ابر آلود واشنگٹن
12.3°C
شہر تبدیل کریں | موسم کی پیشن گوئی 🔄
بند کریں
ہفتہ اپریل

ٹریژن قابل قبول مگر غداری نہیں

اے وحید مراد :

پرویز مشرف خصوصی عدالت کے سامنے پیش ہوگئے اور ان پر فرد جرم بھی عائد کردی گئی ۔ لگتاہے کہ طوطے سے فال نکالنے والے تماشا گروں کے بعد اب ٹی وی پر تجزیہ کاروں کے روپ میں بیٹھے ان مسخروں کی بھی کوئی وقعت نہیں رہے گی جن کی چڑیا دور کی خبریں لانے کیلئے اڑا کرتی تھی۔
اکتیس مارچ 2014کی روشن صبح، معمول سے زیادہ گرم دن ثابت ہورہا تھا۔ اسلام آباد کے جی سکس سیکٹر سے نیشنل لائبریری میں قائم سنگین غداری کا مقدمہ چلانے والی خصوصی عدالت کا فاصلہ بمشکل ڈیڑھ دوکلومیٹر ہی ہوگا اور عام دنوں میں سات آٹھ منٹ کا سفر ہے مگر دفتر کی گاڑی میں بیٹھا تو معلوم ہوا کہ شہر کے ریڈ زون میں آج غیر معمولی تلاشی ہورہی ہے اور سفر کچھ طویل محسوس ہوا۔
خصوصی عدالت کے آس پاس صرف ذرائع ابلاغ کے نمائندے تھے یا پھر سیکورٹی فورس کے اہلکار۔ پولیس، رینجرز، ایلیٹ فورس کے جوان اور اسپیشل برانچ کے خفیہ والے ہر آنے جانے والے کو گھورتے اور پوچھ تاچھ کرتے نظر آئے۔سوا 9بجے معلوم ہواکہ جس شاہکار کا انتظار تھا وہ راولپنڈی کے فوجی ہسپتال سے چل پڑاہے جہاں وہ 2جنوری 2014سے ایک غیر معمولی یا نامعلوم بیماری کی وجہ سے زیر علاج تھا۔ ٹی وی کی خبریں پڑھتی اینکر نے سوال کیاکہ کتنا فاصلہ اور پرویز مشرف کتنی دیر میں عدالت پہنچیں گے، ابھی یہی بتا رہا تھا دس پندرہ منٹ لگیں گے کہ سابق کمانڈونو بج کر 23منٹ پر ایک ملزم کی حیثیت سے بارہ سے زائد گاڑیوں کے قافلے میں عدالت کے احاطے میں داخل ہوا۔
پرویز مشرف کی بلٹ پروف اور موبائل فون کے سگنل منجمد کرنے والی این ایکس 171نمبر کی گاڑی رکی تو ایم کیو ایم سے تعلق رکھنے والے وکیل فروغ نسیم برآمد ہوئے۔پرویز مشرف گاڑی میں ہی بیٹھے رہے اور رینجرز کے اہکاروں نے گھیرا ڈالے رکھا۔ کچھ وقت ایسے ہی گزرگیا، پھر سابق فوجی سربراہ جب کمرہ عدالت میں داخل ہوئے تو نو بج کر 38منٹ ہورہے تھے۔ ہلکے بھورے رنگ کے کرتے اور شلوار پہنے پرویز مشرف نے گہرے نیلے رنگ کا غالبا وہی کوٹ پہنا ہوا تھا جو گزشتہ پیشی پر عدالت حاضری کے وقت زیب تن تھا، ان کے ہمراہ تھری پیس سوٹ پہنے ہماری اعلی خفیہ ایجنسی کے جاسوس بھی تھے جبکہ رینجرز کے اہلکاربھی آگے پیچھے ساتھ آرہے تھے۔خاصے فکرمند نظرآنے والے پرویز مشرف کٹہرے کے ساتھ لگی اپنی مخصوص کرسی پر بیٹھے تو اس بار ان کے ’خاص درباری وکیل‘ بائیکاٹ کی وجہ سے عدالت میں موجود نہیں تھے۔
چار منٹ گزرے تو عدالتی ہرکارے نے آواز لگائی کہ جج صاحبان تشریف لارہے ہیں۔نو بج کر چالیس منٹ پر عدالتی کارروائی کا آغاز ہوا تو پرویز مشرف کی جانب سے بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا کہ وہ اس مقدمے میں نئے وکیل ہیں اور وکالت نامہ جمع کرارہے ہیں۔ دوسری بات وکیل کی یہ تھی کہ پرویز مشرف کی والدہ بیرون ملک شدیدعلیل ہیں اور ان کی حالت اس قابل نہیں کہ یہاں لایا جاسکے، پرویز مشرف کو انسانی بنیادوں پر ان کے پاس جانے دیا جائے اسے سے قبل کہ بہت دیر ہوجائے۔وکیل فروغ نسیم نے کہاکہ وہ عدالت میں پرویز مشرف کی بیماری سے متعلق بھی ایک میڈیکل رپورٹ پیش کررہے ہیں اور استدعا کرتے ہیں کہ عدالت اس کو خفیہ ہی رکھے۔ان کا کہناتھاکہ ڈاکٹروں نے مشرف کا علاج بیرون ملک تجویز کیاہے اور وہ پہلے بھی ایک امریکی ڈاکٹر سے علاج کراتے رہے ہیں۔ جسٹس فیصل عرب نے کہاکہ ہم نے ان کی گرفتاری کا حکم دیا اور نہ وہ ہمارے کسی آرڈر کی وجہ سے پابند ہیں، انہوں نے خود اپنے علاج کیلئے اسپتال پسند کیا اور فوجی اسپتال گئے اور اپنے علاج کیلئے بھی خود ذمہ دار ہیں۔
پھر فروغ نسیم نے روایتی وکیلوں والے کام کا آغاز کیا، ان کا کہناتھاکہ ماضی میں عدالتی فیصلوں میں ایسی مثالیں موجود ہیں کہ ملزم کو علاج کیلئے کہیں بھی جانے کی اجازت دی گئی۔ وکیل نے کہاکہ فوجداری مقدمے کے باوجود ملزم علاج کیلئے جاسکتے ہیں، حکومت اس کیس کی آڑ لیتے ہوئے کہتی ہے ملزم کو باہر جانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔فروغ نسیم نے ایک موقع پر کہاکہ ’ ان کی ماں مررہی ہے، خداکیلئے سر، کچھ ہونہ جائے‘۔ اس کے بعد انہوں نے اپنی فائل کھولی اور کاغذوں کا ایک پلندہ نکالا، ججوں کی جانب بھیجتے ہوئے وکیل نے کہاکہ میرے دوست نے قرآن وحدیث کی روشنی میں والدین، خاص طور پر والدہ کے مقام سے متعلق آیات اور احادیث جمع کی ہیں، ان کو بھی دیکھ لیا جائے۔
اس کے بعد بولنے کی باری جسٹس فیصل عرب کی تھی جنہوں نے کہاکہ قانون کے مطابق ملزم کی پیشی پر پہلے فردجرم پڑھ کر سنائی جاتی ہے۔وکیل فروغ نسیم نے ایک بار پھر اپنی بات شروع کی، کہاکہ پرویز مشرف خود رضاکارانہ طور پر عدالت آئے ہیں۔ اس بات پر جسٹس یاور علی سرہلاتے ہوئے دیکھے گئے( شاید کہیں اندر ہی اندر مسکرارہے ہوں)۔ فروغ نسیم نے کہاکہ پرویزمشرف پر ابھی صرف الزام ہے، تین نومبر2007کی ایمرجنسی کے نفاذ کا جرم ثابت نہیں ہوا۔ جسٹس فیصل عرب اس دلیل پر مسکرائے اور کہاکہ 35سماعتیں ہوگئی اور ہم ملزم کے کسی وکیل کی جانب سے پہلی بار یہ بات سن رہے ہیں، جبکہ ہم پہلے دن سے یہ بات کہتے آئے ہیں۔ فروغ نسیم نے کہاکہ میں ہوں تو عدالت میں کوئی بدتمیزی نہیں ہوگی۔ جسٹس فیصل ایک بار پھر مسکرائے اور کہاکہ یہ تو ہوتا رہتا ہے، کچھ وکیلوں کو کچھ جج اچھے نہیں لگتے۔ جسٹس فیصل نے کہاکہ انہوں (مشرف) نے خود کئی برس اس ملک پر حکومت کی ہے، یہ ان کی جانب سے نہیں ہوگا، ان کے وکلاء کا طرزعمل ذاتی حیثیت میں تھا۔فروغ نسیم نے کہاکہ مشرف کہیں بھاگ نہیں رہے، ان کو اجازت دی جائے، واپس آجائیں گے۔ جسٹس فیصل عرب نے جسٹس طاہرہ صفدر اور جسٹس یاور علی سے مشاورت کی اور کہاکہ پہلے فرد جرم پڑھ کر سنائی جاتی ہے اس کے بعد اس معاملے کو بھی دیکھ لیتے ہیں۔ جسٹس فیصل نے کہاکہ جسٹس طاہرہ فرد جرم پڑھیں گی اور فردجرم پڑھتے وقت ملزم کو کھڑا ہونا پڑتاہے۔ وکیل فروغ نسیم نے پرویز مشرف سے کہاکہ عدالت میں کھڑے ہوجائیں۔
 جسٹس طاہرہ صفدر نے فردجرم کے پانچ نکات پڑھ کرسنائے، ہر الزام کے بعد مشرف نے انگریزی میں کہاکہ ’ میں قصور وار نہیں ہوں‘۔ پھر جسٹس فیصل نے رجسٹرار سے کہاکہ فردجرم کی دستاویز جنرل صاحب کو دیدیں۔ پرویز مشرف نے دستاویز پر دستخط ثبت کیے اور جسٹس فیصل نے کہاکہ اب آپ تشریف رکھ سکتے ہیں۔ اس موقع پر سابق کمانڈو نے عدالت میں بات کرنے کی اجازت طلب کی، جسٹس فیصل نے اجازت دی تو پانچ منٹ فرد جرم سننے والے پرویز مشرف نے تقریبا پچیس منٹ کے لگ بھگ اپنی حکومت اور ذات کے ملک وقوم کے لیے انجام دیے گئے کارہائے نمایاں گنوائے۔پہلے سات منٹ انگریزی اور پھر اٹھارہ منٹ اردو میں کی گئی تقریر نما گفتگو میں وہ اپنے نوٹس سے دفاع سے لے کر معیشت تک ہر بارے میں بات کرتے رہے۔ جس قسم کی ان کی انگریزی تھی اسی طرح یک اردو بھی تھی، ایک موقع پر جب کہاکہ ’بیگم صاحبہ‘ تو سب چونک پڑے، پھر کہاکہ معزز جج صاحبہ، کوئٹہ سے آئی ہیں، تو معلوم ہواکہ وہ جسٹس طاہرہ کو مخاطب کررہے تھے۔ اور پھر انہوں نے بلوچستان میں اپنے دور حکومت کے کاموں کا ذکر کیا۔
پرویز مشرف کو ایک اعتراض سنگین غداری کے لفظ پر تھا۔ ان کا کہنا تھاکہ انگریزی میں ’ہائی ٹریژن‘ کا لفظ تو پھر بھی کچھ بہتر ہے مگر اردومیں غداری کا لفظ اپنے بارے میں ان کوعجیب لگتاہے۔عدالت آنے پر انہوں نے اپنے حوالے سے کی گئی باتوں کا بھی برا منایا، کہاکہ مجھے انا کا مسئلہ نہیں تھا، لیکن سیکورٹی خدشات ہیں اور یہ اپنی ذات سے زیادہ اردگرد کے لوگوں کے حوالے سے ہیں کہ ان کی زندگی کا مجھے ہمیشہ سے زیادہ خیال رہاہے۔ پرویز مشرف نے کہاکہ تین نومبر کی ایمرجنسی کا نفاذ اکیلے میرا عمل نہیں تھا، وزیراعظم اور کابینہ کی ایڈوائس پر کیا، دیگر تمام شراکت داروں سے بھی مشاورت کی تھی۔
پرویز مشرف کی تقریر ختم ہوئی تو دس بج کر چالیس منٹ ہورہے تھے۔ استغاثہ کے بھاری وکیل اکرم شیخ اٹھے اور عدالت میں کہاکہ پرویز مشرف کی والدہ کی صحت یابی کیلئے دعا گو ہیں۔ غداری کے لفظ کے بارے میں اکرم شیخ نے کہاکہ ہم بیرونی زبان کا شکارہیں، مشرف خود اہل زبان ہیں، ہم یہاں غداری نہیں بلکہ آئین شکنی کی بات کررہے ہیں اور یہ مقدمہ بھی اسی حوالے سے ہے۔ استغاثہ نے کہاکہ اگر چہ نے مشرف نے صحت جرم سے تو انکار کیا لیکن کہاکہ ایمرجنسی نفاذ کا فیصلہ اکیلے ان کا نہیں تھا، اس بات کو عدالت نوٹ کرے۔ استغاثہ نے کہا کہ ہم نے مشرف کی وفاداری پر سوال نہیں اٹھایا۔پھر انہوں نے عدالت کوبتایا کہ مشرف کو بیرون ملک جانے کی اجازت دینے کا اختیار اس عدالت کو حاصل نہیں۔ عدالت نے کہاکہ شام تک فیصلہ دیں گے، جج اٹھ کر چلے گئے تو اکرم شیخ اپنی جگہ سے مشرف کے پاس گئے،کہاکہ میں آپ کے خلاف تعصب نہیں رکھتا۔پرویز مشرف نے جواب دیاکہ پھر آپ نے میری درخواست کی مخالفت کیوں کی؟۔ پرویز مشرف نے اکرم شیخ کو’گڈ لک‘ کہا اور اپنے سیکورٹی حصار میں عدالت سے نکل پڑے۔ اس وقت گیارہ بج رہے تھے۔ شام ساڑھے پانچ بجے عدالت نے تحریری حکم جاری کیا کہ پرویز مشرف کو بیرون ملک جانے کی اجازت صرف حکومت دے سکتی ہے جس نے ان کا نام باہر جانے سے روکے جانے والے افراد( ای سی ایل) کی فہرست میں شامل کیا ہے۔

© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com
تاریخ اشاعت: 2014-04-02

کالم نگار     :     اے وحید مراد

اے وحید مراد کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-