بند کریں
منگل جولائی

اللہ کی لاٹھی کا خیال رکھ کر جیو !!!

یونس مجاز :

صاحبو ! اللہ تعالیٰ جہاں اپنے بندوں کو درگزر فرما کر سدرھر جانے کے مواقع فراہم کرتا ہے وہاں گرفت کرنے پہ آئے تو طاقت اور گھمنڈ کے مراکز ہوں کہ شخصیات پاش پاش کر دیتا ہے تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھیں تو ہمیں ایسے کئی سبق آموز واقعات مل سکتے ہیں زیا دہ دور نہ بھی جائیں توجنرل پرویز مشرف کی طاقت اور اختیار کے دس سالہ زوال کا 2007 سے ہونے والا آغاز ابھی تک مشر ف صاحب کے لئے ذلت و رسوائی کا سبب بنا ہوا ہے ملک کا مضبوط ترین ادارہ فوج بھی اپنے سر براہ کی کھل کر حمایت کرنے سے قاصر ہے عمومی طور پر تجزیہ کار ان کے زوال کا سبب لال مسجد ، اکبر بگٹی کیس وزیر ستان آپریشن اور دیگر کئی غلطیوں کو گردانتے ہیں لیکن میں نے اس وقت بھی اپنے ان ہی کالموں میں لکھا تھا کہ مشرف کے زوال کا سبب حدود آرڈینس کا مکمل خاتمہ ہے جس میں ماسوائے چند شقوں کے حدود کا قانون قرآن و سنت کے عین مطابق تھا لیکن ان ہی لبرل فسادیوں کی ایما پر جو آج جیو جنگ گروپ کے زوال کا سبب بنے ہیں مشرف صاحب نے اللہ تعالیٰ سے کھلی جنگ مول لے لی تھی سو پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے ہر اچھے کام کو بھی ان کے کھاتے میں جرم لکھ دیا لال مسجد کو ہی لے لیجیے آپریشن سے قبل وہی میڈیا اور مذہبی حلقے ،نام نہاد سول سوسائٹی حکومت کو اکسارہی تھی کہ اسلام آباد کے وسط میں اسلام کے نام پر دہشت گردی کو لگام دی جائے لیکن آپریشن کے بعد ان سب نے یو ٹرن لیا اور مشرف مجرم گردانے گئے دیگر معاملات میں بھی ایسا ہی ہوا ، سو اللہ کی ناراضگی آج تک مشرف کا پیچھا کر رہی ہے بین ہی جیو اور جنگ گروپ ایک عرصہ سے اپنے آقا وٴ کے اشارے ڈالروں کی چمک ،پونڈز کی دمک کے بل پوتے پر جو کھلواڑ کھیل رہا تھااس میں جہاں سیاست دانوں سمیت کسی کے بگڑی محفوظ نہیں رہی تھی وہاں اپنے پروگراموں کے ذریعے بے حیائی کو فروغ دینے میں لگا ہوا تھا تا وقتکہ اپنے ایک پلا نٹڈ پروگرام کے ذریعے اصحابہ اہل بیت کی توہین کا مرتکب ہوا اور اللہ تعالیٰ کے غضب کا مستحق ٹھہرا آج اسے جائے امان نہیں مل رہی وینا ملک جیسی بدنام زمانہ طوائف کو اس پروگرام میں ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت لینے کے پیچھے جہاں آئی ایس آئی کی سبکی کرنا مقصود تھا کہ یہ وہی وینا ہے جس نے بے حیائی کی تمام حدود کراس کرتے ہوئے دشمن ملک بھارت میں اپنے ننگے بدن پر پر آئی ایس آئی لکھوا کر ملکی وقار کا جنازہ نکالا تھا وہاں اپنے مغربی آقاوٴں کو یہ باور کرانا بھی مقصود تھا کہ اگر آپ ہمیں ڈالر دے رہے ہیں تو ہم بھی ملکی سلامتی ہو یا مذہب تمام حدودو قیود پھلانگنے کے لئے تیار ہیں یہی وجہ ہے یورپی یونین نے جیو کی بندش پر جی ایس پی پلس کی رعایت معطل کرنے کی دھمکی دی ہے،اس مادر پدر آزاد پالیسی کی تقلید پاقی میڈیا ہاوسز بھی کر رہے تھے آزادی صحافت جمہوریت کے نام پر کیا کیا کھلواڑ نہ کھیلے گئے بریکنگ نیوز کے نام پر قوم کو اضطراب کو بڑھاوا دینے اور پھر اپنے طنزیہ و مزاحیہ پروگراموں کے ذریعے عوام کے غصے کو ہنسی ٹھٹھہ میں اڑا دینے کے اس تسلسل نے عوام کو کو بے حس کر دیا سو مغربی ایجنڈے کے حامل بعض اہم سیاست دان ہوں کے لبرل فسادی یا پاکستانی میڈیا جہاں عوام کی دولت دونوں ہاتھوں سے لوٹنے میں مصروف ہیں وہاں ڈالروں کی چمک نے اپنے کپڑوں سے اس قدر باہر کردیا کہ انھوں نے قومی سلامتی کے اداروں کو بھی جوتے کی نوک پر لکھنا شروع کردیا جس سے نہ صرف قومی اداروں کے مورال اور ساکھ کو نقصان پہنچا بلکہ ملکی سلامتی تاریخ کے بد ترین حالات سے دوچار ہے جس میں دو بڑی پارٹیوں کا کردار شرم ناک حد تک واضح دیکھائی دے رہا ہے پیپلز پارٹی نے جہاں کیری لوگر بل ِایبٹ آباد اسامہ آپریشن اور میمو اسکینڈل کے ذریعے قومی اداروں کو بے توقیر کرنے میں کوئی قصر نہیں چھوڑی وہاں مسلم لیگ ن نے بھی بیک ڈور جو رویہ اپنا رکھا ہے وہ اب کسی سے ڈھکا چھپا نہیں مشرف کے قصہ کو الگ بھی رکھ دیا جائے تو بھی جیو آئی ایس آئی حالیہ تنازعہ کو طول دینے تماشہ دیکھنے اور موقع دیکھ کر اپنے قومی سلامتی کے اداروں پر وار کرنے کی پالیسی نے مسلم لیگ ن کی قیادت کو ننگا کر کے رکھ دیا ہے جیو جنگ گروپ کی طرف سے آئی ایس آئی کو دنیا بھر میں شرم ناک حد تک رسوا کرنے کے باوجود ایک ماہ گزرنے کو ہے حکومت نہ صرف معاملے کو لٹکا رہی ہے بلکہ جہاں ایک طرف وزارت دفاع آئی ایس آئی کی شکائت پیمرا میں لے کر گئی تو دوسری طرف وزیر اظلاعات پرویز رشید یہ اطلاع دینا بھی نہ بھولے کہ حکومت نام نہاد دانشوروں کے ساتھ کھڑی ہے غلیل والوں کے ساتھ نہیں حالاں کہ ہماری فوج جہاں دنیا کی بہترین فوج مانی جاتی ہے وہاں وہ غلیل نہیں ایٹم بم اور میزائلوں سے لیس ہے جس کی وجہ سے ہمارے دشمنوں پر لرزا طاری وہ جہاں اپنے پورے وسائل اس لرزہ کو کم کرنے کے لئے جھونکنے سے دریغ نہیں کر رہے وہاں بدقسمتی سے وہ پاکستان کی اشرافیہ میں بھی سرائت کر چکے ہیں سو آج ہمیں یہ دن دیکھنے کو ملے ہیں کہ حکومت خود ہی اپنے اداروں کی طاقت کو غلیل سے تشبہی دے رہی ہے یعنی مسلم لیگ ن میڈیا کے کندوں پر اپنے گندے کپڑے بیچ چو راہے میں دھونے پر تلی ہے حکومت ایک طرف جہاں پیمرا پر اثر انداز ہوکر کیس کو لٹکانے کی پالیسی پر گامزن ہے وہاں پر ویز رشید اور عرفان صدیقی دبئی میں جیو جنگ گروپ کے مالک میر شکیل الرحمان سے مل کر اسے اپنی حمایت اور اس کی پیٹھ تھپتھپانے جیسی گھٹیا حرکت کرنے سے بھی باز نہیں آئی پیمرا کے پانچ پرائیویٹ ارکان کی طرف سے جیو نیوز ،جیو تیز اور جیو انٹر ٹینمنٹ لا ئسنس معطل کر دئیے گئے ہیں اور ان کے تمام دفاتر سیل کرنے کا حکم بھی دیا لیکن حکومت نے اس پر مل درآمد کرانے کے بجائے پیمرا کے ترجمان کے ذریعے اس فیصلہ ہی کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی ہے اور اب اس چکر میں ہے کہ پیمرا کا کندا استعمال کر کے قومی سلامتی کے اداروں کی سبکی کا سامان پیدا کیا جائے جس کا اظہار سرکاری وزرا کر بھی رہے ہیں کہ پیمرا خود مختیار ہے وزرات دفاع نے اپنی رائے پیمرا کو ارسال کر دی ہے اب پیمرا جو فیصلہ کرے گا حکومت قبول کرے گی ظاہر ہے پیمرا وہی فیصلہ کرے گا جو حکومت چاہے گی اس ملک میں خود مختیاری اور قانون نہیں اپنے اپنے مفادات کا تحفظ اور طاقت کا راج چلتا ہیپلز پارٹی بھی ڈبل گیم کر رہی ہے مذہبی حلقوں سمیت عوام میں جیو کے خلاف نفرت کا جو طوفان اٹھا ہے اسے جیو گروپ خود بھی تسلیم کرہا ہے اس کی معافیاں بھی کام نہیں آرہیں حکومت نے اگر یہی پالیسی اختیار کئے رکھی تو یہ معاملہ طول پکڑے گا میاں صاحب جس آئی ایس آئی کو نیچا دکھانے کی منافقانہ پالیسی پر گامزن ہیں اسی آئی ایس آئی کے ہاتھوں ان کی سیاسی پرورش ہوئی ہے جسے پالا جاتا ہے اس کی خامیاں خوبیاں اس کی نظر میں ہوتی ہے اس لئے میاں صاحب زرا خیال رہے! اس سارے قصہ میں ایک بات تو طے ہوگئی کہ ا صل طاقت کس کے پاس ہے اور وہ ہے عوام جو اس وقت اپنے قومی اداروں ،پاکستان اور اسلام کے ساتھ کھڑی ہے جب کہ لبرل فسادیوں کو بھی اپنی اوقات کا اندازہ ہو گیا ہے جو یہ سمجھ رہے تھے کہ میڈیا پر بیٹھ کر عوام کو جیسے چائیں استعمال کرتے رہیں اور اپنے مفادات حاصل کرتے رہیں ان کا کچھ نہیں کوئی بگاڑ سکتا کہ اب تک تو یہی ہوتا رہا ہے کوئی حکومت کوئی ادارہ ان میڈیا ہاوسز کے خلاف کچھ کرنے سے قاصر رہا سو یہ تمام حدیں پھلانگنے لگے تھے لیکن اللہ کی بے آواز لاٹھی نے ان کے سارے خواب چکنا چور کر دئیے ہیں انھیں یہ اندازہ ہو گیا ہے پاکستانی قوم کتنی بھی بے حس ہو جائے پاکستان اور اسلام کی محبت ان کے خون میں رچی بسی ہے کوئی مائی کا لال ،کوئی مادر پدر آزاد میڈیا ہاوس ان کے دلوں سے یہ محبت نکالنے میں کامیاب نہیں ہو سکتا ,اس لئے ان لبرل فسادیوں اور میڈیا ہاوسز کو میرا مشورہ ہے کہ اللہ کی لاٹھی کا خیال رکھ کر جیو !
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com
تاریخ اشاعت: 2014-05-24

کالم نگار     :     یونس مجاز

یونس مجاز کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-