بند کریں
جمعہ اگست

ہمارا حکمران قانون پر بھاری ہے

عبدالرحیم انجان :

ایک معتبر ذرائع کے مطابق ۶۰ کی دھائی میں ایک بزنس مین کا بیٹا امریکہ میں اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد ایک گاڑی آرڈر پر بنوا کر لے آیا تھا۔مختلف ماڈل کی مختلف چیزوں پر مشتمل اُس کار کی کاپی پوری دنیا میں کسی کے بھی پاس نہیں تھی۔اُس دور کے صدر پاکستان ایوب خان کے ایک صاحبزادے ( جن کا نام یاداشت کی گرفت میں نہیں آرہا) نے وہ کار خریدنے کی پیش کش کی لیکن کار کے مالک نے یہ کہہ کر کار بیچنے سے معذرت کر لی کہ آپ تو صدرپاکستان کے صاحبزاے ہیں، آپ آرڈر پر اپنی مرضی کی کار بنوا بھی سکتے ہیں اور لا بھی سکتے ہیں۔لیکن میں چند برس امریکہ میں گزارنے کی وجہ سے بس ایک ہی بار ایک گاڑی لا سکتا تھا،جو لے آیا ہوں، دوبارہ نہیں لا سکتا۔ کچھ دن کے بعد وہ گاڑی چوری ہو گئی اور پھر کچھ ہی دنوں کے بعد وہ کار مری میں دیکھی گئی اور پکڑی بھی گئی، وہ صدر پاکستان ایوب خان صاحب کے صاحبزادے کے پاس تھی۔باوجود اس کے کہ اس وقت میڈیا آج کی طرح آزاد نہیں تھا، پھر بھی ایسی ہا ہا کار مچی کہ گورنر پنجاب نواب امیر محمد خان نے صدر پاکستان کو یہ مشورہ دیا کہ وہ پریس کانفر نس بلا کر یہ کہہ دیں کہ ہم نے مجرم کو قانون کے حوالے کر دیا ہے اور وہ جیل میں ہے۔لیکن بیٹے کو جیل بھیجنے کے بجائے چند ماہ کے لئے کسی دوسرے ملک میں بھیج دیں۔لیکن صدر پاکستان جنرل محمد ایوب خان نے نہ صرف گورنر پنجاب کا مشورہ ماننے سے انکار کر دیا ، ان کے ساتھ ان کے تعلقات بھی کشیدہ ہوگئے۔
 ہمارے ہاں جمہوری دور ہو یا آمریت کا سکہ چل رہا ہو۔ انصاف کے کٹہرے میں جیت ہمیشہ حکمرانوں ہی کی ہوتی ہے۔ حکمرانوں کے خلاف انصاف کرتے ہوئے بڑوں بڑوں کا پتا پانی ہو جاتا ہے۔
ڈاکٹر طاہر القادری کے گھر پر پولیس اپریشن کی ٹی وی کیمروں نے کوئی بات چھپی نہیں رہنے دی۔اس مقدمے کے مجرم کھلی کتاب کی طرح قوم کے سامنے ہیں۔چھان بین فقط اس بات کی ہونی چاہیے کہ اس سانحہ کے اصل مجرم کون ہیں ؟
 وزیر اعلیٰ پنجاب جناب شہباز شریف نے اعلان کیا کہ اس بربریت کی چھان بین کے لئے عدالتی کمیشن بنا دیا گیا ہے۔اگر میرا قصور ہوا تو میں مستعفیٰ ہو جاوٴں گا۔تازہ تریں خبر یہ ہے کہ موصوف نے اپنے سیکرٹری ڈاکٹر طوقیر اور پنجاب کے وزیر قانون رانا ثنا اللہ سے استعفیٰ لے لیا ہے، گویا انہوں نے عدالتی کمیشن کے فیصلے سے پہلے ہی یہ مان لیا ہے کہ قصور ڈاکٹر طاہر القادری کے گھر پر حملہ کرنے والوں کا ہے۔وزیر اعلیٰ صاحب نے اِن قربانی کے بکروں کے بارے میں یہ نہیں بتایا کہ اُن کا قصور کیا ہے ؟
ہاں انہوں نے یہ ضرور کہا ہے کہ ایسا انصاف کروں گا جو نظر آئے گا۔۔
جناب والا !نظر تو بہت کچھ آ را ہے۔لوگوں نے تو آپ کا وہ انصاف بھی دیکھا ہے جو جیو گروپ کے مقابل آئی۔ایس۔آئی اور آل رسول اللہ ﷺ سے محبت کرنے والے اہل ایمان کو دیا ہے اور لوگوں نے یہ بھی دیکھا ہے کہ گلوبٹ ، جس نے بڑی بے رحمی سے توڑ پھوڑ کی ہے، کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور پھر یہ بھی دیکھا ہے کہ اس کی ضمانت بھی ہو گئی ہے۔ سوال ہے ،گلو بٹ کے خلاف جس ”ایف۔آئی۔آر“ میں ضمانت کی گنجائش رکھی گئی ہے ،کیا اُس ”آیف ۔آئی۔ آر“ کی بنیاد پر اسے چند تواریخ بھگتانے کے بعد با عزت بری نہیں کر دیا جائے گا ؟خیر گلو بٹ کو چھوڑیں وہ تو حاکموں کا ہیرو ہے۔شیر لاہور ہے۔حیرت کی بات تو یہ ہے کہ ہم تو یہی سنتے آ رہے ہیں جنگل میں ایک ہی شیر جنگل کا بادشاہ ہوتا ہے۔ لاہور ، جو لا قانونیت کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں ڈوب کر جنگل ہی بن چکا ہوا ہے، میں دو دو شیر کیسے ؟کہیں ایسا تو نہیں کہ ایک شیر کاغذی ہے۔
 یہاں آ کر کچھ سوال پیدا ہوتے ہیں۔ڈاکٹر طوقیر، جوو زیر اعلیٰ صاحب کے سیکرٹری ہیں، اور وزیر قانون کو ان کے کس قصور کی پاداش میں مستعفی ہونے پر مجبور کیا گیا ہے؟ کیا انہیں سانحہ ماڈل ٹاوٴں کے ذمّہ دار ٹھہرا کر مستعفی ہونے پر مجبور کیا گیا ہے ؟
 جناب والا ! سانحہ ماڈل ٹاوٴن میں تو گیارہ لوگ قتل اور ۸۰ کے قریب زخمی ہوئے ہیں۔یہ کیسا انصاف ہے کہ اتنے خون خرابے کے ذمّہ دار لوگوں کو محض مستعفی ہونے کے لئے کہا گیا ہے۔اُن پر آٹھ لوگوں کے قتل کا مقدمہ کیوں نہیں چلایا جا رہا۔؟ شاید اس سوال کا جواب یہ ہو کہ قتل کا مقدمہ تو پولیس پر چلایا جائے گا۔”انصاف وہ جو نظر آئے“ اور گیارہ سے زیادہ معصوم شہریوں کا قتل عام آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پوچھ رہا ہے کہ پولیس کو ڈاکٹر طاہر القادری کے لوگوں کو مزہ چکھانے کا حکم کس نے دیا تھا ؟ ۱۳ اور ۱۶ جون کو کچھ اعلیٰ سطح کی میٹنگز کا ذکر بھی ہو رہا ہے۔اُن میٹنگز میں ڈاکٹر طاہر القادی کے لوگوں کو مزہ چکھانے کا حکم کس نے دیا تھا ؟ کیا پولیس کسی حاکم کے حکم کے بغیر گولی چلانے کی مجاز ہے ؟ کیا بیسٹ گورنس کے داعی ہمارے وزیر اعلیٰ صاحب کو ان میٹنگز کے بارے میں بھی کوئی خبر ہے یا نہیں ؟ اگر نہیں ہے تو یہ کسی حکومت کی بیڈ گورنس کی انتہائی افسوس ناک مثال ہے۔کچھ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اُن کے پاس گولی چلانے کے لئے کوئی تحریری حکم نہیں ہے۔ کہتے ہیں جب انسان کی اپنی جان پر بن جائے تو پھر وہ وفاداری کا سبق بھول کر صرف سچ بولنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔وطن عزیز میں لا قانونیت پر نظر رکھنے والے لوگوں کا خیال ہے کہ گیارہ سے زیادہ معصوم شہریوں کے قتل اور اَسی (۸۰) کے قریب زخمی ، جن میں سے کافی کی حالت نازک بتائی جاتی ہے شاید مقتولین کی تعداد بڑھ جائے، شہریوں کے قتل عام کا یہ مقدمہ اول تو کوئی سنجیدہ صورت اختیار ہی نہیں کرے گا، اِس لئے بستر مرگ پر آ خری سانسیں لیتے ہوئے عدل و انصاف کے ہاتھ بہت کمزور ہو چکے ہیں اور عوامی دباوٴ کے سبب یہ مقدمہ اگر عدل و انصاف کی راہ پر گامزن ہو ہی گیا تو پھر بھی اصل مجرموں تک کون پہنچے گا ؟قیا مت تو بے چارے پولیس والوں پر ہی ٹوٹے گی،اِس میں کوئی شک نہیں کہ پولیس والوں نے ڈاکٹر طاہر القادری کے مداحین کے خلاف وحشیا نہ بربریت کا مظاہرہ کیا ہے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ ہمارے ہاں” پولیس گیری“ نے ، پولیس کو اچھا خاصا بد نام کر دیا ہوا ہے۔ لیکن۔
 یہ آوارگی سی جو شبنم میں ہے
 اِس میں کچھ جرم آفتاب بھی ہے
جس معاشرے میں ترقی کے لئے میرٹ اور اہلیت سے زیادہ ”طابعداری ، ملک و ملت اور قانون سے زیادہ حاکم ِوقت کے ساتھ وفاداری “ کو اہمیت دی جاتی ہو۔ وہاں ظلم و بربریت کے ایسے افسوس ناک تماشے تو ہوں گے ہی۔جہاں ہر موثر ادارے پر ” میرٹ اور اہلیت“ کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے اپنے وفادار لوگوں کو بٹھا دیا جائے وہاں قانون اور عدل و انصاف تو چاک گریباں ہی نظر آئے گا۔اب پولیس والوں پر جو بیتے گی،یا رانا ثنا اللہ اور ڈاکٹر طوقیر پر جو بیت گئی ہے،ان سب کے لئے لمحہ ِ فکریہ ہے۔پولیس والوں کو چاہیے کہ وہ حاکموں کو خوش کرنے کے لئے اپنی حد سے باہر نہ نکلا کریں۔
ایوب خان کا دور ِ حکومت تھا اور جنرل موسٰے لاہور کے گورنر تھے۔ پارک لگژری ( آج کے حواری)میں جنرل موسٰے کا مرحوم بیٹا ابراہیم موسٰے ٹھہرا ہوا تھا اور اسے فلم سٹار ترانہ ملنے آ رہی تھی۔جس نے ہوٹل میں پہنچ کر ابراہیم موسٰے کو فون کیا اور اس نے ترانہ کو اپنا روم نمبر بتایا۔ابراہیم موسٰے کے کمرے سے ایک دو کمرے پہلے ایک کمرے کا دروازہ کھلا تھا،جس میں کسی دوسرے شہر سے آئے ہوئے دو نوجوان ٹھہرے ہوئے تھے۔ اُنہوں نے ترانہ کو دیکھا تو بلا لیا۔ایک دوسرے کو پہلے سے جانتے تھے ۔ اُدھر ابراہیم موسٰے دس پندرہ منٹ انتظار کرنے کے بعد اپنے کمرے سے باہر آ گیا۔ اس نے فلور کے بیرے سے ترانہ کے بارے میں پوچھاتو اس نے کمرے کی طرف اشارہ کر دیا۔ ابراہیم موسٰے گورنر کا بیٹا ہونے کے زُعم کے سرپٹ گھوڑے پر سوار تھا ،اُس نے بینگ بینگ کمرے کا درواز پیٹا۔ابراہیم موسٰے کی اس بد تمیزی پر بات بڑھ گئی۔مجھے یاد پڑتا ہے۔یہ ۶۴۔۶۳ ء ء کا واقعہ ہے۔لاہور کے ایس۔ایس۔پی ایم ایم علی روٴف تھے اور چیئرنگ کراس تھانے میں ڈی۔ایس پی اصغر خان تھے ،جو ہلاکو خان کے نام سے مشہور تھے، ابراہیم موسٰے نے پولیس کو بلا لیا۔وہ دونوں نوجوان سرکاری ملازم تھے۔ایک پی۔سی۔ایس اور دوسرا سی۔ایس،پی تھا اور انہوں نے اپنا کیریئر شروع کیا ہی تھا۔جن کے مقابلے میں ہلاکوں خان کو گورنر کا اوباش بیٹا زیادہ وزنی لگا۔ہلاکو خان ان کو تھانے لے جانے لگا تو انہوں نے لاہور کے ایس۔ ایس ۔پی کے آفس میں فون کیا۔علی روٴف صاحب نے ہلاکو خان سے کہا۔” تمہارا کام ان تینوں نو جوانو ں کے جھگڑے کی رپورٹ لکھ کر عدالت کو پیش کر دینا ہے۔ علی روٴف صاحب ڈی۔آئی۔جی کی حیثیت سے پرموٹ ہونے والے تھے۔لیکن ان کو اِس انصاف کی سزا یہ ملی کہ وہ ایس۔ایس۔پی سے ایس۔ پی بنا کر فیصل آباد بھیج دئے گئے۔حاکم وقت کا اس پر بھی کلیجہ ٹھنڈا نہیں ہوا تو کچھ ہی مدت کے بعد انہیں ڈی۔او۔ایف۔سی ڈویژنل آفیسر آف فرنٹئر کنسٹبلری بنا کر علاقہ غیر میں دارازندہ بھیج دیا گیا ، جو بڑی خوبصورت جگہ تھی، ایک بہت بڑی وادی کے کنارے پر کنسٹبلری فورس کا قلعہ تھا،جس کے دوسر ے کنارے پہ پہاڑ کی چوٹی پر تخت سلیمان بتایا جاتا تھا۔بہر کیف، علی روٴف صاحب نے کھڈ ے لائین لگائے جانے کی سزا ضرور پائی، لیکن اپنے دامن پر بے انصافی کا دھبہ نہیں لگنے دیا تھا۔بعد میں وہی علی روٴف صاحب ۶۹ ء ء میں لاہور کے ڈی۔آئی جی بنے اور کیبنٹ سیکرٹری ایٹ راولپنڈی میں ایڈیشنل سیکرٹری اسٹیبلش منٹ بھی رہے اور آ خر میں آزاد کشمیر کے آئی۔جی بھی بنے۔
عزت مندانہ مرتبوں اور رزق کے لئے ہمیشہ اللہ سبحان و تعالی کی طرف دیکھنا چاہیے۔قانون اور عدل و انصاف سے باغی حکمرانوں کے خاندانی ملازم بن کر ، اپنے حاکموں کے حریفوں پرظلم و ستم کے صلے میں جو عزت مندانہ مرتبے اور دولت حاصل کی جاتی ہے۔ ایک نہ ایک دن اُس کی قیمت بھی ادا کرنا ہوتی ہے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com
تاریخ اشاعت: 2014-06-23

کالم نگار     :     عبدالرحیم انجان

عبدالرحیم انجان کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-