اور کیسے ہوتا رہا؟ البتہ ایک بات طے ہے کہ رئیل اسٹیٹ سیکٹرز کا چلنا درجنوں دوسرے کاروبار بھی چلاتا ہے۔ رئیل اسٹیٹ کا کاروبار اور ہاؤسنگ سیکٹر کا کاروبار جب چلتا ہے تو درجنوں شعبہ جات کو بھی چلاتا ہے ۔ ایک گھر کی تعمیر سے کتنے شعبہ جات فعال ہوتے ہیں اس کا اندازہ آپ لگا سکتے ہیں۔ پلاٹ خریدنے سے بنیادیں کھودنے تک اور اینٹیں، سریا، سیمنٹ، بجری، راج مزدور ملوث ہو جاتے ہیں پھر لکڑی، شیشہ اور دیگر شعبہ جات ملوث ہوتے چلے جاتے ہیں۔ اگر کہا جائے رئیل اسٹیٹ سیکٹر ہاؤسنگ سیکٹر ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں تو بے جا نہ ہو گا۔ دنیا کے درجنوں ممالک کی مثالیں دی جاتی ہیں۔ ملکی معیشت کی مضبوطی کے لئے انہوں نے صرف رئیل اسٹیٹ سیکٹر اور ہاؤسنگ سیکٹر کو ہدف بنایا اور پھر روزگار بھی ملا اور عوام کو چھت بھی ملی اور ملک کی انڈسٹری کا پہیہ بھی خوب چلا۔ یہی ممالک ترقی پذیر سے ترقی یافتہ کہلائے، ہمارے ملک کی بدقسمتی کہہ لیں یا المیہ کہہ لیں ہم بھیڑ چال کا شکار ہیں روٹی، کپڑا، مکان کا نعرہ بھی اس لئے حکمران لگاتے ہیں کہ روٹی یعنی روزگار، مکان، یعنی چھت اور کپڑا یعنی کپڑے کی صنعت عروج پائے۔ یہ نعرے بھی سیاسی مفاد سے آگے نہیں بڑھ پا رہے۔
 رئیل اسٹیٹ، ہاؤسنگ سیکٹر پاکستان کا ہو یا کسی دوسرے ملک کا اس میں بیرون ملک مقیم افراد سمیت دیگر ممالک کی حکومتوں کو سرمایہ کاری کی ترغیب دینے کا بہترین ذریعہ بھی ہے لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ اخلاص ہو اور اہداف طے ہوں۔ ڈنگ ٹپاؤ پالیسی نہ ہو تو یقینا نتائج مثبت ہی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ بہت سارے دیگر شعبوں کی طرح پاکستان میں بھی بے شمار ادارے اور انڈسٹریز ہیں جو اتار چڑھاؤ کا شکار ہوتے رہے ہیں، صرف اس لئے حکومت کی ترجیح نہیں ہوتے۔ پاکستان میں اس وقت رئیل اسٹیٹ سیکٹر اور ہاؤسنگ سیکٹرز واحد شعبہ جات ہیں جس سے حکومت کے کئی شعبے بالواسطہ یا بالاواسطہ ٹیکس حاصل کرتے ہیں۔
اس میں بھی کوئی شبہ نہیں ہے ملک بھر میں رئیل اسٹیٹ اور ہاؤسنگ سیکٹرز سے وابستہ افراد کی تعداد سینکڑوں، ہزاروں نہیں رہی، بلکہ لاکھوں سے تجاوز کر گئی ہے۔ رئیل اسٹیٹ بزنس روز بروز آگے بڑھ رہا ہے دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی ہاؤسنگ سیکٹرز کے ساتھ پرائیویٹ پبلک پارٹنر شپ کے مشترکہ منصوبے سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں، محسوس ہونے لگا تھا شاید میاں محمد نواز شریف کی حکومت نے رئیل اسٹیٹ کے کاروبار کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے اس سے استفادہ کرنے کا منصوبہ بنا لیا ہے۔ لاہور میں پرائیویٹ پبلک پارٹنر شپ کے مشترکہ منصوبےLDA سٹی کا آغاز بھی کر دیا گیا ہے۔ لاہور میں راوی زون ڈویلپمنٹ پر بھی کام ہو رہا ہے۔ اسلام آباد، کراچی میں بھی اِسی طرز کے منصوبے زیر غور ہیں، محسوس ہو رہا تھا کہ بجٹ2014ء میں حکومت رئیل اسٹیٹ کے لوگوں کے دیرینہ مطالبے پر رئیل اسٹیٹ سیکٹر کو صنعت کا درجہ دے کر مراعات کا اعلان کرے گی۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لئے کوئی پیکیج متعارف کرائے گی، جس سے زرمبادلہ کے ساتھ ساتھ دیگر منصوبوں کی تکمیل میں معاونت حاصل ہو گی، مگر افسوس مراعات تو دور کی بات بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لئے خصوصی پیکیج کی بات کرنے کی بجائے انڈے دینے والی مرغی کو ہی ذبح کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ وفاقی بجٹ کے بعد پنجاب کے بجٹ نے رہی سہی کسر پوری کر دی اور رئیل اسٹیٹ بزنس زبوں حالی کا شکار ہونا شروع ہو گیا، ترقی کا پہیہ تو نہ چلا جو کام ہو رہا تھا وہ بھی بند ہو گیاہے۔اگر کہہ لیا جائے رئیل اسٹیٹ سیکٹرز کو اس وقت پاکستان کی تاریخ کے بدترین بحران کا سامنا ہے، تو غلط نہ ہو گا سیلز پرچیز بند ہو گئی ہے، پراپرٹی ڈیلرز کے دفاتر بند ہونا شروع ہو گئے ہیں، حکومت کے ریونیو میں زبردست کمی ریکارڈ کی گئی ہے، حالانکہ حکومت سیلز پرچیز سے(CVT) کیپٹل ویلیو ٹیکس اشٹام ڈیوٹی گین ٹیکس ٹرانسفر فیس، رجسٹریشن فیس ڈویلپمنٹ چارجز کے نام پر کئی طرح کے ٹیکس وصول کر رہی تھی، حکومت کو بھی مناسب ٹیکس مل رہے تھے اور پراپرٹی ڈیلرز بھی اپنی روزی روٹی پوری کر رہے تھے۔
افسوس! حکمرانوں کی جلد بازی کی وجہ سے رئیل اسٹیٹ سیکٹرز سے وابستہ افراد کو اعتماد میں لئے بغیر زبردستی مسلط کئے گئے ٹیکسز کا نتیجہ خوفناک سامنے آ رہا تھا۔ رئیل اسٹیٹ سیکٹر کا سارا کاروبار تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا۔ عدم مشاورت کا نتیجہ عدم اطمینان خوف کی صورت میں سامنے آ رہا ہے گین ٹیکس جو گزشتہ سال0.5فیصد تھا، اضافہ کرتے ہوئے فائل صارفین کے لئے 0.5 فیصد اور نان فائلر صارفین کے لئے1فیصد کر دیا گیا ہے۔
وفاقی حکومت نے ایڈوانس ٹیکس کے نام پر نیا ٹیکس لاگو کر دیا ہے جس کے مطابق30لاکھ روپے سے زائد مالیت کی جائیداد کی خرید پر خریدار کو فائلر صارف ہونے کی صورت میں1فیصد جبکہ نان فائلر صارف کی صورت میں 2فیصد ٹیکس ادا کرنا ہو گا۔ 18ویں ترمیم کے بعد زیادہ ٹیکس صوبائی حکومتیں اکٹھا کر رہی ہیں۔ صوبائی حکومت نے اشٹام ڈیوٹی کی شرح2فیصد سے بڑھا کر 3فیصد کر دی ہے۔ ضلعی حکومتوں نے ڈی سی ریٹ میں بے پناہ اضافہ کر دیا ہے۔ اشٹام پیپر کا حصول مشکل بنا دیا گیا ہے۔
جو کام رئیل اسٹیٹ ایجنٹ اپنے لیٹر پیڈ پر کرتے تھے اس کے لئے1200روپے خزانے میں جمع کرا کے اقرار نامہ اور اشٹام حاصل کرنے کی شرط عائد کر دی گئی ہے۔ بنیاد اس بات کو بنایا گیا ہے۔ چور بازاری کا راستہ روکنا چاہتے ہیں، حالانکہ حکومت کو سیلز اور پرچیز دونوں اطراف سے ٹیکس وصول ہو رہے ہیں سفید پوشی تھی وہ بھی ختم کر دی گئی ہے، دو گھنٹے کا کام تین دنوں میں ہو گا اور چور بازاری کے نئے راستے سامنے آئیں گے۔ موجودہ ٹیکسوں کے نفاذ کے بعد جائیداد کی منتقلی کے اخراجات بڑھ کر تین گنا ہو گئے ہیں جو کہ خریدار پر اضافی بوجھ ہیں۔ دوسری طرف ان بھاری ٹیکسوں کی وجہ سے رئیل اسٹیٹ سیکٹر تباہی اور بربادی کی آخری حدوں کو چھونے لگا ہے، تھوڑا بہت کام جو رہا تھا وہ بھی بند ہو گیا ہے، افسوس ناک پہلو یہ ہے موجودہ ٹیکسوں کا نفاذ کرتے ہوئے اس کے منفی اثرات کا جائزہ نہیں لیا گیا اور نہ اس کاروبار سے وابستہ افراد کو اعتماد میں لینے کی کوشش کی گئی جس کی وجہ سے بحران بڑھتا ہی جا رہا ہے کروڑوں کا ٹیکس جو خزانے میں آ رہا تھا وہ اربوں تو نہ ہو سکا البتہ حکومت کو کروڑوں وصول ہونے والے ٹیکسوں سے بھی ہاتھ دھونا پڑر ہے ہیں۔DHAاسٹیٹ ایجنٹس ایسوسی ایشن کے سیکرٹری حاجی زاہد بن صادق نے احتجاج کا علم بند کیا ہے۔ انہوں نے اپنے صدر طلعت احمد میاں نو منتخب سینئرنائب صدر کرنل اکبر میاں حسن اختر عباسی اور اپنی ٹیم کے ساتھ وفاقی اور صوبائی ٹیکسوں کو مسترد کرتے ہوئے واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے اور واپس نہ لینے کی صورت میں احتجاج جلوس، مظاہرے، علامتی بھوک ہڑتال، علامتی خود کشیاں کرنے اور کفن پوش جلوس نکالنے کا عندیہ دیا ہے۔ احتجاجی تحریک کی دھمکی دیئے ہفتہ ہونے کو ہے، حکمرانوں کی طرف سے کوئی مثبت پیشرفت نہیں ہوئی اور نہ کسی حکومتی نمائندے نے منتخب نمائندں کو ملاقات کے لئے بلایا ہے، محسوس ہو رہا ہے ٹکراؤ ہو گا۔
فائدہ کس کا ہو گا حکومت کو انڈا کھانا چاہئے مرغی ذبح کریں گے، تو نہ انڈا ملے گا نہ مرغی، حکومت کے لئے سوچنے کا لمحہ ہے۔ رئیل اسٹیٹ سیکٹر ایک ادارہ نہیں ہے بلکہ اس سے درجنوں کاروبار براہ راست جڑے ہوئے ہیں۔ پراپرٹی ڈیلرز کا ایک دفتر بند ہوتا، ایک زیر تعمیر گھر رُک جاتا، درجنوں کاروباروں کے رُک جانے کے مترادف ہو گا۔پوری برادری کو ذاتی مسائل نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اگر کوئی ہیں تو ان کا باہمی اتفاق نہ ہونے کی وجہ سے پوری برادری کو ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر باہم سیسہ پلائی دیوار بن کر ٹیکسز ختم کرانے کے لئے میدان میں آنا ہو گا، ورنہ وفاقی حکومت کے بعد پنجاب حکومت کے ٹیکسز کو بنیاد بنا کر LDA اور FDA، CDA اور KDA نے بھی ٹرانسفر فیس میں بے تحاشا اضافہ کر دیا ہے۔ DHA کی طرح لاہور میں LDA اور پراپرٹی ڈیلرز بھی آمنے سامنے ہیں۔ روزانہ احتجاج ہو رہا ہے۔LDA کے افسران ٹھنڈے کمروں سے باہر آنے کے لئے تیار نہیں اور ڈیلرز برادری LDA دفاتر کے باہر دھوپ میں روزے رکھ کر دھرنا دے رہے ہیں۔ یہ کوئی حل نہیں ہے، دونوں اطراف کے لوگ محب وطن ہیں۔ وطن عزیز کی تعمیر و ترقی کے لئے مشترکہ لائحہ عمل طے کرنے کے لئے مشاورت کے عمل کو آگے بڑھانا چاہئے۔ پراپرٹی ڈیلرز جوہر ٹاؤن کا ہے، واپڈا ٹاؤن کا یاDHAکا ہے یا کراچی کا وہ ٹیکس دینا چاہتا ہے تو حکمرانوں کو مل بیٹھ کر راستہ نکالنا چاہئے ورنہ بدامنی دہشت گردی،بے روزگاری نے تو پہلے ہی پنجے گاڑھ رکھے ہیں۔ آئیے مل کر ملک و ملت کی تعمیر کا عہد کریں اور اپنے مسائل میز پر بیٹھ کر حل کریں۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com
تاریخ اشاعت: 2014-07-13

کالم نگار     :     میاں اشفاق انجم

میاں اشفاق انجم کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-

: متعلقہ عنوان