بند کریں
جمعرات جولائی

میری مرضی۔۔۔!

فوزیہ بھٹی :

ڈھیٹ ہونے کا پیدائشی ٹھپہ تو جو لگا سو لگا تھا اب "Old School"ہونے کا نعرہء مستانہ بھی کانوں میں وقتاً فوقتاً پڑتا رہتا ہے ۔
گو کہ ہم کچھ اتنے پرانے بھی نہیں ہیں کہ دقیا نوسی کہلائیں جائیں وہ تو عادت سے مجبور ہو کر مین میخ نکالنے کے عادی ہیں وگرنہ نئے زمانے کے سارے سبق از بر ہیں اب کچھ کہیں گے تو بے بھاؤ کی سننے کو مل جائیں گی خوامخواہ۔ایک کہے گا لو آگئی ایک اور۔۔۔!خواتین کے حقوق کی علمبردار، دوسرا فرمائے گا این ۔جی ۔او۔ چمچی ضرور ہی امریکہ سے فنڈڈ ہے۔۔۔ تیسرے کی زبان سے نکلنے والے جملے کو یہاں لکھنا چاہئے ہی نہیں۔۔۔!کیونکہ وہ جملہ شاید آپ کے اپنے دماغ میں کلبلا رہا ہے ۔آج کے اس مسئلے کا سارا قصور ہماری زندگی میں آنے والی ان خواتین کی بدولت ہے جنہوں نے ہمیں پروان چڑھایا۔بی بی جی اور بے بے جی (اللہ اُن کے درجات بلند کرے)کا رشتہ ہماری سمجھ سے ہمیشہ بالا تر ہی رہا ۔دونوں میں نہ دُشمنی تھی نہ دوستی تھی۔بس لے دے کر ایک چُپ کا رشتہ تھا۔خدا جھوٹ نہ بلوائے تو ہم نے دونوں کو جب بھی پاس بیٹھے پایا تو ہمیشہ چُپ چاپ ہی پایا۔بات تو بات کبھی ایک دوسرے کو ہونہہ کہتے بھی نہ پایا۔نہ کبھی رشتے داروں کی بُرائیاں کرتے سُنا نہ کبھی زور زور سے ہنستے دیکھا۔اب دیکھا جائے تو بے بے جی دُبلی پتلی، دراز قداور جھُریوں سے بھری ہوئی تھیں۔چہرے کی ایک ایک جھُری میں خوداری اور اعتماد ایسے بھرا تھا کہ جیسے چہرے کے نقش ہوں۔جب کبھی نہلا دُھلا کر وہ ہم پر وہ پاؤڈر کا بے جا اسراف کیا کرتیں تو ہماری کوشش ہوتی کہ ان جُھریوں کو ایک بار تو چھو کر دیکھ ہی لیں مگر بے بے جی کے چہرے کی سنجیدگی ہمیں ہولائے ہی رکھتی اور ہم دور پرے ہو کر اپنا رُکا ہوا سانس بحال کرتے رہتے۔گو کہ دادی نے ہم پر کبھی ہاتھ نہیں اُٹھایا اور نہ ہی کبھی مارنے کی دھمکیاں دیں۔واحد خاطر تواضع جو بے بے جی سے ہم کرواتے تھے وہ اُن کی چھڑی کا آخری سرا تھا جو وہ ہمیں اپنے مصلے کے ارد گرد ٹھمکے لگانے پر چبھویا جاتا تھا۔ اب اس چھڑی کی کہانی بھی عجیب تھی ۔پہلے پہل جب ابّا یہ چھڑی لے آئے تھے تو بے بے جی ابّا سے ہفتوں ناراض اور برہم رہیں تھیں۔مگر نجانے کیا سوچ کر آخر کار وہ چھڑی ان کے ہاتھ میں دکھائی دینے ہی لگی تھی۔بے بے جی ہمیں سب سے خوب صورت اُس وقت لگا کرتیں جب امّاں (بہشتن )کو چوڑیاں پہننے میں دقت ہو اکرتی اور وہ چوڑیوں سمیت دادی کے پلنگ پر جا بیٹھتیں۔دادی بڑے آرام سے ایک بھی چوڑی توڑے بغیر تمام کی تمام چوڑیاں امّاں کو پہنا دیا کرتیں تھیں ۔ہم نے اماں اور دادی کو کم ہی بات کرتے دیکھا تھا لیکن دونوں کو ایک دوسرے کی ہر بات خدا جانے کیسے معلوم ہوتی ۔گھر کا سار نظام بغیر کسی کھٹا پٹخ کے چلتا ہی رہتا تھا۔کچھ خبر نہیں یہ کیسے خاموش معاہدے تھے جو اُن سب کے درمیان بڑی خاموشی سے طے تھے۔ اس کے برعکس بی بی جی فربہی مائل ،سفید رنگ کی خوبصورت سی فرنگی خاتون لگا کرتیں تھیں۔بی بی جی کو ہم نے حقے کے بغیر کبھی نہیں دیکھا تھا۔ابّا ہر بار بی بی جی کے آنے سے پہلے سنہرے رنگ کی ٹوپی والا حقہ خوب صاف کروا رکھتے تھے۔کیک کی چیری ٹاپنگ کی طرح حقّے موصوف کی "گُڑ"سے ٹاپنگ ہوا کرتی تھی۔اپنی ہی دنیا میں مگن اپنے بزرگوں کے اس رویے سے سے ہم نے اپنی زندگی میں چارسبق حاصل کئے تھے کہ خواتین پروقار ،حوصلہ مند،خاموش طبع اور جا ہ و جلال سے بھر پور طبیعت رکھتی ہیں۔اب ہوا یوں کہ قدرتی طور پرہمیں یہ سارے سبق پک۔۔۔ے پانی کی طرح یاد کروا دیئے گئے اورتربیت کرنے والے بوقتِ ضرورت انہیں جھاڑ پونچھ کر دماغ کی تہوں میں اوپر نیچے بھی کرتے ہی رہے۔ اپنے تئیں توہمارے بزرگوں نے بڑا کارنامہ سر انجام دیااور زمانے کی سرد گرم ہواؤں سے بچا کر ایک گوہرِ نایاب تخلیق کر لیا۔اس بات سے بے خبر کہ زمانہ ہوا کے دوش پر سوار ہے اور ان کا گوہرِ نایاب اصل میں ایک "عجوبے"کی سی کیفیت میں جانا پہچانا جائے گا۔ اپنے حال میں مست رہنے کی سزا جو ملی تو یہ ملی کہ اک لمبے عرصے کی تنہائی سے گھبرا کرجو اپنے تالاب سے باہر نکلے تو بے اختیار ہی کہا کہ ہاہ ۔ ۔ ۔ ہائے ۔یہاں ہوں یا وہاں ،عجیب ،بے حد عجیب بلکہ عجیب تر کہہ لیجئے ۔خواتین سے ملتی جلتی مخلوق کا جمِ غفیرنظر آیا۔پہلے پہل تو لگا کہ ہم شاید کسی ٹائم مشین میں بیٹھ کر وقت سے کچھ اتنا تو آگے ضرور ہی بڑھ گئے ہیں جہاں سے زمین کی حد ختم اور مریخ کی حد بے حد ہو گئی ہے ۔اب کمال یہ ہوا کہ ہمارے بارے بھی کم و بیش یہی رائے ہموار ہوتی رہی ہے کہ جیسے ہم سترھویں صدی میں ہونے والی کسی دھکم پیل کی بدولت اکیسویں صدی میں آن گرے ہیں۔ ہماری بہت ساری ناقابلِ تلافی اور فاش غلطیوں میں سے ایک غلطی یہ ہے ہمیں اونٹ کی کوہان کی طرح بال نہ ہی پسند ہیں اور نہ بنانے آتے ہیں۔میک اپ اور آرائشی ہتھیاروں سے لیس ہو کر اپنا آپ بہت جعلی لگتا ہے ۔ہم ہر کام کو بغیر رشوت یا چاپلوسی کئے بغیر اپنے انجام تک پہنچنے دینا چاہتے ہیں۔ہم جھوٹ بولنے کو آج بھی برا خیال کرتے ہیں۔لو دسو یار !اب اگر ہمیں ڈیزائنر لان کے نام نہیں آتے تو کیا ہم فیشن سے نا بلد ہو گئے؟اگر ہم بیگم صاحبہ کی طرح ٹی۔پارٹی نہیں نہیں کرتے تو کیا ہمارا معیار گر گیا؟ اگر ہم ہر ہفتے پارلر کا چکر نہ لگائیں تو کیا قبولِ صورت نہیں رہے؟اگر ہمارا رک رک کے ٹھہر ٹھہر کے بات کرنا ،سب کی عزت کرنا،ہر کسی سے سچ بولنے کی امید رکھنا،بات بے بات ایٹی کیٹس کو استعمال میں لانا،بغیر جھومتے ہوئے گفتگو کرناہمیں پچھلی صدی کا باشندہ بنا دیتی ہے تو بصد شوق۔زمانے کے یہ چلن اور یہ حالات دیکھ کر اب ہمیں یہ یقین ہو گیا ہے کہ قریباً ہردوسری صنفِ نازک کی بے بے جی اور بی بی جی اس جہاں سے ہمیشہ کے لئے جا چکی ہیں یہاں تک کے ان کی کوئی بھی پرچھائیں ان کے اندر باقی نہیں رہی۔شوخ رنگ لبادوں میں لہراتی ،بے تحاشہ پاوئڈر اور چیختی چلاتی لالی نے صنفِ نازک کے اندر رہنے والی اس معصوم گڑیا کو کہیں کھو دیا ہے جسے کوئی لالچ نہیں تھا۔مجھے دیکھو اور مجھے غور سے دیکھو جیسا لالچ ۔جبھی ہمارے جیسے لوگوں کو ان کی پہچان کا کوئی ذی روح ملتا ہی نہیں ہے ۔ ہر کسی نے اپنے اوپر جعلی پن اس قدر تہیں چڑھا لی ہیں کہ اصل پہچاننا مشکل ہو گیا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ حیا کو آوٹ ڈیٹڈ اور برداشت کو کمزوری کا ٹرید مارک بنا دیا گیا ہے اور اس پہ کمال یہ کہ ہم سب نے اس سے بخوشی سمجھوتہ بھی کیا ہے۔ہاں یہ سب ٹھیک ہے مگر ان سب باتوں میں رنگ میں بھنگ ڈالنے کے لئے کچھ ہمارے جیسے ابھی موجود ہیں جن پرڈھیٹ ہونے کا پیدائشی ٹھپہ تو جو لگا سو لگا تھا اب "Old School"ہونے کا نعرہء مستانہ بھی کانوں میں وقتاً فوقتاً پڑتا رہتا ہے مگر ہمیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتاکیونکہ خیرسے ہر پاکستانی کی طرح ہم بھی اپنی مرضی کے آپ مالک ہیں اور" میری مرضی "ہماری ٹیگ لائن ہے۔
پاکستان کا خیال رکھئے یہ آپکا ہے ۔اللہ سبحان و تعالیٰ پاکستان کو ہمیشہ پنے حفظ و امان میں رکھے آمین
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com
تاریخ اشاعت: 2014-03-22

کالم نگار     :     فوزیہ بھٹی

فوزیہ بھٹی کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-