مطلع صاف ہے واشنگٹن
6.8°C
شہر تبدیل کریں | موسم کی پیشن گوئی 🔄
بند کریں
جمعہ اپریل

جام جہاں نما ہے شہنشاہ کا ضمیر

عبدالرحیم انجان :

غالب# نے توشہنا ہ کہہ کر بہادر شاہ ظفر کو مخاطب کیا تھا،لیکن میرے شہنشاہ قارئین اُردو پوائنٹ ہیں۔
قارئین کرام !یہ انتہائی دکھ بھرے افسوس کا مقام ہے کہ حامد میر ، جو کہ ہمارے ملک کے ایک قد آور صحافی ہیں، میں اُن کی دیانت دارانہ صحافت کے قصدے تو نہیں لکھوں گا، اس لئے کہ وہ بلوچستان سے اغواہ ہونے والوں کا ذکر تو اکثر کرتے رہے ہیں اور افوج پاکستان کی ایجنسیز پر پھبتیاں بھی کستے رہے ہیں،لیکن آئے دن گیس پائپ لائین، ریلوے لائین اور دوسری دہشت گردی کی وارداتیں کرنے والے خبیثوں کے چہرے بے نقاب کرنا تو رہی دور کی بات، ان کا ذکر بھی نہیں کرتے تھے ۔ بس ان کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ مشہور و معروف اور قد آور صحافی ہیں،ہاں میں اُن کے بارے میں یہ ضرور کہوں گا کہ اِس نازک وقت میں جبکہ وہ قاتلا نہ حملے کا شکار ہو کر موت اور زندگی سے دست و گریباں ہیں، اُنہیں بجا طور پر ساری قوم کی ہمدردانہ دعاوٴں کی ضرورت ہے ،لیکن نہ صرف یہ کہ اُ ن کے جیو چینل نے انتہائی غیر پیشہ ورانہ روّیے کا مظاہرہ کر کے اُن (حامد میر) سے نہ جانے کس بات کا بدلہ لیا ہے۔ ، مرے کو مارے شاہ مدارکے مصداق اُن کے ہمدرد دوستوں نے بھی اپنی صحافتی طاقت کے زعم میں حامد میر کے لئے ہمدردی کے جذبات سمیٹنے کے بجائے عوامی سطح پر اپوزیشن کو دعوت دے کر حامد کی جان ِ نا تواں کے لئے مقابلہ سخت کر دیا ہے۔ دیکھئے حامد میر کے ہوش میں آنے کے بعد جیو نیوز چینل کی یہ غیر پیشہ ورانی غلطی کا اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔حامد میر پر حملے کے بعد جس طرح حامد میر کا ڈرائیور اور گن مین سین سے غائب ہیں ، جس طرح حامد میر کو فراہم کردہ کار جو کرائے پر لی گئی تھی، جائے واردات سے غائب کی گئی ہے۔ان ساری پھڑتیوں کو دیکھتے ہوئے یہاں کافی لوگوں کو یہ بھی کہتے سنا ہے کہ جیو ۔ٹی۔ وی نے اپنے کسی بڑے مقصد کے لئے حامد میر کو قربانی کا بکرا بنانے کی کوشش کی ہے۔واللہ اَعلم بالصّوا ب۔۔لیکن اس بات کا فیصلہ حامد میر کے ہوش میں آنے کے بعد ہی ہو گاکہ جیو حامد میر کا دوست ہے یا دشمن ؟ اگر دوست ہے تو ایسے دوست سے اللہ بچائے۔
وزیر اعظم پاکستان جناب میاں محمدنوا شریف ،جنہیں پاکستان کی خستہ حالی کے اسباب پر نظر رکھنے و ا لے لوگ بجا طور پر مقدر کا سکندر بھی کہتے ہیں ،اپنے دل میں ہندوستان کے لئے کیسے کیسے نرم گوشے رکھتے ہیں ، اس کی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں، سب جانتے ہیں، یہاں تک کہ موصو ف ہندوستا ن پر اپنی محبت کے پھول نچھاور کرتے ہوئے دو قومی نظریے کو بھی خاطر میں نہیں لاتے،اِس حوالے سے اُن کے ایک بیان کا ذکر ، راقم اپنے گزشتہ کالم ’ حامد میر پر قاتلانہ حملہ ‘ میں لکھ چکا ہے۔ ایک کہاوت کے مطابق’سر تسلیم ِخم ہے ، جو مزاجِ یار میں آئے‘ اور سب جانتے ہیں کہ ان کا یار کون ہے، اُن کے یار کی دیرینہ خواہش ہے کہ پاکستان انڈیا کا چھوٹا بھائی بن جائے ، کم از کم مجھے انڈیا کا چھوٹا بھائی بننے میں کوئی اعتراض نہیں ہے،لیکن انڈیا کے پنڈتوں میں بڑے بھائیوں والی کوئی بات بھی تو ہو، مشرقی پاکستان والا حربہ اب بلوچستان پر آزما نے جارہے ہیں، بغل میں چھری اور مُنہ میں رام رام،ایسی بد نیت قوم کو ہم اپنا بڑا بھائی کیسے بنا سکتے ہیں؟ہارون الرشید صاحب نے کہا ہے کہ جیو ٹی۔ وی والے پاکستان کو شاید ہندوستان کا صوبہ بنانا چاہتے ہیں۔جو لوگ اِس مشن میں جنگ گروپ کو اکیلا سمجھتے ہیں ، وہ غلطی پر ہیں۔جنگ والوں کو اپنے ٹی۔وی کے لئے پاکستان ایک چھوٹا ملک محسوس ہو رہا ہے اور میاں برداران کو بھی اپنے بزنس کو بڑھاوا دینے کے لئے ہندوستان کی اشد ضرورت ہے اور دونوں امریکی عزائم کی بیل منڈھے چڑھانے کے لئے امریکی ٹیم کے اوپنرز پلیئر ہیں۔حامد میر پر قاتلانہ حملے کے بعد میاں صاحب فوراً حامد میر کی مزاج پرسی کے لئے کراچی گئے ہیں اور انہوں نے میڈیا والوں کے لئے جس خلوص اور محبت کا اظہار کیا ہے کہ ہم تو صحافیوں کے ساتھ ہمیشہ ہی اچھے رہے ہیں ، وہ بھی سب نے سن لیا ہو گا؟ سوال ہے پاکستان تو صحافیوں کی قتل گاہ بن چکا ہے کئی صاف گو صحافی قتل ہوئے اور کئی، الحمد اللہ کہ حامد میر کی طرح موت کی دہلیز کو چھو کر واپس آ گئے ہیں۔کیا میاں صاحب اپنے میڈیا سیل میں شامل صحافیوں کے علاوہ بھی کسی کو ، صحافی ہونے کا مرتبہ دیتے ہوئے اُس پر بیتنے والی قیامت میں اس کے شامل غم ہوئے ہیں؟ ہاں ! اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ ہمیشہ صحافیوں کے ساتھ بنا کے رکھتے ہیں اور اچھا برتاوٴ کرتے ہیں۔لیکن جن کے ساتھ آپ اچھا برتاوٴ کرتے ہیں ، وہ صحافی نہیں رہتے ، آپ کے قصیدہ نگار منشی بن جاتے ہیں۔
فوج کی عزت پر کیچڑ اچھالنے کا کام سب سے پہلے آپ کے وزیر دفاع نے پارلیمنٹ سے شروع کیا۔ میں اپنے پچھلے کالم ” سو سنار کی ، ایک لوہار کی “ میں قدرت اللہ شہاب کے شہاب نامہ سے ایک واقعہ لکھ چکا ہوں کہ دنیا کی نظر میں ہماری افواج پاکستان کی کیا اہمیت ہے۔لیکن آپ کے وزیر دفاع نے اسی فوج کو دنیا کی ناکارہ ترین فوج کہہ کر نہ صرف فوج کی بے عزتی کی ہے، پاکستان کی دفاع کی دیوار سے اینٹیں نکالنے کا سنگین جرم بھی کیا ہے۔لیکن آپ نے اس جھوٹے وزیر کو تا حال اپنے سینے سے لگا رکھا ہے۔ شاید اس لئے کہ آپ نے چیف آف آرمی سٹاف اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے انتخاب میں بڑی محنت اور دو بڑی طاقتوں کی منظوری کو شامل حال کر رکھا ہے۔ چیف جسٹس کی تقرری کے حوالے سے نیب کے چیئر مین کی تقرری کا انصاف طلب معاملہ سب کے سامنے آ چکا ہے،خیر ایک نیا پاکستان بنانے کے لئے آپ دونوں بھائیوں کے بیانات کی شیشہ گری کے شیش محل تو یوں ہی تعمیر ہوتے رہیں گے اور ان کی حقیقت بھی اسی طرح سامنے آتی رہے گی، بھلا ایک ایسا شخص، جو پہلے سے کر پشن کے اسکینڈل میں ملوث ہو وہ نیب کا چیئر مین بن کر دو کرپشن کنگز کی کرپشن کی فائلیں کیوں کر کھولے گا ؟خیر ذکر تھا جیو ٹی۔وی چینل کا، جودو تین دن آئی۔ایس۔آئی کے وقار کو خاک میں ملا کر ، ہمارے تین بڑے دشمن مہربانوں انڈیا،امریکہ اور برطانیہ کو ہماری افواج پاکستان کی عزت و وقار کے پرخچے اڑانے کے مواقع فراہم کر کر کے افوج کے زمہ دار لوگوں کے صبر و تحمل پر نشتر چلاتا رہا،لیکن ہمارے وزیر اعظم یا ان کی کیبنٹ کا کوئی بھی وزیر ٹس سے مس نہیں ہوا اور اب جب کہ چیف آف آرمی سٹاف آئی۔ایس۔آئی کے آفس جا کر ان کے ساتھ دو تین گھنٹے گزار آئے ہیں اور پاک فوج کے ترجمان نے بیان جاری کر دیا ہے کہ ”بے بنیاد الزامات نا قابل برداشت ہیں،قانونی چارہ جوئی کریں گے “ جنرل راشد قریشی صاحب کے اس بیان سے پہلے بیشتر سیاسی جماعتوں اور صحافیوں کی طرف سے بھی اس قسم کا تاثر سامنے آ چکا تھا کہ جیو کا آئی۔ایس۔آئی کو ملوث کرنا گہری سازش ہے۔جب پاکستان کی سلامتی کا درد رکھنے والے لوگوں کی طرف سے تشویش کا اظہار ہوا تو ہمارے وزیر اعظم صاحب کی کیبنٹ ، جو دو تین دن سے خاموش تماشائی بنی ہوئی تھی، بھی فورا ہی بھی بیدار ہوگئی ہے اور وزیر دفاع نے پیمرا کے لئے بیان جاری کر دیا ہے کہ ” آئی۔ایس۔آئی کے خلاف بے بنیاد الزامات پر جیو چینل کو بند کیا جائے۔ اس کے لائسنس منسوخ کر دئے جائیں۔“ ہمارے وزیر اعظم صاحب کے وزیر دفاع نے جیو چینل کے خلاف ناراض فوج اور بپھرے ہوئے محب وطن پاکستانی عوام کو یہ پیغام پہنچا دیا ہے کہ ہم نے فوج کے خلاف زہر اگلنے والے صحافتی ادار ے کو بند کرنے کا حکم دے دیا ہے۔لیکن چونکہ پیمرا کے چیئر مین بھی باقی سبھی اداروں کے سربراہوں کی طرح ہمارے وزیر اعظم صاحب کے گھڑے کی مچھلی ہیں، جو ایماندار لوگ ان کے گھڑے کی مچھلی بننا پسند نہیں کرتے ، ان کا وہی حشر ہوتا ہے جو نادرہ کے چیئر مین جناب طارق ملک کا ہوا ہے۔الغرض وزیر دفاع کے درج بالا حکم کا حشر کیا ہو گا ؟ہمارے ایک سنیئر صحافی اور تجزیہ کار کا خیال ہے کہ جیو کا لائسنس ضبط کر لیا جاے گا۔ممکن ہے ان کا تجزیہ درست ہی ہو۔لیکن نہ جانے میرا دل کیوں نہیں مانتا ؟ اور مانے بھی کیسے؟آپ وزیر اطلاعا ت و نشریات نے جو بیان دیا ہے اس پر بھی تو غور فرمائیں۔” پاکستانی ادارے ہتھیار استعمال کرنے والوں کے نہیں،دلیل کے ساتھ بات کرنے والوں کے ساتھ ہیں۔حامد میر پر حملہ، تصویر کا سیاہ رخ ہے۔ لیکن آئی۔ایس۔آئی پر کوئی الزام نہیں لگایا گیا “ جب کوئی قومی مسئلہ حکومت کی بنائی ہوئی کمیٹیوں کے حوالے کر دیا جائے ، یا کورٹ کچہری جہاں کے عادلوں پر حکومت کا سکہ چلتا ہو ،جہاں بات دلیل کے ساتھ ہونی ہو تو سیکشن ۳۳ کے تحت چینل کو ایک کروڑ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔ بقول مبشر لقمان ٹیکس میں اربوں روپے کے نا دھند گان جیو کے لئے ایک کروڑ روپے کا جرمانہ ، مونگ پھلی کے چند دانوں سے بھی کم اہمیت رکھتا ہے،ہاں جو غیر پیشہ ورانہ غلطی جیو چینل سے ہوئی ہے ، اُس غلطی کو دھرانے کی شکل میں تین سال تک قید با مشقت بھی ہو سکتی ہے۔یعنی اس غلطی کو دھرانے کی شکل میں۔۔
جام جہاں نما ہے شہنشاہ کا ضمیر
سو گند اور گواہ کی حاجت نہیں مجھے
قارئین کرام !کالم طویل ہو رہا ہے۔لیکن دل میں ابھی لہو کے چند قطرے باقی ہیں۔کیا آپ کو پتا ہے کہ خالصتان کی مہم کیسے ختم ہوئی تھی۔اُس دور کی وزیر اعظم اندرا نے اپنی فوج کو حکم دیا تھا کہ خالصتان مہم کے سربراہ سکھوں کو چن چن کر ختم کر دیا جائے ۔کشمیر میں سات لاکھ انڈین فوجی جو مظالم ڈھا رہے ہیں۔کیا وہ دنیا کے سامنے نہیں ہے،کیا آپ نے ہندوستان کے کسی صحافتی ادارے کو اپنی افواج کے ان مظالم کے خلاف بھونکتے سنا ہے ؟ سوچئے کہ ہم کس طرف جا رہے ہیں؟میں اس سے پہلے بھی اپنے کسی کالم میں خالد بن ولید کا ایک جملہ لکھ چکا ہوں ، جب انہوں نے اپنے وقت کی بہت بڑی طاقت ایران کو فتح کیا تھا ، تو اس کے ایک کمانڈر سے کہا تھا۔” تم کیا سمجھتے تھے کہ تم ہمیں شکست دے لو گے ؟ تم نے دیکھا نہیں کہ ہمارے ہاں انصاف بے نظیر ہے“ خالد بن ولید نے اپنی فتح کا سبب اپنی فوجی طاقت کو نہیں، اپنے نظام حکومت میں عدل و انصاف کی طاقت کو ٹھہرایا تھا۔جو ہمارے ہاں بالکل ختم ہو چکی ہے۔ کرکٹ بورڈ کے چیئر مین کی حیثیت سے نجم سیٹھی کی تقرری کے خلاف عدلیہ کا فیصلہ ذلیل ہوا۔ٍ اصغر خان کیس کا فیصلہ نہ جانے کس وقت کا انتظار کر رہا ہے ؟ حکمرانوں کے اربوں روپئے کے قرضوں کے کیس عدلیہ کے پاس ایسے آئینے بنے پڑے ہیں، جن آئینوں میں عادلوں کو اپنے مکروہّ چہرے دیکھ کر شرم بھی نہیں آتی۔اگر ہمارے ہاں عدل و انصاف ایسے ہی چاک گریباں گلیوں گلیوں رسوا ہوتا رہا تو کوئی عجب نہیں کہ ( خاکم بدہن ) ہمارا بلوچستان بھی ہم سے چھین لیا جائے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com
تاریخ اشاعت: 2014-04-25

کالم نگار     :     عبدالرحیم انجان

عبدالرحیم انجان کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-