مطلع صاف ہے واشنگٹن
-0.3°C
شہر تبدیل کریں | موسم کی پیشن گوئی 🔄
بند کریں
جمعرات اپریل

سو سنار کی ،ایک لوہار کی

عبدالرحیم انجان :

میرے گزشتہ کالم با عنوان ”حیرت ہے“ کے حوالے سے ایک دلچسپ خط ملا ہے۔جسے قارئین ”اُردو پوائنٹ “ تک پہنچانا میں اپنا اخلاقی فرض سمجھتا ہوں۔
محترم عبدالرحیم انجان صاحب !
اسلام و علیکم ! امید ہے آپ خریت سے ہوں گے ۔سب سے پہلے تو یہ بتائیں کہ آپ کی صحت کیسی ہے ؟میں آپ کے میگزین ” ملاقات “ کے زمانے سے، آپ کو باقاعدگی سے پڑھتا چلا آرہا ہوں۔پچھلے تیس پینتیس سالوں میں کبھی بھی آپ کا کوئی کالم یا مضمون( افسانے تو میں پڑھتا ہی نہیں ) پڑھ کر ایسا دکھ نہیں ہوا، جیسا آپ کا پچھلا کالم ” حیرت ہے “ پڑھ کر دکھ ہوا ہے۔
انجان صاحب ! آپ تو ساری زندگی جمہوریت کے حمائتی رہے ہیں۔اب آپ کو کیا ہو گیا ہے ؟ اتنی بڑی تبدیلی کہ اگر ایک عوامی لیڈر نے فوج پر کچھ تنقید کر دی ہے ، جو کسی حد تک ٹھیک بھی ہے، تو آپ کو اتنی بری لگی ہے کہ آپ نے کالم لکھ مارا ہے،
 آ خرکیوں ؟ معاف کیجئے ، آپ کے کالم میں ”سو سنار کی ، ایک لوہار کی “ پڑھ کر بھی بہت دکھ ہوا ہے وہ ہمارے وزیر اعظم ہیں۔ان کے لئے ایسے جملے اچھالنا بری بات ہے۔
آپ کی صحت اور سلامتی کے لئے دعا گو۔
 عبدالرشید۔۔۔ٹورونٹو
محترم رشید صاحب !
وعلیکم اسلام۔۔الحمداللہ ، میں بالکل خریت سے ہوں۔آپ کے خط کے لئے شکریہ !
جناب والا ! میں اب بھی جموریت ہی کا حامی ہوں۔لیکن جمہوریت کے حامی ہونے کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہے کہ ہم اپنی افواج پاکستان کے خلاف ہو جائیں،جو ہمارے دفاع کی دیوار ہیں۔دونوں ، یعنی”پارلیمنٹ “اور ”افواج ِ پاکستان“ قومی ادارے ہیں،ہمیں دونوں کی عزت کرنی چاہیے ۔
دوسری اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ جمہوریت سچائی کی بنیادوں پر چلتی ہے۔ جن لوگوں کے قول و فعل میں تضاد ہو۔یعنی وہ کہتے کچھ اور کرتے کچھ ہوں۔ ایسے لوگوں کو اللہ سبحان و تعالی پسند کرتے ہیں اور نہ ہی دنیا میں اُن پر کوئی اعتبار کرتا ہے۔ سورة الشعرآء کی آیت نمبر ۲۶۔۱۲۵ میں اللہ سبحان و تعالی فرماتے ہیں۔” تو نے نہیں دیکھا کہ وہ ہر میدان میں سر مارتے پھرتے ہیں اور یہ کہ کہتے وہ ہیں ، جو کرتے نہیں۔ ترجمہ شیخ الہند مولانا محمود الحسن۔ اِسی آیت کا ترجمہ مولانافتح محمد یوں کرتے ہیں۔
” وادیوں میں مارے مارے پھرتے ہیں اور کہتے وہ ہیں جو کرتے نہیں۔ میدان میں سر مارتے پھرنا ، یا وادیوں میں مارے مارے پھرنے سے مراد خیالی پلاوٴ پکانا ہے۔ الفاظ کے شیش محل بنانا ہے۔جیسا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کا نعرہ روٹی ،کپڑا اور مکان ، غریب آدمی کے لئے بڑا لذیذ پلاوٴ ہے۔ لیکن الفاظ کا یہ شیش محل تا حال تیار نہیں ہوا،ہاں زرداری صاحب کا ایک محل دوبئی میں اورایک فرانس میں بن چکا ہے اور دنیا کے مختلف بنکوں میں نقد سرمایہ بھی اچھا خا صا ہے۔
 مسلم لیگ (ن) کا پاکستا ن کو ایشیا کا ٹائیگر بنانے کا نعرہ بھی مذاق بن گیا ہے،ایشیا کا ٹائیگر کون بنا ہے ؟ پاکستان یا میاں فیملی ؟ جن کے صرف ایک گھر” جاتی عمرہ“ کی مالیت بقول ”کھرا سچ“ ( اے۔آر ۔وائی) کے، تقریباً ایک سو ارب روپے ہے، ایک گھر پر ایک سو ارب روپے، سن کرغریب عوام کے مسائل پر نظر رکھنے والے کسی بھی صاحب احساس پاکستانی کی گردن شرم سے جھک سکتی ہے۔ جنرل سیاہ الحق ( جو آدمی گیارہ سال نظام ِ مصطفےٰ قائم کرنے کے نام پر رسول اللہ ﷺ کے پروانوں کو دھوکہ دیتا رہا ہو ۔میرے قریب اس سے بڑا سیاہ کار کوئی اور نہیں ہو سکتا )کی گود میں جب میاں نواز شریف سیاسی سیاہ کاریوں کا درس لے رہے تھے تو اس وقت ان کے خاندان کے پاس صرف ایک اتفاق فاوٴنڈری تھی ۔سب جانتے ہیں،لیکن آج وہ ایشیا کے بڑے کاروباری خاندانوں میں شمار ہوتے ہیں۔جن کی ایک سٹیل مل سعودی عرب میں اور ایک ترکی میں ہے۔ یورپ میں ان کے کارو بار کی تفصیل بی۔بی۔سی کے حوالے سے کھرا سچ والے مبشر لقمان نے اپنے ۹اپریل کے پروگرام میں دی ہے۔مجھے زرداری یا نواز شریف سے قطعاً کوئی افسوس نہیں ہے۔ اگر ایک مولوی کے سامنے حلوے کی پلیٹ رکھ دی جائے اور اس یہ توقع کی جائے کہ وہ حلوے کی پلیٹ کو ہاتھ بھی لگائے گا ، تو اس میں مولوی کا کیا قصور ہے ؟میں جمعراتئے مولویوں کی بات کر رہا ہوں۔
اب ہم آتے ہیں اپنی موجودہ جمہوریت کی طرف،سب سے پہلے تو یہ بتائیں کہ کیا آپ اسے عوامی حکومت کہتے ہیں ؟یا عوام کی رائے پر ڈاکہ ڈال کر بنائی ہوئی حکومت ؟ اگر یہ عوامی حکومت ہے تو پھر انہیں یعنی نواز لیگ کو ذلت و رسوائی کی اتنی ڈھیر ساری کالک اپنے ماتھے پر مل کر نادرہ کے چیئرمین جناب طارق ملک کو نادرہ سے الگ کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی تھی ؟ کوئی ایک معقول وجہ ہو تو بتا دیں ؟اب تو ۳۵ پنکچر کی بات بھی سامنے آ گئی ہے اور ۳۵ پنکچر کے بدلے میں دان کیا گئے کرکٹ بورڈ کی تباہی بھی ، سب جانتے ہیں کہ کرکٹ پاکستانی قوم کا بخار ہے، جینا اور مرنا ہے،ٹیم ہار جائے تو قوم کی دل آزاری ہوتی ہے، کیا کوئی ہے جسے قوم کی دل آزاری پر شرم آئے ؟ نہیں کوئی نہیں۔
آپ کو جس محاورے پر دکھ ہوا ہے۔میں اس کے بارے میں صرف یہی کہہ سکتا ہوں کہ میں نے تو ایک محاورے کے استعمال سے یہ کہنا چاہا تھا کہ ادھ موئے پاکستان پر کرپشن کی چوٹیں سنار کی ٹک ٹک کی حیثیت رکھتی ہیں۔لیکن پاکستان کے دفاع کی دیوار ،فواجِ پاکستان کو بد نام کر کے، کمزور کرنے کی کوشش کرنا،سنار کی سینکڑوں ٹک ٹک پر لوہار کی ایک ضرب کا درجہ رکھتی ہے،
ویسے بھی ہم جیسے چھوٹے لوگ میاں برادران کو لوہار کیسے کہہ سکتے ہیں۔زرداری اگر انہیں لوہار کہتے ہیں تو وہ کہہ سکتے ہیں، اُن کے برابر کے آدمی ہیں اور میاں شہباز شریف بھی اگر زرداری کو لاہور کی سڑکوں پر گھسیٹنے کی دھمکی دیں تو دے سکتے ہیں دونوں ایک ہی قماش کے لیڈر ہیں، دونوں قوم کے ہمدرد لیڈر تو ہر گز نہیں ہیں،البتہ جمعراتئے مولویوں کی سطح کے حکمران ضرور ہیں۔جو لوٹ مار کے بغیر اپنی حکمرانی کو نا مکمل سمجھتے ہیں اور قوم ہے کہ اُس کی آنکھیں بند اور کان بھی بند ہیں اور یاداشت پر بھی برف جمی ہوئی ہے۔انہیں کچھ بھی یاد نہیں رہتا۔
ہم تو اِن بڑے لوگوں کو فقط یہی کہہ سکتے ہیں کہ پلیز ! پاکستان کے دفاع کی دیوار سے اینٹیں نکالنا بند کر دیں۔مشرف کو حوالہ بنا کر افواجِ پاکستان کے بارے جھوٹ بولنا بند کیا جائے۔ساری قوم کہتی ہے کہ مشرف پر آئین شکنی کا مقدمہ چلنا چاہیے لیکن عدلیہ کے ہاتھ سے انصاف کا دامن نہیں چھوٹنا چاہیے۔لیکن عدلیہ نے تو سابق چیف جسٹس کو اس کیس میں غیر جانب دار قرار دے کر ثابت کر دیا ہے کہ یہاں انصاف نہیں ہو گا، سارے کام وزیر اعظم کے اشارے پر ہوں گے۔جنہوں نے اپنے سیاہ کار نامے چھپائے جانے کے بدلے میں سابق چیف جسٹس کو پروٹیکٹ کرنے کا وعدہ کر رکھا ہے۔ لوگوں کی قیاس آرائیوں پر عدالتی فیصلے نے مہر تصدیق ثبط کر دی ہے۔ورنہ اس کیس کو اکتوبر ۱۹۹۹ ء ء سے نہ چلائے جانے کی وجہ کیا ہو سکتی ہے ؟ اور اس کیس کے ایک بنیادی مجرم غیر جانب دار کیسے ہو سکتے ہیں ؟
خواجہ آ صف اگر اپنی پارٹی کے خیر خواہ ہیں تو انہیں وزارت دفاع سے سبکدوش ہو جانا چاہیے۔ اس لئے نہیں کہ انہوں نے افواج پاکستان کے دفاعی بجٹ اور دوسری مراعات پر تنقید کی ہے ، یااِس لئے کہ انہیں افواج پاکستان کی مرعات پر تنقید کرتے ہوئے اپنے لیڈر کی اربوں کھربوں روپیوں کی کرپشن کیوں نظر نہیں آئی۔ صرف اس لئے کہ انہوں نے افواج پاکستان کی شجاعت کے بارے میں بہت جھوٹ بولے ہیں۔قدرت اللہ شہاب نے ۔شہاب نامہ میں ” پاکستان کا مستقبل“ کے عنوان سے لکھے گئے اپنے ایک مضمون میں ایک واقعہ لکھا ہے۔ خواجہ صاحب یہ واقعہ میں صرف آپ کے لئے لکھ رہا ہوں۔ ” ۱۹۶۹ ء ء جب میں یو نیسکو کے ایگزیکٹو بورڈ کا ممبر تھا ، تو ایک صاحب سے میرے نہایت اچھے مراسم ہو گئے، جو مشرقی یورپ کے باشندے تھے۔ اور ان کا ملک اپنی مرضی کے خلاف روس کے حلقہ ِ ِ ۱قتدار میں جھکڑا ہو تھا۔وہ اپنے وطن میں بعض کلیدی آسامیوں پر رہ چکے تھے اور روس کی پالیسیوں اور حکمت ِ عملی سے بڑی حد تک واقف اور نالاں تھے،ایک روز باتو ں باتوں میں انہوں نے کہا۔’ اگرچہ روس اور امریکہ ایک دوسرے کے حریف ہیں۔لیکن بعض امور میں اپنے اپنے مفاد کی خاطر دونوں کی پالیسیاں اور منصوبے ایک دوسرے کے ساتھ مطابقت اختیار کر لیتے ہیں ‘
’مثلا ؟‘ میں نے پوچھا۔
’مثلاً پاکستان ‘ وہ بولے۔میری درخوست پر انہوں یہ وضاحت کی۔’ یہ ڈھکی چھپی بات نہیں کہ پاکستان کی مسلح افوج کا شمار دنیا بھر کی اعلیٰ افواج میں ہوتا ہے۔ یہ حقیقت نہ روس کو پسند ہے اور نہ امریکہ کو ، روس کی نظر افغانستان کے علاوہ بحیرئہ عرب کی جانب بھی ہے۔ اس کے علاوہ روس کو بھارت کی خوشنودی حاصل رکھنا بھی مرغوب خاطر ہے۔اِن تینوں مقاصد کے راستے میں جو چیز حائل ہے وہ پاکستان کی فوج ہے۔“ جناب خواجہ صاحب یہ واقعہ ۱۹۶۹ ء ء کا ہے۔جب پاکستان ابھی ایٹمی طاقت نہیں بنا تھا اور ہماری بہادر افواج کے دبدبے کا یہ عالم تھا کہ دنیا کی ایک سپر پاور ہماری بہادر افواج کو اپنے راستے کی رکاوٹ سمجھتی تھی۔ہماری جڑوں میں تو ہمارے کاروباری لیڈر بیٹھ گئے ہیں۔جنہوں نے سیاست میں آ کر ہر مسئلے کو اپنے پیٹ کی آنکھ سے دیکھا ہے۔پاکستان کو اس کے پاوٴں پر کھڑا کرنے کے بجائے اپنی بیسوں نسلوں کو ان کے پاوٴں پر کھڑا کر دیا ہے۔
دوسرے خواجہ سعد رفیق صاحب ہیں۔جنہیں مشرف کو بہادری کا سبق دیتے ہوئے اس حقیقت کا مطلق خیال نہیں آیا کے اُن کے لیڈر نے کتنی ساری بہادری کا مظاہرہ کیا تھا ؟ جناب نواز شریف کا معافی نامہ” اے۔آر۔وائی“ ٹی۔وی پر دکھا چکا ہے۔
رشید صاحب ! میں کینیڈا میں ہوں ، مجھے کسی سے پلاٹ لینے ہیں اور نہ ہی کسی سے ماہوالفافوں کا رشتہ جوڑنا ہے اور میرے نزدیک صحافت کیمرے کی آنکھ ہے،جس کے اپنے جذبات نہیں ہوتے۔جو جیسا ہوتا ہے، اس کی ویسی ہی تصویر پیش کر دیتی ہے۔کسی کے کالے کرتوتوں کو ۔۔۔خیر چھوڑیں پہلے ہی کالم بہت طویل ہو گیا ہے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com
تاریخ اشاعت: 2014-04-13

کالم نگار     :     عبدالرحیم انجان

عبدالرحیم انجان کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-