ہلکی بارش واشنگٹن
10.1°C
شہر تبدیل کریں | موسم کی پیشن گوئی 🔄
بند کریں
بدھ اپریل

تبدیلی کی خواہش اپنی جگہ مگر کیسے؟

ڈاکٹر اویس فاروقی :

آج اس سوال کے ساتھ کالم کاآغاز کرتے ہیں کہ کیا خاموش رہ کر تبدیلی کی خواہش یارآزو پوری ہو سکتی ہے؟۔ہم اس بات پر سارا زور صرف کرتے ہیں کہ پاکستان میں تعلیم عام نہیں ہو رہی اور ملکی بجٹ میں تعلیم کا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے، بجا مگر اس ضمن میں ہمارا اپنا کردار کیا ہے ؟ اس پر غور کرنے کے لئے کوئی بھی تیار نہیں جبکہ ہونا تو یہ چاہیے کہ ہم جس حکومت کو ٹیکس دیتے ہیں اس سے یہ پوچھنے کی بھی ضرورت محسوس کریں کہ عالی جناب ،مائی باپ ہمارے دیے ہوئے پیسے کا مصرف کیا ہے؟ نہ ہی ہمیں معیاری تعلیم میسر ہے ہمارے جان و مال کی حفاظت سے آپ نے ہاتھ کھڑئے کر رکھے ہیں ،پرائیویٹ گارڈ کی بہتات ہونے کے باوجود انسان غیر محفوظ ہو چکا ہے ،بجلی ہمیں نہیں مل رہی ،پانی کی بوندوں پر گزارے کی نوبت آچکی ہے ، گیس ،تیل ،ٹیلی فون جیسی وہ سہولتیں جن کے پیسے پورے بلکہ پورے سے بھی زیادہ وصول کئے جاتے ہیں کیا ان کا فراہم کرنا اور بعد از فروخت سروس مہیا کرنا حکومتی اداروں کی زمہ داری نہیں؟ حکومتی کوتاہی اور شہریوں کی غیر زمہ داری کی بنا پر بیماریوں میں اضافہ ہونے کی وجوہات کو کھوج لگانے والے بتاتے ہیں کہ آلودگی ،ناقص اور ملاوٹ شدہ غذا، آلودہ پانی اور شہر بھر میں گندگی میں اضافہ بیماریوں کا موجب ہے ،اسے ختم کرنا کس کی زمہ داری ہے؟۔ایک بیمار آدمی کو سرکاری ہسپتالوں میں جملہ سہولتیں میسر ہیں؟ اگر نہیں ہیں اور بنا دوا دارو لوگ مر رہے ہیں تو ان کی ناحق اموات کا زمہ دار کون ہے؟
پاکستان کے عوام کو درپیش مسائل پر جلنے کڑھنے والوں کی رپورٹوں کے مطابق پاکستان میں پانچ برس تک کی عمر کے ایسے بچوں کی تعداد تیس فیصد ہے جن کی جسمانی نشوونما اور وزن ناکافی غدائیت کا شکار ہے۔پاکستان کا شمار ان دس ممالک میں ہوتا ہے جہاں دورانِ زچگی اموات کی تعداد سب سے زیادہ ہے کیونکہ صحت کی سہولیات اور فی کس طبی اخراجات کے لحاظ سے پاکستان ایک سو پچاسویں نمبر پر ہے۔جب کہ ابتدائی تعلیم میں داخلے کی شرح کے اعتبار سے عالمی فہرست میں ایک سو چوبیسویں نمبر پر ہے۔جبکہ بقول وزیر خزانہ اسحاق ڈار پاکستان کی 54 فیصد آبادی خطِ غربت سے نیچے زندگی گذار رہی ہے اور ہر سال لاکھوں بچے اس ہجومِ غربت کا حصہ بنتے چلے جا رہے ہیں۔ پاکستان آبادی کے اعتبار سے عالمی رینکنگ میں چھٹے نمبر پر اور کم ازکم معیارِ زندگی کی عالمی فہرست میں اس وقت ایک سو بیالیسویں نمبر پر ہے ۔
پاکستان میں تعلیم کی موجودہ صورت حال کے بارے بتایا جاتا ہے کہ پاکستان میں12.9 فیصد بچے سکول نہیں جاتے جو کہ دنیا کے سکول نہ جانے والے بچوں کا 10 فیصد ہے(DFID)۔سکول نہ جانے والے بچوں میں ایک تہائی (1/3) تعداد بچیوں کی ہے۔پاکستان میں27 فیصد بچیاں پرائمری پاس کرنے سے پہلے ہی سکول چھوڑ دیتی ہیں۔ملک بھر میں 30 ہزار گھوسٹ سکول ہیں۔نظام تعلیم کے حوالے سے دنیا کے طے شدہ معیار کے مطابق کی گئی درجہ بندی کے لحاظ سے پاکستان دنیا کے 177ویں نمبر پر ہے۔
سرکاری سکولوں کی عمارتوں پر رنگ روغن کرنے ،انگلش میڈیم کے بورڈ لگانے سے بچوں میں تعلیم کے ساتھ دلچسپی پیدا اس وقت تک نہیں ہو سکتی جب تک ان اداروں میں پڑھانے والے استادوں کے مائنڈ سیٹ کو تبدیل نہیں کیا جاتا،،، جنہوں نے قسم کھا رکھی ہے کہ نہ ہی بچوں کو پڑھانا ہے اور نہ ہی کوئی نئی بات آج کے طالبعلم کے ذہن میں گھسنے دینی ہے۔
حکومت پنجاب کے نوٹیفکشن کے مطابق پنجاب کے پرائمری سکول کا کم سے کم معیار درج ذیل ہے:
سکول میں اساتذہ کی تعداد: 6
سکول میں کمرہ جماعت کی تعداد 6
سکول میں بچوں کی تعداد 200+
شرح تناسب: 40 بچوں کے لیے ایک استاد ہونا چاہیے۔
پرائمری سکول کے قیام کے لئے کم سے کم معیار شہری علاقہ کے لئے 1500 دیہی علاقہ کے لیے 500،اور گھرانوں کی تعداد 25 اور فاصلہ شہری علاقوں کے لیے ایک کلو میٹر اور دیہی علاقوں کے لئے 1.5 کلو میٹر ،شہری علاقوں میں سکول کے لئے جگہ ایک کینال اور دیہی علاقوں کے لئے 2 کینال۔۔یاد رہے کہ یہ معیارات عالمی معیارات سے میل نہیں کھاتے۔۔
 حکومت سے کوئی شہری یہ پوچھنے کی جرات کر سکتا ہے کہ حضور جو معیارآپ نے خود مقرر کر رکھے ہیں کیا ان پر عمل درامد بھی ہورہا ہے یا نہیں؟
پاکستان میں صحت کی موجودی صورت حال کے بارے بتایا گیا ہے کہ صحت کے لئے مختص بجٹ مجموعی قومی پیدوار(جی ڈی پی)کا ایک فیصد ہے۔پاکستان میں ایک لاکھ میں سے 276 عورتیں زچگی کے دوران مر جاتی ہیں۔پاکستان میں ایک ہزار میں سے 77 بچے پیدائش کے بعد مر جاتے ہیں۔پاکستان میں شرح پیدائش 4.2 ہے۔
اس مختصر سے جائزے کے بعد بھی کیا شہریوں کی یہ زمہ داری نہیں کہ حکومت کو کوسنے دینے کی بجائے حکومت سے جواب طلبی کریں سوال اٹھائیں۔ اپنے مسائل کے حل کے لئے حکومت کو ارضداشت پیش کریں اگر سوال نہیں اٹھا سکتے تو پھر کسی کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ اپنی بدقسمتی کا رونا روتا پھرے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com
تاریخ اشاعت: 2014-04-12

کالم نگار     :     ڈاکٹر اویس فاروقی

ڈاکٹر اویس فاروقی کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-