بکھرے ہوئے بادل واشنگٹن
8.7°C
شہر تبدیل کریں | موسم کی پیشن گوئی 🔄
بند کریں
اتوار اپریل

فوج ۔۔۔ ایک ادارہ

سید شاہد عباس :

 میرے ایک عزیز دوست جنجھلائے ہوئے میرے پاس آئے اور بنا کسی سلام دعا کے گویا ہوئے" یار تم کس طرح کے طالبعلم ہوکہ ملک میں اتنا اہم موضوع زیر بحث ہے اور تم اس پر کچھ بھی نہیں لکھ رہی" میں نے نرمی سے دریافت کیا کہ برادرم کون سا ایسا موضوع ہے تو ان کا اشارہ خواجگان کے بیانات اور فوج کے ردعمل کی طرف تھا۔
سب سے پہلی بات تو یہ کہ حقیقت میں یہ کوئی ایسا موضوع ہی نہیں ہے جسے عر ف عام میں" برننگ ایشو" کہا جا سکے۔ یہ تو ہمارے عاقبت نا اندیش سیاستدان ہوتے ہیں جو آگ کو اتنا بڑھکا دیتے ہیں کہ لگتا ہے کہ جیسے لاوا پھٹنے کا منتظر ہو۔ پرویز مشرف کا مقدمہ خصوصی عدالت میں ہے ۔ جب یہ مقدمہ عدالت میں ہے تو آخر کیا وجہ ہے کہ حکومت کے دو اہم وزراء کو اس کیس پر بیانات سے نہ روکا گیا۔ میرے خیال میں تو ان دونوں صاحبان پر توہین عدالت لگنی چاہیے تھی کہ انہوں نے عدالت میں زیر سماعت مقدمے پرعدالت سے باہر اس حد تک بیان بازی کیوں کی کہ ملکی دفاع کے حامل ادارے کو ردعمل دینا پڑا۔ اس پورے قضیے میں حیران کن بات یہ ہے کہ میاں صاحب نے بھی ان وزراء کو نہیں روکا۔ اور جب فوج کی طرف سے الفاظ کے پردے میں چھپا ردعمل سامنے آیا تو میاں صاحب کی طبیعت بھی خراب ہو گئی اور چھوٹے اور بڑے خواجہ صاحب بھی کچھ خاموش ہو گئے۔
خواجہ آصف نے شاید اس دانست میں سخت بیانات داغ دیے کہ آئینی طور پر فوج ان کے(وزارت دفاع) ماتحت ایک ادارہ ہے۔ لیکن کیا واقعی ایسا ہے؟ کیا واقعی خواجہ صاحب آرمی چیف سے کسی بھی معاملے پر باز پرس کر سکتے ہیں؟ آرمی چیف کے بیان کے بعد خواجہ صاحب کی کچھ آنکھیں کھلی ہوں گی کہ ان سے شاید کچھ غلطی ہو گئی ہے۔ محترم سعد رفیق صاحب تو زمانہ ء طالبعلمی سے ہی شعلہ بیاں مقرر رہے ہیں۔ اپنی اسی شعلہ بیانی کے زور پر ہی وہ شاید کچھ ایسے الفاظ بھی بول گئے جن سے شاید عام آدمی اور بالخصوص فوج میں ایک غلط تاثر گیا۔
مختلف مقامات پر جو الفاظ دہرائے گئے وہ کچھ اس طرح تھے کہ "بزدل کمانڈو" ، " کمانڈو ہسپتال میں چھپ گیا" وغیرہ وغیرہ ۔ پرویز مشرف کو کمانڈو ایس ایس جی کی نسبت سے کہا جاتا ہے۔ لیکن ہمارے بھولے وزرا( جو شاید بہت کچھ جانتے ہیں اور سمجھتے بھی ہیں) بیانات دیتے وقت جب کمانڈو کا لفظ استعمال کرتے ہیں تو ایس ایس جی کے ہر جوان کی توہین کرتے ہیں۔ مجھے یاد ہے جب 23 مارچ کا دن پورے جوش و جذبے سے منایا جاتا تھا اور فوجی پریڈ ہوتی تھی تو سب سے آخر میں ایس ایس جی کا دستہ آتا تھا۔ اس دستے کے آتے ہی علاقہ تالیوں سے گونجنے لگتا تھا۔ اور ٹیلی ویژن سکرین کے سامنے بیٹھے لوگوں میں بھی ایک عجیب طرح کی طاقت آ جاتی تھی۔ کیا آج تک آپ نے سنا کے کسی فوجی جوان کی ڈگری جعلی نکلی ہو؟تو جب ان پر وہ لوگ بلا روک ٹوک تنقید کر گزریں جو جعلی ڈگریوں ، جعلی ووٹوں، یا پٹواریوں کے زور پر اسمبلیوں میں پہنچے ہوں تو کیا ان کی توہین نہیں ہو گی؟
آئینی طور پر پارلیمنٹ فوج سے سپریم ادارہ ہے۔ لیکن کیا کبھی آپ نے سوچا کہ ایک فوجی اور سیاستدان میں کتنا فرق ہے؟ بیشتر سیاستدان مختلف مقدمات کا سامنا کر چکے ہیں۔ جن میں کرپشن کے علاوہ قتل تک کے سنگین نوعیت کے الزامات ہوتے ہیں۔ ایک سیاستدان پانچ سال کے لیے اسمبلی میں آتا ہے۔ اور بعض اوقات وقت سے پہلے ہی اسمبلی سے رخصت ہو جاتا ہے۔ اس کی وجہ کوئی بھی مقدمہ ، یا سیاسی مصلحت ہو سکتی ہے۔ پنجاب کا سیا ستدان پنجاب کے مفادات کا تحفظ کرتا ہے۔ سندھ کا سیاستدان " مرسو مرسو سندھ نہ ڈیسو" کی بات کرتا ہے۔ بلوچی سیاستدان بلوچستان کے وسائل کے لیے آواز بلند کرتا ہے۔ خیبر پختونخواہ کا سیاستدان اپنی روایات کا امین ہوتا ہے۔ لیکن کیا کبھی آپ نے سوچا کہ ایک فوجی پوری ملازمت میں ملک کے ہر حصے میں فرائض سر انجام دیتا ہے۔ وہ ملک کے جس حصے میں بھی رہے اس کا تعلق جس علاقے سے بھی ہو اس کے لیے پاکستان کی سرحدوں کی حفاظت ہی اولین فرض رہتا ہے۔ سیاستدان اور فوجی دونوں حکومت پاکستان کے ملازم ہوتے ہیں۔ لیکن ایک فوجی کے برعکس ایم پی اے، یا ایم این اے خود کو بادشاہ تصور کرنے لگتا ہے۔ گاڑیوں پر نمبر پلیٹس تبدیل ہو جاتی ہیں۔ کیا ایسے لوگوں کوفوج کی تذلیل کرنے کا حق دیا جا سکتا ہے؟
جب آ پ پرویز مشرف کو غدار کہتے ہیں تو آپ انہیں اور راشد منہاس شہید کے غدار انسٹرکٹر کو ایک ہی پلڑے میں رکھ دیتے ہیں۔ مشرف نے غلطیاں کی ہوں گی۔ وہ مقدمات کا سامنا بھی کر رہے ہیں۔ لیکن جب آپ مشرف پر تنقید کرتے ہیں تو ساتھ ایک ایسے ادارے کو بھی رگید دیتے ہیں جس کے جوان وردی کو ہی اپنا کفن سمجھتے ہیں۔ مشرف کو غدار کہنے کے بجائے اگر آرٹیکل 62، 63 کا نفاذ اس کی روح کے مطابق موجودہ پارلیمنٹ پر کریں تو شاید اس پارلیمنٹ کا وجود ہی نہ رہے۔ جب آپ مشرف کو غدار جیسے سنگین لفظ سے پکارتے ہیں تو آپ یہ بھول جاتے ہیں کہ مشرف دنیا کی ایک بہترین فوج کے کماندار بھی رہے ۔ انہوں نے اس ملک کے لیے جنگیں بھی لڑیں۔ اس کا مطلب کیا یہ نہیں ہو ا کہ آپ مشرف کے زیر کمان رہنے والی پوری فوج کو غدار کہہ رہے ہیں؟ پتا نہیں کیوں اب سیاستدانوں کی حالت کھسیانی بلی جیسی ہو گئی ہے جو کھمبا نوچ رہی ہے۔ آرمی چیف نے تو کچھ غلط نہیں کہا انہوں نے تو صرف فوج کو ایک ادارہ کہا۔ ایک لولی لنگڑی پارلمینٹ کا تحفظ جب نااہل سیاستدان اپنا فرض سمجھتے ہیں تو کیا ایک منظم ادارے کا تحفظ اس کے سربراہ کا فرض نہیں؟ انہوں نے تو صرف اتنا کہا کہ وہ اپنے ادارے کا تحفظ ہر حال میں کریں گے ۔ اس میں تو کوئی قباعت نہیں۔ جج صاحبان کہتے ہیں کہ عدلیہ کے ادارے کی توہین برداشت نہیں کریں گے۔ سیاستدان کہتے ہیں کہ پارلیمنٹ کو بائی پاس نہیں کرنے دیں گے تو جناب جب آپ سب اپنے اپنے ادارے کو تھامے بیٹھے ہیں تو پھر فوج بھی تو ایک ادارہ ہے۔ اس پر آرمی چیف کے بیان سے آپ کی کون سی انا مجروح ہو گئی کہ آپ آگ بگولہ ہو رہے ہیں۔
مشرف صاحب کو غدار کہنے سے پہلے آپ 99 میں موجود تمام کور کمانڈرز کو بھی غدار کہیں تو شاید مشرف صاحب کو کہنا بھی کسی کو برا نہ لگے۔مشرف صاحب پر آئین شکنی کے بیان سے پہلے ذرا اپنے قرب و جوا ر میں نگاہ ڈالیے کہ کتنے ہی کل کے دشمن آج کے دوست بنے آپ کے پہلو میں بیٹھے ہیں۔ شاید ان دوستوں کی "عزت" ہی آپ کو 99 کی طرف جانے سے روک رہی ہے۔کیا اس ملک میں ججز کی معطلی ایک منتخب حکومت کا تختہ الٹنے سے بڑا جرم ہے؟ اگر ایسا ہی ہے تو مستقبل کے آمر سن لیں کہ حکومتیں الٹنا جرم نہیں بس ججز معطل نہ کریں، ایمرجنسی نہ لگائیں تو آپ بہاریں لوٹ سکتے ہیں۔ اور دودھ کے دھلے بھی ہو جائیں گے۔
فوج ایک ادارہ ہے ۔ اور مشرف صاحب اس ادارے کے سربراہ رہ چکے ہیں۔ فوج کی صبر و برداشت کا ایک مخصوص لیول ہوتا ہے۔ جب آپ تنقید میں اس لیول کو کراس کرتے ہیں تو پھر مجبوراً فوج کو کچھ ردعمل دکھانا پڑتا ہے کیوں کہ سرحدوں پر تعینات جوانوں میں اضطراب کی سی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے اور فوج سرحدوں کے دفاع کی ضامن ہوتی ہے۔ 99ء کا واقعہ بھی ایک ردعمل تھا جس کا رونا آپ آج تک رو رہے ہیں۔ خدارا تنقید کو اس حد تک نہ لے جائیں کہ صورت حال پھر 99ء جیسی ہو جائے۔ مشرف صاحب کو چھوڑ کر آپ توجہ دہشت گردی پر دیں۔ مہنگائی پر دیں۔ بے روزگاری پر دیں۔ غریب کے پیٹ کو اس بات سے غرض نہیں کہ مشرف صاحب مجرم ہیں کہ نہیں اسے تو صرف دو وقت کی باعزت روٹی سے غرض ہے اس کے لیے یہ روٹی ہی پورا آئین ہے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com
تاریخ اشاعت: 2014-04-16

کالم نگار     :     سید شاہد عباس

سید شاہد عباس کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-

: متعلقہ عنوان