بند کریں
ہفتہ اکتوبر

عمران خان کی طالبانی لیبل اتارنے کی کوشش

ضمیر آفاقی :

پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں کے لوگ جو تماشہ لگاتے ہیں اسے دیکھتی دنیا ہے اور ایسا بھی یہیں ہوتا ہے کہ ریاست کے باغیوں سے مذاکرات کئے جاتے ہیں جبکہ میڈیا ان کی لائیو کوریج کرتا ہے جس سے ان کے کاز کو تقویت ملتی ہے کیا ایسا کسی اور ملک میں بھی ہوتا ہے؟
شدت پسند پاکستانی حکومت ،آئین اور عدالتی نظام کو نہیں مانتے جبکہ جمہوریت ان کے نزدیک کفریہ نظام ہے جس کی وہ پاکستان کے شہروں میں رکشوں کے پیچھے تشہیر کرنے سے بھی نہیں ہچکچاتے سوال تو یہ بھی اٹھایا جا سکتا ہے کہ حکومت ریاست مخالف اشتہاروں کی یوں سر عام تشہیر کی اجازت کیسے دے رہی ہے ایسے اشتہارات پنجاب میں رکشوں کے پیچھے دیکھے جاسکتے ہیں جن میں ریاست کے خلاف عوام کو اکسایا جارہا ہے۔شدت پسندوں نے واضع لفظوں میں حکومت سے کہہ دیا ہے کہ وہ اس حکومت کو مانتے ہی نہیں تو اس سے مذاکرات کیسے، وہ شریعت کے نفاذ کی بات کرتے ہیں لفظ شریعت کا استعمال وہ تواتر سے کرتے ہیں جس کا مقصد عوام کی ہمائت حاصل کرنا ہے، ”مذہبی کالم نگار“ ان کی تشہیر کرنے میں ایک دوسرے سے سبقت لے جاتے ہوئے پائے جاتے ہیں ۔ جبکہ شدت پسندوں کے حوالے سے ساری دنیا یہ جانتی ہے کہ ان کا فہم کیا ہے اور یہ کیا چاہتے ہیں ،ملک بھر میں جتنے بڑے کرائم ہو رہے ہیں بنک لوٹنے سے لیکر اغوا برائے تعاوان کی واردتیں منشیات کی سمگلنگ کے دھندے میں سے پیسہ حاصل کر نا ہی ان کا کاروبار ہے جبکہ ان کے ہمائیتی شہروں میں فرقہ واریت کے نام پر انسانوں کو تقسیم کرنے کے کاروبار میں مصروف ہیں۔
 پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر اور سابق وزیرِ داخلہ رحمان ملک نے حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کی قانونی حثیت پر سوال اٹھاتے ہوئے حکومت سے کہا ہے کہ وہ تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے تنظیم کا نام کالعدم کی فہرست سے ختم کرنے پر اپنی پوزیشن واضح کرے۔انہوں نے سینیٹ کے اجلاس میں بات کرتے ہوئے سوال کیا کہ کیا ایک کالعدم تینظیم کے ساتھ مذاکرات کرکے ہم آئین کی خلاف ورزی نہیں کررہے ہیں۔؟ اگر کل کوئی سپریم کورٹ میں چلا جاتا ہے تو پھر کیا ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ انسدادِ دہشت گردی کے ایکٹ 1997 کی شک نمبر گیارہ کے تحت کسی کالعدم تنظیم کے ساتھ مذاکرات نہیں ہوسکتے۔انہوں نے کہا کہ سیکشن گیارہ اے اور گیارہ بی میں یہ واضح ہے کہ آپ کالعدم تنظمیوں سے بات نہیں کرسکتے۔سابق وزیرِ داخلہ نے جماعتِ اسلامی اور جمعیت علمائے اسلام ف سمیت مذہبی جماعتوں کے تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ آپس میں تعلقات کے بارے میں بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ جماعتِ اسلامی اور جے یو آئی ایف سیاسی جماعتوں کے ساتھ رجسٹرڈ ہیں جو آئین کے دائرہ کار سے باہر کوئی کام نہیں کرسکتی ہیں۔رحمان ملک کے مطابق ماضی سے ظاہر ہوتاہے کہ طالبان مذاکراتی عمل کے دوران ہمیشہ اپنے آپ کو منظم کرتے ہیں جس طرح سن 2005ء اور 2006ء میں معاہدوں تک پہنچنے پر انہوں نے سوات اور مالاکنڈ پر قبضہ کرلیا۔انہوں نے سوال کیا کہ کیا دیگر معاہدوں سے طالبان ملک میں داخل ہونا نہیں چاہیں گے۔پیپلز پارٹی کے سینیٹر مذاکراتی کمیٹیوں کے حوالے سے ایک عوامی ضابطہ بنانے پر بھی مطالبہ کیا۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف طالبان سے مذاکرات کے حوالے سے پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیں۔
عوام کی طرف سے اب اس طرح کے سوالات بھی سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں جن میں حکومت کے لتے لیے جارہے ہیں کہا جارہا ہے کہ حکومت کے ساتھ جو کچھ نان سٹیٹ ایکٹر کر رہے ہیں کیا اس سے بڑھ کر کوئی اور حکومت کی بے توقیری کر سکتا ہے،،،ویسے جو جیسا ڈیزرو کرتا ہے اس کے ساتھ ویسا ہی ہوتا ہے۔یہ بھی کہا جارہا ہے کہ کسی بھی ریاست میں کوئی بے گناہ مارا جائے تو اس کی ذمہ دار ریاست ہوتی ہے یہ ریاست کا فرض ہے کو وہ کسی بھی ناحق خون کو انصاف فراہم کئے بنا چین سے نہ بییٹھے اور قاتل کو قرار واقع سزا دے اگر ریاست ایسا نہیں کرتی تو ایسی ریاست میں امن صرف خواب بن کر رہ جاتا ہے ۔ دہشت گردوں کے ہاتھوں قتل کئے جانے والے ستر ہزار سے زائد پاکستانیوں کے خون کا حساب کون لے گا؟ان کے لواحقین کو انصاف کون فراہم کرے گا کیا ان کے روحیں بنا انصاف کے بھٹکتی رہیں گی؟
دوسری جانب طالبان کی سب سے بڑی ہمائتی نیم سیاسی و مذہبی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ نے خود پر طالبانی لیبل اتارنے کے لئے زور لگانا شروع کر دیا ہے
 طالبان کی شریعت کے مطالبے کے بعد ان کا کہنا تھا کہ وہ تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے تشدد کے ذریعے اسلامی قوانین نافذ کروانے کے فلسفے کو مسترد کرتے ہیں۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کالعدم تنظیم کو اس بات کو قبول کرنا ہوگا کہ پاکستان میں اگر کوئی تبدیلی آسکتی ہے تو وہ صرف انتخابات اور آئنی طریقے سے آسکتی ہے۔عمران خان نے کہا، آپ انہیں (اسلامی قوانین) کو بندوق کی نوک پر مسلط نہیں کرسکتے۔ عمران خان نے مذاکرات کی ناکامی کی پشین گوئی کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ناکام ہوں گے اور ردعمل میں ہونے والے فوجی آپریشن کی وجہ سے ملک بھر میں پر تشدد کارروائیوں میں اضافہ ہوگا۔ عمران خان نے پہلی بار ہی سہی شدت پسندوں کو کالعدم تنظیمیں کہ کر مخاطب کیا تو سہی۔
پاکستانی سیاسی اشرافیہ کے بیانوں سے کنفوزژن میں اضافہ ہو رہا ہے جبکہ حکومتی کارکردگی صفر سے نیچے جاتی دکھائی دیتی ہے طالبان کے ساتھ مزاکرات کے حوالے سے دن بدن کنفوژن بڑھتی جارہی رہی ہے اگر حکومت نے جلد ہی انہیں منطقی انجام تک نہ پہنچایا تو آنے والے دنوں میں خود حکومت کے لئے مذاکراتی عمل سر درد بن جائے گا اس لئے حکومت کو جو بھی کرنا ہے وہ جلد سے جلد کرے۔کیونکہ طالبان سے مذاکرات کی تارریخ تو یہ ہی بتاتی ہے کہ انہوں نے مذاکرات کا ڈول اس وقت ڈالا جب وہ کمزور ہوئے اور یوں اپنی قوت کو مجتمع کرنے کے لئے وہ مذاکرات کا کھیل کھیلتے آرہے ہیں جبکہ ساتھ ساتھ وہ حکومت کو دباو میں رکھنے کے لئے شہروں میں اپنی کاروائیاں بھی جاری رکھے ہوئے ہیں ،خانیوال ، پشاور میں دھماکے اور ملک کے دیگر حصوں سے پکڑئے جانے والے دہشت گرد اس کی مثال ہیں۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com
تاریخ اشاعت: 2014-02-16

کالم نگار     :     ضمیر آفاقی

ضمیر آفاقی کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-

: متعلقہ عنوان